تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
یعنی زبردستی کسی کو مسلمان بنانا جائز نہیں، جو مسلمان ہونا چاہے سوچ سمجھ کر مسلمان ہو۔ زبردستی ہو گی تو دل میں ایمان نہیں آئے گا، اس کا کیا فائدہ؟ البتہ اسلام مسلمانوں کو کفر کا محکوم بننے کے بجائے جہاد کے ذریعے سے تمام کفار کو اسلام کا محکوم بنانے کاحکم دیتا ہے، جس میں کفار پر مسلمان ہونے کے لیے زبردستی نہیں کی جاتی، وہ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں مگر غلبۂ اسلام کی علامت کے طور پر ان سے معمولی رقم بطورجزیہ لی جاتی ہے۔ اگر زبردستی مسلمان بنانا جائز ہوتا تو آج ہندوستان میں غیر مسلموں کا نام و نشان بھی نہ ہوتا، جیسا کہ اندلس میں نصرانیوں نے مسلمانوں پر زبردستی کرکے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا ڈالا۔
➋ {بِالطَّاغُوْتِ:} یہ { ”طَغٰي يَطْغٰي طُغْيَانًا“ } سے مصدر برائے مبالغہ { ”فَعَلُوْتٌ“ } کے وزن پر ہے، جیسے جبروت اور ملکوت ہے۔ { ”فَعَلُوْتٌ“ } کے وزن پر { ”طَغَيُوْتٌ“ } تھا، پھر تخفیف کے لیے اس میں قلب کیا گیا، یاء کو پہلے اور غین کو بعد میں کر دیا گیا {”طَيَغُوْتٌ“ } ہو گیا، پھر یائے متحرکہ کا ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء کو الف سے بدل دیا گیا تو {”طَاغُوْتٌ“} بن گیا، جس کا وزن { ”فَلُعُوْتٌ“ } ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، جس کا معنی ہے کسی چیز کا اپنی حد سے آگے بڑھ جانا۔ طاغوت میں ”واؤ “ اور ”تاء “ مبالغہ کے لیے ہیں، یعنی جو اپنی حد سے بہت زیادہ آگے بڑھ جائے۔ تمام باطل معبود طاغوت ہیں، کیونکہ انھیں حد سے بڑھا کر اللہ تعالیٰ کے برابر کر دیا گیا ہے۔ شیطان کو بھی اسی لیے طاغوت کہتے ہیں۔ جو شخص لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی بندگی اور اطاعت کرواتا ہے وہ بھی طاغوت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[366] مضبوط حلقہ سے مراد پوری شریعت اور اس کا نظام ہے اور یہی حلقہ ہے جو انسان کو ہر طرح کی گمراہی سے بچا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے چمٹا رہے اور ادھر ادھر جانے والی پگڈنڈیوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ ایسا شخص یقیناً کامیاب ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام اسبق نصرانی تھا، آپ رضی اللہ عنہما اس پر اسلام پیش کرتے وہ انکار کرتا، آپ رضی اللہ عنہما کہہ دیتے کہ خیر تیری مرضی اسلام جبر سے روکتا ہے، علماء کی ایک بڑی جماعت کا یہ خیال ہے کہ یہ آیت ان اہل کتاب کے حق میں ہے جو فسخ و تبدیل توراۃ و انجیل کے پہلے دین مسیحی اختیار کر چکے تھے اور اب وہ جزیہ پر رضامند ہو جائیں
صحیح حدیث میں ہے، تیرے رب کو ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3010]، یعنی وہ کفار جو میدان جنگ میں قیدی ہو کر طوق و سلاسل پہنا کر یہاں لائے جاتے ہیں پھر وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور ان کا ظاہر باطن اچھا ہو جاتا ہے اور وہ جنت کے لائق بن جاتے ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «جبت» سے مراد جادو ہے اور «طاغوت» سے مراد شیطان ہے، دلیری اور ناموری دونوں اونٹ کے دونوں طرف کے برابر بوجھ ہیں جو لوگوں میں ہوتے ہیں۔ ایک دلیر آدمی تو انجان شخص کی حمایت میں بھی جان دینے پر تل جاتا ہے لیکن ایک بزدل اور ڈرپوک اپنی سگی ماں کی خاطر بھی قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ انسان کا حقیقی کرم اس کا دین ہے، انسان کا سچا نسب حسن و خلق ہے گو وہ فارسی ہو یا نبطی[تفسیر ابن جریر الطبری:417/5]، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا طاغوت کو شیطان کے معنی میں لینا بہت ہی اچھا ہے اس لیے کہ یہ ہر اس برائی کو شامل ہے جو اہل جاہلیت میں تھی، بت کی پوجا کرنا، ان کی طرف حاجتیں لے جانا ان سے سختی کے وقت طلب امداد کرنا وغیرہ۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں مسجد نبوی میں تھا جو ایک شخص آیا جس کا چہرہ اللہ سے خائف تھا نماز کی دو ہلکی رکعتیں اس نے ادا کیں، لوگ انہیں دیکھ کر کہنے لگے یہ جنتی ہیں، جب وہ باہر نکلے تو میں بھی ان کے پیچھے گیا، باتیں کرنے لگا جب وہ متوجہ ہوئے تو میں نے کہا جب آپ رضی اللہ عنہما تشریف لائے تھے تب لوگوں نے آپ کی نسبت یوں کہا تھا، کہا سبحان اللہ کسی کو وہ نہ کہنا چاہیئے جس کا علم اسے نہ ہو، ہاں البتہ اتنی بات تو ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گویا میں ایک لہلہاتے ہوئے سرسبز گلشن میں ہوں اس کے درمیان ایک لوہے کا ستون ہے جو زمین سے آسمان تک چلا گیا ہے اس کی چوٹی پر ایک کڑا ہے مجھ سے کہا گیا اس پر چڑھ جاؤ، میں نے کہا میں تو نہیں چڑھ سکتا، چنانچہ ایک شخص نے مجھے تھاما اور میں باآسانی چڑھ گیا اور اس کڑے کو تھام لیا، اس نے کہا دیکھو مضبوط پکڑے رکھنا، بس اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی کہ وہ کڑا میرے ہاتھ میں تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گلشن باغ اسلام ہے اور ستون دین ہے اور کڑا عروہ وثقی ہے تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا، یہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما ہیں، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3813]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا بيان لكمال هذا الدين الإسلامي، وأنه لكمال براهينه، واتضاح آياته وكونه هو دين العقل والعلم ودين الفطرة والحكمة ودين الصلاح والإصلاح ودين الحق والرشد، فلكماله وقبول الفطر له لا يحتاج إلى الإكراه عليه، لأن الإكراه إنما يقع على ما تنفر عنه القلوب، ويتنافى مع الحقيقة والحق أو لما تخفى براهينه وآياته، وإلا فمن جاءه هذا الدين ورده ولم يقبله فإنه لعناده، فإنه {قد تبين الرشد من الغي} فلم يبق لأحد عذر ولا حجة إذا رده ولم يقبله.
ولا منافاة بين هذا المعنى وبين الآيات الكثيرة الموجبة للجهاد، فإن الله أمر بالقتال ليكون الدين كله لله، ولدفع اعتداء المعتدين على الدين، وأجمع المسلمون على أن الجهاد ماضٍ مع البر والفاجر، وأنه من الفروض المستمرة الجهاد القولي والجهاد الفعلي، ومن ظن من المفسرين أن هذه الآية تنافي آيات الجهاد فجزم بأنها منسوخة فقوله ضعيف لفظاً ومعنى كما هو واضح بين لمن تدبر الآية الكريمة كما نبهنا عليه.
ثم ذكر الله انقسام الناس إلى قسمين: قسم آمن بالله وحده لا شريك له وكفر بالطاغوت ـ وهو كل ما ينافي الإيمان بالله من الشرك وغيره ـ فهذا قد {استمسك بالعروة الوثقى} التي لا انفصام لها، بل هو مستقيم على الدين الصحيح حتى يصل به إلى الله وإلى دار كرامته. ويؤخذ القسم الثاني من مفهوم الآية أن من لم يؤمن بالله بل كفر به وآمن بالطاغوت فإنه هالك هلاكاً أبدياً ومعذب عذاباً سرمدياً. وقوله {والله سميع}؛ أي: لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنن الحاجات، وسميع لدعاء الداعين وخضوع المتضرعين. {عليم}؛ بما أكنته الصدور، وما خفي من خفايا الأمور، فيجازي كل أحد بحسب ما يعلمه من نياته وعمله.