تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟“ فرماتے ہیں، میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟“ کہتے ہیں، میں نے عرض کی: «اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ» (اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! (تم نے درست کہا) اے ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو۔“ [مسلم، صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سورۃ الکہف و آیۃ الکرسی: ۸۱۰] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث ہے، اس میں ان کا زکوٰۃ الفطر کی حفاظت پر مامور ہونا اور ایک شخص کا تین دن آ کر چوری کی کوشش کرنا، دو مرتبہ گرفتار ہو کر منتیں کرکے چھوٹنا اور تیسری دفعہ گرفتار ہونے پر انھیں یہ بتانا مذکور ہے کہ جب تم بستر پر آؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، تو لازماً اللہ کی طرف سے تم پر ایک حفاظت کرنے والا مقرر ہو گا اور تمھارے صبح کرنے تک کوئی شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اسے چھوڑ دیا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمھارے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے سارا قصہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو! اس نے تمھیں سچ بتایا، حالانکہ وہ بہت جھوٹا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا:”وہ شیطان تھا۔“ [بخاری، الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا فترک …: ۲۳۱۱، ۵۰۱۰]
اس حدیث سے آیت الکرسی کی فضیلت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا نام آیت الکرسی ہونے کی تصدیق بھی معلوم ہوئی۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخلے سے سوائے موت کے کوئی اور چیز نہیں روکے گی۔“ [عمل الیوم واللیلۃ للنسائی، ص: ۱۸۳۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۷۲۔ ابن کثیر اور البانی رحمہا اللہ نے اسے صحیح کہا ہے]
➋ قرآن مجید کی سب سے لمبی آیت: «اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ» [البقرۃ: ۲۸۲] ہے، مگر سب سے زیادہ عظمت والی آیت، آیت الکرسی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت کا موضوع توحید ہے، جو اس میں کئی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ موضوع اور دلیلوں کی وجہ سے یہ سب سے بڑی آیت ہے۔ سورۂ اخلاص چھوٹی سی سورت ہونے کے باوجود قرآن کے ثلث (تہائی حصے) کے برابر ہے۔ [بخاری، فضائل القرآن، باب فضل: «قل ھو اللہ أحد» : ۵۰۱۳] اس کی وجہ بھی موضوعِ توحید کی عظمت ہے۔ نکتہ: آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے اسماء اور ضمائر کی صورت میں سولہ (16) دفعہ آیا ہے۔ { ”يَعْلَمُ“ } اور { ”شَآءَ“ } میں بھی ضمیریں موجود ہیں۔
➌ آیت الکرسی ایک دعویٰ اور اس کی گیارہ دلیلوں پر مشتمل آیت ہے۔ دعویٰ یہ ہے: «اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» یعنی اللہ وہ ہے جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔
پہلی دلیل: وہ { ”اَلْحَيُّ“ } ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ اللّٰهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ] ”اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔“ [بخاری، التوحید، باب «و کان عرشہ علی الماء» : ۷۴۱۸] اس کے سوا کسی ہستی میں یہ خوبی نہیں۔ چنانچہ فرمایا: «هُوَ الْحَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» [المؤمن: ۶۵] ”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس کے سوا جس چیز کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ ہمیشہ سے ہے نہ ہمیشہ رہے گی، ہر چیز موت کی آغوش سے نکلی ہے اور اسی کی آغوش میں جانے والی ہے، فرمایا: «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا» [البقرۃ: ۲۸] ”تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ (20) اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [النحل: ۲۰، ۲۱]”اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“
وہی ایک ہے جس کو دائم بقا ہے
جہاں کی وراثت اسی کو سزا ہے
سوا اس کے انجام سب کا فنا ہے
نہ کوئی رہے گا نہ کوئی رہا ہے
مسافر یہاں ہیں فقیر اور غنی سب
غلام اور آزاد ہیں رفتنی سب (حالی)
دوسری دلیل: { ”الْقَيُّوْمُ“ } یہ { ”قَامَ يَقُوْمُ“ } سے { ”فَيْعُوْلٌ“ } کے وزن پر ہے، اصل میں { ”قَيْوُوْمٌ“ } تھا، پہلی واؤ کو یاء سے بدل دیا، پھر پہلی یاء کو دوسری میں ادغام کر دیا، یاء کے اضافے سے مزید مبالغہ پیدا ہو گیا، یعنی وہ کسی سہارے کے بغیر خود قائم ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والا، تھامنے والا ہے۔ انسان جو { ”اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى“ } کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے، ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے تھامنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خود اس کے دل کی دھڑکن، سانس کی آمدورفت، پیشاب و پاخانے کا نظام، خون کی گردش، نیند اور بیداری حتیٰ کہ زندگی اور موت کچھ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں، تو دوسروں کو کیا تھامے گا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، آپ پر آنے والی تکلیفیں، یعنی آپ کا زخمی ہونا، گھوڑے سے گر کرموچ آنا، بیمار ہونا، بھوک، پیاس، غرض پوری زندگی اس کی شاہد ہے، پھر اتنی وسیع کائنات اور لاتعداد مخلوقات کو اللہ کے سوا کون ہے جو تھامے ہوئے ہے کہ اسے مشکل کشا، داتا یا دستگیر یا جھولی بھرنے والا سمجھا جائے۔ آسمان و زمین سے متعلق فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا» [فاطر: ۴۱] ”بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں۔“ اڑتے پرندوں کے متعلق فرمایا: «مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ» [الملک: ۱۹] ” رحمان کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔“
تیسری دلیل: { ”لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ“ ”سِنَةٌ“ } اصل میں { ”وَسَنٌ“ } تھا، جیسے: { ”وَعْدٌ“ } سے{ ”عِدَةٌ“ } ہے، شروع سے ”واؤ “ حذف کرکے آخر میں ”تاء “ لے آئے۔ معنی ہے نیند سے پہلے آنے والی اونگھ، جب آدمی سونے اور جاگنے کے درمیان ہوتا ہے۔ { ”سِنَةٌ“ } اور{ ”نَوْمٌ“ } کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے: ”اسے نہ کچھ اونگھ پکڑتی ہے نہ کوئی نیند “ یعنی اللہ تعالیٰ کو ذرا برابر اونگھ یا نیند اپنی گرفت میں نہیں لے سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اونگھ اور نیند اتنی زبردست چیزیں ہیں کہ جس پر آتی ہیں اسے پکڑ لیتی ہیں، انسان ان کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ صبح کی نماز کے لیے طلوعِ آفتاب کے بعد بیدار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اونگھ اور نیند دونوں سے پاک ہے، کیونکہ اگر اسے اونگھ یا نیند آ جائے تو کائنات آپس میں ٹکرا کر فنا ہو جائے، اگر تجربہ کرنا ہو تو ہوشیار سے ہوشیار شخص کے دونوں ہاتھوں میں شیشے کا ایک ایک گلاس دے کر اسے ایک دو راتیں جگا کر تجربہ کر لیں۔
چوتھی دلیل: { ”لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ“ } یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے۔ [مزيد ديكهيے مريم: ۹۳ تا ۹۵] جب مالک وہ ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یحییٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو یہ بات سمجھائی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نے اپنے خالص مال سونے یا چاندی کے ساتھ ایک غلام خریدا اور غلام سے کہا کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، اس میں کام کرو اور اس کی آمدنی مجھے دیا کرو۔ غلام سارا دن کام کرتا اور شام کو آمدنی مالک کے سوا کسی اور کو دے دیتا، تو تم میں سے کون ہے جو ایسے غلام کو پسند کرے؟“ [ترمذی، الأدب، باب ما جاء فی مثل الصلوٰۃ …: ۲۸۶۳، و صححہ الألبانی]
پانچویں دلیل: { ”مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ“ } یعنی کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ آیت الکرسی سے پہلی آیت میں قیامت کے دن کسی بھی قسم کی سفارش کی نفی فرمائی ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ سفارش ممکن بتائی ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان یا جن یا فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کی جرأت کرے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب سفارش کے لیے جائیں گے تو جب اپنے رب کو دیکھیں گے تو سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی تعریفیں کریں گے، جو اللہ تعالیٰ اس وقت آپ کو سکھائے گا، پھر اللہ تعالیٰ سر اٹھانے کا حکم دے گا اور ایک حد مقرر کرکے فرمائے گا کہ ان لوگوں کو جہنم سے نکال لو۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «لما خلقت بيدي» : ۷۴۱۰]
