ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 228

وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ؕ وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۸﴾٪
اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ وہ چیز چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں، اگر وہ (معاملہ) درست کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور معروف کے مطابق ان (عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے
En
طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا اراده اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 228) ➊ اگر خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فوراً اس سے جدا نہیں ہوتی، بلکہ اسے کچھ مدت انتظار میں گزارنا ہو گی جس کے اندر خاوند اس سے رجوع کر سکتا ہے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد عورت آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کر لے۔ اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔
➋ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو حمل سے فارغ ہونا۔ (دیکھیے طلاق: ۴) اور اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہو جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے احزاب: ۴۹) پس اس آیت میں لفظ {الْمُطَلَّقٰتُ} (وہ عورتیں جنھیں طلاق دی جائے) سے ان عورتوں کی عدت بیان کرنا مقصود ہے جن سے خاوند صحبت کر چکے ہوں اور وہ حاملہ نہ ہوں، نہ ہی ایسی ہوں جنھیں حیض نہیں آتا، نہ لونڈیاں ہوں۔ تو ان کی عدت تین قروء ہے۔ {قُرُوْٓءٍ} کا لفظ جمع ہے اس کا واحد {قُرْءٌ} ہے اور یہ حیض کے ایام پر بھی بولا جاتا ہے اور طہر (یعنی حیض سے پاک ہونے) کے ایام پر بھی۔ بندہ کی تحقیق میں حیض والا معنی راجح ہے۔ مزید مسائل کے لیے دیکھیے سورۂ طلاق کی ابتدائی آیات۔
➌ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہاکا بیان ہے کہ پہلے مطلقہ عورت کے لیے کوئی عدت نہیں تھی(خاوند جب چاہتا رجوع کر لیتا) تو جب مجھے طلاق ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا۔ [أبو داوٗد، الطلاق، باب فی عدۃ المطلقۃ:۲۲۸۱، وسندہ حسن]
➍ { وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ …:} یعنی عورتوں کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رحم میں جو کچھ ہے یعنی حمل یا حیض یا طہر، اسے چھپائیں اور غلط بیانی کریں، کیونکہ عدت اس پر موقوف ہے۔ حمل چھپانے کی صورت میں کسی کا بچہ دوسرے کے نام لگ جائے گا اور حیض چھپانے کی صورت میں اصل عدت سے پہلے یا بعد فارغ ہو گی، اس میں حرام کے ارتکاب کا امکان ہے۔
➎ {وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ:} یعنی عدت کے اندر اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو عورت کو لازماً ماننا ہو گا۔ (ابن کثیر)
➏ {وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یعنی عورتوں کا بھی معروف طریقے کے مطابق مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے، جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمھارا ان(عورتوں) پر یہ حق ہے کہ وہ تمھارے بستر پر اس کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور اگر وہ ایسا کریں تو انھیں مارو، ایسا مارنا جو شدید نہ ہو اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ انھیں دستور کے مطابق کھانا اور لباس دو۔[مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸]
➐ {وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ:} یعنی مرتبہ میں، اطاعت کا حق رکھنے میں، خرچ کرنے میں، فطری قوتوں میں، میراث میں، خصوصاً ان آیات میں مذکور طلاق و رجوع کا حق رکھنے میں، الغرض دین و دنیا کے بہت سے شرف عورت پر ان کی برتری کا باعث ہیں۔ سورۂ نساء میں ہے: «اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ» [النساء: ۳۴] مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

