تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {”اَلطَّلَاقُ“} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ طلاق “ کیا ہے، یعنی وہ طلاق جو اوپر کی آیت میں ذکر ہوئی ہے، جس کے بعد عدت میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، وہ دو مرتبہ ہے۔
➌ { فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ:} یعنی پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد خاوند دوبارہ بسانے کا ارادہ رکھتا ہے تو عدت کے اندر رجوع کرے، یہ ”اچھے طریقے سے رکھ لینا“ ہے۔ اگر یہ ارادہ نہیں تو رجوع نہ کرے، بلکہ عدت گزرنے دے، بیوی خود بخود جدا ہو جائے گی، یہ ”نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا“ہے۔ فائدہ اس کا یہ ہو گا کہ عدت گزرنے کے بعد اگرچہ عورت آزاد ہے کہ جس مرد سے چاہے شادی کر لے، مگر اسے پہلے خاوند کے ساتھ شادی کا بھی اختیار ہے۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد خاوند نہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے نہ عدت کے بعد نکاح، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
➍ { وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا …:} خاوند کے لیے بیوی کو تنگ کر کے اس سے حق مہر واپس لینا جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۲۰) مگر خلع کی صورت میں خاوند معاوضہ لے کر طلاق پر راضی ہو جائے تو یہ واپسی جائز ہے۔
➎ {فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ:} اس میں خلع کا بیان ہے، یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے اور خاوند طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو عورت جان چھڑانے کے لیے اپنا مہر یا خاوند اور بیوی کے درمیان جو بھی آپس میں یا حاکم کی عدالت میں طے پا جائے، وہ چیز بطور فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پھر خواہ خاوند خود ہی فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے، یا اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو حاکم اسے فدیہ لے کر چھوڑنے کا حکم دے، اگر وہ نہ مانے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔ چونکہ یہ درحقیقت طلاق نہیں بلکہ عورت کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے خلع کہتے ہیں، اس کی عدت ایک حیض ہے۔ [ترمذی: ۱۱۸۵، عن الربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ] تاکہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں اور عدت کے دوران میں خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ .....﴾ [ترمذي۔ ابواب الطلاق، اللعان]
(1) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمرؓ نے کہا: لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کر دی جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کر دیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایسا قانون نافذ کر دیا۔ [مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث]
(2) ابو الصہباء نے سیدنا ابن عباسؓ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا؟ تو حضرت عباسؓ نے فرمایا۔ ”ہاں۔“ [بحواله، ايضاً]
(3) ابو الصہباء نے حضرت عباس سے کہا: ایک مسئلہ تو بتلائیے کہ رسول اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا، ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو اکٹھی تین طلاق دینے کا رواج عام ہو گیا تو حضرت عمرؓ نے ان پر تین ہی نافذ کر دیں۔ [حواله ايضاً]
مندرجہ بالا تین احادیث اگرچہ الگ الگ ہیں۔ مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، دور صدیقیؓ اور دور فاروقیؓ کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بدعات میں مبتلا تھے اور یہی عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آ رہی تھی جو دور نبوی میں بھی کلیتاً ختم نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ دور نبوی میں ایک شخص نے یکبارگی تین طلاقیں دیں تو آپ غصہ سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ: میری زندگی میں ہی کتاب اللہ سے یوں کھیلا جا رہا ہے؟ آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے اجازت چاہی کہ: میں اس مجرم کو قتل نہ کر دوں؟ تو آپ نے از راہ شفقت اس مجرم کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی، [نسائي، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث المتفرقه- ابو داؤد، كتاب الطلاق باب نسخ المراجعه بعد التطليقات الثلاث] اس واقعہ سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا شرعی نقطہ نگاہ سے کتنا بڑا گناہ اور مکروہ فعل ہے۔
