(آیت 59) ➊ { قَالُوْامَنْفَعَلَهٰذَابِاٰلِهَتِنَاۤ:} مشرکوں کے عقل سے عاری ہونے کی کیسی زبردست تصویر ہے۔ کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے؟ سوچا ہی نہیں کہ وہ معبود ہی کیا جو اپنا دفاع بھی نہ کر سکے؟ لطف یہ کہ سب نے یہی کہا کہ کوئی اور ان کے خداؤں کا یہ حال کر گیا ہے۔ قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے: جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں انھیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں ➋ { اِنَّهٗلَمِنَالظّٰلِمِيْنَ: ”إِنَّ“} اور لام کی تاکید کے ساتھ، بے شک وہ یقینا ظالموں سے ہے کہ اس نے مشکل کشاؤں کی تعظیم کے بجائے ان کا یہ حال کر دیا ہے۔ یا اس لیے کہ مارنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اس ظالم نے تو انھیں اتنا مارا ہے کہ ان کا کچھ باقی ہی نہیں چھوڑا اور نہ انھیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر رہنے دی ہے۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 یعنی جب وہ جشن سے فارغ ہو کر آئے تو دیکھا کہ معبود تو ٹوٹے پڑے ہیں، تو کہنے لگے، یہ کوئی بڑا ہی ظالم شخص ہے جس نے یہ حرکت کی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ وہ کہنے لگے: ”ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بلا شبہ وہ بڑا ظالم ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنْفَعَلَهٰؔذَابِاٰلِهَتِنَاۤاِنَّهٗلَ٘مِنَالظّٰلِمِیْنَ﴾”ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔“ انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحين رأوا ما حلَّ بأصنامهم من الإهانة والخزي؛ {قالوا مَن فَعَلَ هذا بآلهتنا إنَّه لمن الظالمين}: فرَمَوا إبراهيم بالظُّلم الذي هم أولى به حيث كسَّرها، ولم يدروا أن تكسيره لها من أفضل مناقبه ومن عدلِهِ وتوحيدِهِ، وإنَّما الظالم مَنِ اتَّخذها آلهةً، وقد رأى ما يفعل بها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