تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان جن چیزوں کا مالک ہوتا ہے ان کا محتاج بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہونے کے ذکر کے ساتھ وضاحت فرمائی کہ وہ آسمان و زمین اور ان میں موجود کسی چیز کا محتاج نہیں، بلکہ سب سے بے پروا اور غنی ہے، حتیٰ کہ حمد کرنے والوں کی حمد سے بھی غنی ہے۔ اس وصف کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ حمید یعنی تمام تعریفوں والا ہے، ہر حمد اور تعریف خواہ کسی کی ہو، دراصل وہ اس اکیلے ہی کی ہے، کیونکہ مخلوق میں تعریف کے لائق جو خوبی بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ جب سب اسی کے محتاج ہیں تو پھر مخلوق کی عبادت کیوں ہو جو خود اپنے وجود میں بھی اس کی محتاج ہے۔
➌ {” اِنَّ “ } کے اسم {” اللّٰهَ “} اور اس کی خبر{ ” الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “ } کے درمیان ضمیر فصل {” هُوَ “} لانے سے اور {” اِنَّ “} کی خبر {” الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ “} پر الف لام لانے سے کلام میں دو وجہوں سے حصر پیدا ہو گیا، جس سے ترجمہ یہ ہو گا کہ بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بے پروا، تمام تعریفوں والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں پر (ف) تعقیب کے لیے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ «ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا» ۱؎ [23-المؤمنون:14] نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی (ف) آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہو جاتی ہیں «فَاللہُ اَعْلَمُ» ۔
زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے لقمان رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں ہے کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ اے بچے! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہوچاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ۱؎ [27-النمل:25] ’ زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا ‘۔
ایک آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59]، ’ ہرپتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ» ۱؎ [10-یونس:61] ’ کوئی ذرہ آسمان و زمیں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو ‘۔
امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر «وَقُولَا لَهُ مَنْ يُنْبِت الْحَبّ فِي الثَّرَى» «فَيُصْبِح مِنْهُ الْبَقْل يَهْتَزّ رَابِيًا» «وَيُخْرِج مِنْهُ حَبّه فِي رُءُوسه» «فَفِي ذَلِكَ آيَات لِمَنْ كَانَ وَاعِيًا» ”اے میرے دونوں پیغمبرو! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے؟ عقلمند کے لیے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔“
اس کا احسان وفضل و کرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال ومتاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لیے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آ رہے اور تم سب ہلاک ہو جاؤ۔
جیسے فرمایا آیت «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:28] ’ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [45-الجاثية:26] ’ اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا ‘۔
اور جگہ فرمایا «قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ» ۱؎ [40-غافر:11] ’ وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا ‘۔
پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو؟ دوسروں کی عبادت اس کے ساتھ کیسے کرتے ہو؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک ومختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بے قدرا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{له ما في السمواتِ} والأرض خَلْقاً وعبيداً، يتصرَّف فيهم بملكه وحكمته وكمال اقتداره، ليس لأحدٍ غيره من الأمر شيءٌ. {وإنَّ الله لهو الغنيُّ}: بذاتِهِ، الذي له الغنى المطلقُ التامُّ من جميع الوجوه. ومن غناه أنَّه لا يحتاجُ إلى أحدٍ من خَلْقِهِ ولا يواليهم من ذلَّةٍ ولا يتكثَّرُ بهم من قِلَّةٍ. ومن غناه أنه ما اتَّخذ صاحبةً ولا ولداً. ومن غناه أنَّه صمدٌ لا يأكل ولا يشرب ولا يحتاجُ إلى ما يحتاج إليه الخلقُ بوجهٍ من الوجوه؛ فهو يُطْعِمُ ولا يُطْعَمُ. ومن غناه أنَّ الخلق كلَّهم مفتقرون إليه؛ في إيجادهم وإعدادهم وإمدادهم، وفي دينهم ودنياهم. ومن غناه أنَّه لو اجتمع مَن في السماوات ومَن في الأرض، الأحياء منهم والأموات، في صعيدٍ واحدٍ، فسأل كل منهم ما بلغت أمنيَّتُه، فأعطاهم فوق أمانيهم؛ ما نَقَصَ ذلك من ملكه شيء. ومن غناه أنَّ يَدَهُ سحاءُ بالخير والبركات الليل والنهار، لم يزل إفضاله على الأنفاس. ومن غناه وكرمِه ما أودعه في دار كرامتِهِ مما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر. {الحميد}؛ أي: المحمود في ذاته، وفي أسمائه؛ لكونها حسنى، وفي صفاته؛ لكونها كلها صفات كمال، وفي أفعاله؛ لكونها دائرة بين العدل والإحسان والرحمة والحكمة، وفي شرعه؛ لكونه لا يأمر إلاَّ بما فيه مصلحةٌ خالصةٌ أو راجحةٌ، ولا ينهى إلاَّ عما فيه مفسدةٌ خالصةٌ أو راجحةٌ، الذي له الحمدُ الذي يملأ ما في السماوات والأرض وما بينهما وما شاء بعدها، الذي لا يُحْصي العبادُ ثناءً على حمده، بل هو كما أثنى على نفسه وفوق ما يُثْني عليه عباده، وهو المحمود على توفيق من يوفِّقه وخذلان من يخذله، وهو الغنيُّ في حمده، الحميد في غناه.