228۔ 1 اس سے وہ متعلقہ عورت مراد ہے جو حاملہ بھی نہ ہو (کیونکہ حمل والی عورت کی مدت وضع حمل تک ہے) جسے دخول سے قبل طلاق مل گئی ہو وہ بھی نہ ہو (کیونکہ اس کی کوئی عدت ہی نہیں) جس کو حیض آنا بند ہوگیا ہو کیونکہ ان کی عدت تین مہینے ہے گویا مذکورہ عورتوں کے علاوہ صرف مدخولہ عورت کی عدت بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی تین طہر یا تین حیض عدت گزار کے وہ دوسری شادی کرنے کی مجاز ہے سلف نے قروء کے دونوں ہی معنی صحیح قرار دئیے ہیں اس لئے دونوں کی گنجائش ہے (ابن کثیر فتح القدیر) 228۔ 2 اس سے حیض اور حمل دونوں ہی مراد ہیں حیض نہ چھپائیں مثلاً کہے کہ طلاق کے بعد مجھے ایک دو حیض آئے ہیں مقصد پہلے خاوند کی طرف رجوع کرنا ہو (اگر وہ رجوع کرنا چاہتا ہو)۔ اسی طرح حمل نہ چھپائیں کیونکہ نطفہ وہ پہلے خاوند کا ہوگا اور منسوب دوسرے خاوند کی طرف ہوجائے گا اور یہ سخت کبیرہ گناہ ہے۔ 228۔ 3 رجوع کرنے سے خاوند کا مقصد اگر تنگ کرنا نہ ہو تو عدت کے اندر خاوند کو رجوع کرنے کا پورا حق حاصل ہے عورت کے ولی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔ 228۔ 4 دونوں کے حقوق ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جن کو پورا کرنے کے دونوں شرعاً پابند ہیں تاہم مرد کو عورت پر فضیلت یا درجہ حاصل ہے مثلا فطری قوتوں میں جہاد کی اجازت ہے میراث کے دوگنا ہونے میں قوامیت اور حاکمیت میں اور اختیار طلاق و رجوع (وغیرہ) میں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

228۔ اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ تین حیض [303] کی مدت اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ اور اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو انہیں یہ جائز نہیں کہ اللہ نے جو کچھ ان کے رحم میں [304] پیدا کیا ہو، اسے چھپائیں اور اگر ان کے خاوند اس مدت میں پھر سے تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہوں تو وہی انہیں زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ [305] حق دار ہیں۔ نیز عورتوں کے بھی مناسب طور پر مردوں پر حقوق ہیں جیسا کہ مردوں کے عورتوں پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ [306] حاصل ہے۔ اور (یہ احکام دینے والا) اللہ تعالیٰ صاحب اختیار بھی ہے اور حکمت والا بھی
[303] یہ حکم ان عورتوں کے لیے ہے جو حاملہ نہ ہوں کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے اور جس عورت سے اس کے خاوند نے ابھی تک صحبت ہی نہ کی، اس پر کوئی عدت نہیں۔ عدت کے دوران نان و نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتا ہے اور اسے اپنے خاوند کے ہاں ہی عدت گزارنا چاہیے۔ کیونکہ اس دوران خاوند اس سے رجوع کا حق رکھتا ہے اور قانوناً وہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے۔ قروء، قرء کی جمع ہے اور قرء کا معنی لغوی لحاظ سے حیض بھی ہے اور طہر بھی۔ یعنی یہ لفظ لغت «ذوي الاضداد» سے ہے۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں۔ جبکہ شوافع اور مالکیہ طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔ طلاق دینے کا صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کئے طلاق دے دی جائے اور پوری مدت گزر جانے دی جائے۔ عدت کے بعد عورت بائن ہو جائے گی۔ اب فرض کیجئے کہ کسی عورت ہندہ نامی کی عادت یہ ہے کہ اسے ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض ہے یعنی 3 ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے فارغ ہو گی، تب اس کی عدت ختم ہو گی۔ جبکہ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہو چکے ہوں گے۔ یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہو چکی ہو گی۔ اس طرح قروء کی مختلف تعبیروں سے تین دن کا فرق پڑ گیا۔ اور ہم نے جو قروء کا ترجمہ حیض کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے فاطمہ بنت حبیش سے فرمایا کہ: «دعي الصلوة ايام اقرائك» یعنی ایام حیض میں نماز چھوڑ دو۔ علاوہ ازیں خلفائے اربعہ، بہت سے صحابہؓ کبار اور تابعین اس بات کے قائل ہیں کہ قروء کا معنی حیض ہے۔
[304] حمل میں غلط بیانی:۔
