ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 231

وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ ۪ وَ لَا تُمۡسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا ۫ وَّ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۳۱﴾٪
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو، یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو، تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے سو بلاشبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنائو اور اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کو بھی جو اس نے کتاب و حکمت میں سے تم پر نازل کیا ہے، وہ تمھیں اس کے ساتھ نصیحت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے۔ En
اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ﻇلم وزیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ﻇلم کیا۔ تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 231) ➊ { فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ:} اس کا مطلب عدت ختم ہونا نہیں بلکہ عدت ختم ہونے کے قریب ہونا ہے۔ اس کی دلیل پیچھے گزرا ہوا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ» [البقرۃ: ۲۲۸]اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔
➋ یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق رجعی دو تو ان کی عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے تمھیں رجوع کا حق پہنچتا ہے، مگر یہ رجوع محض انھیں ستانے اورنقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنا ظلم و زیادتی اور احکامِ الٰہی سے مذاق کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جنھیں کوئی سنجیدگی سے کہے تو وہ سنجیدہ ہیں اور ہنسی مذاق میں کہے تب بھی وہ سنجیدہ ہیں، نکاح، طلاق اور رجوع۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی الطلاق علی الھزل: ۲۱۹۴۔ ابن ماجہ: ۲۰۳۹۔ ترمذی، ابن حجر، سیوطی اور البانی رحمھم اللہ نے اسے حسن کہا ہے]
➌ {مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ:} یہاں {الْحِكْمَةِ} سے مراد سنت ہے، یعنی کتاب و سنت کی جو نعمت تم پر نازل کی ہے اسے مت بھولو۔ یہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور دلیل ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ لہٰذا منکرِ حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو منکرِ قرآن کا ہے، مطلب یہ کہ ان آیات میں بیان کردہ گھریلو مسائل کو حدیث پاک کی روشنی میں زیر عمل لانا ضروری ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

231۔ 1 (الطلاق مرتن) میں بتلایا گیا تھا کہ دو طلاق تک رجوع کرنے کا اختیار ہے اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ رجوع عدت کے اندر اندر ہوسکتا ہے عدت گزرنے کے بعد نہیں اس لئے یہ تکرار نہیں ہے جس طرح کے بظاہر ہے۔ 132۔ 2 بعض لوگ مذاق میں طلاق دے دیتے یا نکاح کرلیتے یا آزاد کردیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں میں نے تو مذاق کیا تھا اللہ نے اسے آیات الٰہی سے استہزاء قرار دیا جس سے مقصود اس سے روکنا ہے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مذاق سے بھی اگر کوئی مذکورہ کام کرے گا تو وہ حقیقت ہی سمجھا جائے گا اور مذاق کی طلاق یا نکاح یا آزادی نافذ ہوجائے گی (تفسیر ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

231۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے تو پھر یا تو سیدھی طرح انہیں اپنے پاس رکھو یا پھر بھلے طریقے سے انہیں رخصت کر دو۔ [313] انہیں دکھ پہچانے کی خاطر نہ روکے رکھو (یعنی رجوع کر لو) کہ تم ان پر زیادتی کر سکو۔ اور جو شخص یہ کام کرے گا تو وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام کا مذاق نہ اڑاؤ۔ [314] اور اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا اور جو تم پر کتاب و حکمت نازل کی جس کے ذریعہ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
[313] یہاں اس معاشرتی برائی کا بیان ہے۔ جس کا ذکر پہلے آیت نمبر 229 کے حاشیہ نمبر 1 میں کر دیا گیا ہے۔ یعنی جب تم ایک یا دو طلاقیں دے چکو پھر ان کی عدت پوری ہونے کو آئے تو اس وقت تمہارے لیے دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ خلوص نیت سے ان سے رجوع کرو اس ارادہ سے کہ آئندہ اسے درست طور پر بسانا ہے یا پھر انہیں کچھ دے دلا کر شریفانہ طور پر رخصت کرو۔ اور اگر تم نے رجوع کر کے انہیں تنگ کرنے، ستانے اور ان پر زیادتی کرنے کی روش اختیار کی تو یاد رکھو اس ظلم و زیادتی کا وبال تمہیں اللہ کے ہاں بھگتنا پڑے گا۔
[314] اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کی صورتیں:۔
