وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۴۱﴾
اور اس پر ایمان لائو جو میں نے اتارا ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمھارے پاس ہے اور تم سب سے پہلے اس سے کفر کرنے والے نہ بنو اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت مت لو اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔
En
اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منعفت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو
En
اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے تمہاری کتابوں کی تصدیق میں نازل فرمائی ہے اور اس کے ساتھ تم ہی پہلے کافر نہ بنو اور میری آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر نہ فروخت کرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 42،41) ➊ سب سے پہلے کافر بننے سے مراد یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تمھیں تو سب سے پہلے ایمان لانا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس اگر تم ان کے ساتھ کفر کرتے ہو تو تم پہلے کافر ہوئے جو جانتے بوجھتے ہوئے کفر کر رہے ہو، اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کرو۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ نے جو کفر کیا تھا وہ جہالت کی وجہ سے تھا۔ اس لیے اشکال لازم نہیں آتا کہ کفار مکہ نے ان سے پہلے کفر کیا تھا۔ (بیضاوی)
➋ { وَ لَا تَشْتَرُوْا …:} اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس کی وضاحت بھی موجود ہے کہ اس سے کیا مراد ہے، چنانچہ سورۂ بقرہ میں فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (174) اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ }» [البقرۃ: ۱۷۴، ۱۷۵] ” بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے بدلے خریدا، سو وہ آگ پر کس قدر صبر کرنے والے ہیں؟“ اور سورۃ آل عمران میں فرمایا: «{ وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ }» [آل عمران: ۱۸۷] ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ دنیا کی خاطر احکام الٰہی کو بدلنا بھی اس میں شامل ہے۔ وہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو رشوت لے کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اس آیت کا تعلیم کتاب کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ اجرت کسی غلط کام پر نہیں، بلکہ ایک نہایت پاکیزہ محنت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ] ”سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے۔“ [بخاری، کتاب الطب، باب الشروط فی الرقیۃ …: ۵۷۳۷]”بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف دم کی اجرت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سورتوں کی تعلیم کے بدلے ایک صحابی سے ایک خاتون کا نکاح کر دیا تھا۔ [بخاری، النکاح، باب التزویج علی القرآن …: ۵۱۴۹ عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ] وہاں دم کی تاویل کیسے ہو گی؟ جن حضرات نے قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت منع کی تھی ان کے نام لیواؤں نے یہ کہہ کر تنخواہ لینا شروع کر دی ہے کہ آج کل قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے، ورنہ مدارس اور مساجد ویران ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل ہی نہیں ہمیشہ سے یہ اجرت حلال تھی، بلکہ بہترین محنت اور بہترین اجرت تھی اور ہے، اس کا قرآن بیچنے سے کوئی تعلق نہیں۔ تھوڑی قیمت کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی کے بدلے میں پوری دنیا بھی ملے تو متاع قلیل ہے، فرمایا: «{ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ }» [النساء: ۷۷] ”کہہ دو، دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“
➋ { وَ لَا تَشْتَرُوْا …:} اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس کی وضاحت بھی موجود ہے کہ اس سے کیا مراد ہے، چنانچہ سورۂ بقرہ میں فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (174) اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ }» [البقرۃ: ۱۷۴، ۱۷۵] ” بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے بدلے خریدا، سو وہ آگ پر کس قدر صبر کرنے والے ہیں؟“ اور سورۃ آل عمران میں فرمایا: «{ وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ }» [آل عمران: ۱۸۷] ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ دنیا کی خاطر احکام الٰہی کو بدلنا بھی اس میں شامل ہے۔ وہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو رشوت لے کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اس آیت کا تعلیم کتاب کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ اجرت کسی غلط کام پر نہیں، بلکہ ایک نہایت پاکیزہ محنت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ] ”سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے۔“ [بخاری، کتاب الطب، باب الشروط فی الرقیۃ …: ۵۷۳۷]”بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف دم کی اجرت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سورتوں کی تعلیم کے بدلے ایک صحابی سے ایک خاتون کا نکاح کر دیا تھا۔ [بخاری، النکاح، باب التزویج علی القرآن …: ۵۱۴۹ عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ] وہاں دم کی تاویل کیسے ہو گی؟ جن حضرات نے قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت منع کی تھی ان کے نام لیواؤں نے یہ کہہ کر تنخواہ لینا شروع کر دی ہے کہ آج کل قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے، ورنہ مدارس اور مساجد ویران ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل ہی نہیں ہمیشہ سے یہ اجرت حلال تھی، بلکہ بہترین محنت اور بہترین اجرت تھی اور ہے، اس کا قرآن بیچنے سے کوئی تعلق نہیں۔ تھوڑی قیمت کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی کے بدلے میں پوری دنیا بھی ملے تو متاع قلیل ہے، فرمایا: «{ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ }» [النساء: ۷۷] ”کہہ دو، دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 بِہِ کی ضمیر قرآن کی طرف یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ دونوں ہی قول صیح ہیں کیونکہ دونوں آپس میں لازم اور ملزوم ہیں، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا اس نے محمد رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا، اس نے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ کفر کیا (ابن کثیر) پہلے کافر نہ بنو کا مطلب ہے ایک تو تمہیں جو علم ہے دوسرے اس سے محروم ہیں، اس لئے تمہاری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مدینہ میں یہود کو سب سے پہلے دعوت ایمان دی گئی، ورنہ ہجرت سے پہلے بہت سے لوگ قبول اسلام کرچکے ہوتے، اس لئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہودیوں میں تم اولین کافر مت بنو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال تم پر ہوگا۔ 41۔ 2 تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو: کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ معاوضہ مل جائے تو احکام الٰہی کا سودا کرلو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کے مقابلے میں دنیاوی مفادات کو اہمیت نہ دو۔ احکام الٰہی تو اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا مال و متاع بھی ان کے مقابلے میں ہیچ اور قلیل ہے۔ آیت میں اصل مخاطب اگرچہ بنی اسرائیل ہیں، لیکن یہ حکم قیامت تک آنے والوں کے لئے ہے، جو بھی محض طلب دنیا کے لئے گریز کرے گا وہ اس وعید میں شامل ہوگا۔ (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) یہ کتاب اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے۔ لہذا اس کے سب سے پہلے [61] منکر تم ہی نہ بنو۔ نہ ہی میری آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالو۔ اور ڈرو تو صرف مجھ ہی سے ڈرو
[61] عقائد، اخبار انبیاء اور احوال آخرت تمام الہامی کتابوں میں تقریباً ایک ہی جیسے ہیں۔ فرق ہوتا ہے تو صرف بعض احکام میں جو احوال و ظروف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن جب تورات کی تصدیق کر رہا ہے تو اس کے پہلے منکر تم ہی نہ بن جاؤ۔ امی اہل عرب اور تمہاری اولاد تو تمہاری ہی روش پر چلیں گے۔ اس طرح سب کے گناہ کا حصہ تم پر بھی ہو گا۔ اور حدیث میں ہے کہ: اہل کتاب کے ایمان لانے پر دوہرا اجر:۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کے لیے دوہرا ثواب ہے ایک تو وہ اہل کتاب جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا۔ دوسرے وہ غلام جو اللہ کا بھی حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی، تیسرے وہ شخص جس کے پاس ایک لونڈی ہو جس سے وہ محبت کرتا ہو اسے اچھی طرح ادب سکھائے پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“ عامر شعبی نے صالح سے کہا ہم نے یہ حدیث تمہیں مفت بتا دی جبکہ لوگ اس سے کم درجہ کی حدیث کے لیے مدینہ جایا کرتے تھے۔ [بخاري، كتاب العلم، باب تعليم الرجل امته واهله]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بنی اسرائیل سے خطاب ٭٭
ان آیتوں میں بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے اور حضور علیہ السلام کی تابعداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انتہائی لطیف پیرایہ میں انہیں سمجھایا گیا ہے کہ تم ایک پیغمبر کی اولاد میں سے ہو تمہارے ہاتھوں میں کتاب اللہ موجود ہے اور قرآن اس کی تصدیق کر رہا ہے پھر تمہیں نہیں چاہیئے کہ سب سے پہلے انکار تمہیں سے شروع ہو۔ اسرائیل یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام تھا تو گویا ان سے کہا جاتا ہے کہ تم میرے صالح اور فرمانبردار بندے کی اولاد ہو۔ تمہیں چاہیئے کہ اپنے جدِامجد کی طرح حق کی تابعداری میں لگ جاؤ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ تم سخی کے لڑکے ہو سخاوت میں آگے بڑھو تم پہلوان کی اولاد ہو داد شجاعت دو۔ تم عالم کے بچے ہو علم میں کمال پیدا کرو۔ دوسری جگہ اسی طرز کلام کو اسی طرح ادا کیا گیا ہے۔ آیت «ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا» [17۔ الاسرآء: 3] یعنی ہمارے شکر گزار بندے نوح کے ساتھ جنہیں ہم نے ایک عالمگیر طوفان سے بچایا تھا یہ ان کی اولاد ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا نام تھا۔ وہ سب قسم کھا کر کہتے ہیں کہ واللہ یہ سچ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے اللہ تو گواہ رہ۔ [ابو داؤد طیالسی:356:حسن] اسرائیل کے لفظی معنی عبداللہ کے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:553/1] ان نعمتوں کو یاد دلایا جاتا ہے جو قدرت کاملہ کی بڑی بڑی نشانیاں تھیں۔ مثلاً پتھر سے نہروں کو جاری کرنا۔ من و سلٰوی اتارنا۔ فرعونیوں سے آزاد کرنا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:556/1] انہیں میں سے انبیاء اور رسولوں کو مبعوث کرنا۔ ان میں سلطنت اور بادشاہی عطا فرمانا وغیرہ ان کو ہدایت دی جاتی ہے میرے وعدوں کو پورا کرو یعنی میں نے جو عہد تم سے لیا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں اور ان پر میری کتاب قرآن کریم نازل ہو تو تم اس پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ایمان لانا۔ وہ تمہارے بوجھ ہلکے کریں گے اور تمہاری زنجیریں توڑ دیں گے اور تمہارے طوق اتار دیں گے اور میرا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا کہ میں تمہیں اس دین کے سخت احکام کے متبادل آسان دین دوں گا۔
دوسری جگہ اس کا بیان اس طرح ہوتا ہے آیت «وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا» [5-المائدة:12] یعنی اگر تم نمازوں کو قائم کرو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے میرے رسولوں کی ہدایت مانتے رہو گے، مجھے اچھا قرضہ دیتے رہو گے، تو میں تمہاری برائیاں دور کر دونگا اور تمہیں بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں داخل کروں گا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ توراۃ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اتنا بڑا عظیم الشان پیغمبر پیدا کر دونگا جس کی تابعداری تمام مخلوق پر فرض ہو گی ان کے تابعداروں کو بخشوں گا انہیں جنت میں داخل کروں گا اور دوہرا اجر دوں گا۔
دوسری جگہ اس کا بیان اس طرح ہوتا ہے آیت «وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا» [5-المائدة:12] یعنی اگر تم نمازوں کو قائم کرو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے میرے رسولوں کی ہدایت مانتے رہو گے، مجھے اچھا قرضہ دیتے رہو گے، تو میں تمہاری برائیاں دور کر دونگا اور تمہیں بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں داخل کروں گا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ توراۃ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اتنا بڑا عظیم الشان پیغمبر پیدا کر دونگا جس کی تابعداری تمام مخلوق پر فرض ہو گی ان کے تابعداروں کو بخشوں گا انہیں جنت میں داخل کروں گا اور دوہرا اجر دوں گا۔
امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں بڑے بڑے انبیاء علیہم السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیشنگوئی نقل کی ہے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کا عہد اسلام کو ماننا اور اس پر عمل کرنا تھا۔[تفسیر ابن جریر الطبری:558/1] اللہ کا اپنے عہد کو پورا کرنا ان سے خوش ہونا اور جنت عطا فرمانا ہے۔[تفسیر ابن ابی حاتم:143/1] مزید فرمایا مجھ سے ڈرو ایسا نہ ہو جو عذاب تم سے پہلے لوگوں پر نازل ہوئے کہیں تم پر بھی نہ آ جائیں۔ اس لطیف پیرایہ کو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ترغیب کے بیان کے ساتھ ہی کس طرح ترہیب کے بیان کو ملحق کر دیا گیا ہے۔ رغبت و رہبت دونوں جمع کر کے اتباع حق اور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دی گئی۔ قرآن کے ساتھ نصیحت حاصل کرنے اس کے بتلائے ہوئے احکام کو ماننے اور اس کے روکے ہوئے کاموں سے رک جانے کی ہدایت کی گئی۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم اس قرآن حکیم پر ایمان لاؤ جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق اور تائید کرتا ہے جسے لے کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں جو امی ہیں عربی ہیں، جو بشیر ہیں، جو نذیر ہیں، جو سراج منیر ہیں جن کا اسم شریف محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جو توراۃ کی سچائی کی دلیل تھی اس لیے کہا گیا کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں موجود کتابوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ علم ہونے کے باوجود تم ہی سب سے پہلے انکار نہ کرو۔
بعض کہتے ہیں «بِہِ» کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے اور پہلے آ بھی چکا ہے «بما انزلت» اور دونوں قول درحقیقت سچے اور ایک ہی ہیں۔ قرآن کو ماننا رسول کو ماننا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق قرآن کی تصدیق ہے۔ اول کافر سے مراد بنی اسرائیل کے اولین منکر ہیں کیونکہ کفار قریش بھی انکار اور کفر کر چکے تھے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا انکار اہل کتاب میں سے پہلی جماعت کا انکار تھا اس لیے انہیں اول کافر کہا گیا ان کے پاس وہ علم تھا جو دوسروں کے پاس نہ تھا۔ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی بہت تھوڑی ہے اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
