تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ قرون سے مراد عاد و ثمود ہیں، کیونکہ عرب لوگ یمن، نجران اور اس کے گرد و نواح کی طرف جاتے ہوئے قوم عاد کے رہنے کی جگہوں سے گزرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تبوک کے سفر میں ثمود کے مکانات سے گزرے تھے۔ اسی طرح ان سفروں میں قوم لوط اور اہل مدین کی تباہ شدہ بستیاں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع تھیں، جہاں سے وہ صبح و شام گزرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۷۶ تا ۷۹) اور صافات (۳۳ تا ۳۸)۔
➌ اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والے لوگوں کا اور ان کے بدترین انجام کا ذکر گزر چکا ہے۔ حق یہ تھا کہ اہل عرب تاریخ سے سبق حاصل کرتے اور کفر و شرک سے باز آ جاتے، مگر وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ اس لیے بطور تعجب فرمایا کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اور جنھیں دیکھنے سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ لوگ قد و قامت، صنعت و زراعت اور قوت و مہارت میں ان سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ مدائن صالح، اہرام مصر اور دوسرے آثار قدیمہ شاہد ہیں کہ اس قوت کے لوگ پھر پیدا نہیں ہوئے۔ دیکھیے سورۂ فجر (۶ تا ۱۴) اور سورۂ روم (۹، ۱۰) ان لوگوں کے آثار آنکھوں سے دیکھ کر اور اپنے آبا و اجداد سے تواتر کے ساتھ ان کی قوت و ہیبت اور عذابِ الٰہی سے بربادی کے واقعات سن کر بھی کیا ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ بھی ان کی روش پر اڑے رہے تو ان کا انجام کیا ہو گا؟
➍ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى: ” النُّهٰى “} کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۵۴) میں دیکھیے۔ {” النُّهٰى “} جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا ہے اور {” لَاٰيٰتٍ “} پر تنوین تعظیم کی وجہ سے ترجمہ ”کئی عظیم نشانیاں“ کیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔
سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔
سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634]
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549]
اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {أفلم يَهْدِ}: لهؤلاء المكذِّبين المعرضين ويدلُّهم على سلوك طريق الرشاد وتجنُّب طريق الغيِّ والفسادِ ما أحلَّ الله بالمكذبين قبلَهم من القرون الخالية والأمم المتتابعة، الذين يعرِفون قَصَصهم، ويتناقلون أسمارهم، وينظرون بأعينهم مساكِنَهم من بعدهم؛ كقوم هودٍ وصالح ولوطٍ وغيرهم، وأنَّهم لما كذَّبوا رُسُلَنا وأعرضوا عن كُتُبِنا؛ أصبْناهم بالعذاب الأليم؛ فما الذي يؤمِّنُ هؤلاء أن يَحِلَّ بهم ما حلَّ بأولئك؟ {أكُفَّارُكُم خيرٌ من أولئِكُم أم لكم براءةٌ في الزُّبُر أم يقولونَ نحنُ جميعٌ مُنْتَصِرٌ}: لا شيء من هذا كلِّه، فليس هؤلاء الكفار خيراً من أولئك حتى يُدْفَع عنهم العذاب بخيرهم، بل هم شرٌّ منهم، لأنَّهم كفروا بأشرف الرسل وخير الكتب، وليس لهم براءةٌ مزبورةٌ وعهدٌ عند الله، وليسوا كما يقولون إنَّ جَمْعَهم ينفعهم ويدفَعُ عنهم، بل هم أذلُّ وأحقر من ذلك؛ فإهلاك القرون الماضية بذنوبهم من أسباب الهدايةِ؛ لكونِها من الآيات الدالَّة على صحَّة رسالة الرسل الذين جاؤوهم وبطلان ما هم عليه، ولكن ما كلُّ أحدٍ ينتفع بالآيات، إنَّما ينتفعُ بها أولو النُّهى؛ أي: العقول السليمة والفطر المستقيمة، والألباب التي تَزْجُرُ أصحابَها عمَّا لا ينبغي.