تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ:} یعنی اپنے لیے نیک اعمال آگے بھیجو۔ نیک اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے۔ بیوی سے صحبت کے وقت نیک اولاد کے حصول کی نیت بھی اس میں شامل ہے۔
➌ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ:} میاں بیوی کے باہمی معاملات میں اگر کوئی زیادتی ہو تو نہ کوئی گواہ ہوتا ہے نہ دخیل، مگر اللہ سے ملاقات تو یقینًا ہونی ہے، اس لیے اس سے ڈرتے رہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لیے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہبند باندھے ہوئے ہوتی تھیں۔ [سنن ابوداود:272، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ عمارہ کی پھوپھی صاحبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہو گئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاڑا لگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو حیض سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی۔[سنن ابوداود:270،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «صلی اللہ علیہ و علی ازواجہ و اصحابہ وسلم»
اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ ام المؤمنین کا یہ قول مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مجاہد حسن اور عکرمہ رحمہ اللہ علیہم کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔
ابوداؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دِنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا کہیں سے خراب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابوداود:285، قال الشيخ الألباني:صحیح] ہاں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آ جاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہو جاؤں۔ [سنن ابوداود:271، قال الشيخ الألباني:ضعیف] تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر۔
ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ [سنن ترمذي:137، قال الشيخ الألبانی:صحیح مرفوعاً] مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار۔ [مسند احمد:367/1:ضعیف]
یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رُک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کر لے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کر لے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آ سکتا ہے۔ ہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دِنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہو گیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لیے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس کیسے آئیں اور کیا چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیری کھیتی ہے جس طرح چاہو آؤ، ہاں اس کے منہ پر نہ مار، زیادہ برا نہ کہہ، اس سے روٹھ کر الگ نہ ہو جا، ایک ہی گھر میں رہ۔ [سنن ابوداود:2143، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ابن ابی حاکم میں ہے کہ حمیر کے قبیلہ کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیویوں سے زیادہ محبت ہے تو اس کے بارے میں احکام مجھے بتائے، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4351:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ چند انصاریوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، [مسند احمد:268/1:ضعیف] طحاوی کی کتاب مشکل الحدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے الٹا کر کے مباشرت کی تھی، لوگوں نے اسے برا بھلا کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4337:ضعیف]
انصار والا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اللہ بخشے، انہیں کچھ وہم سا ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ انصاریوں کی جماعت پہلے بت پرست تھی اور یہودی اہل کتاب تھے۔ بت پرست لوگ ان کی فضیلت اور علمیت کے قائل تھے اور اکثر افعال میں ان کی بات مانا کرتے تھے۔ یہودی ایک ہی طرح پر اپنی بیویوں سے ملتے تھے۔ یہی عادت ان انصار کی بھی تھی۔ ان کے برخلاف مکہ والے کسی خاص طریقے کے پابند نہ تھے، وہ جس طرح جی چاہتا ملتے۔ اسلام کے بعد مکہ والے مہاجر بن کر مدینہ میں انصار کے ہاں جب اترے تو ایک مکی مجاہد مرد نے ایک مدنی انصاریہ عورت سے نکاح کیا اور اپنے من بھاتے طریقے برتنے چاہے، عورت نے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ اسی ایک مقررہ طریقہ کے علاوہ اجازت نہیں دیتی۔ بات بڑھتے بڑھتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور یہ فرمان نازل ہوا۔ پس سامنے سے پیچھے کی طرف سے اور جس طرح چاہے اختیار ہے ہاں جگہ ایک ہی ہو۔ [سنن ابوداود:2164، قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم یہ تھا کہ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ قرآن پڑھتے ہوئے کسی سے بولتے چالتے نہ تھے لیکن ایک دن تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت تک پہنچے تو اپنے شاگرد نافع رحمہ اللہ سے فرمایا جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ عورتوں کی دوسری جگہ کی وطی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4526] ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے اپنی بیوی سے پیچھے سے کیا تھا جس پر اس آیت میں رخصت نازل ہوئی لیکن ایک تو اس میں محدثین نے کچھ علت بھی بیان کی ہے، دوسرے اس کے معنی بھی یہی ہو سکتے ہیں کہ پیچھے کی طرف سے آگے کی جگہ میں کیا اور اوپر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی سنداً صحیح نہیں بلکہ انہیں نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وطی دبر کو جائز کیا ہے؟ تو فرمایا لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ پھر وہی انصاریہ عورت اور مہاجر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو اس آیت کا یہ مطلب ارشاد فرماتے تھے، اس روایت کی اسناد بھی بالکل صحیح ہے اور اس کے خلاف سند صحیح نہیں، معنی مطلب بھی اور ہو سکتا ہے اور خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ وہ روایتیں عنقریب بیان ہوں گی ان شاءاللہ جن میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نہ یہ مباح ہے نہ حلال بلکہ حرام ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حرکت سے لوگوں کو منع فرمایا۔[مسند احمد:213/5:صحیح بالشواھد] اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عورت یا مرد کے ساتھ یہ کام کرے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نہیں دیکھے گا۔[سنن ترمذي:1165،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص یہ مسئلہ پوچھتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کیا تو کفر کرنے کی بابت سوال کرتا ہے؟ ایک شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ میں نے آیت «أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ» [البقرہ: 223] کا یہ مطلب سمجھا اور میں نے اس پر عمل کیا تو آپ ناراض ہوئے اور اسے برا بھلا کہا اور فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ کھڑے ہو کر، خواہ بیٹھ کر چت خواہ پٹ لیکن جگہ وہی ایک ہو، ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے پاخانہ کی جگہ وطی کے وہ چھوٹا لوطی ہے۔[مسند احمد:210/2:صحیح] سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کفار کا کام ہے۔[مسند احمد:210/2:موقوف] سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان بھی منقول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے دوسرے راستے وطی کرے اسے کو اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [مسند احمد:272/2:صحیح]
ایک مرفوع حدیث میں اس معنی کی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے، اور روایت میں ہے کہ یہ جگہ حرام ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے جب یہ بات پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بڑا کمینہ وہ شخص ہے، دیکھو قرآن میں ہے کہ لوطیوں سے کہا گیا تم وہ بدکاری کرتے ہو جس کی طرف کسی نے تم سے پہلے توجہ نہیں کی، پس صحیح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سی روایتوں اور سندوں سے اس فعل کی حرمت مروی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ چنانچہ دارمی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ یہ سال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے؟ [دارمی277/1] اس کی اسناد صحیح ہے اور حکم بھی حرمت کا صاف ہے،
پس غیر صحیح اور مختلف معنی والی روایتوں میں پڑ کر اتنے جلیل القدر صحابی کی طرف ایک ایسا گندا مسئلہ منسوب کرنا ٹھیک نہیں۔ گو کہ روایتیں اس قسم کی بھی ملتی ہیں، امام مالک رحمہ اللہ! سو ان کی طرف بھی اس مسئلہ کی نسبت صحیح نہیں بلکہ معمر بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب اسے حرام جانتے تھے، اسرائیل بن روح نے آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم بےسمجھ ہو، بوائی کھیت میں ہی ہوتی ہے، خبردار شرمگاہ کے سوا اور جگہ سے بچو۔ سائل نے کہا لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ اس فعل کو جائز کہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جھوٹے ہیں مجھ پر تہمت باندھتے ہیں۔ امام مالک سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
ٹھیک اس طرح امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت لوگوں نے گھڑ لی ہے حالانکہ انہوں نے اپنی چھ کتابوں میں کھلے لفظوں اسے حرام لکھا ہے۔ پھر اللہ فرماتا ہے اپنے لیے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی ممنوعات سے بچو نیکیاں کرو تاکہ ثواب آگے جائے، اللہ سے ڈرو اس سے ملنا ہے وہ حساب کتاب لے گا، ایماندر ہر حال میں خوشیاں منائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب جماع کا ارادہ کرے، یہ دعا «بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا» پڑھے یعنی اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اس جماع سے نطفہ قرار پکڑ گیا تو اس بچے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أَنى شئتم}؛ مقبلة ومدبرة غير أنه لا يكون إلا في القبل لكونه موضع الحرث وهو الموضع الذي يكون منه الولد، وفيه دليل على تحريم الوطء في الدبر؛ لأن الله لم يبح إتيان المرأة إلا في الموضع الذي منه الحرث. وقد تكاثرت الأحاديث عن النبي - صلى الله عليه وسلم -، في تحريم ذلك ولعن فاعله. {وقدموا لأنفسكم}؛ أي: من التقرب إلى الله بفعل الخيرات، ومن ذلك أن يباشر الرجل امرأته ويجامعها على وجه القربة والاحتساب وعلى رجاء تحصيل الذرية الذين ينفع الله بهم. {واتقوا الله}؛ أي: في جميع أحوالكم كونوا ملازمين لتقوى الله مستعينين على ذلك بعلمكم، {أنكم ملاقوه}؛ ومجازيكم على أعمالكم الصالحة وغيرها، [ثم قال]: {وبشر المؤمنين}؛ لم يذكر المبَشر به ليدل على العموم وأن لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة، وكل خير واندفاع كل ضير رُتِّب على الإيمان فهو داخل في هذه البشارة، وفيها محبة الله للمؤمنين ومحبة ما يسرهم واستحباب تنشيطهم وتشويقهم بما أعد الله لهم من الجزاء الدنيوي والأخروي.