تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ:} یہ { ”صَارَ يَصُوْرُ“ } (اجوف واوی) سے ہے۔ اس لفظ کے معنی عموماً { ”اَمِلْهُنَّ“ } کیے گئے ہیں، یعنی ”ان کو ہلالے۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اپنے فائدے میں لکھتے ہیں: ”ابراہیم علیہ السلام کو ہلانے کو اس لیے فرمایا گیا تاکہ وہ زندہ ہونے کے بعد خوب پہچانے جا سکیں کہ واقعی وہی ہیں جو ذبح کرکے پہاڑ پر رکھے گئے ہیں اور کوئی شبہ نہ رہے۔ اس صور ت میں { ”ثُمَّ اجْعَلْ“ } سے پہلے { ”ثُمَّ قَطِّعْهُنَّ“ } محذوف ماننا پڑے گا اور کہا جائے گا کہ بعد کا جملہ چونکہ اس پر دلالت کر رہا ہے، اس لیے اسے حذف کر دیا گیا۔ (بیضاوی) صحابہ و تابعین اور اہل لغت کی ایک جماعت نے { ”فَصُرْهُنَّ“ } کے معنی{ ”قَطِّعْهُنَّ“ } بھی بتائے ہیں، یعنی ”ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔“ چنانچہ ابن جریر اور طبری نے اس معنی پر بہت سے شواہد پیش کیے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ { ”صَارَ يَصُوْرُ“ } سے امر کا صیغہ ہے، جس کے معنی قطع کرنا بھی آئے ہیں اور مائل کرنا بھی اور اس میں قراء ت کے اختلاف نے اور زیادہ اشتباہ اور وسعت پیدا کر دی اور علمائے لغت نے اسے اضداد میں ذکر کیا ہے۔ (اَضداد ابی الطیب، مجاز ابی عبیدۃ) ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس جگہ سوال و جواب کے انداز اور سیاق کلام سے ”قطع “ کے معنی راجح معلوم ہوتے ہیں اور اس پر سلف مفسرین بھی تقریباً متفق نظر آتے ہیں۔“ (واللہ اعلم)
بندۂ عاجز نے ترجمہ { ”اَمِلْهُنَّ“ } کیا ہے، یعنی ان کو اپنی طرف ہلا لے، مانوس کر لے۔ اس کی وجہ ایک تو استاذ مرحوم کا فائدے کے شروع میں فرمانا ہے کہ عموماً اس کا معنی یہی کیا جاتا ہے، چنانچہ شاہ ولی اللہ اور ان کے دونوں فرزندان ارجمند اور بہت سے علماء نے یہی ترجمہ کیا ہے، دوسری وجہ یہ کہ { ”فَصُرْهُنَّ“ } کے بعد { ”اِلَيْكَ“ } (اپنی طرف) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ البتہ ذبح کرکے ان کے ٹکڑے پہاڑوں پر رکھنے میں کوئی شک نہیں۔
➌ ان چار جانوروں کی تعیین میں علمائے تفسیر کا اختلاف ہے، بعض نے مرغ، مور، کوا اور کبوتر بتائے ہیں اور بعض نے دوسرے نام ذکر کیے ہیں اور پھر چار پہاڑوں پر ان کو الگ الگ رکھنے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر ہر ایک کا نام لے کر پکارنے کی کیفیت بھی بعض تابعین سے منقول ہے، مگر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جانوروں کی یہ تعیین بے فائدہ ہے، اس کی کچھ اہمیت ہوتی تو قرآن خاموش نہ رہتا۔
➍ { عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ:} آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل الفاظ ساری آیت کا خلاصہ ہوتے ہیں، یہ قرآنی اعجاز ہے۔ اس آیت میں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے، مردوں کو زندہ کرنے پر اسے کامل غلبہ و قدرت حاصل ہے، {”حَكِيْمٌ“} کمال حکمت والا ہے، جس کے مطابق اس نے زندوں کی موت کے لیے اور مردوں کو زندہ کرنے کے لیے ایک وقت مقرر رکھا ہے۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ تین قصے بیان فرمائے ہیں اس پر کہ اللہ خود ہدایت کرنے والا ہے جس کو چاہے، اگر شبہ پڑے تو ساتھ ہی جواب سمجھا دیتا ہے۔ اب آگے پھر جہاد کا ذکر ہے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿ كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتيٰ﴾
کا ترجمہ یا مفہوم ہے آپ نے موتیٰ کا ترجمہ مردہ قوم ارنی کا ترجمہ مجھے بتلاؤ اور کیف تحی کا ترجمہ مردہ قوم کے از سر نو زندہ ہونے کا طریق کار کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا پہلے یہ تو بتلاؤ کہ تمہارا اس پر ایمان ہے کہ مردہ قوم کو حیات نو مل سکتی ہے؟ ابراہیمؑ نے کہا: اس پر تو میرا ایمان ہے لیکن میں اس کا اطمینان چاہتا ہوں۔ اللہ نے کہا تم چار پرندے لو۔ شروع میں وہ تم سے دور بھاگیں گے۔ انہیں اس طرح آہستہ آہستہ سدھاؤ کہ وہ تم سے مانوس ہو جائیں۔ آخر الامر ان کی یہ حالت ہو جائے گی کہ اگر تم انہیں الگ الگ مختلف پہاڑیوں پر چھوڑ دو اور انہیں آواز دو تو وہ اڑتے ہوئے تمہاری طرف آ جائیں گے۔ بس یہی طریقہ ہے حق سے نامانوس لوگوں میں زندگی پیدا کرنے کا۔ تم انہیں اپنے قریب لاؤ اور نظام خداوندی سے روشناس کراؤ (یہ «واعلم» کا ترجمہ ہے) یہ نظام اپنے اندر اتنی قوت اور حکمت رکھتا ہے کہ اسے چھوڑ کر یہ کہیں نہ جا سکیں گے۔ یہ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ﴾ کا ترجمہ ہے۔ [مفهوم القرآن ص 103] اب دیکھئے کہ:
1۔ حضرت ابراہیمؑ تو اللہ سے مردوں کو زندہ کرنے کی بات پوچھ رہے ہیں۔ لیکن پرویز صاحب نے ’مردہ قوموں ‘ کی دوبارہ زندگی کے اسرار و رموز بیان کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
2۔ مردہ قوموں کی دوبارہ زندگی کے لیے آپ نے جو ہدایات حضرت ابراہیمؑ سے منسوب فرمائی ہیں ان کی حضرت ابراہیمؑ سے کوئی تخصیص نہیں۔ یہ تو تبلیغ کا عام طریقہ ہے جسے تمام انبیاء اپناتے رہے ہیں۔ مردوں کو زندہ کرنے اور بالخصوص حضرت ابراہیمؑ کے دلی اطمینان کی اس میں کیا بات ہے؟
3۔ حق سے مانوس شدہ لوگوں کو ٹیسٹ کرنے کا یہ طریقہ بھی کیسا شاندار ہے کہ پہلے نبی ایسے لوگوں کو الگ الگ پہاڑیوں پر چھوڑ آیا کریں۔ پھر انہیں بلائیں، اس سے پہلے نہ بلائیں بہرحال وہ نبی کی آواز سن کر دوڑتے ہوئے ان کے پاس پہنچ جائیں گے۔ کیا مردہ قوموں کی دوبارہ زندگی کا یہی طریقہ ہے؟
4۔ «اِعْلَمْ» کا ترجمہ یا مفہوم تم انہیں نظام خداوندی سے روشناس کراؤ۔ پرویز صاحب جیسے مفسر قرآن کا ہی حصہ ہو سکتا ہے۔
5۔ اس آیت میں لفظ جزء اً کا معنی حصہ یا ٹکڑا ہے اور پرندوں کا حصہ یا ٹکڑا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ انہیں ذبح کر دیا جائے یا کاٹ دیا جائے جس سے ان کی زندگی ختم ہو جائے اور یہی «مَوْتيٰ» کا مفہوم ہے۔ لیکن پرویز صاحب نے اس کا مفہوم مردہ قوموں کو مانوس کرنا پھر انہیں الگ الگ کر دینا بتلایا۔ اور اللہ کے عزیز حکیم ہونے کو نظام خداوندی کے قوت اور حکمت والا ہونے سے تعبیر کر کے اس واقعہ کے معجزہ ہونے سے بہرحال گلو خلاصی کرا ہی لی۔ اور یہ ثابت کر دیا اللہ مردوں کو زندہ نہیں کیا کرتا ہے بلکہ مردہ قوموں کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اپنے پیغمبروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ پہلے لوگوں کو مانوس کریں۔ پھر پہاڑوں پر چھوڑ آیا کریں۔ پھر انہیں بلائیں ورنہ یہ مردہ قومیں کبھی زندہ نہ ہو سکیں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب رب العالمین خالقِ کل فرماتا ہے کہ چار پرندے لے لو، مفسرین کے اس بارے میں کئی قول ہیں کہ کون کون سے پرندے ابراہیم علیہ السلام نے لیے تھے؟ لیکن ظاہر ہے کہ اس کا علم ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا او اس کا نہ جاننا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، کوئی کہتا ہے وہ کلنگ اور مور اور مرغ اور کبوتر تھے، کوئی کہتا ہے وہ مرغابی اور سیمرغ کا بچہ اور مرغ اور مور تھے، کوئی کہتا ہے کبوتر، مرغ، مور اور کوا تھے، پھر انہیں کاٹ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوتی ہے تو پوچھتے ہیں کہ قرآن میں سب سے زیادہ امید پیدا کرنے والی آیت کون سی ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا» [39۔ الزمر: 53] والی آیت جس میں ارشاد ہے کہ اے میرے گنہگار بندو میری رحمت سے ناامید نہ ہونا میں سب گناہوں کو بخش دیتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرے نزدیک تو اس امت کیلئے سب سے زیادہ ڈھارس بندھانے والی آیت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول، پھر رب دو عالم کا سوال اور آپ علیہ السلام کا جواب ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1032/3]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما البرهان الآخر فإن إبراهيم قال طالباً من الله أن يريه كيف يحيي الموتى فقال الله له: {أو لم تؤمن}؛ ليزيل الشبهة عن خليله، {قال}؛ إبراهيم: {بلى}؛ يا رب قد آمنت أنك على كل شيء قدير وأنك تحيي الموتى وتجازي العباد، ولكن أريد أن يطمئن قلبي وأصل إلى درجة عين اليقين، فأجاب الله دعوته كرامة له ورحمة بالعباد، {قال فخذ أربعة من الطير}؛ ولم يبين أي الطيور هي فالآية حاصلة بأي نوع منها وهو المقصود، {فصرهن إليك}؛ أي: ضمهن واذبحهن ومزقهن {ثم اجعل على كل جبل منهن جزءاً ثم ادعهن يأتينك سعياً واعلم أن الله عزيز حكيم}؛ ففعل ذلك وفرق أجزاءهن على الجبال التي حوله ودعاهن بأسمائهن فأقبلن إليه أي سريعات، لأن السعي السرعة، وليس المراد أنهن جئن على قوائمهن، وإنما جئن طائرات على أكمل ما يكون من الحياة، وخص الطيور بذلك لأن إحياءهن أكمل وأوضح من غيرهن، وأيضاً أزال في هذا كل وهم ربما يعرض للنفوس المبطلة، فجعلهن متعددات أربعة، ومزقهن جميعاً، وجعلهن على رؤوس الجبال، ليكون ذلك ظاهراً علناً يشاهد من قرب ومن بعد، وأنه نحاهن عنه كثيراً لئلا يظن أن يكون عاملاً حيلة من الحيل، وأيضاً أمره أن يدعوهن فجئن مسرعات، فصارت هذه الآية أكبر برهان على كمال عزة الله وحكمته.
وفيه تنبيه على أن البعث فيه يظهر للعباد كمال عزة الله وحكمته وعظمته وسعة سلطانه وتمام عدله وفضله.