تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{”اَذًى“}کا لفظ تکلیف، بیماری اور گندگی تینوں معنوں میں آتا ہے۔ نکرہ ہونے کی وجہ سے ”ایک طرح کی گندگی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کا گندگی ہونا تو ظاہر ہے، طبی حیثیت سے بھی عورت ان دنوں صحت کی نسبت بیماری کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور اس حالت میں اس سے جماع خاوند اور بیوی دونوں کے لیے بیماری کا باعث ہو سکتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں ان کے ساتھ اکٹھے رہتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے (اس بارے میں) پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ» [البقرۃ: ۲۲۲] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔“ [مسلم، الحیض،باب جواز غسل الحائض …: ۳۰۲] احادیث میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ اس حالت میں خاوند کے لیے عورت کا بوسہ لینا، اس سے چمٹنا، الغرض سب کچھ سوائے جماع کے جائز ہے۔ وہ اس حالت میں گھر میں رہ کر کھانا پکانا، بچے کو دودھ پلانا، غرض گھر کا ہر کام کر سکتی ہے، البتہ مسجد میں جانا اور نماز، روزہ اس کے لیے جائز نہیں۔
➋{حَتّٰى يَطْهُرْنَ:} یہ باب { ”نَصَرَ“ } اور { ”كَرُمَ“ } سے ہے، بمعنی پاک ہو جائیں {”تَطَهَّرْنَ“} باب تفعل ہے، جس میں مبالغہ ہے، یعنی ”خوب پاک ہو جائیں “ غسل کر لیں۔ {”حَتّٰى يَطْهُرْنَ“} سے معلوم ہوا کہ حیض سے پاک ہونے تک جماع منع ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے جماع کی اجازت {”تَطَهَّرْنَ“} (یعنی غسل کرنے) کے بعد دی ہے۔ اکثر اہل علم یہی فرماتے ہیں کہ غسل سے پہلے جماع جائز نہیں۔ طبری نے اس پر علماء کا اجماع ذکر کیا ہے، البتہ بعض علماء پاک ہونے کے بعد عورت کے شرم گاہ کو دھو لینے کے بعد جماع جائز سمجھتے ہیں، مگر پہلی بات میں زیادہ احتیاط ہے۔
➌ { فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ:} {”فَاْتُوْهُنَّ“} کا مطلب یہ نہیں کہ ضرور ہی ان سے صحبت کرو، بلکہ منع کرنے کے بعد امر آئے تو اجازت مراد ہوتی ہے، جیسے: «وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا» [المائدۃ: ۲] ”جب احرام کھول دو تو شکار کرو۔“ ”جہاں سے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے (یعنی شرم گاہ میں جماع سے) تمھیں منع کیا تھا، اب اس جگہ سے عورت کے پاس جانے کی اجازت ہے۔ دبر کی اجازت نہ پہلے تھی نہ اب ہے، یہ تو سراسر گندگی ہے اور {”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“} (بہت پاک رہنے والوں) سے اس کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ اسی طرح حیض کی حالت میں جانا بھی {”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“} کے لائق نہیں۔ اگر کوئی اس حالت میں چلا گیا تو بہت توبہ کرنے سے اللہ کی محبت کا پھر حق دار بن سکتا ہے۔ {”التَّوَّابِيْنَ“} اور {”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“} کی یہ تفسیر آیت کی مناسبت سے ہے، ورنہ لفظ عام ہیں، جن میں ہر گناہ سے بہت توبہ اور ہر نجاست سے بہت اجتناب اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
➍ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو شخص حیض کی حالت میں بیوی کے پاس جائے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب فی کفارۃ من أتی حائضًا: ۲۱۶۸۔ نسائی: ۲۹۰۔ ترمذی: ۱۳۶۔ ابن ماجہ: ۶۴۰] شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنے کا اختیار ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[296] ’الگ رہو‘ اور ’قریب نہ جاؤ۔‘ ان دونوں سے مراد مجامعت کی ممانعت ہے۔ یہود و نصاریٰ دونوں اس معاملہ میں افراط و تفریط کا شکار تھے۔ یہود تو دوران حیض ایسی عورتوں کو الگ مکان میں رکھتے اور ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی نہ کھاتے تھے اور نصاریٰ دوران حیض مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت کی رو سے خاوند اور بیوی دونوں اکٹھے مل کر رہ سکتے ہیں اکٹھا کھانا کھا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ میاں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے، اس کے گلے لگ سکتا ہے اور اس سے چمٹ بھی سکتا ہے (اور یہی مباشرت کا لغوی معنی ہے) اور قرآن میں جو کسی دوسرے مقام پر ﴿باشروهن﴾ مجامعت کے معنوں میں آیا ہے تو وہ کنائی معنی ہے لغوی نہیں بس صرف مجامعت نہیں کر سکتا۔ حیض کے دوران عورت جو کام نہیں کر سکتی، وہ درج ذیل ہیں۔
