تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
شاہ صاحب کے آخری جملہ میں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلے میں ذکر فرمایا ہے، وہاں مشرکین سے مراد بت پرست ہیں، یہود و نصاریٰ نہیں، چنانچہ فرمایا: «لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ» [البینۃ: ۱] ”وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا باز آنے والے نہ تھے۔“ یہ اور دوسری وہ آیات جن میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ الگ بیان کیا ہے، مثلاً سورۂ بقرہ (۱۰۵) اور حج(۱۷) اور بعض مقامات پر یہود و نصاریٰ کو بھی شرک کرنے والے قرار دیا ہے، جیسے فرمایا: «وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ابْنُ اللّٰهِ… سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [التوبۃ: ۳۰، ۳۱] ”اور یہودیوں نے کہا، عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے … وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ (مزید دیکھیے مائدہ: ۷۲) چنانچہ بعض صحابہ اہل کتاب میں سے شرک کرنے والی عورتوں سے نکاح کو درست نہیں سمجھتے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”میں اس سے بڑا شرک نہیں جانتا کہ کوئی عورت کہتی ہو میرا رب عیسیٰ ہے، حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔“ [بخاری، الطلاق، باب قولہ: «ولا تنکحوا المشرکات …» : ۵۲۸۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف یہی قول ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق اہل کتاب کی صرف موحد عورتوں سے نکاح درست ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا شرک خود ذکر کرنے کے باوجود ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے، تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں۔ امیر المومنین عمر بن خطاب، عثمان بن عفان رضی اللہ عنھما اور دوسرے کبار صحابہ کا یہی فتویٰ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ» [المائدۃ: ۵] ”تم سے پہلے جنھیں کتاب دی گئی ان کی پاک دامن عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ “ خلاصہ یہ کہ مسلمان کے لیے کسی ہندو یا بت پرست، کمیونسٹ یا آتش پرست مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے، البتہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں اگرچہ ایمان کا خطرہ ہے، اس لیے کراہت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۵) اس میں حکمت یہ ہے کہ بت پرست، دہریے اور آتش پرست کسی آسمانی تعلیم کو نہ مانتے ہیں نہ اس کے پابند ہیں، جب کہ اہل کتاب عورتوں کو ان کی کتاب کے حوالے سے توحید و رسالت کی دعوت دی جا سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ» [آل عمران: ۶۴] ”کہہ دے اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے۔“ اور مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے ان کے توحید قبول کرنے کی بھی قوی امید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب کی عورتوں سے جو شرک کی مرتکب ہوں، نکاح جائز ہے تو مسلمان عورتیں، جو شرک کرتی ہوں، ان سے بھی نکاح جائز ہے۔ کیونکہ وہ قرآن و حدیث کو مانتی ہیں اور انھیں اس کے حوالے سے توحید و سنت کا قائل کیا جا سکتا ہے۔
➋ {وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا:} اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت آزاد ہو یا غلام اسے مشرک کے نکاح میں دینا جائز نہیں، پھر مشرک خواہ بت پرست ہو یا یہودی یا عیسائی یا مجوسی یا دہریہ، کسی بھی غیر مسلم سے مسلم عورت کا نکاح جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح حرام کرنے کے بعد سورۂ مائدہ (۵) میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی، مگر مشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دینے سے منع کرنے کے بعدکسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ قرطبی نے اس بات پر امت کا اجماع نقل فرمایا ہے کہ مسلمان عورت کا نکاح کسی بھی غیر مسلم سے نہیں ہو سکتا (کیونکہ یہ اسلام کی سربلندی کے خلاف ہے)۔
تنبیہ:جس طرح کسی بھی مشرک سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں، خواہ یہودی ہو یا عیسائی، اسی طرح اگر کوئی کلمہ گو مسلمان بھی شرک کا مرتکب ہو، جیسا کہ اس حاشیے کے شروع میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے وضاحت فرمائی ہے تو اس سے کسی مسلمان موحدہ عورت کا نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے اس موحدہ عورت کو شرک پر مجبور کیے جانے کا خطرہ ہے۔
