وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھائو اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
En
اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیرفرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو
En
قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمہارے ماتحت کردیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36) ➊ {وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ: ” الْبُدْنَ “ ”بَدَنَةٌ“} کی جمع ہے، بڑے بدن والا جانور۔ یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قربانی کے لیے سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) میں {”بَهِيْمَةُ الْأَنْعَامِ“} یعنی پالتو چوپاؤں کا ذکر فرمایا تھا جو بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے ہیں۔ اس آیت میں بڑے جانوروں کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ چوپاؤں میں بطور {”شعائر الله“} وہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، خاص طور پر اونٹ اپنے بلند قد کی وجہ سے اور اِشعار کی وجہ سے زیادہ ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اِشعار کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں قربانی کے اونٹ روانہ کیے جاتے ہیں تو ان کے کوہان کے دائیں طرف برچھی وغیرہ سے زخم کرکے خون جلد پر مل دیا جاتا ہے، جو علامت ہوتا ہے کہ یہ جانور مکہ معظمہ قربانی کے لیے جا رہے ہیں اور جس سے ہر دیکھنے والا ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت کرتا ہے۔ گائے کو بھی {”بَدَنَةٌ“} کہہ لیتے ہیں، قاموس میں ہے: {” اَلْبَدَنَةُ مُحَرَّكَةً مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كَالْأُضْحِيَةِ مِنَ الْغَنَمِ“} ”یعنی جس طرح بھیڑ بکری کی قربانی کو اضحیہ کہتے ہیں اسی طرح اونٹ اور گائے کو بدنہ کہتے ہیں۔“ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّيْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِيْ بَدَنَةٍ] [مسلم، الحج، باب جواز الاشتراک في الھدی…: 1318/351] ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بدنہ میں شریک ہو جائیں۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ اور گائے دونوں کو بدنہ کہتے ہیں اور یہ کہ حج کے موقع پر اونٹ اور گائے دونوں میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ دوسری روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں: [كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحٰی فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً وَفِي الْجَزُوْرِ عَشْرَةً] [ترمذي، الحج، باب ما جاء في الاشتراک في البدنۃ والبقرۃ: ۹۰۵، وقال حدیث حسن صحیح وقال الألباني صحیح] ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو نحر (قربانی کا وقت) آگیا تو ہم نے گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔“ ترمذی کے علاوہ اسے احمد، نسائی اور طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے علاوہ دوسرے مقامات پر عید الاضحی کے موقع پر اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ ہاں، حج کے موقع پر سات آدمی شریک ہوں گے، جیسا کہ مسلم کی حدیث میں گزرا ہے۔ البتہ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ”ایک اونٹ کی قربانی میں دس اور ایک گائے کی قربانی میں سات شریک ہو سکتے ہیں، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت میں ہے اور صحیح مسلم میں جو جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں {”اَلْجَزُوْرُ عَنْ سَبْعَةٍ “} (اونٹ سات کی طرف سے) آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں ہے، کیونکہ دس والی روایت جواز پر محمول ہے۔“
➋ { لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ: ” خَيْرٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔“ اس خیر میں وہ منافع بھی شامل ہیں جو آیت (۲۳) کی تفسیر میں گزرے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیوں اور جسم کے ہر حصے سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ آخرت میں ملنے والا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے اور وہ ایسی خیر ہے جو شمار سے باہر ہے۔
➌ { فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا:} یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں ذبح کرو، فرمایا، ان پر اللہ کا نام لو۔ اس لفظ کو بار بار دہرانے سے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اللہ کے پیدا کیے یہ چوپائے اسی کے نام پر ذبح ہونے چاہییں، نہ کسی غیر سے کوئی مراد بر لانے کی نیت پر اور نہ کسی غیر کے نام پر۔
