ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 253

تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلُوۡا ۟ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۲۵۳﴾٪
یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور ان کے بعض کو اس نے درجوں میں بلند کیا اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح نشانیاں دیں اور اسے پاک روح کے ساتھ قوت بخشی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو جو لوگ ان کے بعد تھے آپس میں نہ لڑتے، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکیں اور لیکن انھوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے کوئی تو وہ تھا جو ایمان لایا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جس نے کفر کیا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے اور لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ En
یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
En
یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 253) ➊ { تِلْكَ الرُّسُلُ …:} اس سے وہ رسول مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور فضیلت میں ایک دوسرے سے زیادہ ہیں، چنانچہ فرمایا: «وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۵۵] اور بلاشبہ یقینًا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی۔
➋ {مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ:} جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے: «‏‏‏‏وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۶۴] اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔
➌ {وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ:} یہ بات اسی آیت میں پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی، اب پھر فرمایا: ان میں سے بعض کو درجات میں بلند کیا اس سے ایک خاص شخصیت کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے، جسے سب جانتے ہیں، اس لیے نام لینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، جیسا کہ یہ آیت ہے: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۱] اس میں بھی اس بندے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فضیلت دو طرح کی ہے، ایک مجموعی اور کلی فضیلت اور دوسری جزوی فضیلت، یعنی کسی ایک چیز میں دوسروں سے بڑھ کر ہونا، مثلاً یوسف علیہ السلام کہ وہ خود، ان کے والد، دادا اور پردادا نبی تھے، یہ فضیلت کسی اور رسول کو حاصل نہیں، چنانچہ اس لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں{ أَكْرَمُ النَّاسِ } یعنی سب لوگوں سے زیادہ معزز فرمایا۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏واتخذ اللہ …» ‏‏‏‏: ۳۳۵۳] آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ(۶۰) ہاتھ قد عطا کیا اور انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، یہ آدم علیہ السلام کی جزوی فضیلت ہے، کلی اور مجموعی طور پر ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں، یہی صحیح عقیدہ ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ] میں آدم علیہ السلام کی اولاد کا قیامت کے دن سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ [ترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة بني إسرائيل: ۳۱۴۸، و صححه الألباني]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کے لیے قرآن مجید ہی کافی ہے۔ دوسرے تمام انبیاء کے معجزات ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے جبکہ قرآن قیامت تک باقی ہے۔ مفسرین بالخصوص رازی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جواب دیے ہیں، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بظاہر اس کے خلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسیٰ(علیہ السلام) سے بہتر نہ کہو۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسٰی…: ۳۴۰۸] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُفَضِّلُوْا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللّٰهِ] اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی …: ۳۴۱۴] علماء نے اس کی متعدد توجیہیں کی ہیں، جن میں سے واضح ترین توجیہیں دو ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان کا پہلو نکلتا ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ مسلمان اور یہودی کے جھگڑے کے موقع پر فرمائے تھے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ کسی نبی کو ایک ایک چیز میں دوسرے انبیاء سے افضل نہ بتاؤ، کیونکہ جزوی فضیلت کسی بھی نبی کی ہو سکتی ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن حدیث میں فضیلت دینے سے جو منع فرمایا ہے اس سے مراد مقابلہ کی صورت میں ہے، یا جزوی فضیلت مراد ہے، لہٰذا کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
➍ { وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ …:} یہاں {الْبَيِّنٰتِ} سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں، دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۹) اور روح القدس سے جبریل علیہ السلام مراد ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۷)۔
➎ یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ سب دلائل دیکھنے کے بعد ضد و عناد کی وجہ سے اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر آپس کی لڑائی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ یہاں ایسا کیوں ہوا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا جواب ہماری فہم سے بالا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، پھر اسے بھی اپنے اختیار کے تحت رکھا ہے، اس کی حکمت وہی جانتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ہے جو ہم سے مخفی رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے معلوم کرنے کی کوشش کا کچھ فائدہ نہیں، بلکہ مان لینا چاہیے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۳)۔
اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے ہی سے چلا آ رہا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کی ساری امت ایمان لے آئی ہو، لہٰذا آپ ان کے انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

253۔ 1 قرآن نے ایک دوسرے مقام پر بھی اسے بیان کیا ہے (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ) 17:55 " ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے اس لئے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (لا تخیرونی من بین الأنبیآء (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورة الاعراف، باب 135۔ مسلم کتاب الفضائل موسی) تم مجھے انبیاء کے درمیان فضیلت مت دو تو اس سے ایک کی دوسرے پر فضیلت کا انکار لازم نہیں آتا بلکہ یہ امت کو انبیاء ؑ کی بابت ادب اور احترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے پوار علم نہیں ہے اس لیے تم میری فضیلت بھی اس طرح بیان نہ کرنا اس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان ہو۔ ورنہ بعض نبیوں پر فضیلت اور اور تمام پیغمبروں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و اشرفیت مسلمہ اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (فتح القدیر) 253۔ 2 مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کو دئیے گئے تھے مثلاً احیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا) وغیرہ جس کی تفصیل سورة آل عمران میں آئے گی۔ روح القدوس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ 253۔ 3 اس مضموں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا۔ مطلب اس کا یہ نہیں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ دین میں اختلاف پسندیدہ ہے یا اللہ کو ناپسند ہے اس کی پسند (رضا) تو یہ ہے کہ تمام انسان اس کی نازل کردہ شریعت کو اپنا کر جہنم سے بچ جائیں اس لئے اس نے کتابیں اتاریں انبیاء ؑ کا سلسلہ قائم کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ تاہم اس کے بعد بھی خلفاء اور علماء دعوت کے ذریعے سے دعوت حق اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس کی سخت اہمیت و تاکید بیان فرمائی گئی کس لیے اسی لیے تاکہ لوگ اللہ کے پسندیدہ راستے کو اختیار کریں لیکن چونکہ اس نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی نشان دہی کر کے انسانوں کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ بطور امتحان اسے اختیار اور ارادہ کی آزادی سے نوازا ہے اس لیے کوئی اس اختیار کا صحیح استعمال کر کے مومن بن جاتا ہے اور کوئی اس اختیار و آزادی کا غلط استعمال کر کے کافر یہ گویا اس کی حکمت ومشیت ہے جو اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

253۔ یہ رسول (جو بھیجے گئے) ہم نے انہیں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر فضیلت دی۔ [356] ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور کچھ وہ ہیں جن کے درجات بلند کئے اور عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور اس کی روح القدس سے مدد کی۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان رسولوں کے بعد لوگ آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کرتے جبکہ ان کے پاس واضح احکام بھی آچکے تھے۔ لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا پھر کوئی تو ان احکام پر ایمان لایا [357] اور کسی نے انکار کر دیا۔ اور اگر اللہ چاہتا [358] تو وہ آپس میں لڑائی جھگڑے نہ کرتے۔ لیکن اللہ تو وہی کچھ کرتا ہے، جو وہ چاہتا ہے
[356] انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت:۔
