تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” الْمَوَازِيْنَ “ ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مصدر ہے جو اسم فاعل{ ”مُقْسِطٌ“ } کے معنی میں ہے اور {” الْمَوَازِيْنَ “} کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو {”رَجُلٌ عَدْلٌ“} کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔
➌ {” الْمَوَازِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہو گا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۷)۔
➍ { فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا:} ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہو گا۔
➎ { وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زلزال (۷، ۸) اور لقمان (۱۶)۔
➏ {وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ:} ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہو سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اعمال کے حقائق کو تولنے میں ہر ایک کے ساتھ پورا پورا عدل و انصاف ہو گا۔ پھر اس کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے لفظ عدل یا قسط کی ضد ظلم ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے۔ لہٰذا نہ تو یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ نہ دے اور نہ یہ ممکن ہے کہ عمل کے لحاظ سے اجر کم عطا فرمائے۔ اور یہ دونوں ظلم کی صورتیں ہیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کا اجر عدل سے بڑھ کر عطا فرمائے اور اس صفت کا نام احسان ہے۔ جو عدل سے بھی برتر صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ کسی کو عمل سے زیادہ اجر دے۔ کسی کی خطائیں معاف ہی کر دے۔ اور اگر حقوق العباد کا معاملہ ہو تو بندوں کو اپنی طرف سے ان کے حق عطا کر کے مجرم کو معاف کر دے۔ یہ تو سب کچھ ممکن ہے لیکن اللہ سے ظلم ممکن نہیں۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں حساب لینا آتا ہے۔ ہم اعمال کے حقائق کی تعیین کو بھی خوب جانتے ہیں اور کسی کے رائی بھر عمل کو بھی اور اس سلسلہ میں ہمیں کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں اور کَفیٰ بِنَا حَاسِیِنْ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لیا ہوا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ جس کی نہ کوئی پڑتال کرنے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی کہیں اپیل ہو سکے گی۔ کوئی دوسرا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی کچھ بھی مدد نہ کر سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حكمِهِ العدل وقضائِهِ القِسْط بين عباده إذا جمعهم يوم القيامة، وأنَّه يضع لهم الموازينَ العادلةَ التي يَبينُ فيها مثاقيلُ الذَّرِّ الذي توزن به الحسنات والسيئات؛ {فلا تُظْلَمُ نفسٌ}: مسلمةٌ ولا كافرةٌ {شيئاً}: بأن تُنْقَصَ من حسناتها أو يُزادَ في سيئاتها، وإنْ كانَ مثقال ذرة من خردلٍ التي هي أصغر الأشياء وأحقرها من خيرٍ أو شرٍّ أتينا بها وأحضرناها، ليجازى بها صاحبها؛ كقوله: {فمن يَعملَ مثقالَ ذرةٍ خيراً يَرَه. ومن يَعمل مثقَالَ ذَرَّةٍ شرًّا يَرَه}، {وقالوا يا وَيْلَتَنا ما لهذا الكتابِ لا يُغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحْصاها ووَجَدوا ما عَمِلوا حاضراً}. {وكفى بنا حاسِبينَ}؛ يعني بذلك نفسَه الكريمةَ؛ فكفى بها حاسباً؛ أي: عالماً بأعمال العباد، حافظاً لها، مثبتاً لها في الكتاب، عالماً بمقاديرها ومقادير ثوابها وعقابها واستحقاقها، موصلاً للعمال جزاءها.