ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 62

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ہُوَ الۡبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۶۲﴾
یہ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو حق ہے اور (اس لیے) کہ اس کے سوا وہ جسے بھی پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور (اس لیے)کہ اللہ ہی بے حد بلند ہے، بہت بڑا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اس لئے خدا رفیع الشان اور بڑا ہے
En
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ {ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ …:} یہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے وعدے کو پورا کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور حق رب ہے۔ جس چیز کا وہ ارادہ کرے اسے کر گزرتا ہے، سو وہ اپنے دوستوں کی ضرور مدد کرے گا اور اس کے سوا جس کو بھی لوگ پکارتے ہیں وہ ناحق اور باطل ہے، وہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتا تو ان کی مدد کیا کرے گا؟ اور اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کی مدد کیوں کرے گا؟
➋ {وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} چوتھی وجہ اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد ضرور کرے گا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے اونچا ہے، باقی سب نیچے ہیں اور وہی بے حد بڑا ہے، باقی سب چھوٹے ہیں اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 اس لئے اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق ہے اس کے وعدے حق ہیں، اس کا اپنے اولیاء کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرنا حق ہے، وہ اللہ عزوجل اپنی ذات میں، اپنی صفات میں اور اپنے افعال میں حق ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب کچھ باطل ہے اور اللہ ہی عالی شان [91] اور کبریائی والا ہے۔
[91] پھر جو ہستی کائنات میں اتنا تصرف کرنے پر قدرت رکھتی ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کو تصرف میں ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ تاہم ظاہری اور باطنی اسباب اور ان کے نتائج پر اللہ اکیلے کا کنٹرول ہے تو پھر حق بات یہی ہے کہ اپنی حاجات کے لئے اکیلے اللہ ہی کو پکارا جائے۔ کیونکہ وہی سب سے بڑی قوت ہے اور قوت والا ہے اور وہی سب سے بڑا ہے جس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو اپنے قبضہ اختیار میں لے رکھا ہے اور جو لوگ ایسے قدرتوں والے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں وہ غلط کار ہیں اور غلطی پر ہیں۔ کیونکہ دوسروں کے پاس کوئی قدرت و تصرف ہے ہی نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس پر کوئی حاکم نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فرمان ہے آیت «قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ۱؎ [3-آل عمران:27،26]‏‏‏‏ ’ الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب روزیاں پہنچاتا ہے ‘۔
پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» ۱؎ [2-البقرة:255]‏‏‏‏ ’ زبردست غلبے والا ‘، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» ۱؎ [13-الرعد:9]‏‏‏‏ ’ وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے ‘۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكَ یہ حکم اور احکام والی ہستی ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وہ ثابت ہے جو ہمیشہ سے ہے، وہ زائل ہونے والی نہیں، وہ اول ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا وہ آخر ہے اس کے بعد کچھ نہیں، وہ کامل اسماء و صفات کا مالک، وعدے کا سچا، اس کا وعدہ حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق، نفع مند اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ ﴿ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ اور اس کے سوا تم جن بتوں اور جمادات و حیوانات میں سے خود ساختہ خداؤں کو پکارتے ہو ﴿ هُوَ الْبَاطِلُ وہ فی نفسہ باطل ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے کیونکہ یہ ایسی ہستی سے متعلق ہے جو مضمحل اور فانی ہے، لہٰذا وہ بھی اپنے باطل مقصد کی بنا پر باطل ہے۔
﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْ٘عَلِیُّ الْكَبِیْرُ وہ فی ذاتہ بلند ہے، اس لیے وہ تمام مخلوقات سے بلند ہے، وہ عالی قدر ہے، اس لیے وہ اپنی صفات میں کامل ہے، وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے، وہ اپنی ذات اور اسماء و صفات میں بلند ہے۔ یہ اس کی عظمت و کبریائی ہے کہ قیامت کے روز زمین اس کے قبضۂ قدرت میں اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر محیط ہے، یہ اس کی کبریائی ہے کہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ اس کی مشیت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتے۔ وہ اس کے ارادے کے بغیر حرکت کر سکتے ہیں نہ ساکن ہو سکتے ہیں۔
اس کی کبریائی کی حقیقت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبىٔ مرسل۔ ہر صفت کمال و جلال اور عظمت و کبریائی اس کے لیے ثابت ہے۔ اس کی یہ صفت کامل ترین اور جلیل ترین درجے پر ہے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ زمین و آسمان سے صادر ہونے والی عبادات کا مقصد وحید اس کی تعظیم و کبریائی کا اقرار اور اس کے جلال و اکرام کا اعتراف ہے، بنابریں تکبیر تمام بڑی بڑی عبادات، مثلاً: نماز وغیرہ کا شعار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: صاحب الحكم والأحكام، {بأنَّ الله هو الحقُّ}؛ أي: الثابتُ الذي لا يزال ولا يزول، فالأولُ الذي ليس قبله شيء، الآخِرُ الذي ليس بعدَه شيء، كامل الأسماء والصفات، صادقُ الوعد، الذي وعدُهُ حقٌّ ولقاؤه حقٌّ ودينه حقٌّ وعبادته هي الحقُّ النافعة الباقية على الدوام. {وأنَّ ما يدعون من دونِهِ}: من الأصنام والأنداد من الحيوانات والجمادات، {هو الباطل}: الذي هو باطلٌ في نفسه، وعبادتُه باطلةٌ؛ لأنها متعلِّقةٌ بمضمحلٍّ فانٍ، فتبطُلُ تبعاً لغايتها ومقصودها. {وأنَّ الله هو العليُّ الكبيرُ}: العليُّ في ذاته؛ فهو عالٍ على جميع المخلوقات، وفي قَدْرِهِ؛ فهو كامل الصفات، وفي قهرِهِ لجميع المخلوقات، الكبيرُ في ذاتِهِ وفي أسمائِهِ وفي صفاتِهِ، الذي من عظمتِهِ وكبريائِهِ أنَّ الأرضَ قبضتُه يوم القيامة والسماوات مطوياتٌ بيمينِهِ، ومن كبريائِهِ أنَّ كرسيَّه وَسِعَ السماواتِ والأرض، ومن عظمتِهِ وكبريائِهِ أنَّ نواصي العباد بيدِهِ؛ فلا يتصرفون إلا بمشيئته، ولا يتحرَّكون ويسكُنون إلاَّ بإرادتِهِ، وحقيقةُ الكبرياء التي لا يعلمها إلاَّ هو؛ لا مَلَكٌ مقرَّبٌ ولا نبيٌّ مرسلٌ: أنَّها كلُّ صفة كمال وجلال وكبرياء وعظمةٍ؛ فهي ثابتةٌ له، وله من تلك الصفة أجلُّها وأكملُها، ومن كبريائِهِ أنَّ العباداتِ كلَّها، الصادرةَ من أهل السماوات والأرضِ كلِّها، المقصودُ منها تكبيرُهُ وتعظيمُهُ وإجلالُهُ وإكرامُهُ، ولهذا كان التكبير شعاراً للعبادات الكبار كالصلاة وغيرها.