ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾
یہ طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمھارے لیے حلال نہیں کہ اس میں سے جو تم نے انھیں دیا ہے کچھ بھی لو، مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔ En
طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے
En
یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں، پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو، اس لئے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر گناه نہیں یہ اللہ کی حدود ہیں خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرجائیں وه ﻇالم ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت229) ➊ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہااور دیگر صحابہ کی روایات کے مطابق ابتدائے ہجرت میں جاہلی دستور کے مطابق مرد عورت کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور رجوع کرتے رہتے تھے، مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہوتا تھا۔ اس صورت حال کو روکنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔
➋ {اَلطَّلَاقُ} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ یہ طلاق کیا ہے، یعنی وہ طلاق جو اوپر کی آیت میں ذکر ہوئی ہے، جس کے بعد عدت میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، وہ دو مرتبہ ہے۔
➌ { فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ:} یعنی پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد خاوند دوبارہ بسانے کا ارادہ رکھتا ہے تو عدت کے اندر رجوع کرے، یہ اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے۔ اگر یہ ارادہ نہیں تو رجوع نہ کرے، بلکہ عدت گزرنے دے، بیوی خود بخود جدا ہو جائے گی، یہ نیکی کے ساتھ چھوڑ دیناہے۔ فائدہ اس کا یہ ہو گا کہ عدت گزرنے کے بعد اگرچہ عورت آزاد ہے کہ جس مرد سے چاہے شادی کر لے، مگر اسے پہلے خاوند کے ساتھ شادی کا بھی اختیار ہے۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد خاوند نہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے نہ عدت کے بعد نکاح، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
➍ { وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا …:} خاوند کے لیے بیوی کو تنگ کر کے اس سے حق مہر واپس لینا جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۲۰) مگر خلع کی صورت میں خاوند معاوضہ لے کر طلاق پر راضی ہو جائے تو یہ واپسی جائز ہے۔
➎ {فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ:} اس میں خلع کا بیان ہے، یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے اور خاوند طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو عورت جان چھڑانے کے لیے اپنا مہر یا خاوند اور بیوی کے درمیان جو بھی آپس میں یا حاکم کی عدالت میں طے پا جائے، وہ چیز بطور فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پھر خواہ خاوند خود ہی فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے، یا اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو حاکم اسے فدیہ لے کر چھوڑنے کا حکم دے، اگر وہ نہ مانے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔ چونکہ یہ درحقیقت طلاق نہیں بلکہ عورت کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے خلع کہتے ہیں، اس کی عدت ایک حیض ہے۔ [ترمذی: ۱۱۸۵، عن الربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ] تاکہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں اور عدت کے دوران میں خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

229۔ 1 یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو (عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے وہ دو مرتبہ ہے پہلی مرتبہ طلاق کے بعد بھی اور دوسری مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے تیسری مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجع کی اجازت نہیں زمانہ جاہلیت میں یہ حق طلاق و رجوع غیر محدود تھا جس سے عورتوں پر بڑا بوجھ تھا۔ نیز معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے علماء ایک مجلس کی تین طلاقوں کے واقع ہونے ہی کا فتویٰ دیتے ہیں۔ 229۔ 2 یعنی رجوع کر کے اچھے طریقے سے بسانا۔ 229۔ 3 یعنی تیسری مرتبہ طلاق دے کر۔ 229۔ 4 اس میں خلع کا بیان ہے یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو اس صورت میں خاوند عورت سے اپنا دیا ہوا مہر واپس لے سکتا ہے خاوند اگر علیحدگی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو تو عدالت خاوند کو طلاق دینے کا حکم دے گی اور اگر وہ اسے نہ مانے تو علت نکاح فسخ کر دے گی گویا خلع بزریعہ طلاق بھی ہوسکتا ہے اور بذریعہ فسخ بھی دونوں صورتوں میں عدت ایک حیض ہے (ابو داؤد، ترمذی، نسائی والحاکم [۔ فتح القدیر) عورت کو یہ حق دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے کہ عورت بغیر کسی معقول عذر کے خاوند سے علیحدگی یعنی طلاق کا مطالبہ نہ کرے اگر ایسا کرے گی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں کے لئے یہ سخت وعید بیان فرمائی کہ وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائیں گیں۔ (ابن کثیر وغیرہ)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