2۔ وہ روزے بھی نہیں رکھ سکتی۔ لیکن روزے اسے معاف نہیں بلکہ بعد میں ان کی قضا دینا واجب ہے۔
3۔ وہ ماسوائے طواف کعبہ کے حج کے باقی سب ارکان بجا لا سکتی ہے اور واجب طواف کعبہ کے لیے اسے اس وقت تک رکنا پڑے گا جب تک پاک نہ ہو لے۔
4۔ وہ کعبہ میں یا کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔
5۔ وہ قرآن کو چھو نہیں سکتی۔ البتہ زبانی قرآن کریم کی تلاوت کی اسے اکثر علماء کے نزدیک اجازت ہے۔
6۔ استحاضہ حیض سے بالکل الگ چیز ہے۔ استحاضہ بیماری ہے جبکہ حیض بیماری نہیں بلکہ عورت کی عادت میں شامل ہے۔ لہذا استحاضہ میں وہ تمام پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔ جو حیض کی صورت میں تھیں، حتیٰ کہ اس سے صحبت بھی کی جا سکتی ہے۔
[297] یہاں حکم سے مراد کوئی ایسا شرعی حکم نہیں جس کا بجا لانا ضروری ہو، بلکہ وہ طبعی حکم مراد ہے جو ہر جاندار کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور جس سے ہر متنفس بالطبع واقف ہوتا ہے۔ اس کے خلاف کرے یعنی دبر میں جماع کرے تو وہ مجرم ہو گا۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔
﴿فَمَنِ ابْتَغيٰ وَرَاءَ ذٰلِكَ فَاُولٰيِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ﴾ [المؤمنون: 7]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لیے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہبند باندھے ہوئے ہوتی تھیں۔ [سنن ابوداود:272، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ عمارہ کی پھوپھی صاحبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہو گئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاڑا لگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو حیض سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی۔[سنن ابوداود:270،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «صلی اللہ علیہ و علی ازواجہ و اصحابہ وسلم»
اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ ام المؤمنین کا یہ قول مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مجاہد حسن اور عکرمہ رحمہ اللہ علیہم کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔
ابوداؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دِنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا کہیں سے خراب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابوداود:285، قال الشيخ الألباني:صحیح] ہاں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آ جاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہو جاؤں۔ [سنن ابوداود:271، قال الشيخ الألباني:ضعیف] تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر۔
ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ [سنن ترمذي:137، قال الشيخ الألبانی:صحیح مرفوعاً] مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار۔ [مسند احمد:367/1:ضعیف]
یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رُک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کر لے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کر لے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آ سکتا ہے۔ ہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دِنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہو گیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لیے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس کیسے آئیں اور کیا چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیری کھیتی ہے جس طرح چاہو آؤ، ہاں اس کے منہ پر نہ مار، زیادہ برا نہ کہہ، اس سے روٹھ کر الگ نہ ہو جا، ایک ہی گھر میں رہ۔ [سنن ابوداود:2143، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ابن ابی حاکم میں ہے کہ حمیر کے قبیلہ کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیویوں سے زیادہ محبت ہے تو اس کے بارے میں احکام مجھے بتائے، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4351:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ چند انصاریوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، [مسند احمد:268/1:ضعیف] طحاوی کی کتاب مشکل الحدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے الٹا کر کے مباشرت کی تھی، لوگوں نے اسے برا بھلا کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4337:ضعیف]
