تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـًٔا …: ” الرُّكَّعِ “ ” رَاكِعٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”سُجَّدٌ“} ہے۔ {” السُّجُوْدِ “ ”سَاجِدٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”رَاقِدٌ“} اور {”جَالِسٌ“ } کی جمع {” رُقُوْدٌ “} اور {”جُلُوْسٌ“} ہے۔ طواف کا معنی کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا ہے۔ یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، ہر شخص یہاں آ کر صرف اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ مگر کفار مکہ نے اس کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھ دیے جن کا وہ طواف کرتے تھے، اب بھی کئی مسلمان کہلانے والے قبروں اور آستانوں کا طواف کرتے ہیں، حالانکہ طواف اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ایک گھر کا رکھا ہے، جسے کعبۃ اللہ کہتے ہیں، اس کے سوا کسی جگہ کا یا شخص کا طواف جائز نہیں۔ کعبہ کو {” بَيْتِيَ “} (میرا گھر) کہنے میں اس کی جو شان بیان ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ یعنی بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور میرے گھر کو طواف، قیام، سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ بیت اللہ کو صاف ستھرا رکھنے سے مراد عام صفائی کے علاوہ شرک و بت پرستی سے پاک صاف رکھنا بھی ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵)کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا: { مسجد الحرام }۔ میں نے کہا پھر؟ فرمایا: { بیت المقدس }۔ میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟ فرمایا: { چالیس سال کا } }۔ [صحیح بخاری:3366]
اللہ کا فرمان ہے آیت «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ» ۱؎ [3-آل عمران:97،96]، دو آیتوں تک۔ اور آیت میں ہے «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ۱؎ [2-البقرہ:125] ’ ہم نے ابراہیم واسماعیل علیہم السلام سے وعدہ لیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا ‘ الخ۔
بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لیے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمایا ’ اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کر دے ان کے لیے جو موحد ہیں ‘۔
طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے۔ پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام، رکوع، سجدے، کا ذکر فرمایا اس لیے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا۔ بہت سے سلف سے یہ منقول ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے۔ اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لیے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لیے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا۔ اس لیے کہ فرمان الٰہی میں پیدل والوں کا ذکر ہے۔ لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پا پیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتداء ہے۔
پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لیے آئیں گے خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ» ۱؎ [14-ابراھیم:37] ’ لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کر دے ‘۔ آج دیکھ لو وہ کون سا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہو؟ اور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے)۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى عظمة البيت الحرام وجلالته وعظمة بانيه، وهو خليل الرحمن، فقال: {وإذْ بوَّأنا لإبراهيمَ مكانَ البيتِ}؛ أي: هيأناه له وأنزلناه إياه، وجعل قسماً من ذُرِّيَّتِهِ من سكانه، وأمره الله ببنيانِهِ، فبناه على تقوى الله، وأسَّسه على طاعة الله، وبناه هو وابنُه إسماعيل، وأمره أن لا يُشْرِكَ به شيئاً؛ بأن يُخْلِصَ لله أعمالَه ويبنيه على اسم الله. {وَطَهِّرْ بيتيَ}؛ أي: من الشرك والمعاصي ومن الأنجاس والأدناس، وأضافَهُ الرحمن إلى نفسه لشرفه وفضله ولتعظُمَ محبتُه في القلوب، وتنصبَّ إليه الأفئدة من كلِّ جانب، وليكونَ أعظم لتطهيرِه وتعظيمِهِ؛ لكونه بيتَ الربِّ للطائفين به والعاكفين عنده، المقيمين لعبادةٍ من العبادات من ذكرٍ وقراءةٍ وتعلُّم علم وتعليمِهِ وغير ذلك من أنواع القرب، {والرُّكَّع السُّجود}؛ أي: المصلين؛ أي: طهره لهؤلاء الفضلاء الذين همُّهم طاعة مولاهم وخدمتُه والتقرُّب إليه عند بيته؛ فهؤلاء لهم الحقُّ ولهم الإكرام، ومن إكرامهم تطهيرُ البيت لأجلهم.
ويدخل في تطهيرِه تطهيرُهُ من الأصوات اللاغية والمرتفعة التي تشوِّشُ على المتعبِّدين بالصلاة والطواف.
وقدَّم الطواف على الاعتكاف والصلاة لاختصاصه بهذا البيت، ثم الاعتكاف لاختصاصِهِ بجنس المساجد.