229۔ طلاق (رجعی) [307] دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح سے اپنے پاس رکھا جائے یا بھلے طریقے [308] سے اسے رخصت کر دیا جائے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں [309] دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ الا یہ کہ دونوں میاں بیوی اس بات سے ڈرتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کی پابندی [310] نہ کر سکیں گے۔ ہاں اگر وہ اس بات سے ڈرتے ہوں کہ اللہ کی حدود کی پابندی نہ کر سکیں گے تو پھر عورت اگر کچھ دے دلا کر اپنی گلو خلاصی کرا لو [311] تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ ہیں اللہ کی حدود، ان سے آگے نہ بڑھو۔ اور جو کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں
[307] لا تعداد طلاقوں کا سد باب:۔
دور جاہلیت میں عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ مرد کو اپنی بیوی کو لاتعداد طلاقیں دینے کا حق حاصل تھا۔ ایک دفعہ اگر مرد بگڑ بیٹھتا، اور اپنی بیوی کو تنگ اور پریشان کرنے پر تل جاتا تو اس کی صورت یہ تھی کہ طلاق دی اور عدت کے اندر رجوع کر لیا پھر طلاق دی پھر رجوع کر لیا اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا، نہ وہ عورت کو اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کر سکے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا، دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کر لیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاری) مرد نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ تجھ کو طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی تجھے بساؤں گا۔ اس عورت نے پوچھا: وہ کیسے؟ وہ کہنے لگا، میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہو گی تو رجوع کر لوں گا۔ یہ جواب سن کر وہ عورت حضرت عائشہؓ کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ حضرت عائشہؓ خاموش رہیں تا آنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ حضرت عائشہؓ نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ .....﴾ [ترمذي۔ ابواب الطلاق، اللعان]
طلاق کا سنت طریقہ:۔
اس آیت سے اسی معاشرتی برائی کا سد باب کیا گیا اور مرد کے لیے صرف دو بار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا۔ طلاق دینے کا مسنون اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد حالت طہر میں عورت کو ایک طلاق دے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس صورت کو فقہی اصطلاح میں طلاق احسن کہتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دے اور دوسرے میں دوسری اور تیسرے میں تیسری دے دے اس صورت کو حسن کہتے ہیں۔ پہلی صورت کا فائدہ یہ ہے کہ اگر عدت گزر جانے کے بعد بھی میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر رضا مند ہوں تو تجدید نکاح سے یہ صورت ممکن ہے ایک مجلس میں تین طلاقیں:۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ یکبارگی تینوں طلاقیں دے دے۔ یہ صورت طلاق بدعی کہلاتی ہے اور ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ [هدايه، كتاب الطلاق] اگرچہ بعض ائمہ فقہاء کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ مگر سنت کی رو سے یہ ایک ہی طلاق واقع ہو گی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
(1) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمرؓ نے کہا: لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کر دی جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کر دیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایسا قانون نافذ کر دیا۔ [مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث]
(2) ابو الصہباء نے سیدنا ابن عباسؓ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا؟ تو حضرت عباسؓ نے فرمایا۔ ”ہاں۔“ [بحواله، ايضاً]
(3) ابو الصہباء نے حضرت عباس سے کہا: ایک مسئلہ تو بتلائیے کہ رسول اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا، ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو اکٹھی تین طلاق دینے کا رواج عام ہو گیا تو حضرت عمرؓ نے ان پر تین ہی نافذ کر دیں۔ [حواله ايضاً]
مندرجہ بالا تین احادیث اگرچہ الگ الگ ہیں۔ مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، دور صدیقیؓ اور دور فاروقیؓ کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بدعات میں مبتلا تھے اور یہی عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آ رہی تھی جو دور نبوی میں بھی کلیتاً ختم نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ دور نبوی میں ایک شخص نے یکبارگی تین طلاقیں دیں تو آپ غصہ سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ: میری زندگی میں ہی کتاب اللہ سے یوں کھیلا جا رہا ہے؟ آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے اجازت چاہی کہ: میں اس مجرم کو قتل نہ کر دوں؟ تو آپ نے از راہ شفقت اس مجرم کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی، [نسائي، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث المتفرقه- ابو داؤد، كتاب الطلاق باب نسخ المراجعه بعد التطليقات الثلاث] اس واقعہ سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا شرعی نقطہ نگاہ سے کتنا بڑا گناہ اور مکروہ فعل ہے۔
2۔ لوگوں کی اس بد عادت پر انہیں زجر و توبیخ کی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ طریقہ کتاب و سنت کے خلاف تھا تاہم 15ھ تک عملاً یکبارگی تین طلاق کو ایک ہی قرار دیا جاتا رہا۔ اور لوگوں کی معصیت اور حماقت کے باوجود ان سے حق رجوع کو سلب نہیں کیا جاتا تھا۔
3۔ حضرت عمرؓ کے الفاظ «فَلَوْ اَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ» اس بات پر واضح دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ تعزیر و تادیب کے لیے تھا تاکہ لوگ اس بدعادت سے باز آ جائیں۔ یہ فیصلہ آپ نے سرکاری اعلان کے ذریعہ نافذ کیا۔ گویا یہ ایک وقتی اور عارضی قسم کا آرڈیننس تھا۔ کتاب و سنت کی طرح اس کی حیثیت دائمی نہ تھی۔
4۔ اگر حضرت عمرؓ کے سامنے کوئی شرعی بنیاد موجود ہوتی تو آپ یقیناً استنباط کر کے لوگوں کو مطلع فرماتے، جیسا کہ عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے وقت کیا تھا اور تمام صحابہؓ نے آپ کے استنباط کو درست تسلیم کر کے آپ سے پورا پورا اتفاق کر لیا تھا، اگر آپ کسی آیت یا حدیث سے استنباط کر کے اور لوگوں کو اس سے مطلع کر کے یہ فیصلہ نافذ کرتے تو پھر واقعی اس فیصلہ کی حیثیت شرعی اور دائمی بن سکتی تھی۔
کیا ایک مجلس میں تین طلاق کا مسئلہ اجماعی ہے؟
یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر آج تک حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ پر امت کا اجماع نہ ہو سکا اور جو لوگ اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا دعویٰ باطل ہے۔ کیونکہ تطلیق ثلاثہ کے بارے میں مندرجہ ذیل چار قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔
1۔ پہلا گروہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کو وقتی اور تعزیری سمجھتا ہے اور سنت نبوی کو ہی ہر زمانہ کے لیے معمول جانتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ہے اس گروہ میں ظاہری، اہل حدیث اور شیعہ شامل ہیں (نیز قادیانی جنہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے وہ بھی ایک ہی طلاق کے قائل ہیں) علاوہ ازیں ائمہ اربعہ کے مقلدین میں سے بعض وسیع الظرف علماء بھی شامل ہیں اور بعض اشد ضرورت کے تحت اس کے قائل ہیں۔
2۔ دوسرا گروہ مقلد حضرات کا ہے جن کی اکثریت حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کو مشروع اور دائمی سمجھتی ہے۔ البتہ اس کام کو گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔
3۔ تیسرا گروہ دوسری انتہا کو چلا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مجلس میں ایک طلاق واقع ہونا تو جائز ہے۔ لیکن اگر دو یا تین یا زیادہ طلاقیں دی جائیں تو ایک بھی واقع نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاق دینا کار معصیت اور خلاف سنت یعنی بدعت ہے۔ جس کے متعلق ارشاد نبوی ہے «مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هَذٰا مَالَيْسَ مِنْهُ فَهُوْرَدٌ» [متفق عليه] جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہ تھی تو وہ بات مردود ہے۔ لہذا ایسی بدعی طلاقیں سب مردود ہیں، لغو ہیں، باطل ہیں۔ لہٰذا ایک طلاق بھی واقع نہ ہو گی۔ اس گروہ میں شیعہ حضرات میں سے کچھ لوگ شامل ہیں۔ نیز محمد بن ارطاۃ اور محمد بن مقاتل (حنفی) بھی اس کے قائل ہیں [شرح مسلم للنووي،ج 1۔ ص 470]
4۔ اور ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ایک مجلس کی تین طلاق کو غیر مدخولہ کے لیے ایک ہی شمار کرتے ہیں اور مدخولہ کے لیے تین۔ [زادالمعادج 4ص 67] غور فرمائیے کہ جس مسئلہ میں اتنا اختلاف ہو کہ اس میں چار گروہ پائے جاتے ہوں اسے ”اجماعی“ کہا جا سکتا ہے؟ ایک مجلس میں ایک سے زیادہ طلاقیں دینے کی بدعادت دور جاہلیہ کی یادگار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر عود کر آئی اور حضرت عمرؓ نے اس عادت کو چھڑانے کے لیے تین طرح کے اقدامات کئے تھے۔
1۔ وہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں کو بدنی سزا بھی دیتے تھے۔
2۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کرنا بھی حقیقتاً ایک سزا تھی۔ جسے حضرت عمرؓ نے نافذ کر دیا۔
3۔ اور جب لوگوں نے اپنی عادت پر کنٹرول کرنے کی بجائے حلالہ کی باتیں شروع کر دیں تو آپ نے حلالہ نکالنے اور نکلوانے والے دونوں کے لیے رجم کی سزا مقرر کر دی۔ اس طرح یہ فتنہ کچھ مدت کے لیے دب گیا۔ گویا دور فاروقی میں اس معصیت کی اصلاح اس صورت میں ہوئی کہ حلالہ کا دروازہ سختی سے بند کر دیا گیا تھا۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ مقلد حضرات ہوں یا غیر مقلد کوئی بھی اکٹھی تین طلاق دینے کو جرم سمجھتا ہی نہیں۔ جہالت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام تو درکنار، خواص بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جدائی کے لیے تین طلاق دینا ضروری ہیں۔ حالانکہ طلاق کی بہترین اور مسنون صورت یہی ہے کہ صرف ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے۔ تاکہ عدت گزر جانے کے بعد بھی اگر زوجین مل بیٹھنا چاہیں تو تجدید نکاح سے مسئلہ حل ہو جائے۔ تاہم اگر آپس میں نفرت اور بگاڑ اتنا شدید پیدا ہو چکا ہو کہ مرد تا زیست اپنی بیوی کو رشتہ زوجیت میں نہ رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہو اور اپنی حسرت اور غصہ مٹانے کے لیے تین کا عدد پورا کر کے طلاق مغلظہ ہی دینا چاہتا ہو تو پھر اسے یوں کرنا چاہیے کہ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دیتا جائے، تیسری طلاق کے بعد ان کے آئندہ ملاپ کی
﴿ حَتّيٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ
کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ آج کے دور میں ایک مجلس کی تین طلاق کو کار معصیت یا گناہ کبیرہ نہ سمجھنے کے لحاظ سے مقلد اور غیر مقلد دونوں حضرات ایک جیسے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ایسے مجرم کو کیا سزا دی جانی چاہیے۔ تاکہ حضرت عمرؓ کی یہ سنت بھی زندہ ہو۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ اس جرم کے بعد اہل حدیث تو ایسے مجرم کو سنت نبوی کی راہ دکھلاتے ہیں۔ جبکہ بعض حنفی حضرات حلالہ جیسے کار حرام کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
بذریعہ ڈاک بیوی کو تین طلاقیں لکھ بھیجنا:۔
آج کل جو یہ دستور چل نکلا ہے کہ پہلے بیوی کو میکے بھیج دیتے ہیں بعد میں کسی وقت بذریعہ چٹھی تین طلاق تحریری لکھ کر ڈاک میں بھیج دیتے ہیں یہ نہایت ہی غلط طریقہ ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
1۔ ایک وقت کی تین طلاق کار معصیت گناہ کبیرہ ہے۔ بدعت ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے۔
2۔ دوران عدت مطلقہ کا نان نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتی ہے اور مطلقہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے جس سے وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جسے وہ ضائع کر دیتا ہے۔ اس دوران وہ نان نفقہ کے اس بار سے بھی سبکدوش رہنا چاہتا ہے جو شرعاً اس پر لازم ہے۔
3۔ عدت کے دوران عورت کو اپنے پاس رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شاید حالات میں ساز گاری پیدا ہو جائے۔ منشائے الٰہی یہ ہے کہ رشتہ ازدواج میں پائیداری بدستور قائم رہے۔ اگرچہ ناگزیر حالات میں طلاق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَي اللّٰهِ الطَّلاَقُ» [ابو داؤد، كتاب الطلاق] یعنی تمام حلال اور جائز چیزوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ لہٰذا اللہ کی خوشنودی اسی بات میں ہے کہ طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران مرد رجوع کر لے، اور وہ زبردستی بھی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یعنی اگر عورت رضا مند نہ ہو تو بھی وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے جس سے علیحدگی کی راہ بند ہو اور مصالحت کی راہ کھل جائے۔
4۔ عدت گزر جانے کے بعد عورت کی رخصتی کے وقت دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے [65/2] اور بذریعہ خط طلاقیں بھیج دینے سے اس حکم پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ گواہوں کی اہمیت مصلحت کے لیے دیکھئے سورۃ طلاق کے حواشی۔ اب یہ سوال ہے کہ آج کے دور میں بیک وقت تین طلاق دینے والے مجرم کی سزا کیا ہونی چاہیے، اگرچہ یہ مسئلہ علمائے کرام اور مفتیان عظام کی توجہ کا مستحق ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس کی سزا ظہار کا کفارہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ دونوں کام ﴿مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا (ناپسندیدہ اور انہونی بات) کے ضمن میں آتے ہیں اور کئی وجوہ سے ان میں مماثلت ہے۔ ظہار کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ آج غلامی کا دور تو ختم ہو چکا۔ البتہ باقی دو سزاؤں میں سے کوئی ایک مفتی حضرات ایسے مجرموں کے لیے تجویز کر سکتے ہیں جب تک ان کے لیے کوئی سزا تجویز نہ کی جائے ان کو اپنے جرم کا کبھی احساس تک نہ ہو سکے گا۔ اس طرح ہی اس رسم بد اور بدعت کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور علمائے کرام کو ایسی سزا تجویز کرنا اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ خاموشی اور بے حسی کے ذریعہ کسی معصیت کے کام کو قائم رکھنا یا رہنے دینا بھی کار معصیت ہے۔ لہٰذا ایسے مجرم کو سزا بھی دینا چاہیے اور طلاق بھی ایک ہی شمار کرنا چاہیے، تاکہ سنت نبوی پر بھی عمل ہو جائے اور سنت فاروقی پر بھی۔
[308] یعنی اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے، خالی ہاتھ یا دھکے دے کر گھر سے ہرگز نہ نکالا جائے۔
[309] مطلقہ سے دی ہوئی چیز واپس لینا گناہ ہے:۔
یعنی حق مہر بھی اور اس کے علاوہ دوسری اشیاء (مثلاً زیور کپڑے وغیرہ) جو خاوند اپنی بیوی کو بطور ہدیہ دے چکا ہو۔ کسی کو ہدیہ دے کر واپس لینا عام حالات میں بھی جائز نہیں اور ایسے ہدیہ واپس لینے والے کے اس فعل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتے سے تشبیہ دی ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ لے۔ [بخاري، كتاب الهبة، باب هبة الرجل لامراته] طلاق دینے والے شوہر کے لیے یہ اور بھی شرمناک بات ہے کہ کسی زمانہ میں اس نے جو اپنی بیوی کو ہدیہ دیا تھا۔ رخصت کرتے وقت بجائے مزید کچھ دینے کے اس سے پہلے تحائف کی بھی واپسی کا مطالبہ کرے۔
[310] زوجین کا باہمی سمجھوتہ:۔
اگر میاں بیوی میں ناچاقی کی صورت پیدا ہو جائے یا ہونے کا خدشہ ہو اور وہ سمجھیں کہ شاید حسن معاشرت کے متعلق ہم اللہ کے احکام بجا نہ لا سکیں گے اور مرد کی طرف سے ادائے حقوق زوجہ میں قصور بھی نہ ہو۔ تو عورت اپنے کسی حق سے دستبردار ہو کر یا اپنی طرف سے کچھ مال دے کر خواہ وہ خاوند ہی کا دیا ہو۔ اسے طلاق نہ دینے پر رضا مند کر لے تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنھا بنت زمعہ جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نیز اس خیال سے بھی کہ کہیں آپ انہیں طلاق نہ دے دیں۔ اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ کر دی تھی۔ [بخاري كتاب الهبة باب هبة المراة لغير زوجها الخ]
[311] خلع کے احکام:۔
اگر حالات زیادہ کشیدہ ہوں اور عورت بہرحال اپنے خاوند سے اپنا آپ چھڑانا چاہتی ہو تو جو زر فدیہ وہ آپس میں طے کر لیں وہی درست ہو گا اور وہ رقم لینے کے بعد مرد اسے طلاق دے گا۔ عورت پر طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی اسے شرعی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں ثابت بن قیس (بن شماس انصاری) کی بیوی (جمیلہ) جو عبد اللہ بن ابی منافق کی بہن تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ میں ثابت بن قیس پر دینداری اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں لگاتی، مگر میں یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان ہو کر خاوند کی ناشکری کے گناہ میں مبتلا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ”اچھا جو باغ ثابت نے تمہیں (حق مہر میں) دیا تھا وہ واپس کرتی ہو؟“ وہ کہنے لگی جی ہاں! کرتی ہوں۔ آپ نے ثابت بن قیس سے فرمایا: اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو“ [بخاري، كتاب الطلاق، باب الخلع و كيف الطلاق فيه] یہ ضروری نہیں کہ زر فدیہ اتنا ہی ہو جتنا حق مہر تھا۔ اس سے کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی۔ مگر زیادہ لینے کو فقہا نے مکروہ سمجھا ہے اور اگر معاملہ آپس میں طے نہ ہو سکے تو عورت عدالت کی طرف رجوع کر سکتی ہے۔ اس صورت میں تمام حالات کا جائزہ لے کر عدالت جو فدیہ طے کرے گی وہی نافذ العمل ہو گا اور عورت اس وقت تک اس مرد سے آزاد نہ ہو گی جب تک وہ زر فدیہ ادا نہ کر دے اور وہ مرد یا اس کی جگہ عدالت اسے طلاق نہ دے دے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جمیلہ بنت ابی نے خلع کے لیے کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی۔ ثابت بن قیس پوری طرح اس کے حقوق بھی پورے کر رہے تھے اور ان کے اخلاق بھی قابل اعتراض نہیں تھے۔ جمیلہ بنت ابی کو طبعی نفرت صرف اس وجہ سے تھی کہ ثابت بن قیس رنگ کے کالے تھے اور وہ خود عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین) کی بہن ہونے کی بنا پر چودھریوں کا سا ذہن رکھتی تھی۔ تاہم سچی مومنہ تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس طبعی نفرت کو ہی معقول وجہ قرار دے کر خلع کا حکم دے دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسم طلاق میں آئینی اصلاحات اور خلع ٭٭
اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی چاہے طلاقیں دیتا چلا جائے اور عدت میں رجوع کرتا جائے اس سے عورتوں کی جان غضب میں تھی کہ طلاق دی، عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی اس طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے، پس اسلام نے حد بندی کر دی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد لوٹا لینے کا کوئی حق نہ رہے گا، سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ تین طلاقوں کے بعد مراجعت منسوخ ہے، پھر یہ روایت لائے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں،[سنن ابوداود:2195،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساؤں گا نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا یہ کس طرح؟ طلاق دے دوں گا اور جہاں عدت ختم ہونے کا وقت آیا تو رجوع کر لوں گا، پھر طلاق دے دوں گا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لوں گا اور یونہی کرتا چلا جاؤں گا۔ وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنا یہ دُکھ رونے لگی اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔[مؤطا:588/2:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاقوں کا خیال رکھنا شروع کیا اور وہ سنبھل گئے، [سنن ترمذي:1192، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ اور تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کو لوٹا لینے کا کوئی حق حاصل نہ رہا اور فرما دیا گیا کہ دو طلاقوں تک تو تمہیں اختیار ہے کہ اصلاح کی نیت سے اپنی بیوی کو لوٹا لو اگر وہ عدت کے اندر ہے اور یہ بھی اختیار ہے کہ نہ لوٹاؤ اور عدت گزر جانے دو تاکہ وہ دوسرے سے نکاح کرنے کے قابل ہو جائے اور اگر تیسری طلاق دینا چاہتے ہو تو بھی احسان و سلوک کے ساتھ ورنہ اس کا کوئی حق نہ مارو، اس پر کوئی ظلم نہ کرو، اسے ضرر و نقصان نہ پہنچاؤ، [تفسیر ابن جریر الطبری:543/4]‏‏‏‏
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ دو طلاقیں تو اس آیت میں بیان ہو چکی ہیں تیسری کا ذِکر کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [البقرہ: 229]‏‏‏‏ میں، جب تیسری طلاق کا ارادہ کرے تو عورت کو تنگ کرنا اس پر سختی کرنا تاکہ وہ اپنا حق چھوڑ کر طلاق پر آمادگی ظاہر کرے، یہ مردوں پر حرام ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» الخ [4-النساء:19]‏‏‏‏، یعنی عورتوں کو تنگ نہ کرو تاکہ انہیں دئیے ہوئے میں سے کچھ لے لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ عورت اپنی خوشی سے کچھ دے کر طلاق طلب کرے جیسے فرمایا آیت «فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» [4۔ النسآء: 4]‏‏‏‏ یعنی اگر عورتیں اپنی راضی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو بیشک وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے اور جب میاں بیوی میں نااتفاقی بڑھ جائے عورت اس سے خوش نہ ہو اور اس کے حق کو نہ بجا لاتی ہو ایسی صورت میں وہ کچھ لے دے کر اپنے خاوند سے طلاق حاصل کر لے تو اسے دینے میں اور اسے لینے میں کوئی گناہ نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع طلب کرتی ہے تو وہ سخت گنہگار ہے چنانچہ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے بےسبب طلاق طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، [سنن ترمذي:1187، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی دوری سے آتی ہے، اور روایت میں ہے کہ ایسی عورتیں منافق ہیں، [سنن ترمذي:1186، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ آئمہ سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت کا فرمان ہے کہ خلع صرف اسی صورت میں ہے کہ نافرمانی اور سرکشی عورت کی طرف سے ہو، اس وقت مرد فدیہ لے کر اس عورت کو الگ کر سکتا ہے جیسے قرآن پاک کی اس آیت میں ہے اس کے سوا کی صورت میں یہ سب جائز نہیں، بلکہ امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو تکلیف پہنچا کر اس کے حق میں کمی کر کے اگر اسے مجبور کیا گیا اور اس سے کچھ مال واپس لیا گیا تو اس کا لوٹا دینا واجب ہے،
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حالت اختلاف میں جائز ہے تو حالت اتفاق میں بطور اولیٰ جائز ٹھہرے گا، بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سرے سے خلع منسوخ ہے کیونکہ قرآن میں ہے آیت «وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا» [4۔ النسآء: 20]‏‏‏‏ یعنی اگر تم نے اپنی بیویوں کو ایک خزانہ بھی دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ بھی نہ لو، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مردود ہے۔
اب آیت کا شان نزول سنیے! موطا امام مالک میں ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کی نماز کیلئے اندھیرے اندھیرے نکلے تو دیکھا کہ دروازے پر حبیبہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔ فرمایا کیا بات ہے؟ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے گھر میں نہیں رہ سکتی یا وہ نہیں یا میں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش رہے۔ جب ثابت رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی صاحبہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے خاوند مجھے جو دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے اور میں اسے واپس کرنے پر آمادہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو فرمایا سب لے لو، چنانچہ انہوں نے لے لیا اور حبیبہ رضی اللہ عنہا [سنن ابوداود:2227، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ آزاد ہو گئیں۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور اس مار سے کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یہ فرمایا اس وقت انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں یہ مال لے سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، کہا میں نے اسے دو باغ دئیے ہیں، یہ سب واپس دلوا دیجئیے۔ وہ مہر کے دونوں باغ واپس کئے گئے اور جدائی ہو گئی۔ [سنن ابوداود:2228، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں اس کے اخلاق اور دین میں عیب گیری نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں چنانچہ مال لے کر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے طلاق دے دی۔ [صحیح بخاری:5272]‏‏‏‏ بعض روایات میں ان کا نام جمیلہ بھی آیا ہے۔ [صحیح بخاری:5277]‏‏‏‏ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ مجھے اب غیظ و غضب کے برداشت کی طاقت نہیں رہی۔ [سنن ابن ماجه:2056، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دِیا ہے لے لو، زیادہ نہ لینا۔ [سنن ابن ماجه:2056، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا وہ صورت کے اعتبار سے بھی کچھ حسین نہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:4814:صحیح]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہما کی بہن تھیں اور سب سے پہلا خلع تھا جو اسلام میں ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک مرتبہ خیمے کے پردہ کو جو اٹھایا تو دیکھا کہ میرے خاوند چند آدمیوں کے ساتھ آ رہے ہیں، ان تمام میں یہ سیاہ فام چھوٹے قد والے اور بدصورت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر کہ اس کا باغ واپس کرو، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں کچھ اور بھی دینے کو تیار ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4811:حسن]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ! اگر اللہ تعالٰی کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کے منہ پر تھوک دیا کرتی، [سنن ابن ماجه:2057، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ خلع عورت اپنے سے دئیے ہوئے سے زیادہ لے تو بھی جائز ہے کیونکہ قرآن نے آیت «فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ» [2۔ البقرہ: 229]‏‏‏‏ میں فرمایا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت اپنے خاوند سے بگڑی ہوئی آئی، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے گندگی والے گھر میں قید کر دو پھر قید خانہ سے اسے بلوایا اور کہا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آرام کی راتیں مجھ پر میری زندگی میں یہی گزری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہما نے اس کے خاوند سے فرمایا اس سے خلع کر لے۔ اگرچہ گوشوارہ کے بدلے ہی ہو، ایک روایت میں ہے اسے تین دن وہاں قید رکھا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر یہ اپنی چٹیا کی دھجی بھی دے تو لے لے اور اسے الگ کر دے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے سوا سب کچھ لے کر بھی خلع ہو سکتا ہے۔ ربیع بنت معوذ بن عفراء فرماتی ہیں میرے خاوند اگر موجود ہوتے تو بھی میرے ساتھ سلوک کرنے میں کمی کرتے اور کہیں چلے جاتے تو بالکل ہی محروم کر دیتے۔ ایک مرتبہ جھگڑے کے موقع پر میں نے کہہ دیا کہ میری ملکیت میں جو کچھ ہے لے لو اور مجھے خلع دو۔ اس نے کہا اور یہ معاملہ فیصل ہو گیا لیکن میرے چچا سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما اس قصہ کو لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی اسے برقرار رکھا اور فرمایا کہ چوٹی کی دھجی چھوڑ کر سب کچھ لے لو، بعض روایتوں میں ہے یہ بھی اور اس سے چھوٹی چیز بھی غرض سب کچھ لے لو، پس مطلب ان واقعات کا یہ ہے کہ یہ دلیل ہے اس پر کہ عورت کے پاس جو کچھ ہے دے کر وہ خلع کرا سکتی ہے اور خاوند اپنی دی ہوئی چیز سے زائد لے کر بھی خلع کر سکتا ہے۔
سیدنا ابن عمر، ابن عباس، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، ابراہیم، نخعی، قیصہ بن ذویب، حسن بن صالح عثمان رحم اللہ اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام مالک، لیث، امام شافعی اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اصحاب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر قصور اور ضرر رسانی عورت کی طرف سے ہو تو خاوند کو جائز ہے کہ جو اس نے دیا ہے واپس لے لے، لیکن اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ گو زیادہ لے لے تو بھی قضاء کے وقت جائز ہو گا اور اگر خاوند کی اپنی جانب سے زیادتی ہو تو اسے کچھ بھی لینا جائز نہیں۔ گو، لے لے تو قضاء جائز ہو گا۔ امام احمد ابوعبید اور اسحٰق بن راھویہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ خاوند کو اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا جائز ہی نہیں۔ سعید بن مسیب عطاء عمرو بن شعیب زہری طاؤس حسن شعبی حماد بن ابو سلیمان اور ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے۔
معمر اور حاکم کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا بھی یہ فیصلہ ہے۔ اوزاعی کا فرمان ہے کہ قاضیوں کا فیصلہ ہے کہ دئیے ہوئے سے زیادہ کو جائز نہیں جانتے۔ اس مذہب کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ اپنا باغ لے لو اور اس سے زیادہ نہ لو۔ مسند عبد بن حمید میں بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع لینے والی عورت سے اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا مکروہ رکھا، [دار قطنی:255/3:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
اور اس صورت میں جو کچھ فدیہ وہ دے لے گا، کا لفظ قرآن میں ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دئیے ہوئے میں سے جو کچھ دے، کیونکہ اس سے پہلے یہ فرمان موجود ہے کہ تم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ نہ لو، ربیع کی قرأت میں «بِہِ» کے بعد «مِنْہُ» کا لفظ بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حدود اللہ ہیں ان سے تجاوز نہ کرو ورنہ گنہگار ہوں گے۔
[فصل]‏‏‏‏ خلع کو بعض حضرات طلاق میں شمار نہیں کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں ہیں پھر اس عورت نے خلع کرا لیا ہے تو اگر خاوند چاہے تو اس سے پھر بھی نکاح کر سکتا ہے اور اس پر دلیل یہی آیت وارد کرتے ہیں۔ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے، حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں، دیکھو آیت کے اول و آخر طلاق کا ذِکر ہے پہلے دو طلاقوں کا پھر آخر میں تیسری طلاق کا اور درمیان میں جو خلع کا ذِکر ہے۔
پس معلوم ہوا کہ خلع طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما طاؤس عکرمہ، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوثور، داؤد بن علی ظاہری رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قدیم قول یہی ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے اور اگر ایک سے زیادہ کی نیت ہو گی تو وہ بھی معتبر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام بکر اسلمیہ نے اپنے خاوند عبداللہ بن خالد سے خلع لیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے ایک طلاق ہونے کا فتویٰ دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر کچھ سامان لیا ہو تو جتنا سامان لیا ہو وہ ہے، لیکن یہ اثر ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا عمر، سیدنا علی، ابن مسعود، ابن عمر رضی اللہ عنہم، سعید بن مسیب، حسن، عطا، شریح، شعبی، ابراہیم، جابر بن زید، مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم اور ان کے ساتھی ثوری، اوزاعی، ابوعثمان بتی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ خلع طلاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی جدید قول یہی ہے، ہاں حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر دو طلاق کی نیت خلع دینے والے کی ہے تو دو ہو جائیں گی۔ اگر کچھ کچھ لفظ نہ کہے اور مطلق خلع ہو تو ایک طلاق بائن ہو گی اگر تین کی نیت ہے تو تین ہو جائیں گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک اور قول بھی ہے کہ اگر طلاق کا لفظ نہیں اور کوئی دلیل و شہادت بھی نہیں تو وہ بالکل کوئی چیز نہیں۔
مسئلہ ٭٭
