تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا منع ہے، لیکن اگر کوئی دے دے تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، پھر لوگوں نے اس کام میں جلدی شروع کر دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں نے ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی، تو اگر ہم ان پر وہ (تینوں طلاقیں ہی) نافذ کر دیں۔“ چنانچہ انھوں نے اسے نافذ کر دیا۔ [مسلم، الطلاق، باب الطلاق الثلاث: ۱۴۷۲] نیز دیکھیے فتاویٰ ابن تیمیہ (۳۳ ؍۱۳، ۲۵، ۸۵ تا ۸۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت یہ بھی ہے کہ عورت رخصت ہو کر جاتی ہے، ایک مکان میں میاں بیوی جاتے ہیں، پردہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن آپس میں صحبت نہیں ہوتی، جب بھی یہی حکم ہے۔ خود آپ کے زمانہ میں ایسا واقعہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خاوند کی اجازت نہ دی۔ [مسند احمد:25/2] ایک روایت میں ہے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی صاحبہ تمیمہ بنت وہب کو جب انہوں نے آخری تیسری طلاق دے دی تو ان کا نکاح عبدالرحمٰن بن زیبر رضی اللہ عنہ سے ہوا لیکن یہ شکایت لے کر دربارِ رسالت مآب میں آئیں اور کہا وہ عورت کے مطلب کے نہیں، مجھے اجازت ہو کہ میں اگلے خاوند کے گھر چلی جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمہاری کسی اور خاوند سے مجامعت نہ ہو، [مسند احمد:284/3:صحیح] ان احادیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہیں۔
اگر دوسرے خاوند کا ارادہ اس کے ساتھ نکاح سے یہ ہے کہ یہ عورت پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے تو ایسے لوگوں کی مذمت بلکہ ملعون ہونے کی تصریح احادیث میں آ چکی ہے، مسند احمد میں ہے گودنے والی، گدوانے والی، بال ملانے والی، ملوانے والی عورتیں ملعون، حلال کرنے والی اور جس کیلئے حلالہ کیا جاتا ہے ان پر بھی اللہ کی پھٹکار ہے۔ سود خور اور سود کھلانے والے بھی لعنتی ہیں۔ [سنن ترمذي:1120، قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواھد] امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پر ہے۔ سیدنا عمر، عثمان اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کا یہی مذہب تابعین فقہاء بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا علی ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے اور روایت میں ہے کہ بیاج کی گواہی دینے والوں اور اس کے لکھنے پر بھی لعنت ہے۔ زکوٰۃ کے نہ دینے والوں اور لینے میں زیادتی کرنے والوں پر بھی لعنت ہے، ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی بننے والے پر بھی پھٹکار ہے نوحہ کرنا بھی ممنوع ہے، [مسند احمد:409/1:صحیح بالشواھد] ایک حدیث میں ہے میں تمہیں یہ بتاؤں کہ ادھار لیا ہوا سانڈ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ فرمایا جو“ حلالہ کرے“ یعنی طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ وہ اگلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو اپنے لیے ایسا کرائے وہ بھی ملعون ہے۔ [سنن ابن ماجه:1936، قال الشيخ الألباني:حسن]
اس حدیث کے پچھلے جملے نے گو اِسے موقوف سے حکم میں مرفوع کر دیا، بلکہ ایک اور روایت میں ہے کہ امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگرت کوئی ایسا کرے گا یا کرائے گا تو میں دونوں کو زنا کی حد لگاؤں گا یعنی رجم کروں گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:598/4] خلیفہ وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسے نکاح میں تفریق کر دی، اسی طرح سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بہت سے صحابہ کرام سے بھی یہی مروی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ اگر دوسرا خاوند نکاح اور وطی کے بعد طلاق دے تو پہلے خاوند پر پھر اسی عورت سے نکاح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ یہ اچھی طرح گزر اوقات کر لیں اور یہ بھی جان لیں کہ وہ دوسرا نکاح صرف دھوکہ اور مکر و فریب کا نہ تھا بلکہ حقیقت تھی۔ یہ ہیں احکام شرعی جنہیں علم والوں کیلئے اللہ نے واضح کر دیا، آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو یا ایک طلاق دے دی، پھر چھوڑے رہا یہاں تک کہ وہ عدت سے نکل گئی، پھر اس نے دوسرے سے گھر بسا لیا، اس سے ہمبستری بھی ہوئی، پھر اس نے بھی طلاق دے دی اور اس کی عدت ختم ہو چکی، پھر اگلے خاوند نے اس سے نکاح کر لی تو اسے تین میں سے جو طلاقیں یعنی ایک یا دو جو باقی ہیں صرف انہی کا اختیار رہے گا یا پہلے کی طرح طلاقیں گنتی سے ساقط ہو جائیں گی اور اسے از سر نو تینوں طلاقوں کا حق حاصل ہو جائے گا، پہلا مذہب تو ہے امام مالک امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم کا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا، دوسرا مذہب ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب اس طرح تیسری طلاق ہو، گنتی میں نہیں آئی تو پہلی دوسری کیا آئے گی، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {فإن طلقها}؛ أي: الطلقة الثالثة {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجًا غيره}؛ أي: نكاحاً صحيحاً ويطأها، لأن النكاح الشرعي لا يكون إلا صحيحاً ويدخل فيه العقد والوطء وهذا بالاتفاق، ويتعين أن يكون نكاح الثاني نكاح رغبة، فإن قصد به تحليلها للأول فليس بنكاح ولا يفيد التحليل، ولا يفيد وطء السيد لأنه ليس بزوج، فإذا تزوجها الثاني راغباً، ووطأها، ثم فارقها وانقضت عدتها {فلا جناح عليهما}؛ أي: على الزوج الأول والزوجة {أن يتراجعا}؛ أي: يجددا عقداً جديداً بينهما لإضافته التراجع إليهما، فدل على اعتبار التراضي، ولكن يشترط في التراجع أن يظنا {أن يقيما حدود الله}؛ بأن يقوم كل منهما بحق صاحبه، وذلك إذا ندما على عشرتهما السابقة الموجبة للفراق، وعزما أن يبدلاها بعشرة حسنة، فهنا لا جناح عليهما في التراجع.
ومفهوم الآية الكريمة أنهما إن لم يظنا أن يقيما حدود الله بأن غلب على ظنهما أن الحال السابقة باقية والعشرة السيئة غير زائلة أن عليهما في ذلك جناحاً، لأن جميع الأمور إن لم يقم فيها أمر الله ويسلك بها طاعته لم يحل الإقدام عليها، وفي هذا دلالة على أنه ينبغي للإنسان إذا أراد أن يدخل في أمر من الأمور، خصوصاً الولايات الصغار والكبار، أن ينظر في نفسه، فإن رأى من نفسه قوة على ذلك ووثق بها أقدم وإلا أحجم.
ولما بيَّن تعالى هذه الأحكام العظيمة قال: {وتلك حدود الله}؛ أي: شرائعه التي حددها وبينها ووضحها، {يبينها لقوم يعلمون}؛ لأنهم هم المنتفعون بها النافعون لغيرهم، وفي هذا من فضيلة أهل العلم ما لا يخفى، لأن الله تعالى جعل تبيينه لحدوده خاصًّا بهم وأنهم المقصودون بذلك، وفيه أن الله تعالى يحب من عباده معرفة حدود ما أنزل على رسوله والتفقه بها.