➍ { ” صَوَآفَّ “ ” صَافَّةٌ “} کی جمع ہے بروزن {”فَوَاعِلَ۔“} صف کا معروف معنی قطار ہے، یعنی اونٹوں کو قربان گاہ میں قطار کی صورت میں کھڑا کرکے باری باری نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے قربانی کے جمال و جلال میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں ہے: [ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّيْنَ بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ] [مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸۔ مسند أحمد: ۳ /۳۲۰،۳۲۱، ح: ۱۴۴۵۳]”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف پلٹے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے، آپ انھیں ایک برچھے کے ساتھ زخم لگاتے تھے، پھر آپ نے وہ برچھا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا تو انھوں نے باقی کو نحر کر دیا (اور وہ کل سو اونٹ تھے)۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منیٰ میں باقاعدہ قربان گاہ تھی، جیسا کہ آج کل حکومت نے باقاعدہ جگہیں مقرر کر رکھی ہیں اور یہ بھی کہ سب اونٹ وہاں قریب قریب جمع تھے۔ (ابن عاشور) مگر حبر الامہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹوں کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کیا جائے، اس طرح کہ ان کی اگلی بائیں ٹانگ اکٹھی کرکے باندھی ہوئی ہو۔ [طبري بسند ثابت] جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهٗ كَانُوْا يَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَةَ مَعْقُوْلَةَ الْيُسْرٰی قَائِمَةً عَلٰی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا] [أبوداوٗد، المناسک، باب کیف تنحر البدن: ۱۷۶۷، و صححہ الألباني]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کے اگلے بائیں پاؤں کا گھٹنا بندھا ہوتا اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنی اونٹنی بٹھا رکھی تھی اور اسے نحر کر رہا تھا تو فرمایا: ”اسے کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر نحر کرو، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [بخاري، الحج، باب نحر الإبل مقیدۃ: ۱۷۱۳] قرآن مجید کے الفاظ {” فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا “} (جب ان کے پہلو گر پڑیں) سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اونٹوں کو کھڑا کرکے نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ان کے پہلو پہلے ہی زمین پر ہوں تو وہ کیسے گریں گے؟
➎ {فَاِذَاوَجَبَتْ جُنُوْبُهَا:} نحر یہ ہے کہ اونٹ کو اگلی بائیں ٹانگ بندھی ہونے کی حالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے گڑھے میں، جہاں سے گردن شروع ہوتی ہے، کوئی برچھا یا نیزہ یا چھرا {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھ کر مارا جاتا ہے جس سے خون کا پرنالہ بہ نکلتا ہے، بہت سا خون نکل جانے پر اونٹ دائیں یا بائیں کروٹ پر گر پڑتا ہے۔ اس کی جان پوری طرح نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹنا منع ہے، کیونکہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ] [مسلم، الصید و الذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح…: ۱۹۵۵]”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان یعنی اس سے اچھا سلوک کرنا فرض فرمایا ہے، سو تم جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيْمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ] [أبوداوٗد، الضحایا، باب إذا قطع من الصید قطعۃ: ۲۸۵۸۔ ترمذي: ۱۴۸۰] ”جانور کا جو حصہ اس وقت کاٹا جائے جب وہ زندہ ہو تو وہ (گوشت) مردار ہے۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
➏ { فَكُلُوْا مِنْهَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سے پہلے آیت (۲۸) کی تفسیر۔ {” الْقَانِعَ “ ”قَنِعَ يَقْنَعُ“} (ع) سے اسم فاعل ہے، قناعت کرنے والا، اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرکے سوال سے بچنے والا۔ {” الْمُعْتَرَّ “} (سوال کے لیے) سامنے آنے والا۔ {” فَكُلُوْا “} میں ”فاء“ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کی جان پوری طرح نکلنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے اس کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت ہی سے ناشتہ کرنا مستحب ہے۔ معلوم ہوا قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، دوست احباب، خویش و اقارب اور ان مساکین کو بھی کھلانا چاہیے جو سوال نہیں کرتے اور ان فقراء و مساکین کو بھی جو سوال کے لیے آ جاتے ہیں۔ گویا قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جا سکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تینوں برابر ہوں۔
➐ { كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں۔
➋ { لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ: ” خَيْرٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔“ اس خیر میں وہ منافع بھی شامل ہیں جو آیت (۲۳) کی تفسیر میں گزرے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیوں اور جسم کے ہر حصے سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ آخرت میں ملنے والا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے اور وہ ایسی خیر ہے جو شمار سے باہر ہے۔
➌ { فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا:} یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں ذبح کرو، فرمایا، ان پر اللہ کا نام لو۔ اس لفظ کو بار بار دہرانے سے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اللہ کے پیدا کیے یہ چوپائے اسی کے نام پر ذبح ہونے چاہییں، نہ کسی غیر سے کوئی مراد بر لانے کی نیت پر اور نہ کسی غیر کے نام پر۔
➍ { ” صَوَآفَّ “ ” صَافَّةٌ “} کی جمع ہے بروزن {”فَوَاعِلَ۔“} صف کا معروف معنی قطار ہے، یعنی اونٹوں کو قربان گاہ میں قطار کی صورت میں کھڑا کرکے باری باری نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے قربانی کے جمال و جلال میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں ہے: [ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّيْنَ بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ] [مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸۔ مسند أحمد: ۳ /۳۲۰،۳۲۱، ح: ۱۴۴۵۳]”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف پلٹے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے، آپ انھیں ایک برچھے کے ساتھ زخم لگاتے تھے، پھر آپ نے وہ برچھا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا تو انھوں نے باقی کو نحر کر دیا (اور وہ کل سو اونٹ تھے)۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منیٰ میں باقاعدہ قربان گاہ تھی، جیسا کہ آج کل حکومت نے باقاعدہ جگہیں مقرر کر رکھی ہیں اور یہ بھی کہ سب اونٹ وہاں قریب قریب جمع تھے۔ (ابن عاشور) مگر حبر الامہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹوں کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کیا جائے، اس طرح کہ ان کی اگلی بائیں ٹانگ اکٹھی کرکے باندھی ہوئی ہو۔ [طبري بسند ثابت] جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهٗ كَانُوْا يَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَةَ مَعْقُوْلَةَ الْيُسْرٰی قَائِمَةً عَلٰی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا] [أبوداوٗد، المناسک، باب کیف تنحر البدن: ۱۷۶۷، و صححہ الألباني]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کے اگلے بائیں پاؤں کا گھٹنا بندھا ہوتا اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنی اونٹنی بٹھا رکھی تھی اور اسے نحر کر رہا تھا تو فرمایا: ”اسے کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر نحر کرو، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [بخاري، الحج، باب نحر الإبل مقیدۃ: ۱۷۱۳] قرآن مجید کے الفاظ {” فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا “} (جب ان کے پہلو گر پڑیں) سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اونٹوں کو کھڑا کرکے نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ان کے پہلو پہلے ہی زمین پر ہوں تو وہ کیسے گریں گے؟
➎ {فَاِذَاوَجَبَتْ جُنُوْبُهَا:} نحر یہ ہے کہ اونٹ کو اگلی بائیں ٹانگ بندھی ہونے کی حالت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے گڑھے میں، جہاں سے گردن شروع ہوتی ہے، کوئی برچھا یا نیزہ یا چھرا {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“} پڑھ کر مارا جاتا ہے جس سے خون کا پرنالہ بہ نکلتا ہے، بہت سا خون نکل جانے پر اونٹ دائیں یا بائیں کروٹ پر گر پڑتا ہے۔ اس کی جان پوری طرح نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹنا منع ہے، کیونکہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ] [مسلم، الصید و الذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح…: ۱۹۵۵]”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان یعنی اس سے اچھا سلوک کرنا فرض فرمایا ہے، سو تم جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيْمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ] [أبوداوٗد، الضحایا، باب إذا قطع من الصید قطعۃ: ۲۸۵۸۔ ترمذي: ۱۴۸۰] ”جانور کا جو حصہ اس وقت کاٹا جائے جب وہ زندہ ہو تو وہ (گوشت) مردار ہے۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
➏ { فَكُلُوْا مِنْهَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سے پہلے آیت (۲۸) کی تفسیر۔ {” الْقَانِعَ “ ”قَنِعَ يَقْنَعُ“} (ع) سے اسم فاعل ہے، قناعت کرنے والا، اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرکے سوال سے بچنے والا۔ {” الْمُعْتَرَّ “} (سوال کے لیے) سامنے آنے والا۔ {” فَكُلُوْا “} میں ”فاء“ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کی جان پوری طرح نکلنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے اس کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت ہی سے ناشتہ کرنا مستحب ہے۔ معلوم ہوا قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، دوست احباب، خویش و اقارب اور ان مساکین کو بھی کھلانا چاہیے جو سوال نہیں کرتے اور ان فقراء و مساکین کو بھی جو سوال کے لیے آ جاتے ہیں۔ گویا قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جا سکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تینوں برابر ہوں۔
