تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ:} اس سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے والی ماں کو، جب کہ اسے طلاق ہو چکی ہو، عام معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرنا والد پر فرض ہے۔ عام حالات میں جب کہ طلاق نہ ہوئی ہو، بیوی کا کھانا اور لباس اس کے شوہر پر ویسے ہی فرض ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ طلاق (۶)۔
➌ {لَا تُضَآرَّ:} یہ {”ضَرَرٌ“} سے باب مفاعلہ کا واحد مؤنث نہی غائب مجہول کا صیغہ ہے، ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ نہی غائب معلوم بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ماں کو تکلیف دینا یہ ہے کہ وہ مثلاً اپنے بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہے مگر باپ زبردستی چھین لے، یا یہ کہ اسے دودھ پلانے پر مجبور کرے اور خرچہ نہ دے اور باپ کو تکلیف دینا یہ ہے کہ ماں بچے کا سارا بوجھ اس پر ڈال دے، یا دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا بھاری اخراجات کا مطالبہ کرے جو باپ کی وسعت سے باہر ہوں۔“ آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے: ”نہ ماں بچے کی وجہ سے ضرر پہنچا کر باپ کو تکلیف دے اور نہ باپ بچے کی وجہ سے ماں کو ضرر پہنچائے۔“ پہلی صورت میں {”لَا تُضَآرَّ“}صیغہ فعل مجہول کا ہو گا۔ دوسرے ترجمہ کے اعتبار سے صیغہ معروف، نتیجہ ایک ہی ہے۔
➍ {وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ:} یعنی اگر باپ مر جائے تو جو بھی اس کا وارث ہو اس پر فرض ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے والی ماں کے یہ حقوق ادا کرے۔
➎ یعنی اگر تم بچے کو اس کی ماں کے سوا کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو، اس لیے کہ ماں کے ساتھ سمجھوتا نہ ہو سکے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى» [الطلاق: ۶] ”اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو اسے کوئی اور عورت دودھ پلا دے گی “ تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ جو معاوضہ تم دینا چاہتے ہو وہ معروف طریقے سے پورا پورا ادا کر دو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[318] اس سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ تاہم اس سے حسب ضرورت کم ہو سکتی ہے (جیسا کہ آگے اس کا ذکر آ رہا ہے) اور یہ مدت قمری تقویم کے حساب سے شمار ہو گی [مزيد تفصيل سورة لقمان كي آيت نمبر 14 پر حاشيه 18 ميں ديكهئے]
[319] یعنی منکوحہ عورت اور مطلقہ عورت جو عدت میں ہو اس کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری تو پہلے ہی بچہ کے باپ پر ہوتی ہے اور اگر عدت گزر چکی ہے تو اس آیت کی رو سے باپ ہی اس مطلقہ عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہو گا کیونکہ وہ اس کے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔
[320] یعنی والد سے اس کی حیثیت سے زیادہ کھانے اور کپڑے کے اخراجات کا مطالبہ نہ کیا جائے یہ مطالبہ خواہ عورت خود کرے یا اس کے ورثاء کریں۔
[321] یعنی ماں بلا وجہ دودھ پلانے سے انکار کر دے اور باپ کو پریشان کرے۔ اسی طرح باپ بچہ کو ماں سے جدا کر کے کسی اور سے دودھ پلوائے اور اس طرح ماں کو پریشان کرے یا اس کے کھانے اور کپڑے کے اخراجات میں کنجوسی کا مظاہرہ کرے۔ یا ماں پر دودھ پلانے کے لیے جبر کیا جائے جبکہ وہ اس بات پر آمادہ نہ ہو۔
[322] یہ بچہ جو دودھ پی رہا ہے۔ خود بھی اپنے باپ کا وارث ہے اور اس کے علاوہ بھی وارث ہوں گے۔ بہرحال یہ خرچہ مشترکہ طور پر میت کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا اور یہ وہ ادا کریں گے جو عصبہ (میت کے قریبی وارث مرد) ہیں۔
[324] اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ترجمہ میں لکھا گیا ہے اور دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر تم دایہ سے دودھ پلوانا چاہو تو اس کا معاوضہ تو دینا ہی ہے۔ مگر اس وجہ سے ماں کو جو کچھ طے شدہ خرچہ مل رہا تھا وہ اسے ادا کر دینا چاہیئے، اس میں کمی نہ کرنی چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابراہیم رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت ایک سال اور دس مہینے کی تھی۔ دارقطنی میں بھی ایک حدیث دو سال کی مدت کے بعد کی رضاعت کے متعبر نہ ہونے کی ہے۔ [دار قطنی:174/4:موقوف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ ابوداؤد طیالسی کی روایت میں ہے کہ دودھ چھوٹ جانے کے بعد رضاعت نہیں اور بلوغت کے بعد یتیمی کا حکم نہیں۔ [طیالسی:1767] خود قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِأَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [31-لقمان: 14]، دودھ چھٹنے کی مدت دو سال میں ہے۔ اور جگہ ہے آیت «وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا» [46-الأحقاف: 15] یعنی حمل اور دودھ [دونوں کی مدت] تیس ماہ ہیں۔ یہ قول کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے اور پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، ان تمام حضرات کا ہے۔ سیدنا علی، ابن عباس، ابن مسعود، جابر، ابوہریرہ، ابن عمر، اُم سلمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، حضرت سعید بن المسیب، عطاء رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعی، امام احمد، امام اسحٰق، امام ثوری، امام ابویوسف، امام محمد، امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ گو ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے دو سال دو ماہ بھی مروی ہیں اور ایک روایت میں دو سال تین ماہ بھی مروی ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ڈھائی سال کی مدت بتلاتے ہیں۔ زفر رحمہ اللہ کہتے ہیں جب تک دودھ نہیں چھٹا تو تین سالوں تک کی مدت ہے، امام اوزاعی رحمہ اللہ سے بھی یہ روایت ہے۔ اگر کسی بچہ کا دو سال سے پہلے دودھ چھڑوا لیا جائے پھر اس کے بعد کسی عورت کا دودھ وہ پئے تو بھی حرمت ثابت نہ ہو گی اس لیے کہ اب قائم مقام خوراک کے ہو گیا۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر، علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دودھ چھڑوا لینے کے بعد رضاعت نہیں۔ اس قول کے دونوں مطلب ہو سکتے ہیں یعنی یا تو یہ کہ دو سال کے بعد یا یہ کہ جب بھی اس سے پہلے دودھ چھٹ گیا۔ اس کے بعد جیسے امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سورۃ الطلاق میں فرمایا آیت «فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ» [65۔ الطلاق: 6]، اگر عورتیں بچے کو دودھ پلایا کریں تو تم ان کی اجرت بھی دیا کرو اور آپس میں عمدگی کے ساتھ معاملہ رکھو۔ یہ اور بات ہے کہ تنگی کے وقت کسی اور سے دودھ پلوا دو، چنانچہ یہاں بھی فرمایا اگر والدہ اور والد متفق ہو کر کسی عذر کی بنا پر کسی اور سے دودھ شروع کرائیں اور پہلے کی اجازت کامل طور پر والد والدہ کو دیدے تو بھی دونوں پر کوئی گناہ نہیں، اب دوسری کسی دایہ سے اُجرت چکا کر دودھ پلوا دیں۔ لوگو اللہ تعالیٰ سے ہر امر میں ڈرتے رہا کرو اور یاد رکھو کہ تمہارے اقوال و افعال کو وہ بخوبی جانتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا خبر بمعنى الأمر تنزيلاً له منزلة المتقرر الذي لا يحتاج إلى أمر بأن {يرضعن أولادهن حولين}؛ ولما كان الحول يطلق على الكامل وعلى معظم الحول قال: {كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة}؛ فإذا تم للرضيع حولان فقد تم رضاعه وصار اللبن بعد ذلك بمنزلة سائر الأغذية، فلهذا كان الرضاع بعد الحولين غير معتبر لا يُحَرِّم. ويؤخذ من هذا النص ومن قوله تعالى: {وحمله وفصاله ثلاثون شهراً}؛ أن أقل مدة الحمل ستة أشهر وأنه يمكن وجود الولد بها {وعلى المولود له}؛ أي: الأب، {رزقهن وكسوتهن بالمعروف}؛ وهذا شامل لما إذا كانت في حباله أو مطلقة، فإن على الأب رزقها؛ أي: نفقتها وكسوتها وهي الأجرة للرضاع، ودل هذا على أنها إذا كانت في حباله لا يجب لها أجرة غير النفقة والكسوة وكل بحسب حاله، فلهذا قال: {لا تكلف نفس إلا وسعها}؛ فلا يكلف الفقير أن ينفق نفقة الغني ولا من لم يجد شيئاً بالنفقة حتى يجد {لا تضار والدة بولدها ولا مولود له بولده}؛ أي: لا يحل أن تضار الوالدة بسبب ولدها، إما أن تمنع من إرضاعه أو لا تعطى ما يجب لها من النفقة والكسوة أو الأجرة {ولا مولود له بولده}؛ بأن تمتنع من إرضاعه على وجه المضارة [له] أو تطلب زيادة عن الواجب ونحو ذلك من أنواع الضرر، ودل قوله: {مولود له}؛ أن الولد لأبيه لأنه موهوب له ولأنه من كسبه، فلذلك جاز له الأخذ من ماله رضيَ أو لم يرضَ، بخلاف الأم.
وقوله: {وعلى الوارث مثل ذلك}؛ أي: على وارث الطفل إذا عدم الأب، وكان الطفل ليس له مال مثل ما على الأب من النفقة للمرضع والكسوة، فدل على وجوب نفقة الأقارب المعسرين على القريب الوارث الموسر، {فإن أرادا}؛ أي: الأبوان، {فصالاً}؛ أي: فطام الصبي قبل الحولين، {عن تراضٍ منهما}؛ بأن يكونا راضيين، {وتشاور}؛ فيما بينهما هل هو مصلحة للصبي أم لا؟ فإن كان مصلحة ورضيا {فلا جناح عليهما}؛ في فطامه قبل الحولين، فدلت الآية بمفهومها على أنه إن رضي أحدهما دون الآخر أو لم يكن مصلحة للطفل أنه لا يجوز فطامه. وقوله: {وإن أردتم أن تسترضعوا أولادكم}؛ أي: تطلبوا لهم المراضع غير أمهاتهم على غير وجه المضارة، {فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف}؛ أي: للمرضعات، {واعلموا أن الله بما تعملون بصير}؛ فمجازيكم على ذلك بالخير والشر.