وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ عَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۳۴﴾
اور جو لوگ تم میں سے فوت کیے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس راتیں انتظار میں رکھیں، پھر جب اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو وہ اپنی جانوں کے بارے میں معروف طریقے سے کریں اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پوری طرح با خبر ہے۔
En
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
En
تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں، پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وه اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناه نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 234) ➊ خاوند کی وفات کی یہ عدت تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے۔ شوہر نے اس سے صحبت کی ہو یا اس سے پہلے ہی فوت ہو گیا ہو، اسی طرح خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھی، جیسا کہ آیت کے الفاظ میں سب بیویاں شامل ہیں۔ بروع بنت واشق رضی اللہ عنہاکے خاوند صحبت سے پہلے ہی فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسے پورا مہر ملے گا، اسے عدت گزارنا ہو گی اور اسے میراث میں سے بھی حصہ ملے گا۔ [ترمذی، النکاح، باب ما جاء فی الرجل …: ۱۱۴۵۔ أبو داوٗد: ۲۱۱۴]
اس عدت میں ایک حکمت یہ ہے کہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں، اگر حمل ہو تو اس کی عدت حمل سے فارغ ہونا ہے، خواہ تھوڑی دیر میں فارغ ہو جائے، خواہ آٹھ نو ماہ بعد، کیونکہ حکم ہے: «وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [الطلاق: ۴]”اور جو حمل والیاں ہیں ان کی عدت (طلاق سے ہو یا خاوند فوت ہونے سے) یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔“ اس عدت کے دوران عورت کے لیے نکاح کرنا ہی حرام نہیں، بلکہ سوگ منانا بھی ضروری ہے، یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً شوخ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی ہی ایک عورت کو آنکھ میں تکلیف کے باوجود سرمہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ [بخاری الطلاق، باب الکحل للحادّۃ: ۵۳۳۸] عدت کے دوران اسے خاوند والے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی المتوفٰی عنہا تنتقل: ۲۳۰۰۔ ترمذی: ۱۲۰۴، و صححہ الألبانی]
➋ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ:} یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب و زینت اختیار کریں یا اولیاء کی اجازت سے دوسرا نکاح کریں، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ ہندوؤں کے اثرات سے بیوہ کے لیے دوسرے نکاح کو جو برا سمجھا جاتا ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یہ شریعت اسلام کے سراسر خلاف ہے۔
اس عدت میں ایک حکمت یہ ہے کہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں، اگر حمل ہو تو اس کی عدت حمل سے فارغ ہونا ہے، خواہ تھوڑی دیر میں فارغ ہو جائے، خواہ آٹھ نو ماہ بعد، کیونکہ حکم ہے: «وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [الطلاق: ۴]”اور جو حمل والیاں ہیں ان کی عدت (طلاق سے ہو یا خاوند فوت ہونے سے) یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔“ اس عدت کے دوران عورت کے لیے نکاح کرنا ہی حرام نہیں، بلکہ سوگ منانا بھی ضروری ہے، یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً شوخ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی ہی ایک عورت کو آنکھ میں تکلیف کے باوجود سرمہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ [بخاری الطلاق، باب الکحل للحادّۃ: ۵۳۳۸] عدت کے دوران اسے خاوند والے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی المتوفٰی عنہا تنتقل: ۲۳۰۰۔ ترمذی: ۱۲۰۴، و صححہ الألبانی]
➋ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ:} یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب و زینت اختیار کریں یا اولیاء کی اجازت سے دوسرا نکاح کریں، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ ہندوؤں کے اثرات سے بیوہ کے لیے دوسرے نکاح کو جو برا سمجھا جاتا ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یہ شریعت اسلام کے سراسر خلاف ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