سنن ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی ہے اس لیے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔[سنن ابوداود:3664،قال الشيخ الألباني:صحیح] علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اگر بیت المال سے کچھ مال نہ ملتا ہو اور علم سکھانے کی وجہ سے کوئی کام دھندا بھی نہ کر سکتے ہوں تو پھر اجرت مقرر کر کے لینا بھی جائز ہے اور امام مالک امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ انہوں نے اجرت مقرر کر لی اور ایک سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر قرآن پڑھ کر دم کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ قصہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث «ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ» یعنی جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان سب میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے۔[صحیح بخاری:5737:صحیح] دوسری مطول حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے آپ کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حدیث «زوجتکھا بما معک من القران» میں نے اس کو تیری زوجیت میں دیا۔[صحیح بخاری:5149:صحیح] اور تو اسے قرآن حکیم جو تجھے یاد ہے اسے بطور حق مہر یاد کرا دے۔
بعض کہتے ہیں «بِہِ» کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے اور پہلے آ بھی چکا ہے «بما انزلت» اور دونوں قول درحقیقت سچے اور ایک ہی ہیں۔ قرآن کو ماننا رسول کو ماننا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق قرآن کی تصدیق ہے۔ اول کافر سے مراد بنی اسرائیل کے اولین منکر ہیں کیونکہ کفار قریش بھی انکار اور کفر کر چکے تھے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا انکار اہل کتاب میں سے پہلی جماعت کا انکار تھا اس لیے انہیں اول کافر کہا گیا ان کے پاس وہ علم تھا جو دوسروں کے پاس نہ تھا۔ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی بہت تھوڑی ہے اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
سنن ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی ہے اس لیے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔[سنن ابوداود:3664،قال الشيخ الألباني:صحیح] علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اگر بیت المال سے کچھ مال نہ ملتا ہو اور علم سکھانے کی وجہ سے کوئی کام دھندا بھی نہ کر سکتے ہوں تو پھر اجرت مقرر کر کے لینا بھی جائز ہے اور امام مالک امام شافعی، امام احمد اور جمہور علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ انہوں نے اجرت مقرر کر لی اور ایک سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر قرآن پڑھ کر دم کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ قصہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث «ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ» یعنی جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان سب میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے۔[صحیح بخاری:5737:صحیح] دوسری مطول حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے آپ کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حدیث «زوجتکھا بما معک من القران» میں نے اس کو تیری زوجیت میں دیا۔[صحیح بخاری:5149:صحیح] اور تو اسے قرآن حکیم جو تجھے یاد ہے اسے بطور حق مہر یاد کرا دے۔
ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے ایک شخص نے اہل صفہ میں سے کسی کو کچھ قرآن سکھایا اس نے اسے ایک کمان بطور ہدیہ دی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تجھے آگ کی کمان لینی ہے تو اسے لے چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابوداود:3416، قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی ایک مرفوع حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه:2158، قال الشيخ الألباني:صحیح] ان دونوں احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے خالص اللہ کے واسطے کی نیت سے سکھایا پھر اس پر تحفہ اور ہدیہ لے کر اپنے ثواب کو کھونے کی کیا ضرورت ہے؟ اور جبکہ شروع ہی سے اجرت پر تعلیم دی ہے تو پھر بلا شک و شبہ جائز ہے جیسے اوپر کی دونوں احادیث میں بیان ہو چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صرف اللہ ہی ہے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کی امید پر اس کی عبادت و اطاعت میں لگا ہے اور اس کے عذابوں سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں کو چھوڑ دے اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف سے دئیے گئے نور پر گامزن رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:147/1] غرض اس جملہ سے انہیں خوف دلایا گیا کہ وہ دنیاوی لالچ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کو جو اس کی کتابوں میں ہے نہ چھپائیں اور دنیوی ریاست کی طمع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوں بلکہ رب سے ڈر کر اظہار حق کرتے رہیں۔
صرف اللہ ہی ہے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کی امید پر اس کی عبادت و اطاعت میں لگا ہے اور اس کے عذابوں سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں کو چھوڑ دے اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف سے دئیے گئے نور پر گامزن رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:147/1] غرض اس جملہ سے انہیں خوف دلایا گیا کہ وہ دنیاوی لالچ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کو جو اس کی کتابوں میں ہے نہ چھپائیں اور دنیوی ریاست کی طمع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوں بلکہ رب سے ڈر کر اظہار حق کرتے رہیں۔