تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق رجعی دو تو ان کی عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے تمھیں رجوع کا حق پہنچتا ہے، مگر یہ رجوع محض انھیں ستانے اورنقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنا ظلم و زیادتی اور احکامِ الٰہی سے مذاق کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جنھیں کوئی سنجیدگی سے کہے تو وہ سنجیدہ ہیں اور ہنسی مذاق میں کہے تب بھی وہ سنجیدہ ہیں، نکاح، طلاق اور رجوع۔“ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی الطلاق علی الھزل: ۲۱۹۴۔ ابن ماجہ: ۲۰۳۹۔ ترمذی، ابن حجر، سیوطی اور البانی رحمھم اللہ نے اسے حسن کہا ہے]
➌ {مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ:} یہاں {”الْحِكْمَةِ“} سے مراد سنت ہے، یعنی کتاب و سنت کی جو نعمت تم پر نازل کی ہے اسے مت بھولو۔ یہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور دلیل ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ لہٰذا منکرِ حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو منکرِ قرآن کا ہے، مطلب یہ کہ ان آیات میں بیان کردہ گھریلو مسائل کو حدیث پاک کی روشنی میں زیر عمل لانا ضروری ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حاضرِ خدمت ہو کر [ان اصلاحات طلاق کے بارے میں] سبب دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4928:ضعیف] اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہو جائیں گے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی۔ [دارالمنثور:509/1] حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کر دیتے، نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دِل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4926] یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دِل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہو جائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت[سنن ابوداود:3434، قال الشيخ الألباني:حسن]۔
امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {وإذا طلقتم النساء}؛ أي: طلاقاً رجعياً بواحدة أو اثنتين {فبلغن أجلهن}؛ أي: قاربن انقضاء عدتهن {فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف}؛ أي: إما أن تراجعوهن ونيتكم القيام بحقوقهن، أو تتركوهن بلا رجعة ولا إضرار، ولهذا قال: {ولا تمسكوهن ضرارًا}؛ أي: مضارة بهن {لتعتدوا} في فعلكم هذا الحلال إلى الحرام، فالحلال الإمساك بالمعروف والحرام المضارة، {ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه}، ولو كان الحق يعود للمخلوق فالضرر عائد إلى من أراد الضرار، {ولا تتخذوا آيات الله هزواً}، لما بين تعالى حدوده غاية التبيين وكان المقصود العلم بها والعمل والوقوف معها وعدم مجاوزتها، لأنه تعالى لم ينزلها عبثاً بل أنزلها بالحق والصدق والجد، نهى عن اتخاذها هزواً، أي: لعباً بها وهو التجري عليها وعدم الامتثال لواجبها، مثل: استعمال المضارة في الإمساك أو الفراق أو كثرة الطلاق أو جمع الثلاث، والله من رحمته جعل له واحدة بعد واحدة رفقاً به، وسعياً في مصلحته.
{واذكروا نعمة الله عليكم}؛ عموماً باللسان حمداً وثناء وبالقلب اعترافاً وإقراراً وبالأركان بصرفها في طاعة الله {وما أنزل عليكم من الكتاب والحكمة}؛ أي: السنة، اللذين بَيَّن لكم بهما طرق الخير، ورغبكم فيها، وطرق الشر، وحذركم إياها، وعرفكم نفسه ووقائعه في أوليائه وأعدائه، وعلمكم ما لم تكونوا تعلمون، وقيل المراد بالحكمة أسرار الشريعة، فالكتاب فيه الحكم، والحكمة فيها بيان حكمة الله في أوامره ونواهيه، وكلا المعنيين صحيح، ولهذا قال: {يعظكم به}؛ أي: بما أنزل عليكم، وهذا مما يقوي أن المراد بالحكمة أسرارُ الشريعة لأن الموعظة ببيان الحكم والحكمة والترغيب أو الترهيب، فالحكم به يزول الجهل، والحكمة مع الترغيب يوجب الرغبة، والحكمة مع الترهيب يوجب الرهبة {واتقوا الله} في جميع أموركم {واعلموا أن الله بكل شيء عليم}؛ فلهذا بين لكم هذه الأحكام بغاية الإتقان والإحكام التي هي جارية مع المصالح في كل زمان ومكان، فله الحمد والمنة.