234۔ 1 یہ عدت وفات ہر عورت کے لئے ہے چاہے گھر میں رہے یا گھر کے باہر جوان ہو یا بوڑھی۔ البتہ اس سے حاملہ عورت متشنٰی ہے کیونکہ اسکی مدت عدت وضع حمل ہے اس عدت وفات میں عورت کو زیب وزینت کی (حتٰی کہ سرمہ لگانے کی بھی) اور خاوند کے مکان سے کسی اور جگہ منتقل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ وہ مطلقہ جو دوبارہ نکاح کرنا چاہے اس کے لئے عدت کے اندر زیب وزینت ممنوع نہیں ہے وہ مطلقہ جس سے رجوع نہ ہو سکے اس میں اختلاف ہے بعض جواز کے اور بعض ممانعت کے قائل ہیں۔ 234۔ 2 یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب وزینت اختیار کریں اولیاء اس کی اجازت و مشاورت سے کسی اور جگہ نکاح کا بندوبست کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے تم پر بھی (اے عورت کے والیوں) کوئی گناہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوہ کے عقد ثانی کو برا سمجھنا چاہئے نہ اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے۔ جیسا کہ ہندؤں کے اثرات سے ہمارے معاشرے میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
234۔ اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو ایسی بیوائیں چار ماہ دس دن انتظار کریں۔ پھر جب ان کی [326] عدت پوری ہو جائے تو اپنے حق میں جو کچھ وہ معروف طریقے سے [327] کریں تم پر اس کا کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے
[326] سوگ منانے کی مدت اور حکمت:۔
عام حالت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ لیکن اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے [4: 65] اور یہی مدت بیوہ کے سوگ منانے کی مدت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”کسی عورت کو، جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے بجز اپنے شوہر کے جس پر اسے چار ماہ دس دن تک سوگ منانا لازم ہے۔“ [بخاري، كتاب الجنائز، باب إحداد المرأة على غير زوجها] اور حضرت ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ ”ہمیں کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کر دیا گیا۔ بجز خاوند کے جس پر چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم تھا اور حکم یہ تھا کہ ان دنوں میں نہ ہم سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو، نہ ہی رنگے ہوئے کپڑے پہنیں، الا یہ کہ ان کی بناوٹ ہی رنگین دھاگے کی ہو۔ البتہ یہ اجازت تھی کہ ہم میں سے کوئی جب حیض سے پاک ہو اور غسل کرے تو کست الاظفار (ایک قسم کی خوشبو) لگائے۔ نیز ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے بھی منع کر دیا گیا تھا۔“ [بخاري، كتاب الحيض، باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض]
اور حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند مر گیا ہے اور اب اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“، پھر اس عورت نے دوسری بار یہی سوال کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی میں ہی جواب دیا۔ پھر فرمایا کہ ”اسلام میں تو عدت اور سوگ کا زمانہ صرف چار ماہ دس دن ہے جبکہ جاہلیت میں تو یہ عدت پورا ایک سال تھی، اور سال گزرنے کے بعد عورت اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔“ حمید (راوی) نے زینبؓ سے پوچھا کہ یہ ”اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا قصہ ہے؟“ زینبؓ نے کہا، جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں جا بیٹھتی۔ برے سے برا لباس پہنتی، نہ خوشبو لگاتی اور نہ کوئی دوسری آرائش و زیبائش کرتی۔ حتیٰ کہ پورا سال اسی طرح گزار دیتی۔ سال گزرنے پر اس کے پاس کوئی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لاتے جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی تھی اور کبھی وہ جانور مر بھی جاتا۔ اس کے بعد اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی، جسے وہ اپنے سامنے پھینک دیتی (یہ گویا اس کی عدت پوری ہونے کی علامت ہوتی تھی) اس کے بعد ہی وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتی تھی۔ [بخاري، كتاب الطلاق باب تحد المتوفي عنها زوجها اربعه أشهر و عشرا] رہی یہ بات کہ عورت یہ عدت یا سوگ کا عرصہ کہاں گزارے تو اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مکان میں ہی گزارے اور اسے اتنے سفر کی اجازت ہے کہ رات کو اپنے مقام پر واپس آ جائے اور کچھ علماء کا یہ قول بھی ہے کہ بیوہ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس پر سفر کی بھی پابندی نہیں۔
اور حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند مر گیا ہے اور اب اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“، پھر اس عورت نے دوسری بار یہی سوال کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی میں ہی جواب دیا۔ پھر فرمایا کہ ”اسلام میں تو عدت اور سوگ کا زمانہ صرف چار ماہ دس دن ہے جبکہ جاہلیت میں تو یہ عدت پورا ایک سال تھی، اور سال گزرنے کے بعد عورت اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔“ حمید (راوی) نے زینبؓ سے پوچھا کہ یہ ”اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا قصہ ہے؟“ زینبؓ نے کہا، جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں جا بیٹھتی۔ برے سے برا لباس پہنتی، نہ خوشبو لگاتی اور نہ کوئی دوسری آرائش و زیبائش کرتی۔ حتیٰ کہ پورا سال اسی طرح گزار دیتی۔ سال گزرنے پر اس کے پاس کوئی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لاتے جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی تھی اور کبھی وہ جانور مر بھی جاتا۔ اس کے بعد اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی، جسے وہ اپنے سامنے پھینک دیتی (یہ گویا اس کی عدت پوری ہونے کی علامت ہوتی تھی) اس کے بعد ہی وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتی تھی۔ [بخاري، كتاب الطلاق باب تحد المتوفي عنها زوجها اربعه أشهر و عشرا] رہی یہ بات کہ عورت یہ عدت یا سوگ کا عرصہ کہاں گزارے تو اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مکان میں ہی گزارے اور اسے اتنے سفر کی اجازت ہے کہ رات کو اپنے مقام پر واپس آ جائے اور کچھ علماء کا یہ قول بھی ہے کہ بیوہ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس پر سفر کی بھی پابندی نہیں۔
عدت کی مصلحت:۔
یہ عدت اللہ تعالیٰ نے اس لیے مقرر فرمائی کہ معلوم ہو سکے کہ عورت کو اپنے مرنے والے خاوند سے حمل تو نہیں۔ اگر حمل ہو تو عدت وضع حمل تک ہو گی تاکہ نسب میں اختلاط واقع نہ ہو۔ چار ماہ دس دن گزرنے کے بعد وہ اپنے نکاح کے معاملہ میں مختار ہے اور اس مدت میں یقینی طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ اسے متوفی خاوند سے حمل ہے یا نہیں۔
[327] یعنی ان کا نکاح کی بات چیت کرنا، زینت و آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مقام عدت سے کسی اور جگہ چلے جانا، نکاح کر لینا، جو کچھ وہ اپنے حق میں بہتر اور مناسب سمجھیں سب کچھ جائز ہے اور اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔
[327] یعنی ان کا نکاح کی بات چیت کرنا، زینت و آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مقام عدت سے کسی اور جگہ چلے جانا، نکاح کر لینا، جو کچھ وہ اپنے حق میں بہتر اور مناسب سمجھیں سب کچھ جائز ہے اور اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خاوند کے انتقال کے بعد ٭٭
اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، اس پر اجماع ہے دلیل اس کی ایک تو اس آیت کا عموم دوسرے یہ حدیث جو مسند احمد اور سنن میں ہے جسے امام ترمذی رحمہ اللہ صحیح کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اس سے مجامعت نہیں کی تھی نہ مہر مقرر ہوا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا، فرمائیے اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے جب کئی مرتبہ وہ آئے گئے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں، اگر ٹھیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانو اور اگر خطاء ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے سمجھو، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ اس عورت کو پورا مہر ملے گا جو اس کے خاندان کا دستور ہو، اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو اور اس عورت کو پوری عدت گزارنی چاہیئے اور اسے ورثہ بھی ملے گا۔ یہ سن کر معقل بن یسار اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ [سنن ابوداود:2114، قال الشيخ الألباني:صحیح]
بعض روایات میں ہے کہ اشجع کے بہت سے لوگوں نے یہ روایت بیان کی، ہاں جو عورت اپنے خاوند کی وفات کے وقت حمل سے ہو اس کیلئے یہ عدت نہیں، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ گو، انتقال کی ایک ساعت کے بعد ہی ہو جائے۔ قرآن میں ہے آیت «وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [65۔ الطلاق: 1] حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ ہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں جو دیر کی عدت ہو وہ حاملہ کی عدت ہے، یہ قول تو بہت اچھا ہے اور دونوں آیتوں میں اس سے تطبیق بھی عمدہ طور پر ہو جاتی ہے لیکن اس کیخلاف بخاری و مسلم کی ایک صاف اور صریح حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ سبیعہ اسلیمہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا، اس وقت آپ حمل سے تھیں اور چند راتیں گزار پائی تھیں تو بچہ تولد ہوا، جب نہا دھو چکیں تو لباس وغیرہ اچھا پہن لیا، ابوالسنابل بن بعلبک رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو؟ اللہ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کر سکتیں۔ سیبعہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور شام کو خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ ہو گیا اسی وقت تم عدت سے نکل گئیں، اب اگر تم چاہو تو بیشک نکاح کر سکتی ہو۔ [صحیح بخاری:3991]
یہ بھی مروی ہے کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اس حدیث کا علم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے قول سے رجوع کر لیا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھی شاگرد بھی اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت بھی اتنی نہیں، اس کی عدت اس سے آدھی ہے یعنی دو مہینے اور پانچ راتیں، جمہور کا مذہب یہی ہے جس طرح لونڈی کی حد بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی ہے اسی طرح عدت بھی۔ محمد بن سیرین اور بعض علماء ظاہر یہ لونڈی کی اور آزاد عورت کی عدت میں برابری کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل ایک تو اس آیت کا عموم ہے، دوسرے یہ کہ عدت ایک جلی امر ہے جس میں تمام عورتیں یکساں ہیں۔ سعید ابن مسیب، ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں اس عدت میں حکمت یہ ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گا تو اس مدت میں بالکل ظاہر ہو جائے گا۔
بعض روایات میں ہے کہ اشجع کے بہت سے لوگوں نے یہ روایت بیان کی، ہاں جو عورت اپنے خاوند کی وفات کے وقت حمل سے ہو اس کیلئے یہ عدت نہیں، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ گو، انتقال کی ایک ساعت کے بعد ہی ہو جائے۔ قرآن میں ہے آیت «وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [65۔ الطلاق: 1] حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ ہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں جو دیر کی عدت ہو وہ حاملہ کی عدت ہے، یہ قول تو بہت اچھا ہے اور دونوں آیتوں میں اس سے تطبیق بھی عمدہ طور پر ہو جاتی ہے لیکن اس کیخلاف بخاری و مسلم کی ایک صاف اور صریح حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ سبیعہ اسلیمہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا، اس وقت آپ حمل سے تھیں اور چند راتیں گزار پائی تھیں تو بچہ تولد ہوا، جب نہا دھو چکیں تو لباس وغیرہ اچھا پہن لیا، ابوالسنابل بن بعلبک رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو؟ اللہ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کر سکتیں۔ سیبعہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور شام کو خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ ہو گیا اسی وقت تم عدت سے نکل گئیں، اب اگر تم چاہو تو بیشک نکاح کر سکتی ہو۔ [صحیح بخاری:3991]
یہ بھی مروی ہے کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اس حدیث کا علم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے قول سے رجوع کر لیا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھی شاگرد بھی اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت بھی اتنی نہیں، اس کی عدت اس سے آدھی ہے یعنی دو مہینے اور پانچ راتیں، جمہور کا مذہب یہی ہے جس طرح لونڈی کی حد بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی ہے اسی طرح عدت بھی۔ محمد بن سیرین اور بعض علماء ظاہر یہ لونڈی کی اور آزاد عورت کی عدت میں برابری کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل ایک تو اس آیت کا عموم ہے، دوسرے یہ کہ عدت ایک جلی امر ہے جس میں تمام عورتیں یکساں ہیں۔ سعید ابن مسیب، ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں اس عدت میں حکمت یہ ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گا تو اس مدت میں بالکل ظاہر ہو جائے گا۔
