تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام یا لقب ہے، جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ اس لیے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل میں پہلے پیغمبر یوسف علیہ السلام اور آخری پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ (قرطبی)
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بنی اسرائیل کو یہ چیزیں یاد دلائی گئیں، حالانکہ یہ سب کچھ پہلے بنی اسرائیل پر گزرا تھا، کیونکہ ان کے بزرگوں پر انعام ان پر بھی انعام تھا اور وہ اب بھی اپنے بزرگوں کی بد عادتوں میں ان کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔ گزشتہ بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آپ کے زمانے میں موجود بنی اسرائیل کے اعمال بد کا بھی ذکر فرمایا، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود کفر، کتاب اللہ کی تحریف، جبریل علیہ السلام سے عداوت، جادو کرنا، ایک دوسرے کو قتل کرنا وغیرہ۔ بنی اسرائیل کے احوال اتنی تفصیل سے ذکر فرمانے سے یہ بھی مقصود ہے کہ امت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ان بد اعمالیوں سے بچے اور ان کے نتائج سے ڈرتی رہے۔
➍ { نِعْمَتِی:} اگرچہ یہ لفظ واحد ہے، مگر جنس مراد ہے، جس میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔
➎ {وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ: } یہاں اس عہد کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، سورۂ مائدہ (۱۲) میں اس عہد کی تفصیل موجود ہے۔ اس کے مطابق ان کا اللہ تعالیٰ سے عہد یہ تھا کہ تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دو گے اور میرے رسولوں پر (جن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں) ایمان لاؤ گے،ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو اچھا قرض دو گے اور اللہ کا ان سے عہد یہ تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں گا اور تم سے تمھارے گناہ دور کروں گا اور تمھیں جنتوں میں داخل کروں گا۔
➏ {وَ اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ:} { ”اِيَّايَ“ } کا معنی ”خاص مجھ سے“ ہے۔ { ”فَارْهَبُوْنِ“ } اصل میں {”فَارْهَبُوْنِيْ“} تھا۔ ”یاء“ حذف ہو گئی، اس کا معنی بھی مجھ سے ڈرو ہے۔ خاص مجھ سے کے بعد دوبارہ ” مجھ سے ڈرو “کی وجہ سے ”خاص مجھی سے ڈرو۔“ ترجمہ کیا گیا ہے، ورنہ خاص کے بعد ” مجھ“ کا لفظ کافی تھی، مجھی کی ضرورت نہ تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری جگہ اس کا بیان اس طرح ہوتا ہے آیت «وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا» [5-المائدة:12] یعنی اگر تم نمازوں کو قائم کرو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے میرے رسولوں کی ہدایت مانتے رہو گے، مجھے اچھا قرضہ دیتے رہو گے، تو میں تمہاری برائیاں دور کر دونگا اور تمہیں بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں داخل کروں گا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ توراۃ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اتنا بڑا عظیم الشان پیغمبر پیدا کر دونگا جس کی تابعداری تمام مخلوق پر فرض ہو گی ان کے تابعداروں کو بخشوں گا انہیں جنت میں داخل کروں گا اور دوہرا اجر دوں گا۔
بعض کہتے ہیں «بِہِ» کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے اور پہلے آ بھی چکا ہے «بما انزلت» اور دونوں قول درحقیقت سچے اور ایک ہی ہیں۔ قرآن کو ماننا رسول کو ماننا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق قرآن کی تصدیق ہے۔ اول کافر سے مراد بنی اسرائیل کے اولین منکر ہیں کیونکہ کفار قریش بھی انکار اور کفر کر چکے تھے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا انکار اہل کتاب میں سے پہلی جماعت کا انکار تھا اس لیے انہیں اول کافر کہا گیا ان کے پاس وہ علم تھا جو دوسروں کے پاس نہ تھا۔ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی بہت تھوڑی ہے اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
سنن ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی ہے اس لیے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔[سنن ابوداود:3664،قال الشيخ الألباني:صحیح] علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اگر بیت المال سے کچھ مال نہ ملتا ہو اور علم سکھانے کی وجہ سے کوئی کام دھندا بھی نہ کر سکتے ہوں تو پھر اجرت مقرر کر کے لینا بھی جائز ہے اور امام مالک امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ انہوں نے اجرت مقرر کر لی اور ایک سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر قرآن پڑھ کر دم کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ قصہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث «ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ» یعنی جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان سب میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے۔[صحیح بخاری:5737:صحیح] دوسری مطول حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے آپ کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حدیث «زوجتکھا بما معک من القران» میں نے اس کو تیری زوجیت میں دیا۔[صحیح بخاری:5149:صحیح] اور تو اسے قرآن حکیم جو تجھے یاد ہے اسے بطور حق مہر یاد کرا دے۔
صرف اللہ ہی ہے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کی امید پر اس کی عبادت و اطاعت میں لگا ہے اور اس کے عذابوں سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں کو چھوڑ دے اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف سے دئیے گئے نور پر گامزن رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:147/1] غرض اس جملہ سے انہیں خوف دلایا گیا کہ وہ دنیاوی لالچ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کو جو اس کی کتابوں میں ہے نہ چھپائیں اور دنیوی ریاست کی طمع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوں بلکہ رب سے ڈر کر اظہار حق کرتے رہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يا بني إسرائيل}؛ المراد بإسرائيل: يعقوب عليه السلام، والخطاب مع فِرَق بني إسرائيل، الذين بالمدينة وما حولها ويدخل فيهم من أتى بعدهم، فأمرهم بأمر عام فقال: {اذكروا نعمتي التي أنعمت عليكم}؛ وهو يشمل سائر النعم التي سيذكر في هذه السورة بعضها، والمراد بذكرها بالقلب اعترافاً، وباللسان ثناءً، وبالجوارح باستعمالها فيما يحبه ويرضيه {وأوفوا بعهدي}؛ وهو ما عهده إليهم من الإيمان به، وبرسله، وإقامة شرعه {أوف بعهدكم}؛ وهو المجازاة على ذلك، والمراد بذلك ما ذكره الله في قوله: {ولقد أخذ الله ميثاق بني إسرائيل وبعثنا منهم اثني عشر نقيباً وقال الله إني معكم لئن أقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة وآمنتم برسلي}؛ إلى قوله: {فقد ضل سواء السبيل}؛ ثم أمرهم بالسبب الحامل لهم على الوفاء بعهده، وهو الرهبة منه تعالى، وخشيته وحده، فإن من خشيه أوجبت له خشيته امتثال أمره، واجتناب نهيه، ثم أمرهم بالأمر الخاص الذي لا يتم إيمانهم ولا يصح إلا به فقال: