تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے، ان کے زمانے میں عراق کے اندر شرک تقریباً اپنی ساری صورتوں کے ساتھ موجود تھا، بتوں کو وہ پوجتے تھے، سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش وہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بادشاہ وقت کو بھی رب مانتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام کے ذمے ان سب صورتوں کی تردید کرکے لوگوں کو اکیلے رب کی عبادت کی دعوت دینا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے والد اور قوم کو بت پرستی چھوڑ کر ایک رب کی عبادت کی دعوت دی، نتیجے میں گھر سے نکلنا پڑا، پھر نہایت حکیمانہ طریقے سے سورج، چاند اور ستاروں کا رب نہ ہونا ایسا واضح کیا کہ قوم لاجواب ہو گئی۔ (دیکھیے انعام: ۷۶ تا ۸۲) نتیجے میں قوم کے جھگڑے اور سورج، چاند اور ستاروں کے غضب کا نشانہ بننے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ محض نصیحت سے بتوں کی بے بسی ماننے پر یہ لوگ تیار نہیں تو میلے والے دن ان کے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سارے بت توڑ دیے۔ تفتیش ہوئی، ابراہیم علیہ السلام مجرم قرار پائے، اس موقع پر ساری قوم کے سامنے بتوں کی بے بسی ایسی واضح فرمائی کہ وہ اپنے دلوں میں مان گئے کہ ظالم وہ خود ہی ہیں، ابراہیم(علیہ السلام) کا کچھ قصور نہیں۔ اب حق کو قبول کرنے کے بجائے الٹاکہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو۔ (دیکھیے انبیاء: ۵۱ تا ۷۰) اب ظاہر ہے کہ عوام جتنے بھی ہوں کسی کو سزا دینا تو حکومت کا کام ہے، اس لیے انھیں وقت کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، وہ اپنی سلطنت میں بت پرستی، ستارہ پرستی کو برداشت کرتا تھا، بلکہ اس کی پشت پناہی کرتا تھا، کیونکہ وہ خود بھی مشرک تھا اور اپنے رب ہونے کا بھی دعویدار تھا۔ اس موقع پر بادشاہ کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا، جس میں لاجواب ہو کر اس نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھنکوا دیا۔
➌ یہ واقعہ اور بعد والے دونوں واقعات اس بات کی مثال اور دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کس طرح اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور طاغوت اپنے دوستوں کو کس طرح روشنی سے اندھیرے کی طرف لے جاتے ہیں۔
➍ ابراہیم علیہ السلام نے جب اس بادشاہ کے رب ہونے سے انکار کیا تو اس نے پوچھا: ”تمھارا رب کون ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔“ اس نے کہا: ”میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔“ بعض تابعین سے منقول ہے کہ اس نے دو قیدی منگوائے، ایک کو قتل کر دیا، ایک کو چھوڑ دیا اورکہا: ”دیکھو! انھیں زندہ رکھنا یا مارنا میرے ہاتھ میں ہے۔“ تابعین کی بات اسرائیلی روایت ہی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ خود تو اس وقت موجود نہیں تھے اور اس کی ضرورت اس وقت ہے جب وہ بادشاہ متقی اور ہمیشہ سچ بولنے والا ہو۔ ایک جھوٹا شخص کوئی غلط بات کہے تو اسے تاویل کے ساتھ صحیح ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں رب ہوں، اسے یہ دعویٰ کرنے میں کیا چیز مانع ہے کہ میں ہی سب کو زندہ کرتا ہوں اور میں ہی مارتا ہوں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ کج بحثی پر اترا ہوا ہے تو پہلی دلیل چھوڑ کر دوسری دلیل سورج والی دی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے پہلی دلیل چھوڑی نہیں، بلکہ اس کے ذریعے سے اس کے منہ سے اس دعویٰ کا اقرار کروا لیا کہ میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اب اس دعویٰ پر دوسری دلیل کی بنیاد رکھی کہ جب تم میں اتنی قوت ہے کہ تمھی سب کو پیدا کرتے ہو اور تمھی مارتے ہو تو اس کے مقابلے میں ایک معمولی سا کام کرکے دکھاؤ، یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، جب سارا اختیار تمھارے پاس ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا دو، اس پر وہ بے ایمان حیرت زدہ ہو کر بالکل لاجواب ہو گیا اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی راہِ راست پر آنے کی توفیق نہیں دیتا۔
