تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{وَ ظُلْمُ ذَوِي الْقُرْبٰي أَشَدُّ مَضَاضَةً
عَلَي الْمَرْئِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُهَنَّدِ}
”اور قرابت والوں کا ظلم تکلیف میں آدمی پر ہندی تلوار لگنے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
➋ {مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ:} مفسر رازی نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے پانچ شبہات ذکر فرمائے، مگر جواب کسی کا نہیں دیا، کیونکہ معمولی سے غور کے ساتھ ان کا بے کار ہونا سمجھ میں آ جاتا ہے۔“ ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ یہ تو تمھارے جیسا بشر ہے۔ بقاعی نے فرمایا: ”انھوں نے کسی انسان کا نبی ہونا نہیں مانا تو لازم تھا کہ کسی مٹی کا انسان ہونا بھی نہ مانتے، پانی کے کسی قطرے کا علقہ ہونا اور خون کی کسی پھٹکی کا مضغہ ہونا بھی نہ مانتے…۔“ ابن جَزیّ نے التسہیل میں فرمایا: ”کس قدر تعجب ہے کہ انھوں نے بشر کے رسول ہونے کو نہیں مانا، مگر پتھر کے رب ہونے کو مان لیا۔“ مشرک کی عقل ایسی ہی ہوتی ہے، ہمارے زمانے کے بعض لوگ جو جدّی پشتی مسلمان ہیں، آبا و اجداد سے سن کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہیں مگر بشر نہیں مانتے۔ پہلے لوگوں کا کہنا تھا کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا اور ان کا کہنا ہے کہ رسول بشر نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ دونوں باتوں کا ایک ہی ہے۔ قرآن نے بشر کے رسول نہ ہونے یا رسول کے بشر نہ ہونے کا بار بار رد فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۶۳ تا ۶۹)، یونس (۲)، ہود (۲۷ تا ۳۱)، یوسف (۱۰۹)، رعد (۳۸)، ابراہیم (۱۰، ۱۱)، نحل (۴۳)، بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)، کہف (۱۱۰)، انبیاء (۳)، مومنون (۳۳، ۳۴، ۴۷)، فرقان (۷ تا ۲۰)، شعراء (۱۵۴، ۱۸۶) اور سورۂ یٰس (۱۵)۔
➌ { يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ:} یہ دوسرا شبہ ہے جو کافر سرداروں نے انبیاء کو عوام میں بے وقعت بنانے کے لیے پیش کیا کہ یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اکثر کفار نے اپنے اپنے انبیاء کے بارے میں یہی بات کہی کہ یہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو یہ طعنہ دیا تھا: «قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَآءُ فِي الْاَرْضِ» [یونس: ۷۸] ”انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟“ گویا سرداری اور برتری ان مشرکوں ہی کا مادری و پدری ورثہ ہے، یہ کسی اور کا حق نہیں۔ جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر رسول اپنے منصب کی وجہ سے برتری چاہتے ہیں تو برتری کا حامل ہونا ان کا حق ہے، تاکہ کسی کو ان کے اتباع میں عار نہ ہو اور اگر وہ تکبر اور فخر و غرور کے لیے برتری چاہتے ہیں تو یہ ان پر بہتان ہے، کیونکہ ان سے بڑھ کر کوئی متواضع نہیں ہوتا۔
➍ { وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً:} یہ تیسرا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اللہ کو مانتے تھے، مگر اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔ نوح علیہ السلام کی طرف سے ایک اللہ کی عبادت کا حکم سن کر بہانہ گھڑا کہ اگر اللہ چاہتا کہ کوئی رسول بھیجے تو وہ انسان کے بجائے کوئی فرشتے بھیج دیتا۔ یہ بھی درحقیقت بشر کی نبوت سے انکار ہے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ مالک مرضی والا ہے، وہ جسے چاہے، جس کام کے لیے چاہے چن لیتا ہے۔ وہ مالک ہی کیا ہوا جو تمھارے چاہنے کا پابند ہو۔