یعنی انہیں چاہیے کہ وہ صاف صاف بتلا دیں کہ انہیں حیض آتا ہے یا وہ حاملہ ہیں جیسی بھی صورت ہو، مثلاً عورت حاملہ تھی مگر اس نے خاوند کو نہ بتلایا، اگر بتلا دیتی تو شاید خاوند طلاق نہ دیتا، یا عورت کو تیسرا حیض آ چکا مگر اس نے خاوند کو نہ بتلایا تاکہ اس سے نان نفقہ وصول کرتی رہے۔ غرضیکہ جھوٹ سے کئی صورتیں پیش آ سکتی ہیں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈر کر صحیح صحیح بات بتلا دیا کریں۔
[305] مرد کوعورت پر فوقیت:۔
یعنی عدت کے اندر تو خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہے لیکن عدت گزر جانے کے بعد بھی (اگر ایک یا دوسری طلاق دے دی ہو تیسری نہ دی ہو) تو اگر میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر راضی ہوں تو وہی زیادہ حقدار ہیں کہ از سر نو نکاح کرا لیں۔ جیسا اس سورۃ کی آیت نمبر 232 سے واضح ہے۔ [306] مردوں اور عورتوں کے حقوق کی تفصیل طویل ہے۔ البتہ مرد کو عورت پر فضیلت کا جو درجہ حاصل ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ مرد ہی عورتوں کے معاملات کے ذمہ دار اور پورے گھر کے منتظم ہوتے ہیں اور خرچ و اخراجات بھی وہی برداشت کرتے ہیں۔ لہذا طلاق اور رجوع کا حق صرف مرد کو دیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

طلاق کے مسائل ٭٭
ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رُکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کر سکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کر دیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لیے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ [ابن جریر]‏‏‏‏ لیکن اس کے راوی مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ [سنن ابوداود:2189، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
امام حافظ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت قاسم بن محمد کا اپنا قول ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہی ہے، اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه:2079، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہٖ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لیے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ [سنن ابوداود:2281، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
«قُرُوءٍ» کے معنی میں سلف خلف کا برابر اختلاف رہا ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد طہر یعنی پاکی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا یہی فرمان ہے چنانچہ انہوں نے اپنی بھتیجی عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جبکہ وہ تین طہر گزار چکیں اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے جب یہ روایت بیان کی تو عمرہ نے جو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری بھتیجی ہیں، اس واقعہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض بھی کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اقراء سے مراد طہر ہیں۔ مؤطا576/2]‏‏‏‏ بلکہ موطا میں ابوبکر بن عبدالرحمٰن کا تو یہ قول بھی مروی ہے کہ میں نے سمجھدار علماء فقہاء کو قروء کی تفسیر طہر سے ہی کرتے سنا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہو گی اور خاوند اس سے الگ ہوا۔ [مؤطا:578/2]‏‏‏‏ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [65-الطلاق: 1]‏‏‏‏ یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آیت مندرجہ بالا میں بھی قروء سے مراد حیض کے سوا یعنی پاکی کی حالت ہے، اسی لیے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جہاں تیسرا حیض شروع ہوا اور عورت نے اپنے خاوند کی عدت سے باہر ہو گئی اور اس کی کم سے کم مدت جس میں اگر عورت کہے کہ اسے تیسرا حیض شروع ہو گیا ہے تو اسے سچا سمجھا جائے۔ بتیس دن اور دو لحظہ ہیں،
عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کر لینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی [یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہو جائے گا یا نہیں؟]‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کی تائید کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/4]‏‏‏‏ سیدنا صدیق اکبر، عمر، عثمان، علی، ابودرداء، عبادہ بن صامت، انس بن مالک، عبداللہ بن مسعود، معاذ، ابی بن کعب، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیان، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔
امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحٰق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بن ابی جیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دِنوں میں چھوڑ دو۔ [سنن ابوداود:280، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابوعمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ [مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے]‏‏‏‏۔
پھر فرمایا ان کے رحم میں جو ہوا اس کا چھپانا حلال نہیں حمل ہو تو اور حیض آئے تو۔ پھر فرمایا اگر انہیں اللہ اور قیامت پر ایمان ہو، اس میں دھمکایا جا رہا ہے کہ حق کیخلاف نہ کہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر میں ان کی بات کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ اس پر کوئی بیرونی شہادت قائم نہیں کی جا سکتی اس لیے انہیں خبردار کر دیا گیا کہ عدت سے جلد نکل جانے کیلئے [حیض نہ آیا ہو]‏‏‏‏ اور کہہ نہ دیں کہ انہیں حیض آ گیا یا عدت کو بڑھانے کیلئے [حیض]‏‏‏‏ آیا مگر اسے چھپا نہ لیں اسی طرح حمل کی بھی خبر کر دیں۔
پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہو جائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہو جائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہو جائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہو جائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لیے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ جیسے ان عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی ان عورتوں کے مردوں پر بھی حقوق ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا پاس و لحاظ عمدگی سے رکھنا چاہیئے، صحیح مسلم شریف میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے اللہ کی امانت کہہ کر انہیں لیا ہے اور اللہ کے کلمہ سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے فرش پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جس سے تم ناراض ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن مار ایسی نہ ہو کہ ظاہر ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی بساط کے مطابق کھلاؤ پلاؤ پہناؤ اوڑاؤ، [صحیح مسلم:1218:صحیح]‏‏‏‏
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو، ہاں گھر میں رکھو، [سنن ابوداود:2142، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اسی آیت کو پڑھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:532/4]‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ» [4۔ النسأ: 34]‏‏‏‏ یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ عورتیں جن کو ان کے شوہروں نے طلاق دے دی ہے ﴿ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْ٘فُ٘سِهِنَّ اپنے تئیں روکے رکھیں یعنی وہ انتظار کریں اور عدت پوری کریں ﴿ ثَلٰثَةَ قُ٘رُوْٓءٍ تین حیض قرء کے معنی میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک اس کے معنی حیض اور بعض کے نزدیک طہر کے ہیں۔ تاہم صحیح مسلک یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں اور اس عدت کی متعددحکمتیں ہیں، مثلاً جب مطلقہ عورت کو بتکرار تین حیض آجاتے ہیں تو براء ت رحم ہو جاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پیٹ میں حمل نہیں اور اس طرح نسب میں اختلاط کا کوئی خدشہ نہیں رہتا۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو کچھ تخلیق کیا ہے اس کے بارے میں آگاہ کریں۔ اور حمل یا حیض کا چھپانا ان پر حرام ٹھہرایا ہے کیونکہ ان کا حیض یا حمل چھپانا بہت سے مفاسد کا باعث بنتا ہے۔ حمل کو چھپانا اس بات کا موجب بنتا ہے کہ عورت اپنے حمل کے نسب کو کسی ایسے شخص کے ساتھ ملحق کر دے جس میں اسے رغبت ہے یا محض عدت کے پورا ہو جانے میں جلد بازی کے لیے حیض آنے کا اعلان کر دے۔ پس جب یہ عورت اپنے حمل کو اس کے باپ کے سوا کسی اور کے ساتھ ملحق کر دیتی ہے، تو یہ چیز قطع رحمی اور میراث سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے، اس کے لیے اس کے محرموں اور اقارب سے پردے کا موجب بنتی ہے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اس الحاق سے محارم کے درمیان نکاح کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں باپ کے سوا کسی اور شخص سے اس حمل کا الحاق ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کے تمام توابع، مثلاً میراث وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے اور جس شخص کے ساتھ اس حمل کا الحاق کیا گیا ہوتا ہے، اس کے تمام اقارب کو اس بچے کے اقارب بنا دیتا ہے اور اس میں بہت بڑا شر اور فساد ہے جسے بندوں کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اگر اس میں مذکورہ باتیں نہ بھی ہوں، تب بھی مطلقہ کا ایسے شخص سے نکاح کر لینا، جس سے اس کا نکاح جائز ہی نہیں تھا، تو اس کا یہ ایک نتیجہ ہی اس فعل کی برائی کے لیے کافی ہے، کیونکہ یہ نکاح، نکاح نہیں، زنا ہو گا، جو کبیرہ گناہ اور اس پر اصرار ہے۔ رہا حیض کو چھپانا تو اس نے عجلت سے کام لے کر جھوٹ بولتے ہوئے حیض آنے کی خبر دی ہے تو اس میں پہلے خاوند کی حق تلفی اور اپنے آپ کو دوسرے کے لیے مباح قرار دینا ہے، نیز اس سے دیگر برائیاں متفرع ہوتی ہیں جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اگر وہ حیض کے عدم وجود کی جھوٹی اطلاع دیتی ہے تاکہ عدت لمبی ہو جائے اور اس طرح وہ نان و نفقہ حاصل کر سکے جو شوہر پر واجب نہ تھا تو یہ دو پہلوؤں سے اس پر حرام ہے۔ (۱) اب وہ اس کی مستحق نہیں رہی۔ (۲) اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔
اس صورت میں بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ عدت کے ختم ہو جانے کے بعد خاوند رجوع کر لیتا ہے (یعنی خاوند مطلقہ کی اطلاع کے مطابق سمجھتا ہے کہ ابھی عدت ختم نہیں ہوئی) یہ رجوع درحقیقت زنا ہے۔ کیونکہ یہ عورت اب اس کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا یَحِلُّ لَ٘هُنَّ اَنْ یَّكْ٘تُ٘مْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُ٘نَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہیں حیض یا حمل کو چھپانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتیں۔ اگر ان کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ہوتا اور انھیں علم ہوتا کہ انھیں ان کے اعمال کی جزا ملے گی تو ان سے کبھی یہ فعل صادر نہ ہوتا۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت اپنے معاملات کے بارے میں جن کی اطلاع اس کے سوا کسی اور کو نہیں ہوتی، مثلاً حیض اور حمل وغیرہ۔۔۔ کوئی خبر دیتی ہے، تو وہ قابل قبول ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَبُعُوْلَ٘تُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اور ان کے خاوند ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔ یعنی جب تک بیویاں عدت کے اندر عدت پوری ہونے کی منتظر ہیں اس وقت تک ان کے شوہر ان سے رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں ﴿ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہے یعنی اگر شوہر رغبت، الفت اور مودت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر رجوع کرنے سے ان کا مقصد اصلاح نہیں تو وہ انھیں واپس لانے کا حق نہیں رکھتے، کیونکہ بیوی کو نقصان پہنچانے اور عدت کو طول دینے کی غرض سے رجوع کرنا جائز نہیں۔ کیا خاوند اس قسم کا مقصد و ارادہ رکھتے ہوئے رجوع کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟ فقہاء اس بارے میں دو آراء رکھتے ہیں۔
جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ تحریم کے باوجود خاوند یہ اختیار رکھتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اگر شوہر اصلاح کا ارادہ نہیں رکھتا تو رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ جیسا کہ آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ دلالت کرتے ہیں۔
اور اس انتظار میں یہ دوسری حکمت ہے۔ وہ اس طرح کہ بسا اوقات شوہر بیوی کو طلاق دے کر نادم ہوتا ہے تو اس کے لیے یہ مدت رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے فیصلہ طلاق پر غور کر لے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان الفت چاہتا ہے ان کے درمیان جدائی اسے پسند نہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللہِ الطَّلَاقُحلال چیزوں میں سے جو سب سے زیادہ اللہ کو ناپسند ہے، وہ طلاق ہے۔(سنن أبي داود، الطلاق، باب في کراھیۃ الطلاق، حديث:2178) رجوع کا یہ حق طلاق رجعی کے ساتھ مخصوص ہے۔ رہی طلاق بائن تو اس میں خاوند کو رجوع کا حق نہیں۔ البتہ اگر میاں بیوی دونوں رجوع پر راضی ہوں، تو نکاح کی پوری شرائط کے ساتھ نیا نکاح ضروری ہے۔
﴿ وَلَ٘هُنَّ مِثْ٘لُ الَّذِیْ عَلَ٘یْهِنَّ بِالْ٘مَعْرُوْفِ اور عورتوں کا حق ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ یعنی عورتوں کے اپنے شوہروں پر وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے اپنی بیویوں پر ہیں۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کے بارے میں اصل مرجع معروف ہے، یہاں معروف سے مراد اس زمانے اور اس شہر میں عورتوں مردوں کے بارے میں جاری عادت ہے۔ زمان و مکان، احوال و اشخاص اور عادات میں تغیر و تبدل کے ساتھ معروف میں تبدیلی ہو جائے گی۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ نان و نفقہ، لباس، معاشرتی تعلق، گھر، اسی طرح میاں بیوی کے درمیان خاص تعلق، ان سب کا مرجع معروف ہے۔ یہ عقد مطلق کی صورت میں ہے، یعنی نکاح کے وقت کوئی شرط طے نہ کی گئی ہو۔ لیکن جو نکاح مطلق نہیں، مقید یعنی شرطوں کے ساتھ ہو گا، تو وہاں ان شرطوں کا ایفاء ضروری ہو گا۔ البتہ کوئی ایسی شرط نہ ہو جو حرام کو حلال اور کسی حلال کو حرام ٹھہرا دے۔ ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَ٘یْهِنَّ دَرَجَةٌ اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلرِّؔجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ (النساء:4؍34) مرد عورتوں پر حاکم و قوام ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے نیز اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
منصب نبوت، منصب قضا، امامت صغری، امامت کبری اور دیگر تمام شعبوں کی سربراہی مردوں سے مخصوص ہے۔ میراث وغیرہ جیسے بہت سے معاملات میں بھی مرد کو عورت کے مقابلے میں دوگنا حیثیت حاصل ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ اور اللہ غالب صاحب حکمت ہے یعنی اللہ تعالیٰ عزت اور غلبہ اور بہت بڑے تسلط اور اختیارات کا مالک ہے۔ تمام کائنات اس کے سامنے سرافگندہ ہے مگر وہ اپنے غلبہ اور اختیارات کے باوجود اپنے تصرفات میں نہایت حکمت سے کام لیتا ہے۔
اس آیت کریمہ کے عموم سے مندرجہ ذیل صورتیں مستثنیٰ ہیں۔
(۱) اگر مطلقہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔
(۲) اگر مطلقہ غیر مدخولہ ہو یعنی اس کے ساتھ خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو، تو اس پر کوئی عدت نہیں۔
(۳) لونڈیوں کی عدت دو حیض ہے۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قول ہے۔ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ آیت میں مذکورہ عورت سے مراد آزاد عورت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: النساء [اللاتي] طلقهن أزواجهن {يتربصن بأنفسهن}؛ أي: ينتظرن ويعتددن مدة {ثلاثة قروء}؛ أي: حيض أو أطهار على اختلاف العلماء في المراد بذلك مع أن الصحيح أن القرء الحيض، ولهذه العدة عدة حكم منها العلم ببراءة الرحم إذا تكررت عليها ثلاثة الأقراء علم أنه ليس في رحمها حمل فلا يفضي إلى اختلاط الأنساب، ولهذا أوجب تعالى عليهن الإخبار عن، {ما خلق الله في أرحامهن}؛ وحرم عليهن كتمان ذلك من حمل أو حيض، لأن كتمان ذلك يفضي إلى مفاسد كثيرة فكتمان الحمل موجب أن تلحقه بغير من هو له رغبة فيه أو استعجالاً لانقضاء العدة فإذا ألحقته بغير أبيه حصل من قطع الرحم والإرث واحتجاب محارمه وأقاربه عنه، وربما تزوج ذوات محارمه وحصل في مقابلة ذلك إلحاقه بغير أبيه وثبوت توابع ذلك من الإرث منه وله، ومن جعل أقارب الملحق به أقارب له وفي ذلك من الشر والفساد ما لا يعلمه إلا رب العباد، ولو لم يكن في ذلك إلا إقامتها مع من نكاحها باطل في حقه، وفيه الإصرار على الكبيرة العظيمة وهي الزنا لكفى بذلك شرًّا.

