تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد الرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تم کسی بات پر قسم کھا لو، پھر دیکھو کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔“ [بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالٰی: «لا یؤاخذکم اللہ …» : ۶۶۲۲] قسم کے کفارے کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۸۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمٰن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور اس نیک کام کو کر لے۔ [صحیح بخاری:6722] پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔
ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4456:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب مسروق اور شعبی رحمہ اللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔
یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ [سنن ابوداود:3272، قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [5-المائدہ: 89] یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المقصود من اليمين والقسم تعظيم المُقْسَمِ به وتأكيد المُقْسَم عليه. وكان الله تعالى قد أمر بحفظ الأيمان وكان مقتضى ذلك حفظها في كل شيء، ولكن الله تعالى استثنى من ذلك إذا كان البر باليمين يتضمن ترك ما هو أحب إليه فنهى عباده أن يجعلوا أيمانهم عرضة أي مانعة وحائلة عن أن يبروا أي يفعلوا خيراً ويتقوا شرًّا ويصلحوا بين الناس، فمن حلف على ترك واجب وجب حِنْثه وحرم إقامته على يمينه، ومن حلف على ترك مستحب استحب له الحِنْثُ، ومن حلف على فعل محرَّم وجب الحِنْثُ، أو على فعل مكروه استحب الحِنْث. وأما المباح فينبغي فيه حفظ اليمين عن الحِنْث.
ويستدل بهذه الآية على القاعدة المشهورة أنه إذا تزاحمت المصالح قدم أهمها، فهنا تتميم اليمين مصلحة، وامتثال أوامر الله في هذه الأشياء مصلحة أكبر من ذلك، فقدمت لذلك. ثم ختم الآية بهذين الاسمين الكريمين فقال: {والله سميع}؛ أي: لجميع الأصوات، {عليم}؛ بالمقاصد والنيات، ومنه سماعه لأقوال الحالفين وعلمه بمقاصدهم هل هي خير أم شرٌّ، وفي ضمن ذلك التحذير من مجازاته، وأن أعمالكم ونياتكم قد استقر علمها عنده. ثم قال تعالى: