وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔
En
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
En
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 129) ➊ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ …:} اصل میں {” وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّي لَكَانَ ({الْعَذَابُ}) لِزَامًا“} ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے {” وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى “} کو مؤخر کر دیا گیا۔
➋ {” لِزَامًا “} بروزن {”قِتَالٌ“} باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔
➌ {” لَكَانَ “} میں ضمیر {”هُوَ“} اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون {”الْعَذَابُ“} (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔
➍ جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہو چکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہو چکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِيْ كِتَابِهٖ وَ هُوَ يَكْتُبُ عَلٰی نَفْسِهٖ وَهُوَ وَضْعٌ عِنْدَهٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ: «ویحذرکم اللہ نفسہ» : ۷۴۰۴] ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اور نساء (۱۶۵) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بے شمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا: «{وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠}» [الأعراف: ۳۴] ”ا ور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔“ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہو جاتا۔
➋ {” لِزَامًا “} بروزن {”قِتَالٌ“} باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔
➌ {” لَكَانَ “} میں ضمیر {”هُوَ“} اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون {”الْعَذَابُ“} (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔
➍ جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہو چکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہو چکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِيْ كِتَابِهٖ وَ هُوَ يَكْتُبُ عَلٰی نَفْسِهٖ وَهُوَ وَضْعٌ عِنْدَهٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ: «ویحذرکم اللہ نفسہ» : ۷۴۰۴] ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اور نساء (۱۶۵) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بے شمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا: «{وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠}» [الأعراف: ۳۴] ”ا ور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔“ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہو جاتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے، جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے۔ مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
129۔ اور اگر تیرے پروردگار کی بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی اور مہلت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ان پر فوری عذاب آنا لازمی تھا۔ [93 1]
[93۔ 1]قانون امہال و تدریج کی مصلحتیں:۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و امہال کا قانون کام کرتا ہے۔ ان پر عذاب الٰہی کے نزول میں بھی وہی قانون کارفرما ہے۔ اور اس قاعدہ میں بہت سی مصلحتیں مضمر ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح جو کام کے سرانجام پانے کے لئے ایک مقر رہ مدت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح عذاب الٰہی کا بھی وقت مقرر ہے۔ جس کی چند شرائط ہیں۔ اور اگر یہ قانون جاری و ساری نہ ہوتا تو ان کے اعمال واقعی اس قابل ہیں کہ انھیں فوری طور پر تباہ و برباد کر دیا جاتا۔ اس قانونی تدریج و امہال میں کیا مصلحتیں ہیں اور اگر اس قانون کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں کیا نقصانات ہیں، ان کا ذکر پہلے حواشی میں کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا اب تکرار کی ضرورت نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔
سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔
سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]