2۔ لوگوں کی اس بد عادت پر انہیں زجر و توبیخ کی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ طریقہ کتاب و سنت کے خلاف تھا تاہم 15ھ تک عملاً یکبارگی تین طلاق کو ایک ہی قرار دیا جاتا رہا۔ اور لوگوں کی معصیت اور حماقت کے باوجود ان سے حق رجوع کو سلب نہیں کیا جاتا تھا۔
3۔ حضرت عمرؓ کے الفاظ «فَلَوْ اَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ» اس بات پر واضح دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ تعزیر و تادیب کے لیے تھا تاکہ لوگ اس بدعادت سے باز آ جائیں۔ یہ فیصلہ آپ نے سرکاری اعلان کے ذریعہ نافذ کیا۔ گویا یہ ایک وقتی اور عارضی قسم کا آرڈیننس تھا۔ کتاب و سنت کی طرح اس کی حیثیت دائمی نہ تھی۔
4۔ اگر حضرت عمرؓ کے سامنے کوئی شرعی بنیاد موجود ہوتی تو آپ یقیناً استنباط کر کے لوگوں کو مطلع فرماتے، جیسا کہ عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے وقت کیا تھا اور تمام صحابہؓ نے آپ کے استنباط کو درست تسلیم کر کے آپ سے پورا پورا اتفاق کر لیا تھا، اگر آپ کسی آیت یا حدیث سے استنباط کر کے اور لوگوں کو اس سے مطلع کر کے یہ فیصلہ نافذ کرتے تو پھر واقعی اس فیصلہ کی حیثیت شرعی اور دائمی بن سکتی تھی۔
1۔ پہلا گروہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کو وقتی اور تعزیری سمجھتا ہے اور سنت نبوی کو ہی ہر زمانہ کے لیے معمول جانتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ہے اس گروہ میں ظاہری، اہل حدیث اور شیعہ شامل ہیں (نیز قادیانی جنہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے وہ بھی ایک ہی طلاق کے قائل ہیں) علاوہ ازیں ائمہ اربعہ کے مقلدین میں سے بعض وسیع الظرف علماء بھی شامل ہیں اور بعض اشد ضرورت کے تحت اس کے قائل ہیں۔
2۔ دوسرا گروہ مقلد حضرات کا ہے جن کی اکثریت حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کو مشروع اور دائمی سمجھتی ہے۔ البتہ اس کام کو گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔
3۔ تیسرا گروہ دوسری انتہا کو چلا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس میں ایک طلاق واقع ہونا تو جائز ہے۔ لیکن اگر دو یا تین یا زیادہ طلاقیں دی جائیں تو ایک بھی واقع نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاق دینا کار معصیت اور خلاف سنت یعنی بدعت ہے۔ جس کے متعلق ارشاد نبوی ہے «مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هَذٰا مَالَيْسَ مِنْهُ فَهُوْرَدٌ» [متفق عليه] جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہ تھی تو وہ بات مردود ہے۔ لہذا ایسی بدعی طلاقیں سب مردود ہیں، لغو ہیں، باطل ہیں۔ لہٰذا ایک طلاق بھی واقع نہ ہو گی۔ اس گروہ میں شیعہ حضرات میں سے کچھ لوگ شامل ہیں۔ نیز محمد بن ارطاۃ اور محمد بن مقاتل (حنفی) بھی اس کے قائل ہیں [شرح مسلم للنووي،ج 1۔ ص 470]
4۔ اور ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ایک مجلس کی تین طلاق کو غیر مدخولہ کے لیے ایک ہی شمار کرتے ہیں اور مدخولہ کے لیے تین۔ [زادالمعادج 4ص 67] غور فرمائیے کہ جس مسئلہ میں اتنا اختلاف ہو کہ اس میں چار گروہ پائے جاتے ہوں اسے ”اجماعی“ کہا جا سکتا ہے؟ ایک مجلس میں ایک سے زیادہ طلاقیں دینے کی بدعادت دور جاہلیہ کی یادگار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر عود کر آئی اور حضرت عمرؓ نے اس عادت کو چھڑانے کے لیے تین طرح کے اقدامات کئے تھے۔
1۔ وہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں کو بدنی سزا بھی دیتے تھے۔
2۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کرنا بھی حقیقتاً ایک سزا تھی۔ جسے حضرت عمرؓ نے نافذ کر دیا۔
