تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَا تَشْتَرُوْا …:} اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس کی وضاحت بھی موجود ہے کہ اس سے کیا مراد ہے، چنانچہ سورۂ بقرہ میں فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (174) اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ }» [البقرۃ: ۱۷۴، ۱۷۵] ” بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے بدلے خریدا، سو وہ آگ پر کس قدر صبر کرنے والے ہیں؟“ اور سورۃ آل عمران میں فرمایا: «{ وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ }» [آل عمران: ۱۸۷] ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ دنیا کی خاطر احکام الٰہی کو بدلنا بھی اس میں شامل ہے۔ وہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو رشوت لے کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اس آیت کا تعلیم کتاب کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ اجرت کسی غلط کام پر نہیں، بلکہ ایک نہایت پاکیزہ محنت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ] ”سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے۔“ [بخاری، کتاب الطب، باب الشروط فی الرقیۃ …: ۵۷۳۷]”بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف دم کی اجرت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سورتوں کی تعلیم کے بدلے ایک صحابی سے ایک خاتون کا نکاح کر دیا تھا۔ [بخاری، النکاح، باب التزویج علی القرآن …: ۵۱۴۹ عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ] وہاں دم کی تاویل کیسے ہو گی؟ جن حضرات نے قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت منع کی تھی ان کے نام لیواؤں نے یہ کہہ کر تنخواہ لینا شروع کر دی ہے کہ آج کل قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے، ورنہ مدارس اور مساجد ویران ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل ہی نہیں ہمیشہ سے یہ اجرت حلال تھی، بلکہ بہترین محنت اور بہترین اجرت تھی اور ہے، اس کا قرآن بیچنے سے کوئی تعلق نہیں۔ تھوڑی قیمت کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی کے بدلے میں پوری دنیا بھی ملے تو متاع قلیل ہے، فرمایا: «{ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ }» [النساء: ۷۷] ”کہہ دو، دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری جگہ اس کا بیان اس طرح ہوتا ہے آیت «وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا» [5-المائدة:12] یعنی اگر تم نمازوں کو قائم کرو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے میرے رسولوں کی ہدایت مانتے رہو گے، مجھے اچھا قرضہ دیتے رہو گے، تو میں تمہاری برائیاں دور کر دونگا اور تمہیں بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں داخل کروں گا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ توراۃ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اتنا بڑا عظیم الشان پیغمبر پیدا کر دونگا جس کی تابعداری تمام مخلوق پر فرض ہو گی ان کے تابعداروں کو بخشوں گا انہیں جنت میں داخل کروں گا اور دوہرا اجر دوں گا۔
بعض کہتے ہیں «بِہِ» کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے اور پہلے آ بھی چکا ہے «بما انزلت» اور دونوں قول درحقیقت سچے اور ایک ہی ہیں۔ قرآن کو ماننا رسول کو ماننا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق قرآن کی تصدیق ہے۔ اول کافر سے مراد بنی اسرائیل کے اولین منکر ہیں کیونکہ کفار قریش بھی انکار اور کفر کر چکے تھے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا انکار اہل کتاب میں سے پہلی جماعت کا انکار تھا اس لیے انہیں اول کافر کہا گیا ان کے پاس وہ علم تھا جو دوسروں کے پاس نہ تھا۔ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی بہت تھوڑی ہے اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
سنن ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی ہے اس لیے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔[سنن ابوداود:3664،قال الشيخ الألباني:صحیح] علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اگر بیت المال سے کچھ مال نہ ملتا ہو اور علم سکھانے کی وجہ سے کوئی کام دھندا بھی نہ کر سکتے ہوں تو پھر اجرت مقرر کر کے لینا بھی جائز ہے اور امام مالک امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ انہوں نے اجرت مقرر کر لی اور ایک سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر قرآن پڑھ کر دم کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ قصہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث «ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ» یعنی جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان سب میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے۔[صحیح بخاری:5737:صحیح] دوسری مطول حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے آپ کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حدیث «زوجتکھا بما معک من القران» میں نے اس کو تیری زوجیت میں دیا۔[صحیح بخاری:5149:صحیح] اور تو اسے قرآن حکیم جو تجھے یاد ہے اسے بطور حق مہر یاد کرا دے۔
صرف اللہ ہی ہے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کی امید پر اس کی عبادت و اطاعت میں لگا ہے اور اس کے عذابوں سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں کو چھوڑ دے اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف سے دئیے گئے نور پر گامزن رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:147/1] غرض اس جملہ سے انہیں خوف دلایا گیا کہ وہ دنیاوی لالچ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کو جو اس کی کتابوں میں ہے نہ چھپائیں اور دنیوی ریاست کی طمع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوں بلکہ رب سے ڈر کر اظہار حق کرتے رہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وآمنوا بما أنزلت}؛ وهو: القرآن الذي أنزله على عبده ورسوله محمد - صلى الله عليه وسلم -، فأمرهم بالإيمان به واتباعه، ويستلزم ذلك، الإيمان بمن أنزل عليه، وذكر الداعي لإيمانهم، فقال: {مصدقاً لما معكم}؛ أي: موافقاً له لا مخالفاً ولا مناقضاً، فإذا كان موافقاً لما معكم من الكتب غير مخالف لها فلا مانع لكم من الإيمان به؛ لأنه جاء بما جاءت به المرسلون، فأنتم أولى من آمن به وصدق به؛ لكونكم أهل الكتب والعلم.
وأيضاً فإن في قوله: {مصدقاً لما معكم}؛ إشارة إلى أنكم إن لم تؤمنوا به عاد ذلك عليكم بتكذيب ما معكم؛ لأن ما جاء به هو الذي جاء به موسى وعيسى وغيرهما من الأنبياء، فتكذيبكم له تكذيب لما معكم.
وأيضاً فإن في الكتب التي بأيديكم صفة هذا النبي الذي جاء بهذا القرآن، والبشارة به، فإن لم تؤمنوا به؛ كذبتم ببعض ما أنزل إليكم، ومن كذب ببعض ما أنزل إليه؛ فقد كذب بجميعه، كما أن من كفر برسولٍ؛ فقد كذب الرسل جميعهم، فلما أمرهم بالإيمان به نهاهم، وحذرهم عن ضده وهو الكفر به فقال: {ولا تكونوا أول كافر به}؛ أي: بالرسول والقرآن، وفي قوله: {أول كافر به}؛ أبلغ من قوله ولا تكفروا به؛ لأنهم إذا كانوا أول كافر به كان فيه مبادرتهم إلى الكفر [به] عكس ما ينبغي منهم، وصار عليهم إثمهم وإثم من اقتدى بهم من بعدهم.
ثم ذكر المانع لهم من الإيمان وهو اختيار العرض الأدنى على السعادة الأبدية فقال: {ولا تشتروا بآياتي ثمناً قليلاً}؛ وهو ما يحصل لهم من المناصب والمآكل التي يتوهمون انقطاعها إن آمنوا بالله ورسوله، فاشتروها بآيات الله واستحبوها وآثروها {وإياي}؛ أي: لا غيري، {فاتقون}؛ فإنكم إذا اتقيتم الله وحده أوجبت لكم تقواه تقديم الإيمان بآياته على الثمن القليل، كما أنكم إذا اخترتم الثمن القليل؛ فهو دليل على ترحل التقوى من قلوبكم، ثم قال: