تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو حمل سے فارغ ہونا۔ (دیکھیے طلاق: ۴) اور اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہو جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے احزاب: ۴۹) پس اس آیت میں لفظ {”الْمُطَلَّقٰتُ“} (وہ عورتیں جنھیں طلاق دی جائے) سے ان عورتوں کی عدت بیان کرنا مقصود ہے جن سے خاوند صحبت کر چکے ہوں اور وہ حاملہ نہ ہوں، نہ ہی ایسی ہوں جنھیں حیض نہیں آتا، نہ لونڈیاں ہوں۔ تو ان کی عدت تین ”قروء“ ہے۔ {”قُرُوْٓءٍ“} کا لفظ جمع ہے اس کا واحد {”قُرْءٌ“} ہے اور یہ حیض کے ایام پر بھی بولا جاتا ہے اور طہر (یعنی حیض سے پاک ہونے) کے ایام پر بھی۔ بندہ کی تحقیق میں حیض والا معنی راجح ہے۔ مزید مسائل کے لیے دیکھیے سورۂ طلاق کی ابتدائی آیات۔
➌ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہاکا بیان ہے کہ پہلے مطلقہ عورت کے لیے کوئی عدت نہیں تھی(خاوند جب چاہتا رجوع کر لیتا) تو جب مجھے طلاق ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی عدۃ المطلقۃ:۲۲۸۱، وسندہ حسن]
➍ { وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ …:} یعنی عورتوں کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رحم میں جو کچھ ہے یعنی حمل یا حیض یا طہر، اسے چھپائیں اور غلط بیانی کریں، کیونکہ عدت اس پر موقوف ہے۔ حمل چھپانے کی صورت میں کسی کا بچہ دوسرے کے نام لگ جائے گا اور حیض چھپانے کی صورت میں اصل عدت سے پہلے یا بعد فارغ ہو گی، اس میں حرام کے ارتکاب کا امکان ہے۔
➎ {وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ:} یعنی عدت کے اندر اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو عورت کو لازماً ماننا ہو گا۔ (ابن کثیر)
➏ {وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یعنی عورتوں کا بھی معروف طریقے کے مطابق مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے، جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تمھارا ان(عورتوں) پر یہ حق ہے کہ وہ تمھارے بستر پر اس کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور اگر وہ ایسا کریں تو انھیں مارو، ایسا مارنا جو شدید نہ ہو اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ انھیں دستور کے مطابق کھانا اور لباس دو۔“[مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸]
➐ {وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ:} یعنی مرتبہ میں، اطاعت کا حق رکھنے میں، خرچ کرنے میں، فطری قوتوں میں، میراث میں، خصوصاً ان آیات میں مذکور طلاق و رجوع کا حق رکھنے میں، الغرض دین و دنیا کے بہت سے شرف عورت پر ان کی برتری کا باعث ہیں۔ سورۂ نساء میں ہے: «اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ» [النساء: ۳۴] ”مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام حافظ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت قاسم بن محمد کا اپنا قول ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہی ہے، اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه:2079، قال الشيخ الألباني:ضعیف] بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہٖ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لیے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ [سنن ابوداود:2281، قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہو گی اور خاوند اس سے الگ ہوا۔ [مؤطا:578/2] امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [65-الطلاق: 1] یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے۔
عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کر لینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی [یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہو جائے گا یا نہیں؟] آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کی تائید کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/4] سیدنا صدیق اکبر، عمر، عثمان، علی، ابودرداء، عبادہ بن صامت، انس بن مالک، عبداللہ بن مسعود، معاذ، ابی بن کعب، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیان، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحٰق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بن ابی جیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دِنوں میں چھوڑ دو۔ [سنن ابوداود:280، قال الشيخ الألباني:صحیح] پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابوعمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ [مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے]۔
پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہو جائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہو جائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہو جائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہو جائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لیے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو، ہاں گھر میں رکھو، [سنن ابوداود:2142، قال الشيخ الألباني:صحیح] اسی آیت کو پڑھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:532/4] پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ» [4۔ النسأ: 34] یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: النساء [اللاتي] طلقهن أزواجهن {يتربصن بأنفسهن}؛ أي: ينتظرن ويعتددن مدة {ثلاثة قروء}؛ أي: حيض أو أطهار على اختلاف العلماء في المراد بذلك مع أن الصحيح أن القرء الحيض، ولهذه العدة عدة حكم منها العلم ببراءة الرحم إذا تكررت عليها ثلاثة الأقراء علم أنه ليس في رحمها حمل فلا يفضي إلى اختلاط الأنساب، ولهذا أوجب تعالى عليهن الإخبار عن، {ما خلق الله في أرحامهن}؛ وحرم عليهن كتمان ذلك من حمل أو حيض، لأن كتمان ذلك يفضي إلى مفاسد كثيرة فكتمان الحمل موجب أن تلحقه بغير من هو له رغبة فيه أو استعجالاً لانقضاء العدة فإذا ألحقته بغير أبيه حصل من قطع الرحم والإرث واحتجاب محارمه وأقاربه عنه، وربما تزوج ذوات محارمه وحصل في مقابلة ذلك إلحاقه بغير أبيه وثبوت توابع ذلك من الإرث منه وله، ومن جعل أقارب الملحق به أقارب له وفي ذلك من الشر والفساد ما لا يعلمه إلا رب العباد، ولو لم يكن في ذلك إلا إقامتها مع من نكاحها باطل في حقه، وفيه الإصرار على الكبيرة العظيمة وهي الزنا لكفى بذلك شرًّا.