سیدنا ابن مسعود کی بخاری و مسلم والی مرفوع حدیث میں ہے کہ انسان کی پیدائش کا یہ حال ہے کہ چالیس دن تک تو رحمِ مادر میں نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے، پھر خون بستہ کی شکل چالیس دن تک رہتی ہے پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے۔ [صحیح بخاری:3208] تو یہ ایک سو بیس دن ہوئے جس کے چار مہینے ہوئے، دس دن احتیاطاً اور رکھ دے کیونکہ بعض مہینے انتیس دن کے بھی ہوتے ہیں اور جب روح پھونک دی گئی تو اب بچہ کی حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور حمل بالکل ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے اتنی عدت مقرر کی گئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں دس دن اس لیے ہیں کہ روح انہی دس دِنوں میں پھونکی جاتی ہے۔ ربیع بن انس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں یہ بھی مروی ہے تاکہ جس لونڈی سے بچہ ہو جائے اس کی عدت بھی آزاد عورت کے برابر ہے اس لیے کہ وہ فراش بن گئی اور اس لیے بھی کہ مسند احمد رحمہ اللہ میں حدیث ہے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا لوگو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر خلط ملط نہ کرو۔ اولاد والی لونڈی کی عدت جبکہ اس کا سردار فوت ہو جائے چار مہینے اور دس دن ہیں۔ [سنن ابوداود:2308، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ایک اور طریق سے بھی ابوداؤد میں مروی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ایک راوی قبیصیہ نے اپنے استاد عمر سے یہ روایت نہیں سنی۔ سعید بن مسیب مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بن سیرین، ابن عیاض زہری اور عمرو بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ یزید بن عبدالملک بن مروان جو امیر المؤمنین تھے، یہی حکم دیتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ایک راوی قبیصیہ نے اپنے استاد عمر سے یہ روایت نہیں سنی۔ سعید بن مسیب مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بن سیرین، ابن عیاض زہری اور عمرو بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ یزید بن عبدالملک بن مروان جو امیر المؤمنین تھے، یہی حکم دیتے تھے۔
اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم بھی ایک روایت میں یہی فرماتے ہیں لیکن طاؤس اور قتادہ رحمہ اللہ اس کی عدت بھی آدھی بتلاتے ہیں یعنی دو ماہ پانچ راتیں۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھ حسن بن صالح بن حی فرماتے ہیں تین حیض عدت گزارے، سیدنا علی ابن مسعود، رضی اللہ عنہما عطاء اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔
امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم کی مشہور روایت یہ ہے کہ اس کی عدت ایک حیض ہی ہے۔ سیدنا ابن عمر، شعبی، مکحول، لیث، ابوعبید، ابوثور رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حیض کی حالت میں اس کا سید فوت ہوا ہے تو اسی حیض کا ختم ہو جانا اس کی عدت کا ختم ہو جانا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے عدت گزارے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور فرماتے ہیں ایک مہینہ اور تین دن مجھے زیادہ پسند ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» [مترجم کے نزدیک قوی قول پہلا ہے یعنی مثل آزاد عورت کے پوری عدت گزارے]۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بعد ازاں جو ارشاد فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوگ واجب ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ جو عورت اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو اسے تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگواری کرنا حرام ہے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن سوگوار ہے۔ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری بیٹی کا میاں مر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں، کیا میں اس کے سرمہ لگا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، دو تین مرتبہ اس نے اپنا سوال دہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا، آخری بار فرمایا یہ تو چار مہینے اور دس دن ہی ہیں، جاہلیت میں تو تم سال سال بھر بیٹھی رہا کرتی تھیں۔[ایضاً]
