ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 25

اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِہٖ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۲۵﴾
یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جسے ایک جنون ہے، سو ایک وقت تک اس کے بارے میں انتظار کرو۔ En
اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو
En
یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ: جِنَّةٌ } جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا ہے جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا اور نہ وہ کچھ اختیار رکھتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی نظر میں مومن کے کام دیوانگی ہیں کہ نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے پڑا ہے، نظر نہ آنے والے رب سے ڈر کر اپنی محبوب خواہشیں ترک کیے ہوئے ہے۔ { جِنَّةٌ } میں تنوین تنکیر کی ہے، یعنی اسے ایک قسم کا جنون لاحق ہے۔ مکمل پاگل کہنے کے بجائے کچھ جنون کہا، تاکہ ہر شخص انھیں جھٹلا نہ دے کہ بھلا اتنا کامل عقل والا شخص دیوانہ ہو سکتا ہے؟ ابن جزی فرماتے ہیں: ان کی باتوں کا باہمی تضاد دیکھیے، ابھی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (اتنی صلاحیتوں کا مالک ہے کہ) تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور ابھی کہتے ہیں کچھ دیوانگی میں مبتلا ہے۔
➋ { فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ:} یعنی اس کے متعلق کچھ مدت انتظار کرو، حتیٰ کہ یہ زمانے کے کسی چکر کی لپیٹ میں آ جائے، یا فوت ہو جائے اور تمھاری جان چھوٹ جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25-1یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، بیوقوف اور کم عقل سمجھتا اور کہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ہی دیوانہ ہے اسے ایک وقت تک ڈھیل دو، موت کے ساتھ ہی اس کی دعوت بھی ختم ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور اس دعوت کو ترک کر دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ وہ تو ایک ایسا آدمی ہے جسے [30] جنون ہو گیا ہے لہذا کچھ مدت اور انتظار کرو (شاید وہ ٹھیک ہو جائے)
[30] قوم نوح کی نظروں میں حضرت نوحؑ کی دیوانگی یہ تھی کہ ساری قوم کے نظریہ کے خلاف خالص توحید کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ نوحؑ کا (نعوذ باللہ) ایک بیہودہ سا خیال ہے۔ بھلا ساری قوم کے مقابلہ میں اس اکیلے کی پکار کی کیا حقیقت ہے۔ لہٰذا اس کی طرف توجہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ وہ خود ہی جب اپنی ناکامی دیکھے گا تو اپنی ایسی باتوں سے باز آجائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کفار نے کہا: ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِیْنٍ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں۔
پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنْ هو إلاَّ رجلٌ به جِنَّةٌ}؛ أي: مجنون، {فتربَّصوا به}؛ أي: انتظروا به {حتى حينٍ}: إلى أن يأتيه الموت.

وهذه الشبه [التي] أوردوها معارضةً لنبوَّة نبيِّهم دالةٌ على شدَّة كفرهم وعنادهم وعلى أنَّهم في غاية الجهل والضَّلال؛ فإنَّها لا تَصْلُحُ للمعارضة بوجهٍ من الوجوه؛ كما ذكرنا، بل هي في نفسها متناقضةٌ متعارضة؛ فقوله: {ما هذا إلاَّ بشرٌ مثلُكُم يريدُ أن يتفضَّلَ عليكُم}؛ أثبتوا أنَّ له عقلاً يكيدُهم به ليعلُوَهم ويسودَهم، ويحتاجُ مع هذا أن يُحْذَرَ منه لئلاَّ يُغترَّ به؛ فكيف يلتئم مع قولهم: {إنْ هو إلاَّ رجلٌ به جِنَّةٌ}؟! وهل هذا إلا من مشبِّهٍ ضالٍّ، منقلبٍ عليه الأمر، قصده الدفع بأيِّ طريق اتَّفق له، غير عالم بما يقول. ويأبى الله إلاَّ أنْ يُظْهِرَ خِزْيَ مَن عاداه وعادى رسله.