ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 23

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟ En
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں
En
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) ➊ { وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ:} توحید و قیامت کے دلائل اور اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کا انکار کرنے والی اور رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کا اور اپنے رسولوں کی نصرت کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر فرمایا، کیونکہ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول وہی تھے اور نعمتوں کے تذکرے سے بات کا رخ نوح علیہ السلام کی طرف نہایت خوب صورت طریقے سے موڑا کہ آخری نعمت جو ذکر فرمائی وہ انسانوں کو کشتیوں پر سوار کرنا تھی اور سب سے پہلے کشتی کے سوار نوح علیہ السلام اور ان کے مومن ساتھی تھے، بعد میں تمام کشتیاں اسی کی طرز پر بنیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۴۱ تا ۴۳) اس لیے کشتیوں کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔
➋ انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیاء اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کے بجائے احسان فراموشی اور تکبر سے کام لیا، تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ اس میں قریش اور دوسرے تمام کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے۔ قرآن میں عموماً { آلَاءُ اللّٰهِ } (اللہ کی نعمتوں) کے بعد{ أَيَّامُ اللّٰهِ } کا بیان ہوتا ہے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
➌ { اِلٰى قَوْمِهٖ } سے معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اس وقت موجود ہی ان کی قوم تھی۔ تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث ہونا صرف ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔
➍ { فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ: يٰقَوْمِ } اصل میں {يَا قَوْمِيْ} ہے اے میری قوم! کتنی محبت اور نرمی سے خطاب فرمایا ہے، پھر فرمایا: اللہ کی عبادت کرو۔ ہر پیغمبر کی دعوت یہی رہی ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۵) نوح علیہ السلام کے واقعات کے لیے سورۂ اعراف (۵۹ تا ۶۴)، یونس (۷۱ تا ۷۳)، بنی اسرائیل (۳) اور سورۂ انبیاء (۷۶، ۷۷) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
➎ {مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ: مِنْ } کے ساتھ معبودوں کے عموم کی تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ہو گا اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔ یہ جملہ { اعْبُدُوا اللّٰهَ } کی علت ہے، یعنی اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔ جب اور کوئی بھی معبود نہیں تو عبادت کیسی؟
➏ { اَفَلَا تَتَّقُوْنَ:} یعنی کیا اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہوئے تم اس سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا (اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم [26] ڈرتے نہیں؟“
[26] حضرت نوحؑ کے واقعات پہلے سورۃ اعراف حاشیہ نمبر 61 تا 64، سورۃ یونس حاشیہ نمبر 84، اور سورۃ ہود حاشیہ نمبر 34 تا 53 میں گزر چکے ہیں۔ وہ بھی پیش نظر رکھے جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭
نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ السلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ السلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چنانچہ انھوں نے فرمایا: ﴿یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ ﴿ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰ٘هٍ غَیْرُهٗ تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔
﴿ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى رسالة عبده ورسوله نوح عليه السلام أول رسول أرسله لأهل الأرض، فأرسله إلى قومه، وهم يعبدون الأصنام، فأمرهم بعبادة الله وحده، فقال: {يا قوم اعبُدوا الله}؛ أي: أخلصوا له العبادة؛ لأنَّ العبادة لا تصحُّ إلا بإخلاصها. {ما لكم من إلهٍ غيره}: فيه إبطال ألوهيَّة غير الله وإثباتُ الإلهيَّة لله تعالى؛ لأنَّه الخالق الرازق الذي له الكمالُ كلُّه، وغيرُه بخلاف ذلك. {أفلا تتَّقون}: ما أنتم عليه من عبادة الأوثان والأصنام التي صُوِّرت على صور قوم صالحين، فعبدوها مع الله؟