➎ {مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ:} یہ چوتھا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے جاہلیت کا طویل عرصہ گزرا تھا۔ پہلی تینوں باتوں میں نوح علیہ السلام کے رسول ہونے کا انکار تھا اور یہ اس دعوت کا انکار ہے جو نوح علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کی بات ہم نے نہیں سنی اور نہ یہ سنا ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے یا سفارشی بنانے کے لیے بھی کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ کفار کے سرداروں کی یہ بات بھی اس لیے جواب کے قابل نہیں کہ اس کی بنیاد تقلید ہے، جب کہ تقلید سراسر جہل ہے اور جاہلوں کا جواب خاموشی اور سلام متارکہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [الفرقان: ۶۳] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ (دیکھیے بقرہ: ۱۷۰) بھلا بتاؤ اس سے بڑی جہالت کیا ہو گی کہ جو چیز ہم نے سنی نہیں وہ ہے ہی نہیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[28] دنیا داروں کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے کہ جو شخص بھی کوئی اصلاحی دعوت کے کام کا آغاز کرتا ہے تو انھیں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ یہ شخص اپنی چودھراہٹ قائم کرنے اور اپنا جھنڈا بلند کرنے کے لئے یہ کام کر رہا ہے۔ اور وہ اپنے اس نظریہ میں اس حد تک حق بجانب بھی ہوتے ہیں کہ وہ خود چونکہ اسی غرض کے لئے اپنی زندگیاں اور اپنی تمام تر کوششیں کھپا دیتے ہیں۔ لہٰذا وہ ہر شخص کو اسی نظریہ سے دیکھتے ہیں قوم نوح نے نوحؑ کو یہ طعنہ دیا۔ فرعون نے حضرت موسیٰؑ کو یہی بات کہی کہ ”موسیٰ اس ملک پر قابض ہونا چاہتا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ کے متعلق یہی نظریہ قائم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر تم مال و دولت چاہتے تو جتنا چاہو حاضر ہے۔ اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا قائد تسلیم کر لیتے ہیں اور کسی حسین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہو تو یہ کام بھی ہم کئے دیتے ہیں۔ بشرطیکہ ہماری مخالفت اور ہمارے معبودوں سے باز آ جاؤ اور ہم سے سمجھوتہ کر لو۔
[29] یعنی یہ بات کہ ”رسول بشر ہی ہوتا ہے“ یا یہ کہ ایک اکیلا اللہ ہی ساری کائنات کی فرمانروائی اور حاجت روائی کے لئے بہت کافی ہے اور دوسرے سب معبود لغو اور باطل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاستمرَّ على ذلك يدعوهم سرًّا وجهاراً وليلاً ونهاراً ألف سنة إلاَّ خمسين عاماً، وهم لا يزدادون إلاَّ عتوًّا ونفوراً، {فقال الملأ}: من قومه الأشرافُ والسادة المتبوعون على وجه المعارضة لنبيِّهم نوح والتحذير من اتِّباعه: {ما هذا إلاَّ بشرٌ مثلُكم يريد أن يَتَفَضَّلَ عليكم}؛ أي: ما هذا إلاَّ بشرٌ مثلُكم، قصدُهُ حين ادَّعى النبوَّة أن يزيد عليكم فضيلة ليكون متبوعاً، وإلاَّ؛ فما الذي يفضِّله عليكم وهو من جنسكم؟! وهذه المعارضة لا زالت موجودة في مكذِّبي الرسل، وقد أجاب الله عنها بجوابٍ شافٍ على ألسنة رسله؛ كما في قوله: {قالوا}؛ أي: لرسلهم. {إنْ أنتُم إلاَّ بشرٌ مثلُنا تريدونَ أنْ تصدُّونا عمَّا كان يعبدُ آباؤنا فأتونا بسلطانٍ مبينٍ. قالَت لهم رسلُهم إن نحنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكُم ولكنَّ الله يَمُنَّ على مَن يشاء من عبادِهِ}: فأخبروا أنَّ هذا فضلُ الله ومنَّته، فليس لكم أن تحجُروا على الله، وتمنَعوه من إيصال فضلِهِ علينا.
وقالوا أيضاً: {ولو شاء الله لأنزلَ ملائكةً}: وهذه أيضاً معارضةٌ بالمشيئة باطلةٌ؛ فإنَّه وإنْ كان لو شاء لأنزل ملائكة؛ فإنَّه حكيمٌ رحيمٌ، حكمتُه ورحمته تقتضي أن يكونَ الرسول من جنس الآدميِّين؛ لأنَّ الملائكة لا قدرة لهم على مخاطبتِهِ، ولا يمكن أن يكون إلاَّ بصورة رجل، ثم يعود اللبسُ عليهم كما كان. وقولهم: {ما سمعنا بهذا}؛ أي: بإرسال الرسول {في آبائنا الأوَّلينَ} وأيُّ حجَّة في عدم سماعِهم إرسالَ رسول في آبائهم الأولين؟! لأنَّهم لم يحيطوا علماً بما تقدَّم؛ فلا يجعلون جهلهم حجَّةً لهم! وعلى تقدير أنَّه لم يرسل منهم رسولاً: فإما أن يكونوا على الهدى؛ فلا حاجة لإرسال الرسول إذ ذاك، وإما أن يكونوا على غيره؛ فليحمدوا ربَّهم ويشكروه أن خصَّهم بنعمةٍ لم تأتِ آباءهم ولا شعروا بها، ولا يجعلوا عدم الإحسان على غيرهم سبباً لكفرِهم للإحسان إليهم.