3۔ اور جب لوگوں نے اپنی عادت پر کنٹرول کرنے کی بجائے حلالہ کی باتیں شروع کر دیں تو آپ نے حلالہ نکالنے اور نکلوانے والے دونوں کے لیے رجم کی سزا مقرر کر دی۔ اس طرح یہ فتنہ کچھ مدت کے لیے دب گیا۔ گویا دور فاروقی میں اس معصیت کی اصلاح اس صورت میں ہوئی کہ حلالہ کا دروازہ سختی سے بند کر دیا گیا تھا۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ مقلد حضرات ہوں یا غیر مقلد کوئی بھی اکٹھی تین طلاق دینے کو جرم سمجھتا ہی نہیں۔ جہالت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام تو درکنار، خواص بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جدائی کے لیے تین طلاق دینا ضروری ہیں۔ حالانکہ طلاق کی بہترین اور مسنون صورت یہی ہے کہ صرف ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے۔ تاکہ عدت گزر جانے کے بعد بھی اگر زوجین مل بیٹھنا چاہیں تو تجدید نکاح سے مسئلہ حل ہو جائے۔ تاہم اگر آپس میں نفرت اور بگاڑ اتنا شدید پیدا ہو چکا ہو کہ مرد تا زیست اپنی بیوی کو رشتہ زوجیت میں نہ رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہو اور اپنی حسرت اور غصہ مٹانے کے لیے تین کا عدد پورا کر کے طلاق مغلظہ ہی دینا چاہتا ہو تو پھر اسے یوں کرنا چاہیے کہ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا جائے، تیسری طلاق کے بعد ان کے آئندہ ملاپ کی
﴿ حَتّيٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ﴾
کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ آج کے دور میں ایک مجلس کی تین طلاق کو کار معصیت یا گناہ کبیرہ نہ سمجھنے کے لحاظ سے مقلد اور غیر مقلد دونوں حضرات ایک جیسے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ایسے مجرم کو کیا سزا دی جانی چاہیے۔ تاکہ حضرت عمرؓ کی یہ سنت بھی زندہ ہو۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ اس جرم کے بعد اہل حدیث تو ایسے مجرم کو سنت نبوی کی راہ دکھلاتے ہیں۔ جبکہ بعض حنفی حضرات حلالہ جیسے کار حرام کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
1۔ ایک وقت کی تین طلاق کار معصیت گناہ کبیرہ ہے۔ بدعت ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے۔
2۔ دوران عدت مطلقہ کا نان نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتی ہے اور مطلقہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے جس سے وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جسے وہ ضائع کر دیتا ہے۔ اس دوران وہ نان نفقہ کے اس بار سے بھی سبکدوش رہنا چاہتا ہے جو شرعاً اس پر لازم ہے۔
3۔ عدت کے دوران عورت کو اپنے پاس رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شاید حالات میں ساز گاری پیدا ہو جائے۔ منشائے الٰہی یہ ہے کہ رشتہ ازدواج میں پائیداری بدستور قائم رہے۔ اگرچہ ناگزیر حالات میں طلاق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَي اللّٰهِ الطَّلاَقُ» [ابو داؤد، كتاب الطلاق] یعنی تمام حلال اور جائز چیزوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ لہٰذا اللہ کی خوشنودی اسی بات میں ہے کہ طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران مرد رجوع کر لے، اور وہ زبردستی بھی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یعنی اگر عورت رضا مند نہ ہو تو بھی وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے جس سے علیحدگی کی راہ بند ہو اور مصالحت کی راہ کھل جائے۔
4۔ عدت گزر جانے کے بعد عورت کی رخصتی کے وقت دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے [65/2] اور بذریعہ خط طلاقیں بھیج دینے سے اس حکم پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ گواہوں کی اہمیت مصلحت کے لیے دیکھئے سورۃ طلاق کے حواشی۔ اب یہ سوال ہے کہ آج کے دور میں بیک وقت تین طلاق دینے والے مجرم کی سزا کیا ہونی چاہیے، اگرچہ یہ مسئلہ علمائے کرام اور مفتیان عظام کی توجہ کا مستحق ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس کی سزا ظہار کا کفارہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ دونوں کام ﴿مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا﴾ (ناپسندیدہ اور انہونی بات) کے ضمن میں آتے ہیں اور کئی وجوہ سے ان میں مماثلت ہے۔ ظہار کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ آج غلامی کا دور تو ختم ہو چکا۔ البتہ باقی دو سزاؤں میں سے کوئی ایک مفتی حضرات ایسے مجرموں کے لیے تجویز کر سکتے ہیں جب تک ان کے لیے کوئی سزا تجویز نہ کی جائے ان کو اپنے جرم کا کبھی احساس تک نہ ہو سکے گا۔ اس طرح ہی اس رسم بد اور بدعت کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور علمائے کرام کو ایسی سزا تجویز کرنا اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ خاموشی اور بے حسی کے ذریعہ کسی معصیت کے کام کو قائم رکھنا یا رہنے دینا بھی کار معصیت ہے۔ لہٰذا ایسے مجرم کو سزا بھی دینا چاہیے اور طلاق بھی ایک ہی شمار کرنا چاہیے، تاکہ سنت نبوی پر بھی عمل ہو جائے اور سنت فاروقی پر بھی۔
[308] یعنی اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے، خالی ہاتھ یا دھکے دے کر گھر سے ہرگز نہ نکالا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساؤں گا نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا یہ کس طرح؟ طلاق دے دوں گا اور جہاں عدت ختم ہونے کا وقت آیا تو رجوع کر لوں گا، پھر طلاق دے دوں گا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لوں گا اور یونہی کرتا چلا جاؤں گا۔ وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنا یہ دُکھ رونے لگی اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔[مؤطا:588/2:مرسل و ضعیف]
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ دو طلاقیں تو اس آیت میں بیان ہو چکی ہیں تیسری کا ذِکر کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [البقرہ: 229] میں، جب تیسری طلاق کا ارادہ کرے تو عورت کو تنگ کرنا اس پر سختی کرنا تاکہ وہ اپنا حق چھوڑ کر طلاق پر آمادگی ظاہر کرے، یہ مردوں پر حرام ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» الخ [4-النساء:19]، یعنی عورتوں کو تنگ نہ کرو تاکہ انہیں دئیے ہوئے میں سے کچھ لے لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ عورت اپنی خوشی سے کچھ دے کر طلاق طلب کرے جیسے فرمایا آیت «فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» [4۔ النسآء: 4] یعنی اگر عورتیں اپنی راضی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو بیشک وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے اور جب میاں بیوی میں نااتفاقی بڑھ جائے عورت اس سے خوش نہ ہو اور اس کے حق کو نہ بجا لاتی ہو ایسی صورت میں وہ کچھ لے دے کر اپنے خاوند سے طلاق حاصل کر لے تو اسے دینے میں اور اسے لینے میں کوئی گناہ نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع طلب کرتی ہے تو وہ سخت گنہگار ہے چنانچہ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے بےسبب طلاق طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، [سنن ترمذي:1187، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی دوری سے آتی ہے، اور روایت میں ہے کہ ایسی عورتیں منافق ہیں، [سنن ترمذي:1186، قال الشيخ الألباني:صحیح] آئمہ سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت کا فرمان ہے کہ خلع صرف اسی صورت میں ہے کہ نافرمانی اور سرکشی عورت کی طرف سے ہو، اس وقت مرد فدیہ لے کر اس عورت کو الگ کر سکتا ہے جیسے قرآن پاک کی اس آیت میں ہے اس کے سوا کی صورت میں یہ سب جائز نہیں، بلکہ امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو تکلیف پہنچا کر اس کے حق میں کمی کر کے اگر اسے مجبور کیا گیا اور اس سے کچھ مال واپس لیا گیا تو اس کا لوٹا دینا واجب ہے،