➌ {وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ:} یہ جملہ واضح دلیل ہے کہ عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، بلکہ اس کا ولی اس کا نکاح کرکے دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح الفاظ میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے منع فرمایا، دیکھیے صحیح بخاری جس میں امام بخاری رحمہ اللہ نے زیر تفسیر آیت اور دو مزید آیات اور احادیث سے یہ مسئلہ ثابت فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بالکل ہی غریب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کر کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ یہ صرف سیاسی مصلحت کی بناء پر تھا تاکہ مسلمان عورتوں سے بے رغبتی نہ کریں یا اور کوئی حکمت عملی اس فرمان میں تھی چنانچہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمان ملا تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ اسے حرام کہتے ہیں، خلیفۃ المسلمین نے جواب دیا کہ حرام تو نہیں کہتا مگر مجھے خوف ہے کہیں تم مومن عورتوں سے نکاح نہ کرو؟ اس روایت کی سند بھی صحیح ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4]
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمان مرد نصرانی عورت سے نکاح کر سکتا ہے لیکن نصرانی مرد کا نکاح مسلمان عورت سے نہیں ہو سکتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4] اس روایت کی سند پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ابن جریر میں تو ایک مرفوع حدیث بھی باسناد مروی ہے کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر لیں لیکن اہل کتاب مرد مسلمان عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4227:ضعیف] لیکن اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے مگر امت کا اجماع اسی پر ہے،
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے نکاح کو ناپسند کیا اور اس آیت کی تلاوت فرما دی، امام بخاری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی شرک کو اس شرک سے بڑھ کر نہیں پاتا کہ وہ عورت کہتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے اللہ ہیں۔ [صحیح بخاری:5285] امام احمد رحمہ اللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا جاتا ہے تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرب کی وہ مشرکہ عورتیں ہیں جو بت پرست تھیں۔
بخاری مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار باتیں دیکھ کر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے ایک تو مال دوسرے حسب نسب تیسرے جمال وخوبصورتی چوتھے دین، تم دینداری ٹٹولو، [صحیح بخاری:5090] مسلم شریف میں ہے دنیا کل کی کل ایک متاع ہے، متاع دنیا میں سب سے افضل چیز نیک بخت عورت ہے۔ [صحیح مسلم:1469]
پھر فرمان ہے کہ مشرک مردوں کے نکاح میں مسلمان عورتیں بھی نہ دو جیسے اور جگہ ہے آیت «لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ» [60۔ الممتحنہ: 10]، نہ کافر عورتیں مسلمان مردوں کے لیے حلال نہ مسلمان مرد کافر عورتوں کے لیے حلال۔ پھر فرمان ہے کہ مومن مرد گو چاہے حبشی غلام ہو پھر بھی رئیس اور سردار آزاد کافر سے بہتر ہے۔ ان لوگوں کا میل جول ان کی صحبت، محبت دنیا حفاظتِ دنیا اور دنیا طلبی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینی سکھاتی ہیں جس کا انجام جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی پابندی اس کے حکموں کی تعمیل جنت کی رہبری کرتی ہے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے وعظ ونصیحت اور پند وعبرت کے لیے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما دیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولا تنكحوا}؛ النساء، {المشركات}؛ ما دمن على شركهن {حتى يؤمن}؛ لأن المؤمنة ولو بلغت من الدمامة ما بلغت خير من المشركة ولو بلغت من الحسن ما بلغت، وهذه عامة في جميع النساء المشركات، وخصصتها آية المائدة في إباحة نساء أهل الكتاب كما قال تعالى: {والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب}؛ {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا}؛ وهذا عام لا تخصيص فيه، ثم ذكر تعالى الحكمة في تحريم نكاح المسلم أو المسلمة لمن خالفهما في الدين فقال: {أولئك يدعون إلى النار}؛ أي: في أقوالهم وأفعالهم وأحوالهم، فمخالطتهم على خطر منهم، والخطر ليس من الأخطار الدنيوية إنما هو الشقاء الأبدي.
ويستفاد من تعليل الآية النهي عن مخالطة كل مشرك ومبتدع؛ لأنه إذا لم يجز التزوج مع أن فيه مصالح كثيرة؛ فالخلطة المجردة من باب أولى وخصوصاً الخلطة التي فيها ارتفاع المشرك ونحوه على المسلم كالخدمة ونحوها.
وفي قوله: {ولا تنكحوا المشركين}؛ دليل على اعتبار الولي في النكاح {والله يدعو إلى الجنة والمغفرة}؛ أي: يدعو عباده لتحصيل الجنة والمغفرة التي من آثارها دفع العقوبات؛ وذلك بالدعوة إلى أسبابها من الأعمال الصالحة والتوبة النصوح والعلم النافع والعمل الصالح، {ويبين آياته}؛ أي: أحكامه وحكمها {للناس لعلهم يتذكرون}؛ فيوجب لهم ذلك التذكر لما نسوه وعلم ما جهلوه والامتثال لما ضيَّعوه. ثم قال تعالى: