تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ …:} اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۴۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8]، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا جوابٌ لِشُبَه المكذِّبين للرسول القائلين: هلاَّ كان مَلَكاً لا يحتاجُ إلى طعام وشراب وتصرُّف في الأسواق! وهلاَّ كان خالداً! فإذا لم يكن كذلك؛ دلَّ على أنه ليس برسول! وهذه الشُّبه ما زالت في قلوب المكذِّبين للرسل، تشابهوا في الكفر؛ فتشابهت أقوالهم؛ فأجاب تعالى عن هذه الشُّبه، لهؤلاء المكذِّبين للرسول، المُقِرِّين بإثبات الرُّسل قبله، ولو لم يكنْ إلاَّ إبراهيم عليه السلام، الذي قد أقرَّ بنبوَّته جميع الطوائف، والمشركون يزعمون أنَّهم على دينِهِ وملَّته؛ بأنَّ الرُّسل قبل محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - كلَّهم من البشر الذين يأكلون الطعام ويمشون في الأسواق، وتطرأ عليهم العوارضُ البشرية من الموت وغيره، وأنَّ الله أرسلهم إلى قومهم وأممهم، فصدَّقهم مَن صدَّقهم، وكذَّبهم مَن كذَّبهم، وأنَّ الله صَدَقَهم ما وَعَدَهم به من النجاة والسعادة لهم ولأتباعهم، وأهلك المسرفين المكذِّبين لهم؛ فما بال محمد - صلى الله عليه وسلم - تُقام الشُّبه الباطلة على إنكار رسالته، وهي موجودةٌ في إخوانه المرسلين، الذين يقرُّ بهم المكذِّبون لمحمد؟! فهذا إلزامٌ لهم في غاية الوضوح، وأنَّهم إن أقرُّوا برسول من البشر، ولن يقرُّوا برسول من غير البشرِ، أنَّ شبههم باطلةٌ، قد أبطلوها هم بإقرارهم بفسادها وتناقُضِهم بها.
فلو قُدِّرَ انتقالُهم هذا إلى إنكار نبوَّة البشر رأساً، وأنَّه لا يكون نبيٌّ إنْ لم يكن مَلَكاً مخلَّداً لا يأكلُ الطعام؛ فقد أجاب الله عن هذه الشبهة بقوله: {وقالوا لولا أنزِلَ عليه مَلَكٌ ولو أنزَلْنا مَلَكاً لقضي الأمر ثم لا يُنظَرونَ. ولو جَعَلْناه مَلَكاً لجعلناهُ رَجُلاً ولَلَبَسْنا عليهم ما يَلْبِسونَ}، وأنَّ البشر لا طاقة لهم بتلقِّي الوحي من الملائكة، {قل لو كانَ في الأرض ملائكةٌ يمشون مطمئنِّينَ لَنَزَّلْنا عليهم من السماءِ مَلَكاً رسولاً}؛ فإن حصل معكم شكٌّ وعدم علم بحالة الرسل المتقدِّمين؛ فاسألوا أهل الذِّكر من الكتب السالفة؛ كأهل التوراة والإنجيل؛ يخبرونَكم بما عندَهم من العلم، وأنَّهم كلَّهم بشرٌ من جنس المرسَل إليهم.
وهذه الآية وإنْ كان سبُبها خاصًّا بالسؤال عن حالة الرسل المتقدِّمين من أهل الذكر، وهم أهل العلم؛ فإنَّها عامَّة في كلِّ مسألة من مسائل الدين أصوله وفروعه إذا لم يكنْ عند الإنسان علمٌ منها أنْ يسألَ من يَعْلَمُها؛ ففيه الأمر بالتعلُّم والسؤال لأهل العلم، ولم يؤمر بسؤالِهِم إلاَّ لأنَّه يجبُ عليهم التعليم والإجابة عما علموه.
وفي تخصيص السؤال بأهل الذِّكر والعلم نهيٌ عن سؤال المعروف بالجهل وعدم العلم، ونهي له أن يتصدَّى لذلك. وفي هذه الآية دليلٌ على أن النساء ليس منهنَّ نبيَّة؛ لا مريم ولا غيرها؛ لقوله: {إلاَّ رجالاً}.