انصار والا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اللہ بخشے، انہیں کچھ وہم سا ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ انصاریوں کی جماعت پہلے بت پرست تھی اور یہودی اہل کتاب تھے۔ بت پرست لوگ ان کی فضیلت اور علمیت کے قائل تھے اور اکثر افعال میں ان کی بات مانا کرتے تھے۔ یہودی ایک ہی طرح پر اپنی بیویوں سے ملتے تھے۔ یہی عادت ان انصار کی بھی تھی۔ ان کے برخلاف مکہ والے کسی خاص طریقے کے پابند نہ تھے، وہ جس طرح جی چاہتا ملتے۔ اسلام کے بعد مکہ والے مہاجر بن کر مدینہ میں انصار کے ہاں جب اترے تو ایک مکی مجاہد مرد نے ایک مدنی انصاریہ عورت سے نکاح کیا اور اپنے من بھاتے طریقے برتنے چاہے، عورت نے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ اسی ایک مقررہ طریقہ کے علاوہ اجازت نہیں دیتی۔ بات بڑھتے بڑھتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور یہ فرمان نازل ہوا۔ پس سامنے سے پیچھے کی طرف سے اور جس طرح چاہے اختیار ہے ہاں جگہ ایک ہی ہو۔ [سنن ابوداود:2164، قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم یہ تھا کہ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ قرآن پڑھتے ہوئے کسی سے بولتے چالتے نہ تھے لیکن ایک دن تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت تک پہنچے تو اپنے شاگرد نافع رحمہ اللہ سے فرمایا جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ عورتوں کی دوسری جگہ کی وطی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4526] ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے اپنی بیوی سے پیچھے سے کیا تھا جس پر اس آیت میں رخصت نازل ہوئی لیکن ایک تو اس میں محدثین نے کچھ علت بھی بیان کی ہے، دوسرے اس کے معنی بھی یہی ہو سکتے ہیں کہ پیچھے کی طرف سے آگے کی جگہ میں کیا اور اوپر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی سنداً صحیح نہیں بلکہ انہیں نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وطی دبر کو جائز کیا ہے؟ تو فرمایا لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ پھر وہی انصاریہ عورت اور مہاجر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو اس آیت کا یہ مطلب ارشاد فرماتے تھے، اس روایت کی اسناد بھی بالکل صحیح ہے اور اس کے خلاف سند صحیح نہیں، معنی مطلب بھی اور ہو سکتا ہے اور خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ وہ روایتیں عنقریب بیان ہوں گی ان شاءاللہ جن میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نہ یہ مباح ہے نہ حلال بلکہ حرام ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حرکت سے لوگوں کو منع فرمایا۔[مسند احمد:213/5:صحیح بالشواھد] اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عورت یا مرد کے ساتھ یہ کام کرے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نہیں دیکھے گا۔[سنن ترمذي:1165،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص یہ مسئلہ پوچھتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کیا تو کفر کرنے کی بابت سوال کرتا ہے؟ ایک شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ میں نے آیت «أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ» [البقرہ: 223] کا یہ مطلب سمجھا اور میں نے اس پر عمل کیا تو آپ ناراض ہوئے اور اسے برا بھلا کہا اور فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ کھڑے ہو کر، خواہ بیٹھ کر چت خواہ پٹ لیکن جگہ وہی ایک ہو، ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے پاخانہ کی جگہ وطی کے وہ چھوٹا لوطی ہے۔[مسند احمد:210/2:صحیح] سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کفار کا کام ہے۔[مسند احمد:210/2:موقوف] سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان بھی منقول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے دوسرے راستے وطی کرے اسے کو اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [مسند احمد:272/2:صحیح]