قیامت کے دن سفارش تو کجا اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا» [النبا: ۳۸] ”جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمان اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔“
یہ عقیدہ کہ کوئی زبردستی اللہ تعالیٰ سے بات منوا سکتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کسی کی محبت کے ہاتھوں اس کی سفارش ماننے پر مجبور ہو گا، خالص جاہلانہ عقیدہ ہے، مکہ کے مشرکوں کا بھی یہی عقیدہ تھا، اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۳) اور سورۂ یونس (۱۸) وہاں عجز و نیاز کے سوا اور خود اس کی مہربانی سے اجازت کے بغیر کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ شفاعت کا مضمون اچھی طرح سمجھنے کے لیے شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کی تیسری فصل کا مطالعہ کریں۔
چھٹی دلیل: { ”يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ“ } یعنی وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ سامنے سے مراد حاضر چیزیں اور پیچھے سے مراد غائب چیزیں ہیں۔ اس میں ماضی، حال اور استقبال سب کا علم آ گیا۔ اس کے سوا کسی ہستی میں یہ صفت موجود نہیں، فرمایا: «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [النمل: ۶۵] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔“ جب اللہ تعالیٰ ہمارے اور پوری کائنات کے تمام گزشتہ، موجودہ اور آئندہ حالات سے واقف ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔
ساتویں دلیل: { ”وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ“ } یعنی کوئی شخص اللہ کے علم یعنی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتا مگر جتنا وہ چاہے، جیسا کہ فرمایا: «عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا (26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ» [الجن: ۲۶، ۲۷] ”(وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کر لے۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک اور معنی کا احتمال بھی ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے وہ اللہ کی ذات و صفات کے علم میں سے کسی بات پر مطلع نہیں ہو سکتا مگر جتنا وہ خود چاہے اور بتا دے، گویا یہ اس آیت کی ہم معنی ہے: «وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [طٰہٰ: ۱۱۰] ”اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔“
موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعہ میں مذکور ہے کہ ایک چڑیا نے سمندر میں ایک یا دو ٹھونگے مارے تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ”میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم سے کم نہیں کیا مگر جتنا اس چڑیا کے ٹھونگے نے سمندر سے کم کیا ہے۔“ [بخاری، العلم، باب ما یستحب للعالم…: ۱۲۲] اب خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہے یا یہ بے بس مخلوق۔
آٹھویں دلیل: { ”وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ“ } کرسی کا معنی سب لوگوں کے ہاں معروف ہے، یعنی وہ چیز جس پر بیٹھا جاتا ہے۔ سلف صالحین کے نزدیک اس کا معنی کرسی ہی ہے۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کرسی موجود ہے اور ہمارا اس کے وجود پر ایمان ہے، اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسی ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں، البتہ قرآن مجید میں جو آیا ہے اس کے مطابق اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے زیادہ وسیع ہے، اس پر ہمارا ایمان ہے۔
بعد میں آنے والے مفسرین میں سے بعض نے سلف کا مسلک ہی اختیار کیا ہے، البتہ بعض نے کہا کہ کرسی سے مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت ہے اور بعض نے کہا، اس سے مراد علم ہے۔ عموماً یہ وہ لوگ ہیں جو عرش کے بھی منکر ہیں، چنانچہ وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ نہ کوئی عرش ہے نہ کرسی، بلکہ مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور حکومت ہے۔ مگر کرسی کا یہ معنی حقیقی نہیں مجازی ہے، جو اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو، حالانکہ اللہ کے عرش اور کرسی کو حقیقی معنوں میں لینے سے کچھ خرابی لازم نہیں آتی۔ رہا یہ خیال کہ پھر تو اللہ تعالیٰ آدمیوں کے مشابہ ہو گیا جبکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں تو سلف کے فرمان کے مطابق ہم یہ کہتے ہی نہیں کہ وہ کرسی ہماری کرسیوں جیسی ہے، نہیں بلکہ وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔ انسان علیم ہے جیسا کہ فرمایا: «وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ» [الذاریات: ۲۸] ”اور انھوں نے اسے ایک بہت علیم بیٹے کی خوش خبری دی“ اور اللہ تعالیٰ بھی علیم ہے، تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا انکار کر دیں کہ اس سے مشابہت لازم آتی ہے، نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ علیم ہے اپنی شان کے مطابق۔ اس سے بھی بڑھ کر مثال لے لیں، انسان موجود ہے تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کر دیں گے کہ اس سے انسان کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ نہیں، ہر گز نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح آئی ہیں اسی طرح ماننا پڑیں گی۔ ہاں، وہ صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں۔ آیت میں یہ جملہ بھی توحید کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کرسی کی وسعت اس کے ایک معبود ہونے کی دلیل ہے۔
نویں دلیل: { ”وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا“ } { ”آدَ يَؤُوْدُ“ } کا معنی کسی چیز کا بھاری بوجھ بننا، مشقت میں ڈال دینا ہے۔ مخلوق کتنی بھی بڑی ہو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتی جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین و آسمان کی حفاظت کچھ بوجھ نہیں۔
دسویں اور گیارھویں دلیل:{ ”وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ“ } بلندی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، مخلوق اللہ تعالیٰ کی بلندی اور عظمت کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، اس لیے عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آخر میں اس آیت میں موجود ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ آیت باری تعالیٰ کے نام {”اَللّٰهُ“} سے شروع ہوئی ہے، یہ نام تمام صفات کا جامع ہے، مخلوق میں سے کسی پر یہ نام نہیں بولا جا سکتا ہے۔ تمام مذاہب میں مذکور خداؤں کی تثنیہ و جمع بن سکتی ہے، مثلاً دیویوں، دیوتاؤں اور Gods وغیرہ مگر لفظ ”اللہ “ واحد ہی رہے گا، اس کی نہ جمع بن سکتی ہے نہ تثنیہ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کی زبردست دلیل ہے، اگر اس نکتہ کو بھی شامل کر لیں تو آیت میں توحید کی بارہ دلیلیں موجود ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿لاَ اِلٰهَ الآَ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ﴾
آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔“ [مسلم، كتاب فضائل القرآن وما يتعلق به۔ باب فضل سورة كهف و آية الكرسي]
2۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر کیا۔ کوئی شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں تجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا؟ وہ کہنے لگا، میں محتاج ہوں، عیالدار اور سخت تکلیف میں ہوں۔ چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ابو ہریرہ! آج رات تمہارے قیدی نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا تھا۔ مجھے رحم آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے وہ پھر تمہارے پاس آئے گا۔ چنانچہ اگلی رات وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا آج تو ضرور میں تمہیں آپ کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ کہنے لگا مجھے چھوڑ دو میں محتاج ہوں اور عیالدار ہوں، آئندہ نہیں آؤں گا مجھے پھر رحم آ گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھ سے پوچھا: ”ابوہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سخت محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا تھا، مجھے رحم آ گیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا: دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ چنانچہ تیسری بار میں تاک میں رہا۔ وہ آیا اور غلہ سمیٹنے لگا: میں نے کہا: اب تو میں تمہیں ضرور آپ کے پاس لے جاؤں گا۔ اب یہ تیسری بار ہے تو ہر بار یہی کہتا رہا کہ پھر نہ آؤں گا مگر پھر آتا رہا۔
3۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۃ بقرہ ہے اور اس میں ایک آیت جو قرآن کی سب آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير۔ باب ماجاء فى سورة البقرة و آية الكرسي]