امام ابوحنیفہ، شافعی احمد، اسحٰق بن راہویہ رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ خلع کی عدت طلاق کی عدت ہے۔ سیدنا عمر علی ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور سعید بن مسیب، سلمان بن یسار، عروہ، سالم، ابوسلمہ، عمر بن عبدالعزیز، ابن شہاب، حسن، شعبی، ابراہیم نخعی، ابوعیاض، خلاس بن عمرو، قتادہ، سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد اور ابوعبید رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی فرمان ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اکثر اہل علم اسی طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلع طلاق ہے لہٰذا عدت اس کی عدت طلاق کے مثل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک حیض اس کی عدت ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا یہی فیصلہ ہے، سیدنا ابن عمر گو تین حیض کا فتویٰ دیتے تھے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ہم سے بہتر ہیں اور ہم سے بڑے عالم ہیں، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حیض کی مدت بھی مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، امان بن عثمان رحمہ اللہ اور تمام وہ لوگ جن کے نام اوپر آئے ہیں جو خلع کو فسخ کہتے ہیں ضروری ہے کہ ان سب کا قول بھی یہی ہو، ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں بھی یہی ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس کی بیوی صاحبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، [سنن ابوداود:2229، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ترمذی میں ہے کہ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کو بھی خلع کے بعد ایک ہی حیض عدت گزارنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صادر ہوا تھا۔ [سنن ترمذي:1185، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خلع والی عورت سے فرمایا تھا کہ تجھ پر عدت ہی نہیں۔ ہاں اگر قریب کے زمانہ میں ہی خاوند سے ملی ہو تو ایک حیض آ جانے تک اس کے پاس ٹھہری رہو۔ مریم مغالبہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ تھا اس کی متابعت امیر المؤمنین نے کی۔ [سنن نسائی:3528، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
مسئلہ ٭٭
جمہور علمائے کرام اور چاروں اماموں کے نزدیک خلع والی عورت سے رجوع کرنے کا حق خاوند کو حاصل نہیں، اس لیے کہ اس نے مال دے کر اپنے تئیں آزاد کرا لیا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی، ماہان حنفی، سعید اور زہری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ اگر واپس کیا پھیر دے تو حق رجعت حاصل ہے بغیر عورت کی رضا مندی کے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خلع میں طلاق کا لفظ نہیں تو وہ صرف جدائی ہے اور رجوع کرنے کا حق نہیں اور اگر طلاق کا نام لیا ہے تو بیشک وہ رجعت کا پورا پورا حقدار ہے، داؤد ظاہری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، ہاں سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں رضامند ہوں تو نیا نکاح عدت کے اندر اندر کر سکتے ہیں۔ ابو عمر بن عبدالبر فرقہ سے یہ قول بھی روایت کرتے ہیں کہ اگر دونوں رضا مند ہوں تو نیا نکاح عدت کے ابدر اندر کر سکتے ہیں، ابعمر بن عبدالبر فرقہ سے یہ قول بھی روایت کرتے ہیں کہ عدت کے اندر جس طرح دوسرا کوئی اس سے نکاح نہیں کر سکتا، اسی طرح خلع دینے والا خاوند بھی نکاح نہیں کر سکتا، لیکن یہ قول شاذ اور مردود ہے۔
مسئلہ ٭٭
اس عورت پر عدت کے اندر اندر دوسری طلاق بھی واقع ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس میں علماء کے تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ نہیں، کیونکہ وہ عورت اپنے نفس کی مالکہ ہے اور اس خاوند سے الگ ہو گئی ہے، سیدنا ابن عباس ابن زبیر رضی اللہ عنہما عکرمہ جابر بن زید حسن بصری شافعی احمد اسحاق ابوثور رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ دوسرا قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے کہ اگر خلع کے ساتھ ہی بغیر خاموش رہے طلاق دیدے تو واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں، یہ مثل اس کے ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ عدت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے اصحاب، ثوری، اوزاعی، سعید بن مسیب، شریح، طاؤس، ابراہیم، زہری، حاکم، حکم اور حماد رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ سیدنا ابن مسعود اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی تو ہے لیکن ثابت نہیں۔ پھر فرمایا ہے کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نہ بڑھو، فرائض کو ضائع نہ کرو، محارم کی بے حرمتی نہ کرو، جن چیزوں کا ذِکر شریعت میں نہیں تم بھی ان سے خاموش رہو کیونکہ اللہ کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ [حاکم:115/4:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏
اس آیت سے استدلال ہے ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ تینوں طلاقیں ایک مرتبہ ہی دینا حرام ہیں۔ مالکیہ اور ان کے موافقین کا یہی مذہب ہے، ان کے نزدیک سنت طریقہ یہی ہے کہ طلاق ایک ایک دی جائے کیونکہ آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [البقرہ: 229]‏‏‏‏ کہا پھر فرمایا کہ یہ حدیں ہیں اللہ کی، ان سے تجاوز نہ کرو، اس کی تقویت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سنن نسائی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی ہیں۔ آپ سخت غضبناک ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے کیا میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اس شخص کو قتل کروں، لیکن اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ [سنن نسائی:3430، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