تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّاقَلِیْلٍلَّیُصْبِحُنَّنٰدِمِیْنَۚ۰۰فَاَخَذَتْهُمُالصَّیْحَةُبِالْحَقِّ﴾”بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلْنٰهُمْغُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤ٘اَرْسَلْنَاعَلَیْهِمْصَیْحَةًوَّاحِدَةًفَكَانُوْاكَهَشِیْمِالْمُحْتَظِرِ﴾ (القمر:54؍31) ”ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ“ اور فرمایا: ﴿ فَبُعْدًالِّلْ٘قَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَابَكَتْعَلَیْهِمُالسَّمَآءُوَالْاَرْضُوَمَاكَانُوْامُنْظَرِیْنَ﴾ (الدخان:44؍29) ”پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله مجيباً لدعوته: {عمَّا قليل لَيُصْبِحُنَّ نادمينَ. فأخذتْهُمُ الصيحةُ بالحقِّ}: لا بالظلم والجَوْر، بل بالعدل وظلمهم أخذتْهُمُ الصيحةُ فأهلكَتْهم عن آخرهم. {فجعلناهم غُثاء}؛ أي: هشيماً يَبَساً بمنزلة غُثاء السيل الملقى في جَنَبات الوادي، وقال في الآية الأخرى: {إنَّا أرْسَلْنا عليهم صيحةً واحدةً فكانوا كَهَشيم المُحْتَظِر}. {فَبُعْداً للقوم الظالمين}؛ أي: أُتْبِعوا مع عذابهم البعدَ واللعنةَ والذمَّ من العالمين؛ {فما بَكَتْ عليهمُ السماءُ والأرضُ وما كانوا مُنْظَرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