اس آیت کی تفسیر آیت 41 میں تا آیت 43 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ اور نہ ہی حق و باطل کی آمیزش کرو اور دیدہ دانستہ سچی بات کو نہ چھپاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدخو یہودی ٭٭
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہیہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپا لیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہٰذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیشنگوئیاں جو تم کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ۔ «تَکْتُمُوْا» مجزوم بھی ہو سکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «تَکْتُمُونْ» بھی ہے۔ یہ حال ہو گا اور اس کے بعد کا جملہ بھی حال ہے معین یہ ہوئے کہ حق کو حق جانتے ہوئے ایسی بے حیائی نہ کرو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ علم کے باوجود اسے چھپانے اور ملاوٹ کرنے کا کیسا عذاب ہو گا۔ اس کا علم ہو کر بھی افسوس کہ تم بدکرداری پر آمادہ نظر آتے ہو۔
پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھو زکوٰۃ دو اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع و سجود میں شامل رہا کرو، انہیں میں مل جاؤ اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی امت بن جاؤ، [تفسیر الکشاف:133/1] اطاعت و اخلاص کو بھی زکوٰۃ کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں زکوٰۃ دو سو درہم پر۔ پھر اس سے زیادہ رقم پر واجب ہوتی ہے نماز و زکوٰۃ و فرض و واجب ہے۔ اس کے بغیر سبھی اعمال غارت ہیں۔ زکوٰۃ سے بعض لوگوں نے فطرہ بھی مراد لیا ہے۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال میں ایمانداروں کا ساتھ دو اور ان میں بہترین چیز نماز ہے اس آیت سے اکثر علماء نے نماز باجماعت کے فرض ہونے پر بھی استدلال کیا ہے اور یہاں پر امام قرطبی رحمہ اللہ نے مسائل جماعت کو سبط سے بیان فرمایا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَاتَلْ٘بِسُواالْحَقَّبِالْبَاطِلِوَتَكْ٘تُمُواالْحَقَّ﴾”اور خلط ملط نہ کرو حق کو باطل کے ساتھ اور نہ چھپاؤ تم حق کو“ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو دو چیزوں سے منع کیا ہے۔ (۱) حق کو باطل میں خلط ملط کرنے سے۔ (۲) کتمان حق سے۔ اس لیے کہ اہل کتاب اور اہل علم سے مطلوب یہ ہے کہ وہ حق کو ممیز کر کے اس کو ظاہر کریں تاکہ ہدایت کے متلاشی حق کے ذریعے سے راہ پائیں اور گم گشتہ راہ لوگ سیدھے راستے کی طرف لوٹ آئیں اور اہل عناد پر حجت قائم ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور اپنے دلائل واضح کر دیے تاکہ حق، باطل سے بالکل الگ اور ممیز ہو جائے اور مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے۔ پس اہل علم میں سے جو کوئی حق پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ انبیاء و مرسلین کا جانشین اور قوموں کا راہ نما بن جاتا ہے اور جو حق کو باطل میں گڈ مڈ کر دیتا ہے، حق کا علم رکھنے کے باوجود حق کو باطل سے ممیز نہیں کرتا، اور اس حق کو وہ چھپاتا ہے جسے وہ جانتا ہے اور جس کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ایسا شخص جہنم کے داعیوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ لوگ دین کے معاملے میں اپنے علماء کے سوا کسی کی پیروی نہیں کرتے۔ پس تم ان دو چیزوں میں سے اپنے لیے جو چاہو چن لو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تلبسوا}؛ أي: تخلطوا {الحق بالباطل وتكتموا الحق}؛ فنهاهم عن شيئين، عن خلط الحق بالباطل وكتمان الحق؛ لأن المقصود من أهل الكتب والعلم تمييز الحق [من الباطل] وإظهار الحق، ليهتدي بذلك المهتدون، ويرجع الضالون وتقوم الحجة على المعاندين؛ لأن الله فصل آياته وأوضح بيناته؛ ليميز الحق من الباطل، ولتستبين سبيل المهتدين من سبيل المجرمين، فمن عمل بهذا من أهل العلم؛ فهو من خلفاء الرسل وهداة الأمم، ومن لَبَّس الحق بالباطل فلم يميز هذا من هذا مع علمه بذلك، وكتم الحق الذي يعلمه وأُمِرَ بإظهاره؛ فهو من دعاة جهنم؛ لأن الناس لا يقتدون في أمر دينهم بغير علمائهم، فاختاروا لأنفسكم إحدى الحالتين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