➎ نمرود کی ناک میں مچھر کے گھسنے اور چار سو سال تک ہتھوڑوں سے اپنے آپ کو پٹوانے کے واقعات نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں نہ کسی صحابی سے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[370] حضرت ابراہیمؑ نمرود کے اس کام کا یہ جواب دے سکتے تھے کہ جس شخص کو تو نے مروا ڈالا ہے اسے زندہ کر کے دکھا تو جانیں۔ مگر حضرت ابراہیمؑ نے اس میدان کو چھوڑ دیا اور ربوبیت کے میدان میں آ گئے اور کہا کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کے دکھا۔ اب چونکہ نمرود یہ سمجھتا تھا کہ کائنات کے نظام میں میرا کوئی دخل اور اختیار نہیں۔ لہٰذا وہ فوراً لاجواب ہو گیا۔ حالانکہ اگر وہ سوچتا تو کہہ سکتا تھا کہ اگر میں سورج کو مغرب سے نہیں نکال سکتا تو تم اپنے رب سے کہو کہ مغرب سے نکال کے دکھائے، اور اس صورت میں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا بھی دیتے۔ مگر چونکہ نمرود کا پختہ عقیدہ تھا کہ کائنات کا نظام اللہ ہی چلاتا ہے اور وہ چاہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا سوائے خاموشی اور حیرانگی کے اس سے کچھ بھی بن نہ پڑا اس طرح ابراہیمؑ نے بھرے دربار میں نمرود پر یہ بات واضح کر دی کہ میرا خدا یا معبود تو نہیں، بلکہ وہ معبود حقیقی ہے جس کا پوری کائنات میں تصرف و اختیار چلتا ہے اس مباحثہ میں لاجواب ہونے کے باوجود نمرود کو کسی قیمت پر بھی اپنے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہونا اور حضرت ابراہیمؑ کی ہدایت پر توجہ کرنا گوارا نہ ہوا اور جو لوگ گمراہی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوں انہیں ہدایت کی راہ نصیب بھی نہیں ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم نے اسے نہیں دیکھا، جو ابراہیم علیہ السلام سے وجود باری تعالیٰ میں مباحثہ کرنے لگا، یہ شخص خود اللہ ہونے کا مدعی تھا، جیسا اس کے بعد فرعون نے بھی اپنے والوں میں دعویٰ کیا تھا کہ «مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِي» [28-القصص: 38] میں اپنے سوا کسی کو تمہارا رب نہیں جانتا، چونکہ ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے یہ بادشاہ چلا آتا تھا اس لیے دماغ میں رعونت اور انانیت آ گئی تھی، سرکشی اور تکبر، نخوت اور غرور طبیعت میں سما گیا تھا، بعض لوگ کہتے ہیں چار سو سال تک حکومت کرتا رہا تھا، ابراہیم علیہ السلام سے جب اس نے وجود باری تعالیٰ پر دلیل مانگی تو آپ نے نیست سے ہست اور ہست سے نیست کرنے کی دلیل دی جو ایک بدیہی اور مثل آفتاب روشن دلیل تھی کہ موجودات کا پہلے کچھ نہ ہونا پھر ہونا پھر مٹ جانا کھلی دلیل ہے۔ موجد اور پیدا کرنے والے کے موجود ہونے کی اور وہی اللہ ہے، نمرود نے جواباً کہا کہ یہ تو میں بھی کرتا ہوں، یہ کہہ کر دو شخصوں کو اس نے بلوایا جو واجب القتل تھے، ایک کو قتل کر دیا اور دوسرے کو رہا کر دیا، دراصل یہ جواب اور دعویٰ کس قدر لچر اور بے معنی ہے اس کے بیان کی بھی ضرورت نہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے تو صفات باری میں سے ایک صفت پیدا کرنا اور پھر نیست کر دینا بیان کی تھی اور اس نے نہ تو انہیں پیدا کیا اور نہ ان کی یا اپنی موت حیات پر اسے قدرت، لیکن جہلاء کو بھڑکانے کیلئے اور اپنی علمیت جتانے کیلئے باوجود اپنی غلطی اور مباحثہ کے اصول سے طریقہ فرار کو جانتے ہوئے صرف ایک بات بنا لی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقص الله علينا من أنباء الرسل والسالفين ما به تتبين الحقائق، وتقوم البراهين المتنوعة على التوحيد، فأخبر تعالى عن خليله إبراهيم - صلى الله عليه وسلم -، حيث حاج هذا الملك الجبار، وهو نمرود البابلي المعطل المنكر لرب العالمين، وانتدب لمقاومة إبراهيم الخليل ومحاجته في هذا الأمر الذي لا يقبل شكًّا ولا إشكالاً ولا ريباً وهو توحيد الله وربوبيته الذي هو أجلى الأمور وأوضحها. ولكن هذا الجبار غره ملكه وأطغاه حتى وصلت به الحال إلى أن نفاه، وحاج إبراهيمَ الرسولَ العظيمَ الذي أعطاه الله من العلم واليقين ما لم يعط أحداً من الرسل سوى محمد - صلى الله عليه وسلم -، فقال إبراهيم مناظراً له: {ربي الذي يحيي ويميت}؛ أي: هو المنفرد بالخلق والتدبير والإحياء والإماتة، فذكر من هذا الجنس أظهرها وهو الإحياء والإماتة، فقال ذلك الجبار مباهتاً: {أنا أحيي وأميت}؛ وعنى بذلك أني أقتل من أردت قتله وأستبقي من أردت استبقاءه، ومن المعلوم أن هذا تمويه وتزوير عن المقصود، وأن المقصود أن الله تعالى هو الذي تفرد بإيجاد الحياة في المعدومات وردها على الأموات، وأنه هو الذي يميت العباد والحيوانات بآجالها بأسباب ربطها وبغير أسباب.
فلما رآه الخليل مموهاً تمويهاً ربما راج على الهمج الرَّعاع قال إبراهيم ملزماً له بتصديق قوله إن كان كما يزعم: {فإن الله يأتي بالشمس من المشرق فأت بها من المغرب، فبهت الذي كفر}؛ أي: وقف وانقطعت حجته، واضمحلت شبهته.
وليس هذا من الخليل انتقالاً من دليل إلى آخر، وإنما هو إلزام لنمرود بطرد دليله إن كان صادقاً وأتى بهذا الذي لا يقبل الترويج والتزوير والتمويه، فجميع الأدلة السمعية والعقلية والفطرية قد قامت شاهدة بتوحيد الله معترفة بانفراده بالخلق والتدبير وأن من هذا شأنه لا يستحق العبادة إلا هو، وجميع الرسل متفقون على هذا الأصل العظيم، ولم ينكره إلا معاند مكابر مماثل لهذا الجبار العنيد، فهذا من أدلة التوحيد، ثم ذكر أدلة كمال القدرة والبعث والجزاء فقال: