تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس عدت میں ایک حکمت یہ ہے کہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں، اگر حمل ہو تو اس کی عدت حمل سے فارغ ہونا ہے، خواہ تھوڑی دیر میں فارغ ہو جائے، خواہ آٹھ نو ماہ بعد، کیونکہ حکم ہے: «وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [الطلاق: ۴]”اور جو حمل والیاں ہیں ان کی عدت (طلاق سے ہو یا خاوند فوت ہونے سے) یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔“ اس عدت کے دوران عورت کے لیے نکاح کرنا ہی حرام نہیں، بلکہ سوگ منانا بھی ضروری ہے، یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً شوخ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی ہی ایک عورت کو آنکھ میں تکلیف کے باوجود سرمہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ [بخاری الطلاق، باب الکحل للحادّۃ: ۵۳۳۸] عدت کے دوران اسے خاوند والے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی المتوفٰی عنہا تنتقل: ۲۳۰۰۔ ترمذی: ۱۲۰۴، و صححہ الألبانی]
➋ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ:} یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب و زینت اختیار کریں یا اولیاء کی اجازت سے دوسرا نکاح کریں، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ ہندوؤں کے اثرات سے بیوہ کے لیے دوسرے نکاح کو جو برا سمجھا جاتا ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یہ شریعت اسلام کے سراسر خلاف ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند مر گیا ہے اور اب اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“، پھر اس عورت نے دوسری بار یہی سوال کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی میں ہی جواب دیا۔ پھر فرمایا کہ ”اسلام میں تو عدت اور سوگ کا زمانہ صرف چار ماہ دس دن ہے جبکہ جاہلیت میں تو یہ عدت پورا ایک سال تھی، اور سال گزرنے کے بعد عورت اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔“ حمید (راوی) نے زینبؓ سے پوچھا کہ یہ ”اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا قصہ ہے؟“ زینبؓ نے کہا، جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں جا بیٹھتی۔ برے سے برا لباس پہنتی، نہ خوشبو لگاتی اور نہ کوئی دوسری آرائش و زیبائش کرتی۔ حتیٰ کہ پورا سال اسی طرح گزار دیتی۔ سال گزرنے پر اس کے پاس کوئی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لاتے جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی تھی اور کبھی وہ جانور مر بھی جاتا۔ اس کے بعد اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی، جسے وہ اپنے سامنے پھینک دیتی (یہ گویا اس کی عدت پوری ہونے کی علامت ہوتی تھی) اس کے بعد ہی وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتی تھی۔ [بخاري، كتاب الطلاق باب تحد المتوفي عنها زوجها اربعه أشهر و عشرا] رہی یہ بات کہ عورت یہ عدت یا سوگ کا عرصہ کہاں گزارے تو اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مکان میں ہی گزارے اور اسے اتنے سفر کی اجازت ہے کہ رات کو اپنے مقام پر واپس آ جائے اور کچھ علماء کا یہ قول بھی ہے کہ بیوہ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس پر سفر کی بھی پابندی نہیں۔
[327] یعنی ان کا نکاح کی بات چیت کرنا، زینت و آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مقام عدت سے کسی اور جگہ چلے جانا، نکاح کر لینا، جو کچھ وہ اپنے حق میں بہتر اور مناسب سمجھیں سب کچھ جائز ہے اور اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض روایات میں ہے کہ اشجع کے بہت سے لوگوں نے یہ روایت بیان کی، ہاں جو عورت اپنے خاوند کی وفات کے وقت حمل سے ہو اس کیلئے یہ عدت نہیں، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ گو، انتقال کی ایک ساعت کے بعد ہی ہو جائے۔ قرآن میں ہے آیت «وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [65۔ الطلاق: 1] حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ ہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں جو دیر کی عدت ہو وہ حاملہ کی عدت ہے، یہ قول تو بہت اچھا ہے اور دونوں آیتوں میں اس سے تطبیق بھی عمدہ طور پر ہو جاتی ہے لیکن اس کیخلاف بخاری و مسلم کی ایک صاف اور صریح حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ سبیعہ اسلیمہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا، اس وقت آپ حمل سے تھیں اور چند راتیں گزار پائی تھیں تو بچہ تولد ہوا، جب نہا دھو چکیں تو لباس وغیرہ اچھا پہن لیا، ابوالسنابل بن بعلبک رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو؟ اللہ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کر سکتیں۔ سیبعہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور شام کو خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ ہو گیا اسی وقت تم عدت سے نکل گئیں، اب اگر تم چاہو تو بیشک نکاح کر سکتی ہو۔ [صحیح بخاری:3991]
