تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا۔“ یہاں یہ معنی بھی مراد ہو سکتا ہے، کیونکہ بارش برسنا اور زمین کا سر سبز ہونا ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔ مگر عام طور پر قرآن مجید میں {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظ {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} کے معنی میں آیا ہے، یعنی ”کیا تمھیں معلوم نہیں۔“ دیکھیے سورۂ فیل کی آیت (۱): «اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ» کی تفسیر۔ یہاں بھی یہی دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ دیکھنے سے مقصود علم ہی ہے اور جس دیکھنے سے علم حاصل نہ ہو وہ کالعدم ہے۔
➌ { ” مَآءً “} کی تنوینِ تقلیل کی وجہ سے ”کچھ پانی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو ”زمین سرسبز ہوگئی “ کے بجائے فرمایا ”زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔“ یعنی ماضی کے بجائے مضارع کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ بارش کا نزول ایک دفعہ ہوتا ہے تو زمین ایک لمبا عرصہ سرسبز رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت دیکھیے کہ زمین مردہ اور پتھر کی طرح سخت تھی، اس کے نیچے خشک بیج مدت سے دفن تھے، رحمت کی بارش برسی تو زمین پھولی اور ابھری، خشک بیج میں زندگی پیدا ہوئی اور نرم و نازک کونپل زمین کا سینہ چیر کر باہر نکلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین کا سارا تختہ آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سرور پہنچانے والا سبز رنگ اختیار کر گیا، جو عقل والوں کے لیے دلیل ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعے سے بنجر زمین میں دفن خشک بیج سے پودا پیدا فرمایا وہی قیامت کو اس زمین سے مردہ انسانوں کو ان کی {” عَجْبُ الذَّنَبِ “} (دم کی ہڈی) سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ [بخاري، التفسیر، باب «یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا» : ۴۹۳۵] بعض مفسرین نے اس میں اس اشارے کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ مردہ دلوں کو وحی الٰہی کے ذریعے سے ایمان کی زندگی عطا فرماتا ہے۔
➍ زمین سے پیدا ہونے والے پودوں کے پتے، پھول، پھل اور دانے، غرض ہر چیز انسان کے لیے خوراک، لباس اور دوسری ضروریات کے کام آتی ہے اور سبھی اللہ کی نعمتیں ہیں مگر یہاں زمین کے سر سبز ہونے کو خاص طور پر ذکر فرمایا کہ اس سبزے سے آنکھوں کو جو تازگی اور دل کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دوسری نعمتوں کا ذکر چھوڑ دیا کہ انسان خود سوچ لے۔
➎ { اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ:} لفظ {” لَطِيْفٌ “} میں دو مفہوم شامل ہیں، ایک ”باریک چیزوں کو دیکھنے والا “ اور دوسرا ”نہایت مہربانی والا۔“ {” اِنَّ “} عموماً پہلے جملے کی وجہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتار کر زمین کو سرسبز اس لیے کیا کہ وہ نہایت مہربان بھی ہے، باریک بین بھی اور ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا بھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ زمین کے سینے میں کس جگہ کون سا انسان یا حیوان یا کسی پودے کا باریک سے باریک بیج دفن ہے اور اسی کے لطف و کرم سے یہ سب کچھ دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس سے اپنے بندوں کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا اخلاقی ضرورت پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت، جو اس کے حسب حال ہے، پوری ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں پر (ف) تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (ف) آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔
زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔
ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59]، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔
امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔“
اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔
جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔
اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔
پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا حثٌّ منه تعالى وترغيبٌ في النظر بآياتِهِ الدَّالَّة على وحدانيَّته وكماله، فقال: {ألم تَرَ}؛ أي: ألم تشاهِدْ ببصرك وبصيرتك، {أنَّ الله أنْزَلَ مِنَ السماء ماءً}: وهو المطر، فينزِلُ على أرضٍ خاشعةٍ مجدبةٍ، قد اغبرَّت أرجاؤُها ويَبِسَ ما فيها من شجرٍ ونباتٍ، فتصبح مخضرَّةً؛ قد اكتستْ من كلِّ زوج كريم، وصار لها بذلك منظرٌ بهيجٌ، أنَّ الذي أحياها بعد موتها وهمودها لَمحيي الموتى بعد أن كانوا رميماً. {إنَّ الله لطيفٌ خبيرٌ}: اللطيفُ: الذي يدرِكُ بواطن الأشياء وخفيَّاتها وسرائرها، الذي يسوقُ إلى عباده الخير، ويدفَعُ عنه الشرَّ بطرقٍ لطيفةٍ تَخْفى على العباد. ومن لطفِهِ أنَّه يُري عبده عزَّتَه في انتقامه، وكمال اقتدارِهِ، ثم يظهِرُ لطفَه بعد أن أشرف العبدُ على الهلاك. ومن لطفِهِ أنَّه يعلم مواقعَ القطرِ من الأرض وبذور الأرض في بواطنها، فيسوق ذلك الماء إلى ذلك البذر الذي خفي على عِلْم الخلائق، فَيَنْبُتُ منه أنواعُ النبات. {خبيرٌ}: بسرائر الأمور وخبايا الصُّدور وخفايا الأمور.