ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 3

اِلَّا تَذۡکِرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ۙ﴿۳﴾
بلکہ نصیحت کرنے کے لیے، اس کو جو ڈرتا ہے۔ En
بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے
En
بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3){ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى: اِلَّا } کے ساتھ استثنا منقطع ہے، کیونکہ { تَذْكِرَةً } شقاوت میں شامل نہیں ہے، لہٰذا یہاں { اِلَّا } بمعنی { لٰكِنَّ } ہے، چنانچہ یہاں اس کا ترجمہ بلکہ کیا گیا ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا جو ڈرتا ہے، اس سے مراد یہ نہیں کہ قرآن دوسرے لوگوں کی نصیحت کے لیے نہیں اترا، کیونکہ قرآن بلکہ پورا دین ہر انس و جن تک پہنچانے کے لیے اتارا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ [المائدۃ: ۶۷] اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (دیکھیے سبا: ۲۸) بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، جسے اللہ اور آخرت کا ڈر نہیں اسے صحیح راستے پر ڈال دینا آپ کے ذمے نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى (10) وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى» ‏‏‏‏ [الأعلٰی: ۱۰، ۱۱] عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے علیحدہ رہے گا جو سب سے بڑا بدنصیب ہے۔ علاوہ ازیں دیکھیے سورۂ بقرہ (۱ تا ۵)، سورۂ ق (۴۵) اور نازعات (۴۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ یہ تو ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو (اللہ سے) ڈرتا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّ٘مَنْ یَّخْشٰى یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔
کسی چیز کا تذکرہ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تذکرہ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنْ یَّخْشٰى جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ سَیَذَّكَّـرُ مَنْ یَّخْشٰى ۙ۰۰وَیَتَجَنَّبُهَا الْاَشْ٘قَىۙ۰۰الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى (الاعلیٰ:87؍10-12) جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {إلاَّ تَذْكِرَةً لِمَن يَخْشى}: إلاَّ ليتذكَّر به من يَخْشى الله تعالى، فيتذكر ما فيه من الترغيب لأجل المطالب فيعمل بذلك، ومن الترهيب عن الشقاء والخسران فيرهب منه، ويتذكَّر به الأحكام الحسنةَ الشرعيَّة المفصَّلة التي كان مستقرًّا في عقله حسنها مجملاً، فوافق التفصيلُ ما يَجِدُهُ في فطرتِهِ وعقلِهِ، ولهذا سمَّاه الله تذكرةً، والتَّذْكِرَةُ لشيء كان موجوداً؛ إلاَّ أن صاحبَه غافلٌ عنه أو غير مستحضرٍ لتفصيلِهِ.

وخصَّ بالتَّذْكِرَةِ مَنْ يخشى؛ لأنَّ غيره لا ينتفع به، وكيف ينتفعُ به من لم يؤمنْ بجنَّة ولا نارٍ ولا في قلبه من خشيةِ الله مثقال ذرة؟! هذا ما لا يكون، {سَيَذَّكَّرُ مَنْ يخشى. ويتجنَّبُها الأشقى. الذي يَصْلى النار الكُبرى}.