وأما كتمان الحيض فإن استعجلت فأخبرت به وهي كاذبة ففيه من انقطاع حق الزوج عنها وإباحتها لغيره وما يتفرع عن ذلك من الشرِّ كما ذكرنا، وإن كذبت وأخبرت بعدم وجود الحيض لتطول العدة فتأخذ منه نفقة غير واجبة عليه بل هي سحت عليها محرمة من جهتين: من كونها لا تستحقه، ومن كونها نسبته إلى حكم الشرع وهي كاذبة، وربما راجعها بعد انقضاء العدة فيكون ذلك سفاحاً لكونها أجنبية منه، فلهذا قال تعالى: {ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن إن كن يؤمن بالله واليوم الآخر}.

فصدور الكتمان منهن دليل على عدم إيمانهن بالله واليوم الآخر وإلا فلو آمنَّ بالله واليوم الآخر وعرفن أنهن مجزيات عن أعمالهن لم يصدر منهن شيء من ذلك، وفي ذلك دليل على قبول خبر المرأة عما تخبر بها عن نفسها من الأمر الذي لا يطلع عليه غيرها كالحمل والحيض ونحوهما.

ثم قال تعالى: {وبعولتهن أحق بردهن في ذلك}؛ أي: لأزواجهن ما دامت متربصة في تلك العدة أن يردوهن إلى نكاحهن {إن أرادوا إصلاحاً}؛ أي: رغبة وألفة ومودة، ومفهوم الآية أنهم إن لم يريدوا الإصلاح فليسوا بأحق بردهن فلا يحل لهم أن يراجعوهن لقصد المضارة لها وتطويل العدة عليها، وهل يملك ذلك مع هذا القصد؟ فيه قولان:

الجمهور على أنه يملك ذلك مع التحريم، والصحيح أنه إذا لم يرد الإصلاح لا يملك ذلك كما هو ظاهر الآية الكريمة، وهذه حكمة أخرى في هذا التربص، وهي أنه ربما أن زوجها ندم على فراقه لها فجعلت له هذه المدة ليتروى بها ويقطع نظره، وهذا يدل على محبته تعالى للألفة بين الزوجين وكراهته للفراق كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ، وهذا خاص في الطلاق الرجعي، وأما الطلاق البائن فليس البعل بأحق برجعتها، بل إن تراضيا على التراجع فلا بد من عقد جديد مجتمع الشروط.

ثم قال تعالى: {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف}؛ أي: وللنساء على بعولتهن من الحقوق واللوازم مثل الذي عليهن لأزواجهن من الحقوق اللازمة والمستحبة، ومرجع الحقوق بين الزوجين إلى المعروف وهو العادة الجارية في ذلك البلد وذلك الزمان من مثلها لمثله، ويختلف ذلك باختلاف الأزمنة والأمكنة والأحوال والأشخاص والعوائد، وفي هذا دليل على أن النفقة والكسوة والمعاشرة والمسكن وكذلك الوطء الكل يرجع إلى المعروف، فهذا موجب العقد المطلق، وأما مع الشرط فعلى شرطهما، إلا شرطاً أحل حراماً أو حرم حلالاً.

{وللرجال عليهن درجة}؛ أي: رفعة ورياسة وزيادة حق عليها كما قال تعالى: {الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم}؛ ومنصب النبوة والقضاء والإمامة الصغرى والكبرى وسائر الولايات [مختصٌّ] بالرجال، وله ضعفا ما لها في كثير من الأمور كالميراث ونحوه {والله عزيز حكيم}؛ أي: له العزة القاهرة والسلطان العظيم الذي دانت له جميع الأشياء، ولكنه مع عزته حكيم في تصرفه.

ويخرج من عموم هذه الآية الحوامل فعدتهن وضع الحمل، واللاتي لم يدخل بهن فليس لهن عدة، والإماء فعدتهن حيضتان كما هو قول الصحابة رضي الله عنهم، وسياق الآية يدل على أن المراد بها الحرة.