یہ بھی مروی ہے کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اس حدیث کا علم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے قول سے رجوع کر لیا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھی شاگرد بھی اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت بھی اتنی نہیں، اس کی عدت اس سے آدھی ہے یعنی دو مہینے اور پانچ راتیں، جمہور کا مذہب یہی ہے جس طرح لونڈی کی حد بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی ہے اسی طرح عدت بھی۔ محمد بن سیرین اور بعض علماء ظاہر یہ لونڈی کی اور آزاد عورت کی عدت میں برابری کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل ایک تو اس آیت کا عموم ہے، دوسرے یہ کہ عدت ایک جلی امر ہے جس میں تمام عورتیں یکساں ہیں۔ سعید ابن مسیب، ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں اس عدت میں حکمت یہ ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گا تو اس مدت میں بالکل ظاہر ہو جائے گا۔
امام احمد رحمہ اللہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ایک راوی قبیصیہ نے اپنے استاد عمر سے یہ روایت نہیں سنی۔ سعید بن مسیب مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بن سیرین، ابن عیاض زہری اور عمرو بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ یزید بن عبدالملک بن مروان جو امیر المؤمنین تھے، یہی حکم دیتے تھے۔
سیدہ زینب بنت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تھا تو اسے کسی جھونپڑے میں ڈال دیتے تھے، وہ بدترین کپڑے پہنتی، خوشبو وغیرہ سے الگ رہتی اور سال بھر تک ایسی ہی سڑی بھسی رہتی تھی، سال بھر کے بعد نکلتی اور اونٹنی کی مینگنی لے کر پھینکتی اور کسی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا پرندے کے جسم کے ساتھ اپنے جسم کو رگڑتی، بسا اوقات وہ مر ہی جاتا،[صحیح بخاری:5336] یہ تھی جاہلیت کی رسم۔ پس یہ آیت اس کے بعد کی آیت کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ ایسی عورتیں سال بھر تک رکی رہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے اور تفصیل اس کی عنقریب آئے گی ان شاءاللہ، مطلب یہ کہ اس زمانہ میں بیوہ عورت کو زینت اور خوشبو اور بہت بھڑکیلے کپڑے اور زیور وغیرہ پہننا منع ہے اور یہ سوگواری واجب ہے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں یہ واجب نہیں، اور جب طلاق بائن ہو تو وجوب اور عدم وجوب کے دونوں قول ہیں، فوت شدہ خاوندوں کی زندہ بیویوں پر تو سب پر یہ سوگواری واجب ہے، خواہ وہ نابالغہ ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں جو حیض وغیرہ سے اتر چکی ہوں، خواہ آزاد عورتیں ہوں خواہ لونڈیاں ہوں، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافرہ ہوں کیونکہ آیت میں عام الحکم ہے، ہاں ثوری اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کافرہ عورت کی سوگواری کے قائل نہیں، شہاب اور ابن نافع رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حکم تعبدی ہے، امام ابوحنیفہ اور ثوری رحمہ اللہ کمسن نابالغہ عورت کیلئے بھی یہی فرماتے ہیں کیونکہ وہ غیر مکلفہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب مسلمان لونڈی کو اس میں ملاتے ہیں لیکن اس مسائل کی تصفیہ کا یہ موقع نہیں { واللہ الموفق بالصواب } پھر فرمایا جب ان کی عدت گزر چکے تو ان کے اولیاء پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کریں یا نکاح کریں، یہ سب ان کیلئے حلال طیب ہے۔ حسن، زہری اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إذا توفي الزوج مكثت زوجته متربصة أربعة أشهر وعشرة أيام وجوباً، والحكمة في ذلك ليتبين الحمل في مدة الأربعة ويتحرك في ابتدائه في الشهر الخامس، وهذا العام مخصوص بالحوامل، فإن عدتهن بوضع الحمل، وكذلك الأمة عدتها على النصف من عدة الحرة شهران وخمسة أيام. وقوله: {فإذا بلغن أجلهن}؛ أي: انقضت عدتهن، {فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن}؛ أي: من مراجعتها للزينة والطيب، {بالمعروف}؛ أي: على وجه غير محرم ولا مكروه، وفي هذا وجوب الإحداد مدة العدة على المتوفى عنها زوجها دون غيرها من المطلقات والمفارقات وهو مجمع عليه بين العلماء، {والله بما تعملون خبير}؛ أي: عالم بأعمالكم ظاهرها وباطنها جليِّها وخفيها فمجازيكم عليها، وفي خطابه للأولياء بقوله: {فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن}؛ دليل على أن الولي ينظر على المرأة ويمنعها مما لا يجوز فعله، ويجبرها على ما يجب وأنه مخاطب بذلك واجب عليه.