تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} چوتھی وجہ اس بات کی کہ ”اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد ضرور کرے گا“ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے اونچا ہے، باقی سب نیچے ہیں اور وہی بے حد بڑا ہے، باقی سب چھوٹے ہیں اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات وسکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کر سکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ زبردست غلبے والا ‘، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہو جائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، «الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» ۱؎ [13-الرعد:9] ’ وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے ‘۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك}: صاحب الحكم والأحكام، {بأنَّ الله هو الحقُّ}؛ أي: الثابتُ الذي لا يزال ولا يزول، فالأولُ الذي ليس قبله شيء، الآخِرُ الذي ليس بعدَه شيء، كامل الأسماء والصفات، صادقُ الوعد، الذي وعدُهُ حقٌّ ولقاؤه حقٌّ ودينه حقٌّ وعبادته هي الحقُّ النافعة الباقية على الدوام. {وأنَّ ما يدعون من دونِهِ}: من الأصنام والأنداد من الحيوانات والجمادات، {هو الباطل}: الذي هو باطلٌ في نفسه، وعبادتُه باطلةٌ؛ لأنها متعلِّقةٌ بمضمحلٍّ فانٍ، فتبطُلُ تبعاً لغايتها ومقصودها. {وأنَّ الله هو العليُّ الكبيرُ}: العليُّ في ذاته؛ فهو عالٍ على جميع المخلوقات، وفي قَدْرِهِ؛ فهو كامل الصفات، وفي قهرِهِ لجميع المخلوقات، الكبيرُ في ذاتِهِ وفي أسمائِهِ وفي صفاتِهِ، الذي من عظمتِهِ وكبريائِهِ أنَّ الأرضَ قبضتُه يوم القيامة والسماوات مطوياتٌ بيمينِهِ، ومن كبريائِهِ أنَّ كرسيَّه وَسِعَ السماواتِ والأرض، ومن عظمتِهِ وكبريائِهِ أنَّ نواصي العباد بيدِهِ؛ فلا يتصرفون إلا بمشيئته، ولا يتحرَّكون ويسكُنون إلاَّ بإرادتِهِ، وحقيقةُ الكبرياء التي لا يعلمها إلاَّ هو؛ لا مَلَكٌ مقرَّبٌ ولا نبيٌّ مرسلٌ: أنَّها كلُّ صفة كمال وجلال وكبرياء وعظمةٍ؛ فهي ثابتةٌ له، وله من تلك الصفة أجلُّها وأكملُها، ومن كبريائِهِ أنَّ العباداتِ كلَّها، الصادرةَ من أهل السماوات والأرضِ كلِّها، المقصودُ منها تكبيرُهُ وتعظيمُهُ وإجلالُهُ وإكرامُهُ، ولهذا كان التكبير شعاراً للعبادات الكبار كالصلاة وغيرها.