ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 6

مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا ۚ اَفَہُمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
ان سے پہلے کوئی بستی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہیں لائی تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے؟ En
ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
En
ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے اجاڑیں سب ایمان سے خالی تھیں۔ تو کیا اب یہ ایمان ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْيَةٍ …:} اس آیت میں تین باتیں نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرمائی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر تم نے پہلے رسولوں جیسا معجزہ لانے کا مطالبہ کیا ہے، سو پہلی امتوں کو ایسے معجزات دکھائے گئے، وہ ان پر ایمان نہیں لائے، تو تم جو ان سے کہیں بڑھ کر سرکش اور ضدی ہو، کیسے ایمان لاؤ گے؟ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵۹) دوسری یہ کہ جو قومیں معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائیں انھیں ہلاک کر دیا گیا، کیونکہ صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے والی قوم ہلاک کر دی جاتی ہے، تو تم ایسا مطالبہ کیوں کرتے ہو جس کا نتیجہ تمھاری ہلاکت ہے؟ تیسری یہ کہ تمھیں معجزہ نہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھیں مہلت دے رکھی ہے اور اس کے علم میں تمھاری کئی نسلوں کا مسلمان ہونا مقدر ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۸تا ۵۱) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے ہلاک کیں، یہ نہیں ہوا کہ ان کی حسب خواہش معجزہ دکھلانے پر ایمان لے آئی ہوں، بلکہ معجزہ دیکھ لینے کے باوجود وہ ایمان نہیں لائیں، جس کے نتیجے میں ہلاکت ان کا مقدر بنی تو کیا اگر اہل مکہ کو ان کی خواہش کے مطابق کوئی نشانی دکھلا دی جائے، تو وہ ایمان لے آئیں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بھی تکذیب وعناد کے راستے پر ہی بدستور گامزن رہیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ حالانکہ جس بستی کو بھی ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھی۔ تو یا اب یہ ایمان لائیں گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَ٘رْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله: {ما آمنتْ قبلَهم من قريةٍ أهْلَكْناها}؛ أي: بهذه الآيات المقترحة، وإنَّما سنَّتُه تقتضي أنَّ من طَلَبها، ثم حَصَلَتْ له، فلم يؤمن؛ أنْ يعاجِلَه بالعقوبة؛ فالأوَّلون ما آمنوا بها، أفيؤمنُ هؤلاء بها؟! ما الذي فضَّلهم على أولئك؟! وما الخير الذي فيهم يقتضي الإيمان عند وجودها؟! وهذا الاستفهام بمعنى النفي؛ أي: لا يكونُ ذلك منهم أبداً.