ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 64

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿٪۶۴﴾
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے۔ اور بےشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے۔
En
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے اور یقیناً اللہ وہی ہے بے نیاز تعریفوں واﻻ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ {لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یہ دوسری دلیل ہے، یعنی وہ صرف آسمان سے بارش برسانے اور زمین سے سبزہ اگانے ہی کا مالک نہیں بلکہ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا وہ اکیلا مالک ہے، بارش برسانا اور سبزہ اگانا تو اس کے اختیار کا معمولی سا حصہ ہے۔ { لَهٗ } کو پہلے لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوا۔ تو جب ہر چیز کا مالک وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو؟
➋ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان جن چیزوں کا مالک ہوتا ہے ان کا محتاج بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہونے کے ذکر کے ساتھ وضاحت فرمائی کہ وہ آسمان و زمین اور ان میں موجود کسی چیز کا محتاج نہیں، بلکہ سب سے بے پروا اور غنی ہے، حتیٰ کہ حمد کرنے والوں کی حمد سے بھی غنی ہے۔ اس وصف کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ حمید یعنی تمام تعریفوں والا ہے، ہر حمد اور تعریف خواہ کسی کی ہو، دراصل وہ اس اکیلے ہی کی ہے، کیونکہ مخلوق میں تعریف کے لائق جو خوبی بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ جب سب اسی کے محتاج ہیں تو پھر مخلوق کی عبادت کیوں ہو جو خود اپنے وجود میں بھی اس کی محتاج ہے۔
➌ { اِنَّ } کے اسم { اللّٰهَ } اور اس کی خبر{ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ } کے درمیان ضمیر فصل { هُوَ } لانے سے اور { اِنَّ } کی خبر { الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ } پر الف لام لانے سے کلام میں دو وجہوں سے حصر پیدا ہو گیا، جس سے ترجمہ یہ ہو گا کہ بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64۔ 1 پیدائش کے لحاظ سے بھی، ملکیت کے اعتبار سے بھی اور تصرف کرنے کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے سب مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ غنی بےنیاز ہے۔ اور جو ذات سارے کمالات اور اختیارات کا منبع ہے، ہر حال میں تعریف کی مستحق بھی وہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ جو کچھ اسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے بے نیاز [93] اور حمد کے لائق ہے۔
[93] چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔ لہٰذا ہر چیز اپنی ہستی اور اس کی بقاء تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوئی۔ جبکہ وہ خود کسی کا محتاج نہیں۔ تمام کائنات کے وجود سے پہلے بھی اس کی ہستی قائم و دوائم تھی اور وجود کے بعد بھی وہ اس سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا کوئی اس کی حمد و ثنا بیان کرے یا نہ کرے اس سے اسے کچھ فرق نہیں پڑتا (البتہ حمد و ثنا بیان کرنے والے کی اپنی ذات کو ضرور فائدہ پہنچ جاتا ہے) کیونکہ وہ اپنی ذات میں خود ہی محمود ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قدرت اور غلبہ الٰہی کا اظہار ٭٭
اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ «فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ» ۱؎ [22-الحج:5]‏‏‏‏ ’ سوکھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے ‘۔
یہاں پر (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14]‏‏‏‏ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (‏‏‏‏ف)‏‏‏‏‏‏‏‏ آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔
زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16]‏‏‏‏ ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25]‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔
ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59]‏‏‏‏، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61]‏‏‏‏ ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔
امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔‏‏‏‏
تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لیے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔
اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔
انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رأفت و شفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6]‏‏‏‏، ’ لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بے شک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے ‘۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔
جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28]‏‏‏‏ ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26]‏‏‏‏ ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔
اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11]‏‏‏‏ ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔
پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قوت، حکمت اور اقتدار کامل سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ اس معاملے میں اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ یعنی وہ بذاتہ غنی ہے، جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق و تام کا مالک ہے یہ اس کی غنائے کامل ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں وہ ذلت سے بچنے کے لیے ان کو مددگار بناتا ہے نہ قلت کو دور کرنے کے لیے ان کے ذریعے کثرت حاصل کرتا ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ اولاد۔ یہ اس کی غنا ہے کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے کسی لحاظ سے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے، وہ مخلوق کو کھلاتا ہے کوئی اس کو نہیں کھلاتا۔ یہ اس کی غنا ہے کہ تمام مخلوق اپنے وجود میں آنے، اپنے تیار ہونے، اپنی امداد میں اور اپنے دین و دنیا میں اسی کی محتاج ہے۔
یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام لوگ زندہ و مردہ سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں، پھر اس میں سے ہر شخص اپنی اپنی خواہش و تمنا کے مطابق اس سے سوال کرے اور وہ ان کو ان کی تمنا اور خواہش سے بڑھ کر عطا کر دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس کا دست عطا دن رات خیر و برکات عنایت کرتا رہتا ہے، اس کا فضل و کرم تمام جانداروں پر حاوی و ساری ہے۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس نے اپنے اکرام و تکریم والے گھر میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور سے اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
﴿الْحَمِیْدُ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور وہ اپنے اسماء میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے ہیں۔ وہ اپنی صفات میں محمود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام افعال عدل و احسان اور رحمت و حکمت پر مبنی ہیں۔ وہ اپنی تشریع میں محمود ہے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح مصلحت ہو اور وہ اسی چیز سے روکتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح فساد ہو۔ وہ جس کے لیے ہر قسم کی ستائش ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور ان کے بعد جو کچھ وہ چاہے، سب کو لبریز کر رکھا ہے۔ وہ ہستی کہ بندے اس کی حمد و ثنا بیان کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ وہ اس حمد و ثنا سے بالا و بلند تر ہے جو بندے بیان کرتے ہیں۔ وہ جسے اپنی توفیق سے نوازتا ہے تو اپنی توفیق پر قابل تعریف ہے اور جب اس سے علیحدہ ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر بھی قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی حمد و ثنا میں غنی اور اپنی غنا میں قابل تعریف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{له ما في السمواتِ} والأرض خَلْقاً وعبيداً، يتصرَّف فيهم بملكه وحكمته وكمال اقتداره، ليس لأحدٍ غيره من الأمر شيءٌ. {وإنَّ الله لهو الغنيُّ}: بذاتِهِ، الذي له الغنى المطلقُ التامُّ من جميع الوجوه. ومن غناه أنَّه لا يحتاجُ إلى أحدٍ من خَلْقِهِ ولا يواليهم من ذلَّةٍ ولا يتكثَّرُ بهم من قِلَّةٍ. ومن غناه أنه ما اتَّخذ صاحبةً ولا ولداً. ومن غناه أنَّه صمدٌ لا يأكل ولا يشرب ولا يحتاجُ إلى ما يحتاج إليه الخلقُ بوجهٍ من الوجوه؛ فهو يُطْعِمُ ولا يُطْعَمُ. ومن غناه أنَّ الخلق كلَّهم مفتقرون إليه؛ في إيجادهم وإعدادهم وإمدادهم، وفي دينهم ودنياهم. ومن غناه أنَّه لو اجتمع مَن في السماوات ومَن في الأرض، الأحياء منهم والأموات، في صعيدٍ واحدٍ، فسأل كل منهم ما بلغت أمنيَّتُه، فأعطاهم فوق أمانيهم؛ ما نَقَصَ ذلك من ملكه شيء. ومن غناه أنَّ يَدَهُ سحاءُ بالخير والبركات الليل والنهار، لم يزل إفضاله على الأنفاس. ومن غناه وكرمِه ما أودعه في دار كرامتِهِ مما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر. {الحميد}؛ أي: المحمود في ذاته، وفي أسمائه؛ لكونها حسنى، وفي صفاته؛ لكونها كلها صفات كمال، وفي أفعاله؛ لكونها دائرة بين العدل والإحسان والرحمة والحكمة، وفي شرعه؛ لكونه لا يأمر إلاَّ بما فيه مصلحةٌ خالصةٌ أو راجحةٌ، ولا ينهى إلاَّ عما فيه مفسدةٌ خالصةٌ أو راجحةٌ، الذي له الحمدُ الذي يملأ ما في السماوات والأرض وما بينهما وما شاء بعدها، الذي لا يُحْصي العبادُ ثناءً على حمده، بل هو كما أثنى على نفسه وفوق ما يُثْني عليه عباده، وهو المحمود على توفيق من يوفِّقه وخذلان من يخذله، وهو الغنيُّ في حمده، الحميد في غناه.