➐ { كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 بدن بدنۃ کی جمع ہے یہ جانور عام طور پر موٹا تازہ ہوتا ہے اس لیے بدنۃ کہا جاتا ہے۔ فربہ جانور۔ اہل لغت نے اسے صرف اونٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے لیکن حدیث کی رو سے گائے پر بھی بدنۃ کا اطلاق صحیح ہے مطلب یہ ہے کہ اونٹ اور گائے جو قربانی کے لیے لیے جائیں یہ بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کے ان احکام میں سے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اور ان کی علامت ہیں۔ 3: صواف مصفوفۃ (صف بستہ یعنی کھڑے ہوئے) معنی میں ہے اونٹ کو اسی طرح کھڑے کھڑے نحر کیا جاتا ہے کہ بایاں ہاتھ پاؤں اس کا بندھا ہوا اور تین پاؤں پر وہ کھڑا ہوتا ہے۔ 36۔ 2 یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بےروح ہو کر زمین پر گرے تب اسے کاٹنا شروع کرو۔ کیونکہ جی دار جانور کا گوشت کاٹ کر کھانا ممنوع ہے ' جس جانور سے اس حال میں گوشت کاٹا جائے کہ وہ زندہ ہو تو وہ (کاٹا) ہوا گوشت مردہ ہے۔ 36۔ 3 بعض علماء کے نزدیک یہ امر وجوب کے لئے ہے یعنی قربانی کا گوشت کھانا، قربانی کرنے والے کے لئے واجب ہے یعنی ضروری ہے اور اکثر علماء کے نزدیک یہ امر جواز کے لئے ہے۔ یعنی اس امر کا مقصد صرف جواز کا اثبات یعنی اگر کھالیا جائے تو جائز یا پسندیدہ ہے اور اگر کوئی نہ کھائے بلکہ سب کا سب تقسیم کر دے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔ 3: قانع کے ایک معنی سائل کے اور دوسرے معنی قناعت کرنے والے کے کیے گئے ہیں یعنی وہ سوال نہ کرے اور معتر کے معنی بعض نے بغیر سوال کے سامنے آنے والے کے کیے ہیں اور تیسرا سائلین اور معاشرے کی ضرورت مند افراد کے لیے۔ جس کی تائید میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں (پہلے) تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرکے رکھنے سے منع کیا تھا لیکن اب تمہیں اجازت ہے کہ کھاؤ اور جو مناسب سمجھو ذخیرہ کرو دوسری روایت کے الفاظ ہیں پس کھاؤ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور قربانی کے اونٹوں [56] کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کے شعائر بنا دیا ہے جن میں تمہارے لئے بہتری ہے۔ لہذا (ذبح کے وقت) انھیں صف بستہ [57] کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام ہو۔ پھر جب ان کے پہلو زمین پر ٹک [58] جائیں تو انھیں خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے [59] کو بھی اور مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو ایسے ہی تمہارے لئے تابع [60] بنا دیا ہے تاکہ تم اللہ کے شکرگزار بنو۔
[56] ﴿بُدن﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿بُدن﴾ کے لفظ کا اطلاق لغوی طور پر ہر عظیم الجثہ جانور پر ہو سکتا ہے۔ تاہم عرب میں یہ لفظ اونٹوں کے لئے ہی مختص ہو گیا ہے۔ پہلے شعائر اللہ کا عمومی ذکر ہو رہا تھا۔ اب یہ ذکر کیا گیا کہ قربانی کے اونٹ بھی اللہ کے شعائر سے ہیں اور ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے اور بھلائیاں ہیں۔ تم ان پر سواری کرتے ہو۔ بار برداری کا کام لیتے ہو۔ دودھ اور اون اور بچے حاصل کرتے ہو۔ حتیٰ کہ ان کی کھالوں اور ہڈیوں سے بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کرتے ہو اور چونکہ قربانی کے اونٹ قابل تعظیم ہیں لہٰذا ذبح کے وقت انھیں ہر ممکن سہولت پہنچاؤ۔
[57] لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر قربانی کے اونٹ زیادہ ہوں تو پہلے انھیں صف بستہ کھڑا کر لیا جائے۔ پھر باری باری نحر کیا جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھڑے کھڑے ہی نحر کیا جائے۔ انھیں بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 13 سے واضح ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا اگلا دایاں یا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیا جائے۔ پھر کسی نیزے، برچھے یا تیز دھار آلہ کو اس کے گلے یا سامنے کے حصہ میں چبھو دیا جائے۔ تاکہ کھڑے کھڑے ہی ان کا خون نکل جائے۔
[58] خون نکلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اونٹ از خود اپنے کسی دائیں یا بائیں پہلو پر گر پڑے گا۔ اس کی کھال اس وقت نہ اتاری جائے۔ جب تک تڑپنا بند نہ کر دے۔ یا زندگی کی کچھ بھی رمق اس میں باقی ہو۔
[57] لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر قربانی کے اونٹ زیادہ ہوں تو پہلے انھیں صف بستہ کھڑا کر لیا جائے۔ پھر باری باری نحر کیا جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھڑے کھڑے ہی نحر کیا جائے۔ انھیں بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 13 سے واضح ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا اگلا دایاں یا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیا جائے۔ پھر کسی نیزے، برچھے یا تیز دھار آلہ کو اس کے گلے یا سامنے کے حصہ میں چبھو دیا جائے۔ تاکہ کھڑے کھڑے ہی ان کا خون نکل جائے۔
[58] خون نکلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اونٹ از خود اپنے کسی دائیں یا بائیں پہلو پر گر پڑے گا۔ اس کی کھال اس وقت نہ اتاری جائے۔ جب تک تڑپنا بند نہ کر دے۔ یا زندگی کی کچھ بھی رمق اس میں باقی ہو۔
[59] قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ عرصہ کے لیے بھی رکھا جا سکتا ہے:۔
یعنی حاجت مند بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ جو کچھ اللہ نے انھیں دے رکھا ہے، اسی پر صابر و شاکر رہتے ہیں۔ اور ضرورت مند ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے اور بعض حالات میں عام لوگوں کو ان کی احتیاج کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ حقیقتاً ایسے ہی لوگ صدقات و خیرات کے صحیح مستحق ہوتے ہیں۔ اور دوسرے وہ احتیاج سے مجبور ہو کر لوگوں سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ اس قربانی کے گوشت میں دو طرح کے لوگوں کو اللہ نے کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ایک عید الاضحیٰ کے موقعہ پر مدینہ کے آس پاس رہنے والے محتاج لوگ بکثرت مدینہ آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دے دیا کہ کوئی شخص تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ نہیں سکتا۔ جو کچھ زائد ہو سب خیرات کر دیا جائے۔ لیکن یہ حکم صرف ان محتاجوں کی آمد کی وجہ سے تھا۔ جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔ [مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب النھی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث و نسخہ]
تاہم ایسے نسخ کا مطلب اتنا ہی ہوتا ہے کہ اگر آج بھی ویسے ہی حالات سامنے آ جائیں۔ کہ محتاج بکثرت ہوں جو خود قربانی دینے کے قابل نہ ہوں یا اتفاقاً اکٹھے ہو جائیں تو آج بھی وہی پہلا حکم ہی لاگو ہو گا۔
تاہم ایسے نسخ کا مطلب اتنا ہی ہوتا ہے کہ اگر آج بھی ویسے ہی حالات سامنے آ جائیں۔ کہ محتاج بکثرت ہوں جو خود قربانی دینے کے قابل نہ ہوں یا اتفاقاً اکٹھے ہو جائیں تو آج بھی وہی پہلا حکم ہی لاگو ہو گا۔
[60] انسان کے لیے جانوروں میں خوئے غلامی:۔
یعنی اپنے عظیم الجثہ جانوروں کو طاقت کے لحاظ سے ان سے کئی گنا بڑھ کر ہیں، تمہارے لئے ایسا مسخر بنا دیا ہے کہ وہ ان سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے اور بوقت ضرورت انھیں ذبح بھی کر ڈالتا ہے مگر وہ اس کے سامنے چون و چرا کرنے کی جرأت نہیں رکھتے اللہ کی ان نعمتوں کے لئے تمہیں اللہ کا شکر گزار اور اطاعت گزار بننا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شعائر اللہ کیا ہیں ؟ ٭٭
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّـهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا» ۱؎ [5-المائدة:2] ’ نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بے ادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو ‘ لہٰذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لیے مقرر کر دیا جائے وہ بدن میں داخل ہے۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بدن کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے۔
حدیث میں ہے کہ { جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی }۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہو جائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کر لیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1318]
امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حدیث میں ہے کہ { جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی }۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہو جائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کر لیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1318]
امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا ’ ان جانورں میں تمہارا اخروی نفع ہے ‘۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں } }۔ ۱؎ [دارقطنی:282/4:ضعیف]
پس اللہ فرماتا ’ تمہارے لیے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو ‘،پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے عید الاضحی کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» پڑھ کر ذبح کیا (کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کر سکے اس کی طرف سے ہے) }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں { عید والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کر کے آپ نے دعا «وَجَّهْت وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْض حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيك لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّل الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك عَنْ مُحَمَّد وَأُمَّته» پڑھ کر «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهِ أَكْبَرُ» کہہ کر ذبح کر ڈالا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2795،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں } }۔ ۱؎ [دارقطنی:282/4:ضعیف]