انبیاء و رسل کی سب سے بڑی فضیلت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ اس لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کسی پیغمبر پر فضیلت نہ دو۔ نیز فرمایا کہ کسی پیغمبر کو کسی دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ حتیٰ کہ یونس بن متی پر بھی [بخاري، كتاب التفسير] رہی جزوی فضیلتیں تو اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو کسی ایک فضیلت سے نوازا اور دوسرے کو کسی دوسری فضیلت سے جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کے فضائل خود ہی ذکر فرما دیئے اور یہاں فضائل سے مراد در اصل خصائص یا مخصوص معجزات ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے۔ مثلاً موسیٰؑ سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اور اس زمین پر براہ راست کلام کیا جو اور کسی نبی سے نہیں کیا۔ اسی طرح عیسیٰؑ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی کے پرندے بنا کر ان میں روح پھونک کر اڑا دیتے تھے۔
[357] اختلاف اور باہمی لڑائی جھگڑے کی اصل بنیاد انسان میں قوت ارادہ و اختیار ہے۔ اگر انسان اس قوت و اختیار کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے تو یہ ایمان ہے اور یہی اسلام ہے اور اگر اس کا آزادانہ استعمال کرنا شروع کر دے اور اللہ کے احکام کی پروا نہ کرے تو یہی کفر ہے۔
[358] مشیت الٰہی اور لوگوں کے لڑائی جھگڑے:۔
یعنی اللہ کی مشیت یہ ہے کہ انسان کو قوت ارادہ دی جائے، پھر دیکھا جائے کہ کون اس کو درست استعمال کرتا ہے اور کون غلط؟ اور جو لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں وہی آپس میں اختلاف کرتے اور لڑائی جھگڑے کرتے رہتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو انسان کو یہ قوت ہی نہ دیتا، پھر نہ کوئی اختلاف ہوتا اور نہ لڑائی جھگڑا۔ بس سب کے سب مومن ہوتے۔ لیکن ایسا ایمان اضطراری ہوتا اختیاری نہ رہتا۔ جب کہ مشیت الٰہی یہ ہے کہ لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں یا کفر کریں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ذِکر مدارج الانبیاء ٭٭
یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا» [17-الإسراء: 55]‏‏‏‏ ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد علیہ السلام کو ہم نے زبور دی، یہاں بھی اسی کا ذِکر کر کے فرماتا ہے «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ» ان میں سے بعض کو شرف ہمکلامی بھی نصیب، ہوا جیسا موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آدم علیہ السلام، صحیح ابن حبان میں حدیث ہے۔ [صحیح ابن حبان361]‏‏‏‏ جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کس نبی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ کس آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے۔
ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لیے گئے، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ [صحیح بخاری:3413]‏‏‏‏،
ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو [صحیح بخاری:3413]‏‏‏‏، پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے، لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں، ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر، تیسرا جواب یہ ہے کہ ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک کو ایک پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا، چوتھا جواب یہ ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی صرف اپنی رائے، اپنے خیال اور اپنے ذہنی تعصب سے اپنے نبی علیہ السلام کو دوسرے نبی علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، پانچواں جواب یہ ہے کہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تمہارے بس کا نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو، تمہارا کام تسلیم کرنا اور ایمان لانا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو واضح دلیلیں اور پھر ایسی حجتیں عطا فرمائی تھیں جن سے بنی اسرائیل پر صاف واضح ہو گیا کہ آپ علیہ السلام کی رسالت بالکل سچی ہے اور ساتھ ہی آپ علیہ السلام کی یہ حیثیت بھی واضح ہو گئی کہ مثل اور بندوں کے آپ علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور بے کس غلام ہیں، اور روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام سے ہم نے ان کی تائید کی۔ پھر فرمایا کہ بعد والوں کے اختلاف بھی ہمارے قضاء و قدر کا نمونہ ہیں، ہماری شان یہ ہے کہ جو چاہیں کریں، ہمارے کسی ارادے سے مراد جدا نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ پہلے تو انھیں تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی طرف وحی نازل کرکے انھیں دوسروں کی طرف مبعوث فرمایا، اور انھوں نے مخلوق کو اللہ کی طرف بلایا۔ پھر انھیں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ ان میں خاص خوبیاں رکھ دیں، ان سے بہت زیادہ انسانوں کو فائدہ پہنچا۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلام ہونے کا خاص شرف عطا فرمایا۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء سے افضل بنایا اور آپ میں وہ تمام فضائل جمع فرمادیے جو دوسرے رسولوں کو الگ الگ ملے تھے۔ اور آپ کو ایسے مناقب بخشے جن کی وجہ سے آپ اولین اور آخرین سے اشرف قرار پائے۔ ﴿ وَاٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور مریم کی طرف نازل ہونے والا اللہ کا کلمہ، اور اس کی طرف سے آنے والی ایک روح ہیں۔ ﴿وَاَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ او رروح القدس سے ہم نے ان کی تائید کی۔ اس سے مراد ایمان اور یقین ہے جس کے ذریعے سے ان کو وہ فریضہ انجام دینے کی طاقت حاصل ہوئی، جو آ پ پر عائد کیا گیا تھا۔ایک قول کے مطابق روح القدس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ ﴿ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْ٘تَـتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے۔ بلکہ ان دلائل کی وجہ سے سب مومن اور متحد ہوجاتے۔ ﴿ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر۔ پس اس اختلاف کے نتیجے میں افتراق، دشمنی اور لڑائی ہوئی۔ اس کے باوجود اگر اللہ چاہتا تو اختلاف کے باوجود لڑائی تک نوبت نہ پہنچتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مرضی اسباب پر غالب ہے۔ اسباب کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب مشیت اس کے برعکس نہ ہو۔ جب مشیت آجائے تو ہر سبب کالعدم ہوجاتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کا ارادہ غالب ہے، اس کی مرضی پوری ہوکر رہتی ہے۔ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں سے بعض کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ مثلاً استوا، نزول، کلام اور وہ افعال جنھیں افعال اختیاریہ کہا جاتا ہے۔
فائدہ: جس طرح اللہ کی پہچان حاصل کرنا فرض ہے۔ اسی طرح رسولوں کے بارے میں علم حاصل کرلینا بھی ضروری ہے، ان کی لازمی صفات کیا ہیں، کیا کچھ ان کے لیے محال ہے اور کیا کچھ ممکن ہے۔ ان امور کا علم قرآن مجید کی متعدد آیات سے ہوتا ہے۔ مثلاً رسول مرد ہیں عورتیں نہیں، وہ بستیوں میں رہنے والوں میں سے مبعوث ہوئے ہیں، خانہ بدوشوں میں سے نہیں۔ وہ اللہ کے منتخب اور پسندیدہ بندے ہوتے ہیں، ان میںایسی خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو انھیں اس انتخاب کا اہل بنا دیتی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی خرابی نہیں ہوتی جو منصب رسالت کے منافی ہو۔ مثلاً جھوٹ، خیانت، حق کو چھپانا، اور قابل نفرت جسمانی عیوب۔ ان سے اگر کوئی ایسی فروگزاشت ہوجائے جو منصب رسالت سے متعلق ہو، تو فوراً اصلاح کردی جاتی ہے۔ اللہ نے انھیں وحی کے لیے مخصوص فرمایا ہے اس لیے ان پر ایمان لانا، اور ان کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ جو شخص کسی نبی پر تنقید کرے یا اس کی شان میں گستاخی کرے، وہ کافر ہوجاتا ہے، اور اسے قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ان تمام مسائل کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔ جو شخص قرآن مجید میں غور و فکر کرے گا اس پر حق واضح ہوجائے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر الباري أنه فاوت بين الرسل في الفضائل الجليلة والتخصيصات الجميلة، بحسب ما منَّ الله به عليهم وقاموا به من الإيمان الكامل واليقين الراسخ والأخلاق العالية والآداب السامية والدعوة والتعليم والنفع العميم، فمنهم من اتخذه خليلاً، ومنهم من كلمه تكليماً، ومنهم من رفعه فوق الخلائق درجات، وجميعهم لا سبيل لأحد من البشر إلى الوصول إلى فضلهم الشامخ. وخص عيسى بن مريم أنه آتاه البينات الدالة على أنه رسول الله حقًّا وعبده صدقاً وأن ما جاء به من عند الله كله حق، فجعله يبرئ الأكمه والأبرص ويحيي الموتى بإذن الله وكلم الناس في المهد صبياً وأيده بروح القدس أي بروح الإيمان، فجعل روحانيتَهُ فائقةً روحانيةَ غيرِهِ، فحصل له بذلك القوة والتأييد، وإن كان أصل التأييد بهذه الروح عامًّا لكل مؤمن بحسب إيمانه كما قال: {وأيدهم بروح منه}؛ لكن ما لعيسى أعظم مما لغيره لهذا خصه الله بالذكر، وقيل: إن روح القدس هنا جبريل أيده الله بإعانته ومؤازرته لكن المعنى هو الأول. ولما أخبر عن كمال الرسل وما أعطاهم من الفضل والخصائص وأن دينهم واحد ودعوتهم إلى الخير واحدة، وكان موجب ذلك ومقتضاه أن تجتمع الأمم على تصديقهم والانقياد لهم لما آتاهم من البينات التي على مثلها يؤمن البشر، لكن أكثرهم انحرفوا عن الصراط المستقيم، ووقع الاختلاف بين الأمم فمنهم من آمن ومنهم من كفر ووقع لأجل ذلك الاقتتال، الذي هو موجب الاختلاف والتعادي، ولو شاء الله لجمعهم على الهدى فما اختلفوا، ولو شاء الله أيضاً بعدما وقع الاختلاف الموجب للاقتتال ما اقتتلوا، ولكن حكمته اقتضت جريان الأمور على هذا النظام بحسب الأسباب.

ففي هذه الآية أكبر شاهد على أنه تعالى يتصرف في جميع الأسباب المقتضية لمسبباتها، وأنه إن شاء أبقاها وإن شاء منعها، وكل ذلك تبع لحكمته وحده فإنه فعال لما يريد، فليس لإرادته ومشيئته ممانع ولا معارض ولا معاون.