تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {خَاوِيَةٌ:} یہ باب { ”ضَرَبَ“ } سے اسم فاعل ہے، مادہ ”خ و ی“ ہے، جس کا معنی کھوکھلا ہونا ہے۔ چونکہ کھوکھلا ہونے کا نتیجہ گر پڑنا ہے، اس لیے اس کا معنی گر پڑنا بھی آتا ہے، عموماً پہلے چھت گرتی ہے پھر دیواریں اس پر گر پڑتی ہیں، اس لیے فرمایا: ”چھتوں پر گری ہوئی تھی۔“
➌ {لَمْ يَتَسَنَّهْ:} اس لفظ کا مادہ یا تو ” س ن ن “ ہے، جس کا معنی بدبو دار ہونا ہے، جیسے فرمایا: «مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» [الحجر: ۲۶] ”جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔“ باب تفعل میں{ ” لَمْ يَتَسَنَّنْ “ } ہو گیا، پھر آخری نون کو ”ہاء “ سے بدل دیا، جیسے: { ”لَمْ يَتَقَضَّضِ الْبَازِيْ“ } (باز تیزی سے نہیں جھپٹا) کو { ”لَمْ يَتَقَضَّهْ“ } کر دیتے ہیں، یا پھر اس کا مادہ ”سن ن ہ “ ہے، اس سے باب تفعل {”تَسَنَّهَ“} کا معنی روٹی کا بدبودار ہونا ہے، اس صورت میں ”ہاء “ اصل ہے، تو { ”لَمْ يَتَسَنَّهْ“ } کا معنی ہے، بدبودار نہیں ہوا۔
➍ پہلے قصے سے کائنات کو بنانے والے کا ایک ہونا (یعنی توحید) بیان کرنا مقصود تھا، جبکہ اس قصے اور اس کے بعد والے قصے سے حشر و نشر ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس آیت میں مذکور شخص سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صحیح سند کے ساتھ کوئی ذکر نہیں ملتا کہ وہ کون تھا۔ بعض تابعین نے اس کا نام عزیر علیہ السلام بتایا ہے اور بعض نے ارمیا، اور ظاہر ہے کہ اس کا ماخذ وہ اسرائیلی روایات ہیں جنھیں نہ سچا کہا جا سکتا ہے نہ ہی جھوٹا۔ واللہ اعلم!
البتہ یہ بات یقینی ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ان سے پوچھنا اور پھر اصل مدت بتانا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کے نبی تھے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا اس بستی کو دوبارہ زندہ کرنا بعید کیوں سمجھا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ انھوں نے بعید سمجھ کر یہ سوال نہیں کیا تھا اور نہ انھیں قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ اس سے اطمینان حاصل کرنا مقصود تھا اور وہ دوبارہ زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو بعض حقیقتوں کا آنکھوں سے مشاہدہ کروا دیتا ہے۔ ان دونوں واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کا دوست اور کار ساز اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اسے کس طرح اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے۔ (رازی)
معلوم ہوتا ہے کہ جب اس نبی نے وفات پائی تھی تو اس وقت کچھ دن چڑھا ہوا تھا اور جب دوبارہ زندہ ہوئے تو سورج غروب ہونے کو تھا، اس لیے انھوں نے سو سال گزرنے کے باوجود یہ سمجھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ گزرا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[372] اور پورے سو سال موت کی نیند سلا کر پھر انہیں زندہ کر کے پوچھا: ”بتلاؤ کتنی مدت اس حال میں پڑے رہے؟“ اب عزیرؑ کے پاس ماسوائے سورج کے، وقت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا جب جا رہے تھے تو پہلا پہر تھا اور اب دوسرا پہر کہنے لگے ”یہی بس دن کا کچھ حصہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دوسرا دن ہو“ کیونکہ اس سے زیادہ انسان کبھی نہیں سوتا۔
2۔ اس سو سال کی مدت کا نہ آپ کی ذات پر کچھ اثر ہوا، نہ آپ کے سامان خورد و نوش پر۔ چنانچہ جب آپ واپس اپنے گھر پہنچے تو آپ کے بیٹے اور پوتے تو بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ خود ان کی نسبت جوان تھے۔ اس طرح آپ کی ذات بھی تمام لوگوں کے لیے ایک معجزہ بن گئی۔ غالباً اسی وجہ سے یہودیوں کا ایک فرقہ انہیں ابن اللہ کہنے لگا تھا۔
