تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مقصد یہ کہ انسان دنیاوی اسباب و وسائل کو چھوڑ کر اکیلا ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گا۔ لہٰذا آخرت میں نجات کے لیے صدقہ و خیرات اور اس جیسے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ قیامت کے دن دنیاوی دوستی، رشتہ داری کا تعلق اور سفارش وغیرہ کوئی چیز کام نہیں آئے گی۔ (ابن کثیر)
➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا منکر کافر ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوٰۃ سے قتال کیا، جیسا کہ کفار سے کیا جاتا ہے۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[360] اس جملہ کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صدقات (بالخصوص زکوٰۃ) نہ دینے والے کافر ہیں اور وہی ظالم ہیں جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے بھی اللہ کی راہ میں نہیں دیتے اور ایک وہ جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جو لوگ قیامت کے دن اللہ کے قانون جزا و سزا اور اس کے ضابطہ پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر بھی ہیں اور ظالم بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يحث الله المؤمنين على النفقات في جميع طرق الخير، لأن حذف المعمول يفيد التعميم، ويذكرهم نعمته عليهم بأنه هو الذي رزقهم ونوَّع عليهم النعم، وأنه لم يأمرهم بإخراج جميع ما في أيديهم بل أتى بِمِنْ الدالة على التبعيض، فهذا مما يدعوهم إلى الإنفاق، ومما يدعوهم أيضاً إخبارهم أن هذه النفقات مدخرة عند الله في يوم لا تفيد فيه المعاوضات بالبيع ونحوه ولا التبرعات ولا الشفاعات فكل أحد يقول ما قدمت لحياتي، فتنقطع الأسباب كلها إلا الأسباب المتعلقة بطاعة الله والإيمان به يوم لا ينفع مال ولا بنون إلا من أتى الله بقلب سليم. {وما أموالكم ولا أولادكم بالتي تقربكم عندنا زلفى إلا من آمن وعمل صالحاً فأولئك لهم جزاء الضعف بما عملوا وهم في الغرفات آمنون}، {وما تقدموا لأنفسكم من خير تجدوه عند الله هو خيراً وأعظم أجراً}. ثم قال تعالى: {والكافرون هم الظالمون}؛ وذلك لأن الله خلقهم لعبادته، ورزقهم، وعافاهم، ليستعينوا بذلك على طاعته، فخرجوا عما خلقهم الله له، وأشركوا بالله ما لم ينزل به سلطاناً، واستعانوا بنعمه على الكفر والفسوق والعصيان، فلم يبقوا للعدل موضعاً، فلهذا حصر الظلم المطلق فيهم.