مذاق اڑانے کا مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کی حیلہ سازیوں سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور احکام کا ایسا مطلب نکالا جائے جو اس کے واضح مفہوم اور اس کی روح کے منافی ہو اور ایسا مذاق اڑانے کی واضح مثال نکاح حلالہ ہے اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص نے اپنی عورت کو بیک وقت تین طلاقیں دے دیں۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو غصہ کی وجہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری زندگی میں اللہ کے احکام سے یوں کھیلا جانے لگا ہے۔ جب کہ ابھی میں تم میں موجود ہوں۔ [نسائي، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث المتفرقة] اس طرح تو اپنی اغراض کی خاطر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم سے اس کی اصل روح کو فنا کر کے اسے الفاظ کی قید میں مقید کر کے اور فقہی موشگافیاں پیدا کر کے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور اسی بات پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی ہے کہ اللہ نے ان احکام میں جو حکمتیں اور مصلحتیں رکھی ہیں۔ ان احکام کا مذاق اڑا کر ان کا ستیاناس ہی نہ کر دینا اور اس سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آئین طلاق کی وضاحت ٭٭
مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے یا عمدگی کے ساتھ لوٹائے یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرے اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھے یا اسے عمدگی سے چھوڑ دے اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں بغیر اختلاف جھگڑے دشمنی اور بد زبانی کے نکال دے، جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے ختم کر دیا کہ طلاق دے دی، عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا، یونہی اس دُکھیا عورت کی عمر برباد کر دیتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہے نہ بیوہ، تو اس سے اللہ نے روکا اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناؤ۔
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حاضرِ خدمت ہو کر [ان اصلاحات طلاق کے بارے میں]‏‏‏‏ سبب دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4928:ضعیف]‏‏‏‏ اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہو جائیں گے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی۔ [دارالمنثور:509/1]‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کر دیتے، نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دِل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4926]‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دِل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہو جائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت[سنن ابوداود:3434، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏۔
امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو۔ یعنی جب تم اپنی بیویوں کو ایک طلاق رجعی یا دو طلاق دے دو ﴿فَ٘بَلَ٘غْ٘نَ اَجَلَهُنَّ پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں۔ یعنی وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں ﴿ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ تو انھیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو۔ یعنی یا تو تم ان سے رجوع کرو اور تمھاری نیت یہ ہونی چاہیے کہ تم ان کے حقوق پورے کرو گے یا تم ان کو بغیر رجوع کیے اور بغیر نقصان پہنچائے چھوڑ دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّلَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے نہ روکو۔ ﴿ لِّتَعْتَدُوْا تاکہ تم زیادتی کرو یعنی تم اپنے اس فعل میں حلال سے تجاوز کر کے حرام میں نہ پڑ جاؤ۔یہاں حلال سے مراد معروف طریقے سے بیوی کو روک لینا اور حرام سے مراد اس کو نقصان پہنچانا ہے۔ ﴿ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ اور جو شخص ایسا کرے گا، پس یقیناً اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اگر حق مخلوق کی طرف لوٹتا ہو تو ضرر اس شخص کی طرف لوٹے گا جو ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے۔ ﴿ وَلَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا اور نہ ٹھہراؤ اللہ کے حکموں کو ہنسی مذاق چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مقرر کردہ حدود کو نہایت وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان حدود کا علم حاصل کیا جائے، ان پر عمل کیا جائے اور انھی پر اکتفا کی جائے اور ان حدود سے تجاوز نہ کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان حدود کو عبث اور بے فائدہ نازل نہیں فرمایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان حدود کو حق، صدق اور اہتمام کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس لیے ان کا تمسخر اڑانے سے منع کیا ہے۔ یعنی ان کو کھیل تماشا بنانے سے روکا ہے، جس کا مطلب ان کے خلاف جسارت کرنا اور ان کی ادائیگی میں عدم اطاعت کا راستہ اختیار کرنا ہے، مثلاً بیوی کو نقصان پہنچانے کی خاطر روکنا یا جدا رکھنا یا کثرت سے طلاق دینا یا تین طلاق ایک ہی بار دے دینا۔ جب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی رحمت، مہربانی اور بندے کی بھلائی کی بنا پر یکے بعد دیگرے (ایک، ایک کر کے) طلاق دینے کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی زبان سے عام طور پر، حمدوثنا کے ذریعے سے۔ دل سے اقرار و اعتراف کر کے اور جوارح (اعضاء) کے ذریعے سے، ان کو اللہ کی اطاعت میں مصروف کر کے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ اور جو اس نے تم پر کتاب و حکمت سے اتارا حکمت سے مراد، سنت ہے، یعنی قرآن اور سنت کے ذریعے سے تمھارے لیے بھلائی کی راہیں واضح کر دیں اور ان پر گامزن ہونے کی تمھیں ترغیب دی اور تمھارے سامنے برائی کے راستے بھی واضح کر دیے اور ان پر چلنے سے ڈرایا، اور اس نے تمھیں اپنی معرفت سے نوازا اور تمھیں اپنے اولیاء اور اعداء کے بارے میں اپنی عادت اور اپنے طریقے سے آگاہ کیا اور تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہاں حکمت سے مراد اسرار شریعت ہیں۔اس معنی کے لحاظ سے، کتاب سے مراد احکام الٰہی اور حکمت سے مراد وہ اسرار و حکم ہیں جو اس کے اوامر اور نواہی کے اندر ہیں اور حکمت کے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ ﴿ یَعِظُكُمْ بِهٖ وہ اس کے ذریعے سے تمھیں نصیحت کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کتاب نازل فرمائی ہے اس کے ذریعے سے وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اس رائے کو تقویت دیتا ہے کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت ہیں کیونکہ حکم اور حکمت اور ترغیب یا ترہیب کے بیان کے ذریعے سے ہی نصیحت کی جاتی ہے۔ پس حکم (یعنی شریعت) سے جہالت زائل ہو جاتی ہے۔ حکمت، ترغیب کے ساتھ رغبت کی موجب ہوتی ہے اور ترہیب کے ساتھ حکمت، اللہ تعالیٰ کے ڈر کی موجب ہوتی ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی اپنے تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمھارے لیے یہ احکام کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں جو اپنے تمام تر مصالح کے ساتھ ہر زمان و مکان میں جاری و ساری ہیں۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے اور اسی کا احسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {وإذا طلقتم النساء}؛ أي: طلاقاً رجعياً بواحدة أو اثنتين {فبلغن أجلهن}؛ أي: قاربن انقضاء عدتهن {فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف}؛ أي: إما أن تراجعوهن ونيتكم القيام بحقوقهن، أو تتركوهن بلا رجعة ولا إضرار، ولهذا قال: {ولا تمسكوهن ضرارًا}؛ أي: مضارة بهن {لتعتدوا} في فعلكم هذا الحلال إلى الحرام، فالحلال الإمساك بالمعروف والحرام المضارة، {ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه}، ولو كان الحق يعود للمخلوق فالضرر عائد إلى من أراد الضرار، {ولا تتخذوا آيات الله هزواً}، لما بين تعالى حدوده غاية التبيين وكان المقصود العلم بها والعمل والوقوف معها وعدم مجاوزتها، لأنه تعالى لم ينزلها عبثاً بل أنزلها بالحق والصدق والجد، نهى عن اتخاذها هزواً، أي: لعباً بها وهو التجري عليها وعدم الامتثال لواجبها، مثل: استعمال المضارة في الإمساك أو الفراق أو كثرة الطلاق أو جمع الثلاث، والله من رحمته جعل له واحدة بعد واحدة رفقاً به، وسعياً في مصلحته.

{واذكروا نعمة الله عليكم}؛ عموماً باللسان حمداً وثناء وبالقلب اعترافاً وإقراراً وبالأركان بصرفها في طاعة الله {وما أنزل عليكم من الكتاب والحكمة}؛ أي: السنة، اللذين بَيَّن لكم بهما طرق الخير، ورغبكم فيها، وطرق الشر، وحذركم إياها، وعرفكم نفسه ووقائعه في أوليائه وأعدائه، وعلمكم ما لم تكونوا تعلمون، وقيل المراد بالحكمة أسرار الشريعة، فالكتاب فيه الحكم، والحكمة فيها بيان حكمة الله في أوامره ونواهيه، وكلا المعنيين صحيح، ولهذا قال: {يعظكم به}؛ أي: بما أنزل عليكم، وهذا مما يقوي أن المراد بالحكمة أسرارُ الشريعة لأن الموعظة ببيان الحكم والحكمة والترغيب أو الترهيب، فالحكم به يزول الجهل، والحكمة مع الترغيب يوجب الرغبة، والحكمة مع الترهيب يوجب الرهبة {واتقوا الله} في جميع أموركم {واعلموا أن الله بكل شيء عليم}؛ فلهذا بين لكم هذه الأحكام بغاية الإتقان والإحكام التي هي جارية مع المصالح في كل زمان ومكان، فله الحمد والمنة.