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حالت اختلاف میں جائز ہے تو حالت اتفاق میں بطور اولیٰ جائز ٹھہرے گا، بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سرے سے خلع منسوخ ہے کیونکہ قرآن میں ہے آیت «وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا» [4۔ النسآء: 20] یعنی اگر تم نے اپنی بیویوں کو ایک خزانہ بھی دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ بھی نہ لو، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مردود ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہما کی بہن تھیں اور سب سے پہلا خلع تھا جو اسلام میں ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک مرتبہ خیمے کے پردہ کو جو اٹھایا تو دیکھا کہ میرے خاوند چند آدمیوں کے ساتھ آ رہے ہیں، ان تمام میں یہ سیاہ فام چھوٹے قد والے اور بدصورت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر کہ اس کا باغ واپس کرو، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں کچھ اور بھی دینے کو تیار ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4811:حسن] اور روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ! اگر اللہ تعالٰی کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کے منہ پر تھوک دیا کرتی، [سنن ابن ماجه:2057، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ خلع عورت اپنے سے دئیے ہوئے سے زیادہ لے تو بھی جائز ہے کیونکہ قرآن نے آیت «فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ» [2۔ البقرہ: 229] میں فرمایا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت اپنے خاوند سے بگڑی ہوئی آئی، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے گندگی والے گھر میں قید کر دو پھر قید خانہ سے اسے بلوایا اور کہا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آرام کی راتیں مجھ پر میری زندگی میں یہی گزری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہما نے اس کے خاوند سے فرمایا اس سے خلع کر لے۔ اگرچہ گوشوارہ کے بدلے ہی ہو، ایک روایت میں ہے اسے تین دن وہاں قید رکھا تھا۔
سیدنا ابن عمر، ابن عباس، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، ابراہیم، نخعی، قیصہ بن ذویب، حسن بن صالح عثمان رحم اللہ اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام مالک، لیث، امام شافعی اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اصحاب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر قصور اور ضرر رسانی عورت کی طرف سے ہو تو خاوند کو جائز ہے کہ جو اس نے دیا ہے واپس لے لے، لیکن اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ گو زیادہ لے لے تو بھی قضاء کے وقت جائز ہو گا اور اگر خاوند کی اپنی جانب سے زیادتی ہو تو اسے کچھ بھی لینا جائز نہیں۔ گو، لے لے تو قضاء جائز ہو گا۔ امام احمد ابوعبید اور اسحٰق بن راھویہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ خاوند کو اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا جائز ہی نہیں۔ سعید بن مسیب عطاء عمرو بن شعیب زہری طاؤس حسن شعبی حماد بن ابو سلیمان اور ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے۔
معمر اور حاکم کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا بھی یہ فیصلہ ہے۔ اوزاعی کا فرمان ہے کہ قاضیوں کا فیصلہ ہے کہ دئیے ہوئے سے زیادہ کو جائز نہیں جانتے۔ اس مذہب کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ اپنا باغ لے لو اور اس سے زیادہ نہ لو۔ مسند عبد بن حمید میں بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع لینے والی عورت سے اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا مکروہ رکھا، [دار قطنی:255/3:مرسل و ضعیف]
اور اس صورت میں جو کچھ فدیہ وہ دے لے گا، کا لفظ قرآن میں ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دئیے ہوئے میں سے جو کچھ دے، کیونکہ اس سے پہلے یہ فرمان موجود ہے کہ تم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ نہ لو، ربیع کی قرأت میں «بِہِ» کے بعد «مِنْہُ» کا لفظ بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حدود اللہ ہیں ان سے تجاوز نہ کرو ورنہ گنہگار ہوں گے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اکثر اہل علم اسی طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلع طلاق ہے لہٰذا عدت اس کی عدت طلاق کے مثل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک حیض اس کی عدت ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا یہی فیصلہ ہے، سیدنا ابن عمر گو تین حیض کا فتویٰ دیتے تھے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ہم سے بہتر ہیں اور ہم سے بڑے عالم ہیں، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حیض کی مدت بھی مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، امان بن عثمان رحمہ اللہ اور تمام وہ لوگ جن کے نام اوپر آئے ہیں جو خلع کو فسخ کہتے ہیں ضروری ہے کہ ان سب کا قول بھی یہی ہو، ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں بھی یہی ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس کی بیوی صاحبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، [سنن ابوداود:2229، قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں ہے کہ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کو بھی خلع کے بعد ایک ہی حیض عدت گزارنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صادر ہوا تھا۔ [سنن ترمذي:1185، قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خلع والی عورت سے فرمایا تھا کہ تجھ پر عدت ہی نہیں۔ ہاں اگر قریب کے زمانہ میں ہی خاوند سے ملی ہو تو ایک حیض آ جانے تک اس کے پاس ٹھہری رہو۔ مریم مغالبہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ تھا اس کی متابعت امیر المؤمنین نے کی۔ [سنن نسائی:3528، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
اس آیت سے استدلال ہے ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ تینوں طلاقیں ایک مرتبہ ہی دینا حرام ہیں۔ مالکیہ اور ان کے موافقین کا یہی مذہب ہے، ان کے نزدیک سنت طریقہ یہی ہے کہ طلاق ایک ایک دی جائے کیونکہ آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [البقرہ: 229] کہا پھر فرمایا کہ یہ حدیں ہیں اللہ کی، ان سے تجاوز نہ کرو، اس کی تقویت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سنن نسائی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی ہیں۔ آپ سخت غضبناک ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے کیا میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اس شخص کو قتل کروں، لیکن اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ [سنن نسائی:3430، قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان الطلاق في الجاهلية واستمر أول الإسلام يطلق الرجل زوجته بلا نهاية، فكان إذا أراد مضارتها طلقها فإذا شارفت انقضاء عدتها راجعها ثم طلقها وصنع بها مثل ذلك أبداً، فيحصل عليها من الضرر ما الله به عليم. فأخبر تعالى أن {الطلاق}؛ أي: الذي تحصل به الرجعة، {مرتان}؛ ليتمكن الزوج إن لم يرد المضارة من ارتجاعها ويراجع رأيه في هذه المدة، وأما ما فوقها فليس محلاًّ لذلك؛ لأن من زاد على الثنتين فإما متجرئ على المحرم أو ليس له رغبة في إمساكها بل قصده المضارة، فلهذا أمر تعالى الزوج أن يمسك زوجته {بمعروف}؛ أي: عشرة حسنة ويجري مجرى أمثاله مع زوجاتهم، وهذا هو الأرجح، وإلا يسرحها ويفارقها، {بإحسان}؛ ومن الإحسان أن لا يأخذ على فراقه لها شيئاً من مالها لأنه ظلم وأخذ للمال في غير مقابلة بشيء، فلهذا قال: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئاً إلا أن يخافا أن لا يقيما حدود الله}؛ وهي المخالعة بالمعروف بأن كرهت الزوجة زوجها لخُلُقِه أو خَلْقِه أو نقص دينه، وخافت أن لا تطيع الله فيه {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به}؛ لأنه عوض لتحصيل مقصودها من الفرقة، وفي هذا مشروعية الخلع إذا وجدت هذه الحكمة {تلك}؛ أي: ما تقدم من الأحكام الشرعية، {حدود الله}؛ أي: أحكامه التي شرعها لكم وأمر بالوقوف معها {ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون}، وأي ظلم أعظم ممن اقتحم الحلال وتعدى منه إلى الحرام فلم يسعه ما أحل الله؟
والظلم ثلاثة أقسام:
ظلم العبد فيما بينه وبين الله، وظلم العبد الأكبر الذي هو الشرك، وظلم العبد فيما بينه وبين الخلق.
فالشرك لا يغفره الله إلاَّ بالتوبة، وحقوق العباد لا يترك الله منها شيئاً، والظلم الذي بين العبد وربه فيما دون الشرك تحت المشيئة والحكمة.