[362] یہاں ہم تین احادیث صحیحہ درج کرتے ہیں جس سے شفاعت کے کئی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہو گا کہ بڑے بڑے انبیاء بھی اللہ کے حضور سفارش کرنے کی جرات نہ کر سکیں گے اور بالآخر قرعہ فال نبی آخر الزمان پر پڑے گا، نیز یہ کہ سفارش کیسے لوگوں کے حق میں ہو گی، نیز یہ کہ ہمارے ہاں جو پیر و فقیر اپنے مریدوں سے بے دھڑک شفاعت کرنے کے وعدے کرتے ہیں یا جن لوگوں نے اپنی اخروی نجات کا انحصار ہی اپنے پیروں اور مشائخ کی شفاعت سمجھا ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے وغیرہ وغیرہ۔
1۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن ایماندار لوگ جمع ہو کر کہیں گے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار کے حضور کسی کی سفارش پہنچائیں۔ وہ آدمؑ کے پاس آ کر کہیں گے۔ آپ سب لوگوں کے باپ ہیں۔ آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا، فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام اشیاء کے نام سکھلائے۔ لہٰذا اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کریں کہ وہ اس مصیبت کی جگہ سے نکال کر آرام دے۔ وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں اور وہ اپنا قصور یاد کر کے (اللہ کے حضور جانے سے) شرمائیں گے اور کہیں گے: تم نوح کے پاس جاؤ۔ وہ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا، لوگ نوح کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں۔ وہ اپنا سوال یاد کر کے شرمائیں گے جو انہوں نے بغیر علم کے اپنے پروردگار سے کیا تھا۔ پھر کہیں گے تم اللہ کے خلیل (حضرت ابراہیمؑ) کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے۔ وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں۔ تم موسیٰؑ کے پاس جاؤ وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور انہیں تورات دی۔ چنانچہ لوگ موسیٰؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں۔ وہ اپنے خون ناحق کو یاد کر کے اپنے پروردگار کے ہاں جانے سے شرمائیں گے اور کہیں گے: تم عیسیٰ کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ اب لوگ ان کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے (مقرب) بندے ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے قصور معاف کر دیئے ہیں۔
﴿ عَلَّمَ اٰدَمَ الأَسْمَاءَ﴾
2۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور اس میں کوئی فخر نہیں اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس میں کوئی فخر نہیں اور آدم اور باقی سب انبیاء میرے جھنڈے تلے ہوں گے اور سب سے پہلے زمین میرے ہی لیے (بعث کے لیے) شق ہو گی اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ پھر آپ نے تین بار فرمایا کہ لوگ اس دن بہت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ وہ آدمؑ کے پاس آ کر کہیں گے: ”آپ ہمارے باپ ہیں لہٰذا ہمارے رب کے ہاں ہماری سفارش کیجئے“ وہ کہیں گے: ”مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوا جس کی وجہ سے زمین پر اتارا گیا۔ البتہ تم لوگ نوح کے پاس جاؤ“ لوگ نوحؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں نے ساری زمین والوں کے لیے بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گئے، البتہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ۔ لوگ ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: کہ آپ نے کوئی جھوٹ نہیں بولا مگر اس سے دین کی تائید مقصود تھی۔ پھر حضرت ابراہیمؑ کہیں گے کہ تم موسیٰ کے پاس جاؤ، لوگ موسیٰؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا۔ اب تم عیسیٰ کے پاس جاؤ۔ وہ کہیں گے۔ مجھے لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا ڈالا تھا۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ پھر سب لوگ میرے پاس آئیں گے۔ سو میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور جا کر جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ اندر سے کوئی پوچھے گا: ”یہ کون ہے؟“ کہا جائے گا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں“ تو وہ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے اور مجھے خوش آمدید کہیں گے اور تواضع کریں گے، میں سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اس وقت اللہ مجھے اپنی حمد و ثنا الہام کرے گا۔ پھر مجھے کہا جائے گا اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تو قبول کی جائے گی اور تمہاری بات سنی جائے گی اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا اللہ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے:
﴿ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا﴾
[ترمذی، ابواب التفسیر، سورۃ بنی اسرائیل]
3۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا! ”یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہو گا؟“ آپ نے فرمایا! ”ابوہریرہ! مجھے معلوم تھا کہ تجھ سے پہلے مجھ سے کوئی یہ بات نہ پوچھے گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں حدیث سننے کی کتنی حرص ہے تو سنو: میری شفاعت سب سے زیادہ اس شخص کے نصیب میں ہو گی جس نے سچے دل سے «لا اله الا الله» کہا ہو۔ [بخاري، كتاب العلم۔ باب الحرص على الحديث]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے لیکن یہ پچھلا قسمیہ جملہ اس میں نہیں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے ہاں ایک کھجور کی بوری تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس میں سے کھجوریں روز بروز گھٹ رہی ہیں، ایک رات میں جاگتا رہا اس کی نگہبانی کرتا رہا، میں نے دیکھا ایک جانور مثل جوان لڑکے کے آیا، میں نے اسے سلام کیا اس نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا میں جن ہوں، میں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دے، اس نے ہاتھ بڑھا دیا، میں نے اپنے ہاتھ میں لیا تو کتے جیسا ہاتھ تھا اور اس پر کتے جیسے ہی بال تھے، میں نے کہا کیا جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہے؟ اس نے کہا تمام جنات میں سب سے زیادہ قوت طاقت والا میں ہی ہوں، میں نے کہا بھلا تو میری چیز چرانے پر کیسے دلیر ہو گیا؟ اس نے کہا مجھے معلوم ہے کہ تو صدقہ کو پسند کرتا ہے، ہم نے کہا پھر ہم کیوں محروم رہیں؟ میں نے کہا تمہارے شر سے بچانے والی کون سی چیز ہے؟ اس نے کہا آیت الکرسی۔ صبح کو جب میں سرکارِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو میں نے رات کا سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیث نے یہ بات تو بالکل سچ کہ۔ [مستدرک حاکم562/1]، ایک بار مہاجرین کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی آیت کون سی بڑی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت الکرسی پڑھ کر سنائی۔ [طبرانی کبیر334/1]
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا اٹھو نماز ادا کر لو۔ میں نے نماز پڑھی پھر آ کر بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر شیطان انسانوں اور جنوں سے پناہ مانگ، میں نے کہا حضور کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ فرمایا ہاں، میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ فرمایا وہ سراسر خیر ہے جو چاہے کم حصہ لے جو چاہے زیادہ، میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم روزہ؟ فرمایا کفایت کرنے والا فرض ہے اور اللہ کے نزدیک زیادتی ہے، میں نے کہا صدقہ؟ فرمایا بہت زیادہ اور بڑھ چڑھ کر بدلہ دلوانے والا، میں نے کہا سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کا ہمت کرنا یا پوشیدگی سے محتاج کی احتیاج پوری کرنا، میں نے سوال کیا سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ فرمایا آدم علیہ السلام، میں نے کہا وہ نبی تھے؟ فرمایا نبی اور اللہ سے ہمکلام ہونے والے، میں نے پوچھا رسولوں کی تعداد کیا ہے؟ فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس، بہت بڑی جماعت۔ ایک روایت میں تین سو پندرہ کا لفظ ہے،میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سب سے زیادہ بزرگی والی آیت کون سی اتری؟ فرمایا آیت الکرسی «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرہ: 255]الخ، [مسند احمد 178/5:ضعیف]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سورۃ البقرہ میں ایک آیت ہے جو قرآن کریم کی تمام آیتوں کی سردار ہے جس گھر میں وہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ وہ آیت، آیت الکرسی ہے [مستدرک حاکم560/1] ترمذی میں ہے ہرچیز کی کوہان اور بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۃ البقرہ ہے اور اس میں بھی آیت الکرسی تمام آیتوں کی سردار ہے۔ [سنن ترمذي2878، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس سوال پر کہ سارے قرآن میں سب سے زیادہ بزرگ آیت کون سی ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے خوب معلوم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آیت آیت الکرسی ہے [میزان اعتدال 475/2ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ایک تو آیت الکرسی، دوسری آیت «الم» «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [3-آل عمران: 1-2][سنن ابوداود1496، قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہے۔ ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، جو شخص یہ کرے گا میں اسے شکر گزار دِل اور ذِکر کرنے والی زبان دوں گا۔ اور اسے نبیوں کا ثواب اور صدیقوں کا عمل دوں گا۔ جس عمل کی پابندی صرف انبیاء او صدیقین سے ہی ہوتی ہے یا اس بندے سے جس کا دِل میں نے ایمان کیلئے آزما لیا ہو یا اسے اپنی راہ میں شہید کرنا طے کر لیا ہو[ضعیف]، لیکن یہ حدیث بہت منکر ہے۔