سیدہ زینب بنت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تھا تو اسے کسی جھونپڑے میں ڈال دیتے تھے، وہ بدترین کپڑے پہنتی، خوشبو وغیرہ سے الگ رہتی اور سال بھر تک ایسی ہی سڑی بھسی رہتی تھی، سال بھر کے بعد نکلتی اور اونٹنی کی مینگنی لے کر پھینکتی اور کسی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا پرندے کے جسم کے ساتھ اپنے جسم کو رگڑتی، بسا اوقات وہ مر ہی جاتا،[صحیح بخاری:5336] یہ تھی جاہلیت کی رسم۔ پس یہ آیت اس کے بعد کی آیت کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ ایسی عورتیں سال بھر تک رکی رہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے اور تفصیل اس کی عنقریب آئے گی ان شاءاللہ، مطلب یہ کہ اس زمانہ میں بیوہ عورت کو زینت اور خوشبو اور بہت بھڑکیلے کپڑے اور زیور وغیرہ پہننا منع ہے اور یہ سوگواری واجب ہے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں یہ واجب نہیں، اور جب طلاق بائن ہو تو وجوب اور عدم وجوب کے دونوں قول ہیں، فوت شدہ خاوندوں کی زندہ بیویوں پر تو سب پر یہ سوگواری واجب ہے، خواہ وہ نابالغہ ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں جو حیض وغیرہ سے اتر چکی ہوں، خواہ آزاد عورتیں ہوں خواہ لونڈیاں ہوں، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافرہ ہوں کیونکہ آیت میں عام الحکم ہے، ہاں ثوری اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کافرہ عورت کی سوگواری کے قائل نہیں، شہاب اور ابن نافع رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حکم تعبدی ہے، امام ابوحنیفہ اور ثوری رحمہ اللہ کمسن نابالغہ عورت کیلئے بھی یہی فرماتے ہیں کیونکہ وہ غیر مکلفہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب مسلمان لونڈی کو اس میں ملاتے ہیں لیکن اس مسائل کی تصفیہ کا یہ موقع نہیں { واللہ الموفق بالصواب } پھر فرمایا جب ان کی عدت گزر چکے تو ان کے اولیاء پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کریں یا نکاح کریں، یہ سب ان کیلئے حلال طیب ہے۔ حسن، زہری اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
سیدہ زینب بنت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تھا تو اسے کسی جھونپڑے میں ڈال دیتے تھے، وہ بدترین کپڑے پہنتی، خوشبو وغیرہ سے الگ رہتی اور سال بھر تک ایسی ہی سڑی بھسی رہتی تھی، سال بھر کے بعد نکلتی اور اونٹنی کی مینگنی لے کر پھینکتی اور کسی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا پرندے کے جسم کے ساتھ اپنے جسم کو رگڑتی، بسا اوقات وہ مر ہی جاتا،[صحیح بخاری:5336] یہ تھی جاہلیت کی رسم۔ پس یہ آیت اس کے بعد کی آیت کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ ایسی عورتیں سال بھر تک رکی رہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے اور تفصیل اس کی عنقریب آئے گی ان شاءاللہ، مطلب یہ کہ اس زمانہ میں بیوہ عورت کو زینت اور خوشبو اور بہت بھڑکیلے کپڑے اور زیور وغیرہ پہننا منع ہے اور یہ سوگواری واجب ہے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں یہ واجب نہیں، اور جب طلاق بائن ہو تو وجوب اور عدم وجوب کے دونوں قول ہیں، فوت شدہ خاوندوں کی زندہ بیویوں پر تو سب پر یہ سوگواری واجب ہے، خواہ وہ نابالغہ ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں جو حیض وغیرہ سے اتر چکی ہوں، خواہ آزاد عورتیں ہوں خواہ لونڈیاں ہوں، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافرہ ہوں کیونکہ آیت میں عام الحکم ہے، ہاں ثوری اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کافرہ عورت کی سوگواری کے قائل نہیں، شہاب اور ابن نافع رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حکم تعبدی ہے، امام ابوحنیفہ اور ثوری رحمہ اللہ کمسن نابالغہ عورت کیلئے بھی یہی فرماتے ہیں کیونکہ وہ غیر مکلفہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب مسلمان لونڈی کو اس میں ملاتے ہیں لیکن اس مسائل کی تصفیہ کا یہ موقع نہیں { واللہ الموفق بالصواب } پھر فرمایا جب ان کی عدت گزر چکے تو ان کے اولیاء پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کریں یا نکاح کریں، یہ سب ان کیلئے حلال طیب ہے۔ حسن، زہری اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