3۔ لیکن گدھے پر سو سال کا عرصہ گزرنے کے جملہ اثرات موجود تھے۔ یہ تضاد زمانی بھی ایک بہت بڑا حیران کن معاملہ اور معجزہ تھا۔
4۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے گدھے کی ہڈیوں کا جڑنا، اس کا پنجر مکمل ہونا، اس پر گوشت پوست چڑھنا پھر اس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر بہت بڑی دلیل ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جب یہ سب کچھ دیکھ چکے تو کہنے لگے اس بات کا علم تو مجھے تھا ہی کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے لیکن اب میں نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا، تو میں اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے زیادہ علم و یقین والا ہوں، بعض لوگوں نے اعلم کو اعلم بھی پڑھا ہے، یعنی اللہ مقتدر نے فرمایا کہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز پر قدرت ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذان دليلان عظيمان محسوسان في الدنيا قبل الآخرة على البعث والجزاء، واحد أجراه الله على يد رجل شاك في البعث على الصحيح كما تدل عليه الآية الكريمة، والآخر على يد خليله إبراهيم، كما أجرى دليل التوحيد السابق على يده. فهذا الرجل مرَّ على قرية قد دمرت تدميراً وخوت على عروشها قد مات أهلها وخربت عمارتها، فقال على وجه الشك والاستبعاد: {أنى يحيي هذه الله بعد موتها}؟ أي: ذلك بعيد وهي في هذه الحال، يعني وغيرها مثلها بحسب ما قام بقلبه تلك الساعة، فأراد الله رحمته ورحمة الناس حيث أماته الله مئة عام، وكان معه حمار فأماته معه، ومعه طعام وشراب فأبقاهما الله بحالهما كل هذه المدد الطويلة. فلما مضت الأعوام المائة بعثه الله فقال: {كم لبثت قال: لبثت يوماً أو بعض يوم}؛ وذلك بحسب ما ظنه، فقال الله: {بل لبثت مائة عام}؛ والظاهر أن هذه المجاوبة على يد بعض الأنبياء الكرام.
ومن تمام رحمة الله به وبالناس أنه أراه الآية عياناً ليقتنع بها، فبعد ما عرف أنه ميت قد أحياه الله قيل له: انظر {إلى طعامك وشرابك لم يتسنه}؛ أي: لم يتغير في هذه المُدَد الطويلة. وذلك من آيات قدرة الله فإن الطعام والشراب خصوصاً ما ذكره المفسرون أنه فاكهة وعصير لا يلبث أن يتغير وهذا قد حفظه الله مئة عام وقيل له: {انظر إلى حمارك}؛ فإذا هو قد تمزق وتفرق وصار عظاماً نخرة، {وانظر إلى العظام كيف ننشزها}؛ أي: نرفع بعضها إلى بعض ونصل بعضها ببعض بعدما تفرقت وتمزقت {ثم نكسوها}؛ بعد الالتئام {لحماً}؛ ثم نعيد فيه الحياة {فلما تبين له}؛ رأيَ عين لا يقبل الريب بوجه من الوجوه {قال أعلم أن الله على كل شيء قدير}؛ فاعترف بقدرة الله على كل شيء وصار آية للناس، لأنهم قد عرفوا موته وموت حماره وعرفوا قضيته ثم شاهدوا هذه الآية الكبرى. هذا هو الصواب في هذا الرجل.
وأما قول كثير من المفسرين: أن هذا الرجل مؤمن أو نبي من الأنبياء إما عزير أو غيره وأن قوله: {أنى يحيي هذه الله بعد موتها}؛ يعني كيف تعمر هذه القرية بعد أن كانت خراباً، وأن الله أماته ليريه ما يعيد لهذه القرية من عمارتها بالخلق وأنها عمرت في هذه المدة وتراجع الناس إليها وصارت عامرة بعد أن كانت دامرة، فهذا لا يدل عليه اللفظ بل ينافيه، ولا يدل عليه المعنى، فأي آية وبرهان برجوع البلدان الدامرة إلى العمارة، وهذه لم تزل تشاهد تعمر قرى ومساكن، وتخرب أخرى، وإنما الآية العظيمة في إحيائه بعد موته وإحياء حماره وإبقاء طعامه وشرابه لم يتعفن ولم يتغير، ثم قوله: {فلما تبين له}؛ صريح في أنه لم يتبين له إلا بعدما شاهد هذه الحال الدالة على كمال قدرته عيانا.