وأما كتمان الحيض فإن استعجلت فأخبرت به وهي كاذبة ففيه من انقطاع حق الزوج عنها وإباحتها لغيره وما يتفرع عن ذلك من الشرِّ كما ذكرنا، وإن كذبت وأخبرت بعدم وجود الحيض لتطول العدة فتأخذ منه نفقة غير واجبة عليه بل هي سحت عليها محرمة من جهتين: من كونها لا تستحقه، ومن كونها نسبته إلى حكم الشرع وهي كاذبة، وربما راجعها بعد انقضاء العدة فيكون ذلك سفاحاً لكونها أجنبية منه، فلهذا قال تعالى: {ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن إن كن يؤمن بالله واليوم الآخر}.
فصدور الكتمان منهن دليل على عدم إيمانهن بالله واليوم الآخر وإلا فلو آمنَّ بالله واليوم الآخر وعرفن أنهن مجزيات عن أعمالهن لم يصدر منهن شيء من ذلك، وفي ذلك دليل على قبول خبر المرأة عما تخبر بها عن نفسها من الأمر الذي لا يطلع عليه غيرها كالحمل والحيض ونحوهما.
ثم قال تعالى: {وبعولتهن أحق بردهن في ذلك}؛ أي: لأزواجهن ما دامت متربصة في تلك العدة أن يردوهن إلى نكاحهن {إن أرادوا إصلاحاً}؛ أي: رغبة وألفة ومودة، ومفهوم الآية أنهم إن لم يريدوا الإصلاح فليسوا بأحق بردهن فلا يحل لهم أن يراجعوهن لقصد المضارة لها وتطويل العدة عليها، وهل يملك ذلك مع هذا القصد؟ فيه قولان:
الجمهور على أنه يملك ذلك مع التحريم، والصحيح أنه إذا لم يرد الإصلاح لا يملك ذلك كما هو ظاهر الآية الكريمة، وهذه حكمة أخرى في هذا التربص، وهي أنه ربما أن زوجها ندم على فراقه لها فجعلت له هذه المدة ليتروى بها ويقطع نظره، وهذا يدل على محبته تعالى للألفة بين الزوجين وكراهته للفراق كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ، وهذا خاص في الطلاق الرجعي، وأما الطلاق البائن فليس البعل بأحق برجعتها، بل إن تراضيا على التراجع فلا بد من عقد جديد مجتمع الشروط.
ثم قال تعالى: {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف}؛ أي: وللنساء على بعولتهن من الحقوق واللوازم مثل الذي عليهن لأزواجهن من الحقوق اللازمة والمستحبة، ومرجع الحقوق بين الزوجين إلى المعروف وهو العادة الجارية في ذلك البلد وذلك الزمان من مثلها لمثله، ويختلف ذلك باختلاف الأزمنة والأمكنة والأحوال والأشخاص والعوائد، وفي هذا دليل على أن النفقة والكسوة والمعاشرة والمسكن وكذلك الوطء الكل يرجع إلى المعروف، فهذا موجب العقد المطلق، وأما مع الشرط فعلى شرطهما، إلا شرطاً أحل حراماً أو حرم حلالاً.
{وللرجال عليهن درجة}؛ أي: رفعة ورياسة وزيادة حق عليها كما قال تعالى: {الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم}؛ ومنصب النبوة والقضاء والإمامة الصغرى والكبرى وسائر الولايات [مختصٌّ] بالرجال، وله ضعفا ما لها في كثير من الأمور كالميراث ونحوه {والله عزيز حكيم}؛ أي: له العزة القاهرة والسلطان العظيم الذي دانت له جميع الأشياء، ولكنه مع عزته حكيم في تصرفه.
ويخرج من عموم هذه الآية الحوامل فعدتهن وضع الحمل، واللاتي لم يدخل بهن فليس لهن عدة، والإماء فعدتهن حيضتان كما هو قول الصحابة رضي الله عنهم، وسياق الآية يدل على أن المراد بها الحرة.