اونگھ، غفلت، نیند اور بے خبری سے اس کی ذات مکمل پاک ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر صحابہ کرام کو چار باتیں بتائیں، فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ سوتا نہیں، نہ نیند اس کی ذات کے لائق ہے، وہ ترازو کا حافظ ہے جس کیلئے چاہے جھکا دے، جس کیلئے چاہے نہ جھکائے، دن کے اعمال رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف لے جائے جاتے ہیں، اس کے سامنے نور یا آگ کے پردے ہیں اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچے۔ [صحیح مسلم:179]۔
اور اس سے بھی بہت زیادہ غرابت والی وہ حدیث ہے جو ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو منبر پر بیان فرمایا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فرمان پیغمبر ہونا ثابت نہیں بلکہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال کیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کو بوتلیں پکڑوائی گئیں اور وہ بوجہ نیند کے نہ سنبھال سکے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی،
، اور جگہ ہے «وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ» [21- الأنبياء: 28] کسی کی وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اس کی جس سے اللہ خوش ہو، پس یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کا جلال اور اس کی کبریائی بیان ہو رہی ہے، کہ بغیر اس کی اجازت اور رضا مندی کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش میں زبان کھولے، حدیث شفاعت میں بھی ہے کہ میں اللہ کے عرش کے نیچے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ مجھے سجدے میں ہی چھوڑ دے گا جب تک چاہے، پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو، سنا جائے گا، شفاعت کرو، منظور کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا۔ [صحیح بخاری:7440]
وہ اللہ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ کا عالم ہے اس کا علم تمام مخلوق کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جیسے اور جگہ فرشتوں کا قول ہے کہ «وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَٰلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا» [19-مریم: 64]، ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر اتر نہیں سکتے ہمارے آگے پیچھے اور سامنے سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں اور تیرا رب بھول چوک سے پاک ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً یہی مروی ہے لیکن رفع ثابت نہیں، ابومالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کرسی عرش کے نیچے ہے، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں آسمان و زمین کرسی کے جوف میں اور کرسی عرش کے سامنے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان اگر پھیلا دئیے جائیں اور سب کو ملا کر بسیط کر دیا جائے تو بھی کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے جیسے ایک حلقہ کسی چٹیل میدان میں,[تفسیر ابن جریر الطبری:5895:ضعیف]
ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی میں ایسے ہی ہیں جیسے سات درہم ڈھال میں اور حدیث میں کرسی عرش کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک لوہے کا حلقہ چٹیل میدان میں، سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کرسی کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہی فرمایا اور فرمایا کہ پھر عرش کی فضیلت کرسی پر بھی ایسی ہی ہے، ایک عورت نے آن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے جنت میں لے جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی کرسی نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے مگر جس طرح نیا پالان چرچراتا ہے وہ کرسی عظمت پروردگار سے چرچرا رہی ہے، گو یہ حدیث بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے لیکن کسی سند میں کوئی راوی غیرمشہور ہے کسی میں ارسال ہے، کوئی موقوف ہے، کسی میں بہت کچھ غریب زیادتی ہے، کسی میں حذف ہے اور ان سب سے زیادہ غریب سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے جو ابوداؤد میں مروی ہے [سنن ابوداود:4726، قال الشيخ الألباني:ضعیف]۔ اور وہ روایات بھی ہیں جن میں قیامت کے روز کرسی کا فیصلوں کیلئے رکھا جانا مروی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں یہ ذِکر نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا کہ اللہ پر ان کی حفاظت بوجھل اور گراں نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے۔ وہ ساری مخلوق کے اعمال پر خبردار تمام چیزوں پر نگہبان کوئی چیز اس سے پوشیدہ اور انجان نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے، تمام مخلوق اس کے سامنے حقیر متواضع ذلیل پست محتاج اور فقیر، وہ غنی وہ حمید وہ جو کچھ چاہے کر گزرنے والا، کوئی اس پر حاکم نہیں بازپرس کرنے والا، ہرچیز پر وہ غالب، ہرچیز کا حافظ اور مالک، وہ علو، بلندی اور رفعت والا وہ عظمت بڑائی اور کبریائی والا، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی خبرگیری کرنے والا نہ پالنے پوسنے والا «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [13-الرعد: 9] وہ کبریائی والا اور فخر والا ہے، اسی لیے فرمایا «وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» بلندی اور عظمت والا وہی ہے۔ یہ آیتیں اور ان جیسی اور آیتیں اور صحیح حدیثیں جتنی کچھ ذات و صفات باری تعالیٰ میں وارد ہوئی ہیں ان سب پر ایمان لانا بغیر کیفیت معلوم کئے اور بغیر تشبیہ دئیے جن الفاظ میں وہ وارد ہوئی ہیں ضروری ہے اور یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أخبر - صلى الله عليه وسلم - أن هذه الآية أعظم آيات القرآن لما احتوت عليه من معاني التوحيد والعظمة وسعة الصفات للباري تعالى، فأخبر أنه {الله}؛ الذي له جميع معاني الألوهية، وأنه لا يستحق الألوهية والعبودية إلا هو، فألوهية غيره وعبادة غيره باطلة، وأنه {الحي} الذي له جميع معاني الحياة الكاملة من السمع والبصر والقدرة والإرادة وغيرها من الصفات الذاتية، كما أن {القيوم}؛ تدخل فيه جميع صفات الأفعال لأنه القيوم الذي قام بنفسه واستغنى عن جميع مخلوقاته وقام بجميع الموجودات فأوجدها وأبقاها وأمدها بجميع ما تحتاج إليه في وجودها وبقائها. ومن كمال حياته وقيوميته أنه {لا تأخذه سنة}؛ أي: نعاس {ولا نوم}؛ لأن السنة والنوم إنما يعرضان للمخلوق الذي يعتريه الضعف والعجز والانحلال، ولا يعرضان لذي العظمة والكبرياء والجلال، وأخبر أنه مالك جميع ما في السماوات والأرض، فكلهم عبيد لله مماليك لا يخرج أحد منهم عن هذا الطور {إن كل من في السموات والأرض إلا آتي الرحمن عبداً}؛ فهو المالك لجميع الممالك وهو الذي له صفات الملك والتصرف والسلطان والكبرياء، ومن تمام ملكه أنه لا {يشفع عنده}؛ أحد {إلا بإذنه}؛ فكل الوجهاء والشفعاء عبيد له مماليك لا يَقْدِمُون على شفاعة حتى يأذن لهم {قل لله الشفاعة جميعاً له ملك السموات والأرض}؛ والله لا يأذن لأحد أن يشفع إلا فيمن ارتضى ولا يرتضي إلا توحيده واتباع رسله، فمن لم يتصف بهذا فليس له في الشفاعة نصيب. ثم أخبر عن علمه الواسع المحيط وأنه يعلم ما بين أيدي الخلائق من الأمور المستقبلة التي لا نهاية لها {وما خلفهم}؛ من الأمور الماضية التي لا حد لها، وأنه لا تخفى عليه خافية {يعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور}؛ وأن الخلق لا يحيط أحد بشيء من علم الله ومعلوماته {إلا بما شاء} منها وهو ما أطلعهم عليه من الأمور الشرعية والقدرية، وهو جزء يسير جدًّا مضمحل في علوم الباري ومعلوماته كما قال أعلم الخلق به وهم الرسل والملائكة: {سبحانك لا علم لنا إلا ما علمتنا}؛ ثم أخبر عن عظمته وجلاله وأن كرسيه وسع السماوات والأرض، وأنه قد حفظهما ومن فيهما من العوالم بالأسباب والنظامات التي جعلها الله في المخلوقات، ومع ذلك فلا يؤوده أي يثقله حفظهما لكمال عظمته واقتداره وسعة حكمته في أحكامه {وهو العلي}؛ بذاته على جميع مخلوقاته، وهو العلي بعظمة صفاته، وهو العلي الذي قهر المخلوقات، ودانت له الموجودات، وخضعت له الصعاب، وذلت له الرقاب {العظيم}؛ الجامع لجميع صفات العظمة والكبرياء والمجد والبهاء، الذي تحبه القلوب، وتعظمه الأرواح، ويعرف العارفون أن عظمة كل شيء وإن جلت عن الصفة فإنها مضمحلة في جانب عظمة العلي العظيم. فآية احتوت على هذه المعاني التي هي أجل المعاني يحق أن تكون أعظم آيات القرآن، ويحق لمن قرأها متدبراً متفهماً أن يمتلئ قلبه من اليقين والعرفان والإيمان، وأن يكون محفوظاً بذلك من شرور الشيطان.