تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ:} جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» [النساء: ۱۶۴] ” اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“
➌ {وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ:} یہ بات اسی آیت میں پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی، اب پھر فرمایا: ”ان میں سے بعض کو درجات میں بلند کیا“ اس سے ایک خاص شخصیت کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے، جسے سب جانتے ہیں، اس لیے نام لینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، جیسا کہ یہ آیت ہے: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۱] اس میں بھی اس بندے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فضیلت دو طرح کی ہے، ایک مجموعی اور کلی فضیلت اور دوسری جزوی فضیلت، یعنی کسی ایک چیز میں دوسروں سے بڑھ کر ہونا، مثلاً یوسف علیہ السلام کہ وہ خود، ان کے والد، دادا اور پردادا نبی تھے، یہ فضیلت کسی اور رسول کو حاصل نہیں، چنانچہ اس لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں{ ”أَكْرَمُ النَّاسِ“ } یعنی سب لوگوں سے زیادہ معزز فرمایا۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «واتخذ اللہ …» : ۳۳۵۳] آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ(۶۰) ہاتھ قد عطا کیا اور انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، یہ آدم علیہ السلام کی جزوی فضیلت ہے، کلی اور مجموعی طور پر ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں، یہی صحیح عقیدہ ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ] ”میں آدم علیہ السلام کی اولاد کا قیامت کے دن سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ [ترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة بني إسرائيل: ۳۱۴۸، و صححه الألباني]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کے لیے قرآن مجید ہی کافی ہے۔ دوسرے تمام انبیاء کے معجزات ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے جبکہ قرآن قیامت تک باقی ہے۔ مفسرین بالخصوص رازی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جواب دیے ہیں، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بظاہر اس کے خلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ(علیہ السلام) سے بہتر نہ کہو۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسٰی…: ۳۴۰۸] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُفَضِّلُوْا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللّٰهِ] ”اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی …: ۳۴۱۴] علماء نے اس کی متعدد توجیہیں کی ہیں، جن میں سے واضح ترین توجیہیں دو ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان کا پہلو نکلتا ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ مسلمان اور یہودی کے جھگڑے کے موقع پر فرمائے تھے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ کسی نبی کو ایک ایک چیز میں دوسرے انبیاء سے افضل نہ بتاؤ، کیونکہ جزوی فضیلت کسی بھی نبی کی ہو سکتی ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن حدیث میں فضیلت دینے سے جو منع فرمایا ہے اس سے مراد مقابلہ کی صورت میں ہے، یا جزوی فضیلت مراد ہے، لہٰذا کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں۔“ (ابن کثیر، فتح القدیر)
➍ { وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ …:} یہاں {”الْبَيِّنٰتِ“} سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں، دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۹) اور روح القدس سے جبریل علیہ السلام مراد ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۷)۔
➎ یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ سب دلائل دیکھنے کے بعد ضد و عناد کی وجہ سے اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر آپس کی لڑائی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ یہاں ”ایسا کیوں ہوا“ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا جواب ہماری فہم سے بالا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، پھر اسے بھی اپنے اختیار کے تحت رکھا ہے، اس کی حکمت وہی جانتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ہے جو ہم سے مخفی رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے معلوم کرنے کی کوشش کا کچھ فائدہ نہیں، بلکہ مان لینا چاہیے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۳)۔
اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے ہی سے چلا آ رہا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کی ساری امت ایمان لے آئی ہو، لہٰذا آپ ان کے انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[357] اختلاف اور باہمی لڑائی جھگڑے کی اصل بنیاد انسان میں قوت ارادہ و اختیار ہے۔ اگر انسان اس قوت و اختیار کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے تو یہ ایمان ہے اور یہی اسلام ہے اور اگر اس کا آزادانہ استعمال کرنا شروع کر دے اور اللہ کے احکام کی پروا نہ کرے تو یہی کفر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لیے گئے، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ [صحیح بخاری:3413]،
ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو [صحیح بخاری:3413]، پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے، لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں، ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر الباري أنه فاوت بين الرسل في الفضائل الجليلة والتخصيصات الجميلة، بحسب ما منَّ الله به عليهم وقاموا به من الإيمان الكامل واليقين الراسخ والأخلاق العالية والآداب السامية والدعوة والتعليم والنفع العميم، فمنهم من اتخذه خليلاً، ومنهم من كلمه تكليماً، ومنهم من رفعه فوق الخلائق درجات، وجميعهم لا سبيل لأحد من البشر إلى الوصول إلى فضلهم الشامخ. وخص عيسى بن مريم أنه آتاه البينات الدالة على أنه رسول الله حقًّا وعبده صدقاً وأن ما جاء به من عند الله كله حق، فجعله يبرئ الأكمه والأبرص ويحيي الموتى بإذن الله وكلم الناس في المهد صبياً وأيده بروح القدس أي بروح الإيمان، فجعل روحانيتَهُ فائقةً روحانيةَ غيرِهِ، فحصل له بذلك القوة والتأييد، وإن كان أصل التأييد بهذه الروح عامًّا لكل مؤمن بحسب إيمانه كما قال: {وأيدهم بروح منه}؛ لكن ما لعيسى أعظم مما لغيره لهذا خصه الله بالذكر، وقيل: إن روح القدس هنا جبريل أيده الله بإعانته ومؤازرته لكن المعنى هو الأول. ولما أخبر عن كمال الرسل وما أعطاهم من الفضل والخصائص وأن دينهم واحد ودعوتهم إلى الخير واحدة، وكان موجب ذلك ومقتضاه أن تجتمع الأمم على تصديقهم والانقياد لهم لما آتاهم من البينات التي على مثلها يؤمن البشر، لكن أكثرهم انحرفوا عن الصراط المستقيم، ووقع الاختلاف بين الأمم فمنهم من آمن ومنهم من كفر ووقع لأجل ذلك الاقتتال، الذي هو موجب الاختلاف والتعادي، ولو شاء الله لجمعهم على الهدى فما اختلفوا، ولو شاء الله أيضاً بعدما وقع الاختلاف الموجب للاقتتال ما اقتتلوا، ولكن حكمته اقتضت جريان الأمور على هذا النظام بحسب الأسباب.
ففي هذه الآية أكبر شاهد على أنه تعالى يتصرف في جميع الأسباب المقتضية لمسبباتها، وأنه إن شاء أبقاها وإن شاء منعها، وكل ذلك تبع لحكمته وحده فإنه فعال لما يريد، فليس لإرادته ومشيئته ممانع ولا معارض ولا معاون.