پس اللہ فرماتا ’ تمہارے لیے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو ‘،پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے عید الاضحی کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» پڑھ کر ذبح کیا (کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کر سکے اس کی طرف سے ہے) }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں { عید والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کر کے آپ نے دعا «وَجَّهْت وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْض حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيك لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّل الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك عَنْ مُحَمَّد وَأُمَّته» پڑھ کر «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهِ أَكْبَرُ» کہہ کر ذبح کر ڈالا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2795،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قربانی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے موٹے موٹے تازے تیار عمدہ بڑے سینگوں والے چتکبرے خریدتے، جب نماز پڑھ کر خطبے سے فراغت پاتے ایک جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں عید گاہ میں ہی خود اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرتے اور فرماتے { اللہ تعالیٰ یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے جو بھی توحید وسنت کا گواہ ہے }، پھر دوسرا جانور حاضر کیا جاتا جسے ذبح کرکے فرماتے { یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے } پھر دونوں کا گوشت مسکینوں کو بھی دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے بھی کھاتے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«صَوَافَّ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اونٹ کو تین پیروں پر کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ کر دعا «بِسْمِ اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر لَا إِلَه إِلَّا اللَّه اللَّهُمَّ مِنْك وَلَك» پڑھ کر اسے نحر کرنے کے کئے ہیں۔
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھایا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسے کھڑا کر دے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1713]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1768،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کر رہے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «صَوَافِن» ہے یعنی کھڑے کر کے پاؤں باندھ کر «صَوَافَّ» کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گر پڑیں یعنی نحر ہو جائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔
چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ { روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ { اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1955]
فرمان ہے کہ { جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے }۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لیے بٹھایا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسے کھڑا کر دے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1713]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1768،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کر رہے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «صَوَافِن» ہے یعنی کھڑے کر کے پاؤں باندھ کر «صَوَافَّ» کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گر پڑیں یعنی نحر ہو جائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔
چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ { روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو }۔ صحیح مسلم کی حدیث میں کہ { اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1955]
فرمان ہے کہ { جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے }۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ’ اسے خود کھاؤ ‘، بعض سلف تو فرماتے ہیں ”یہ کھانا مباح ہے۔“ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے ”مستحب ہے“ اور لوگ کہتے ہیں ”واجب ہے۔“ ’ اور مسکینوں کو بھی دو خواہ وہ گھروں میں بیٹھنے والے ہوں خواہ وہ دربدر سوال کرنے والے ‘۔ یہ بھی مطلب ہے کہ قانع تو وہ ہے جو صبر سے گھر میں بیٹھا رہے اور معتر وہ ہے جو سوال تو نہ کرے لیکن اپنی عاجزی مسکینی کا اظہار کرے۔ یہ بھی مروی ہے کہ قانع وہ ہے جو مسکین ہو آنے جانے والا۔
اور «مُعْتَرَّ» سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْقَانِعَ» سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ” «قَانِعَ» سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لیے دراز کرتا ہے، اور «مُعْتَرَّ» سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔
اور «مُعْتَرَّ» سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْقَانِعَ» سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ” «قَانِعَ» سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لیے دراز کرتا ہے، اور «مُعْتَرَّ» سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔
حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو جمع کر کے رکھنے سے منع فرما دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ تک نہ روکا جائے اب میں اجازت دیتا ہوں کہ کھاؤ جمع کرو جس طرح چاہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1977]
اور روایت میں ہے کہ { کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1971]
اور روایت میں ہے { کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو }۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کر دے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ’ خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ ‘۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ { کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو }۔
اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھا جائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔
کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ { کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:15/4:ضعیف]
بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔
اور روایت میں ہے کہ { کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1971]
اور روایت میں ہے { کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو }۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کر دے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے ’ خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ ‘۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ { کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو }۔
اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھا جائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔
کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ { کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:15/4:ضعیف]
بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔
مسئلہ ٭٭
براء بن عازب کہتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے پہلے ہمیں اس دن نماز عید ادا کرنی چاہیئے پھر لوٹ کر قربانیاں کرنی چاہئیں جو ایسا کرے اس نے سنت کی ادائیگی کی۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی اس نے گویا اپنے والوں کے لیے گوشت جمع کر لیا اسے قربانی سے کوئی لگاؤ نہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:951-955]
اسی لیے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کر لے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے { امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1964]
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لیے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کر سکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی لیے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کر لے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے { امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1964]
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لیے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کر سکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف عید والے دن ہی قربانی کرنا مشروع ہے اور قول ہے کہ شہر والوں کے لیے تو یہی ہے کیونکہ یہاں قربانیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لیکن گاؤں والوں کے لیے عید کا دن اور اس کے بعد کے ایام تشریق۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسویں اور گیا رھویں تاریخ سب کے لیے قربانی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کے بعد کے دو دن۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو ایام تشریق کے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کیونکہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایام تشریق سب قربانی کے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:82/4:ضعیف و منقطع] کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کر دیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کر کے گوشت کھا لو ‘۔
جیسے سورۃ یسٰین میں آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ» ۱؎ [36-یس:71-73] تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کیونکہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایام تشریق سب قربانی کے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:82/4:ضعیف و منقطع] کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کر دیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کر کے گوشت کھا لو ‘۔
جیسے سورۃ یسٰین میں آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ» ۱؎ [36-یس:71-73] تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو ‘۔