(آیت 39){ قَالَرَبِّانْصُرْنِيْبِمَاكَذَّبُوْنِ: ”كَذَّبُوْنِ“} اصل میں {”كَذَّبُوْنِيْ“} ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39-1بالآخر، حضرت نوح ؑ کی طرح، اس پیغمبر نے بھی بارگاہ الٰہی میں، مدد کے لئے، دست دعا دراز کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ اس رسول نے دعا کی کہ: پروردگار! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر میری مدد فرما“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا: ﴿ رَبِّانْ٘صُرْنِیْبِمَاكَذَّبُوْنِ ﴾”اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔“ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا لما اشتدَّ كفرُهم ولم ينفعْ فيهم الإنذارُ؛ دعا عليهم نبيُّهم، فقال: {ربِّ انصُرْني بما كذَّبونِ}؛ أي: بإهلاكهم وخزيهم الدنيويِّ قبل الآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