ایک مرفوع حدیث میں اس معنی کی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے، اور روایت میں ہے کہ یہ جگہ حرام ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے جب یہ بات پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بڑا کمینہ وہ شخص ہے، دیکھو قرآن میں ہے کہ لوطیوں سے کہا گیا تم وہ بدکاری کرتے ہو جس کی طرف کسی نے تم سے پہلے توجہ نہیں کی، پس صحیح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سی روایتوں اور سندوں سے اس فعل کی حرمت مروی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ چنانچہ دارمی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ یہ سال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے؟ [دارمی277/1] اس کی اسناد صحیح ہے اور حکم بھی حرمت کا صاف ہے،
پس غیر صحیح اور مختلف معنی والی روایتوں میں پڑ کر اتنے جلیل القدر صحابی کی طرف ایک ایسا گندا مسئلہ منسوب کرنا ٹھیک نہیں۔ گو کہ روایتیں اس قسم کی بھی ملتی ہیں، امام مالک رحمہ اللہ! سو ان کی طرف بھی اس مسئلہ کی نسبت صحیح نہیں بلکہ معمر بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب اسے حرام جانتے تھے، اسرائیل بن روح نے آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم بےسمجھ ہو، بوائی کھیت میں ہی ہوتی ہے، خبردار شرمگاہ کے سوا اور جگہ سے بچو۔ سائل نے کہا لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ اس فعل کو جائز کہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جھوٹے ہیں مجھ پر تہمت باندھتے ہیں۔ امام مالک سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
ٹھیک اس طرح امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت لوگوں نے گھڑ لی ہے حالانکہ انہوں نے اپنی چھ کتابوں میں کھلے لفظوں اسے حرام لکھا ہے۔ پھر اللہ فرماتا ہے اپنے لیے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی ممنوعات سے بچو نیکیاں کرو تاکہ ثواب آگے جائے، اللہ سے ڈرو اس سے ملنا ہے وہ حساب کتاب لے گا، ایماندر ہر حال میں خوشیاں منائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب جماع کا ارادہ کرے، یہ دعا «بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا» پڑھے یعنی اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اس جماع سے نطفہ قرار پکڑ گیا تو اس بچے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن سؤالهم عن المحيض وهل تكون المرأة بحالها بعد الحيض كما كانت قبل ذلك أم تجتنب مطلقاً كما يفعله اليهود؟ فأخبر تعالى أن الحيض أذى وإذا كان أذى فمن الحكمة أن يمنع الله تعالى عباده عن الأذى وحده، ولهذا قال: {فاعتزلوا النساء في المحيض}؛ أي: مكان الحيض وهو الوطء في الفرج خاصة فهذا المحرم إجماعاً، وتخصيص الاعتزال في المحيض يدل على أن مباشرة الحائض وملامستها في غير الوطء في الفرج جائز، لكن قوله: {ولا تقربوهن حتى يطهرن}؛ يدل على ترك المباشرة فيما قرب من الفرج وذلك فيما بين السرة والركبة ينبغي تركه كما كان النبي - صلى الله عليه وسلم -، إذا أراد أن يباشر امرأته وهي حائض أمرها أن تتزر فيباشرها ، وحد هذا الاعتزال وعدم القربان للحيض {حتى يطهرن}؛ أي: ينقطع دمهن، فإذا انقطع الدم زال المنع الموجود وقت جريانه، الذي كان لحله شرطان: انقطاع الدم والاغتسال منه، فلما انقطع الدم زال الشرط الأول وبقي الثاني فلهذا قال: {فإذا تطهرن}؛ أي: اغتسلن، {فأتوهن من حيث أمركم الله}؛ أي: في القبل لا في الدبر لأنه محل الحرث، وفيه دليل على وجوب الاغتسال للحائض وإن انقطاع الدم شرط لصحته، ولما كان هذا المنع لطفاً منه تعالى بعباده وصيانة عن الأذى، قال تعالى: {إن الله يحب التوابين}؛ أي: من ذنوبهم على الدوام، {ويحب المتطهرين}؛ أي: المتنزهين عن الآثام، وهذا يشمل التطهر الحسي من الأنجاس والأحداث، ففيه مشروعية الطهارة مطلقاً؛ لأن الله تعالى يحب المتصف بها، ولهذا كانت الطهارة مطلقاً شرطاً لصحة الصلاة والطواف وجواز مس المصحف، ويشمل التطهر المعنوي عن الأخلاق الرذيلة والصفات القبيحة والأفعال الخسيسة.