تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ”الْيَتٰمٰى“ } جس کا باپ فوت ہو گیا ہو وہ بالغ ہونے تک یتیم ہے۔ { ”لَاَعْنَتَكُمْ“ ”عَنَتٌ“ } کا معنی مشقت ہے، جیسے سورۂ توبہ (۱۲۸) میں ہے: عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ» ”اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو۔“ {”اَعْنَتَ“} باب افعال سے ماضی معروف ہے اور {” اِعْنَاتٌ“} اس سے مصدر ہے، جس کے معنی ہیں، آدمی کو ایسی مشقت میں ڈالنا جس میں ہلاکت کا خطرہ ہو۔ (راغب)
➌ {اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ:} {”اِصْلَاحٌ“} کی تنوین کی وجہ سے ”کچھ نہ کچھ سنوارتے رہنا“ ترجمہ کیا ہے، یعنی ان کے مال کی حفاظت کے ساتھ ان کی تعلیم، اخلاق، صحت اور تمام معاملات کی کچھ نہ کچھ اصلاح جو تمھارے بس میں ہو کرتے رہنا، انھیں یتیم سمجھ کر باز پرس نہ کرنے سے بہت بہتر ہے۔
➍ {وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”جب یہ آیت اتری: «وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ» [بنی إسرائیل: ۳۴] ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہے“ تو لوگوں نے یتیموں کے اموال الگ کر دیے، چنانچہ یتیموں کا کھانا خراب اور گوشت بدبودار ہونے لگا۔“یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کی گئی اور اس پر یہ آیت اتری تو لوگوں نے انھیں اپنے ساتھ ملا لیا۔ [مسند أحمد: 325/1، ح: ۳۰۰۴۔ مستدرک حاکم: 306/2، ح:۳۱۰۳، صححہ الحاکم و وافقہ الذھبی و حسنہ الألبانی]
➎ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ:} مگر اللہ تعالیٰ نے تم پر مشقت نہیں ڈالی، بلکہ آسانی اور وسعت پیدا فرمائی۔ چنانچہ اصلاح کی نیت سے انھیں اپنے ساتھ ملا سکتے ہو اور اگر محتاج ہو تو بقدر خدمت و ضرورت ان کے مال سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہو،جیساکہ فرمایا: «وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ» [النساء: ۶] ”اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھا لے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابومیسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابوزرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی اور روایتیں سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [5۔ المائدہ: 90] کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورۃ المائدہ میں ہی آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لیے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لیے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں۔ [صحیح مسلم:1036] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہو گیا، حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما نزل قوله تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلماً إنما يأكلون في بطونهم ناراً وسيصلون سعيراً}؛ شق ذلك على المسلمين وعزلوا طعامهم عن طعام اليتامى خوفاً على أنفسهم من تناولها ولو في هذه الحالة التي جرت العادة بالمشاركة فيها، وسألوا النبي - صلى الله عليه وسلم -، عن ذلك ، فأخبرهم تعالى أن المقصود إصلاح أموال اليتامى بحفظها وصيانتها والاتجار فيها، وأن خلطتهم إياهم في طعام وغيره جائز على وجه لا يضر باليتامى لأنهم إخوانكم ومن شأن الأخ مخالطة أخيه، والمرجع في ذلك إلى النية والعمل، فمن علم [اللهُ] من نيته أنه مصلح لليتيم وليس له طمع في ماله فلو دخل عليه شيء من غير قصد لم يكن عليه بأس، ومن علم الله من نيته أن قصده بالمخالطة التوصل إلى أكلها [وتناولها] فذلك الذي حُرِّجَ وأُثِّم، والوسائل لها أحكام المقاصد.
وفي هذه الآية دليل على جواز أنواع المخالطات في المآكل والمشارب والعقود وغيرها، وهذه الرخصة لطف من الله تعالى وإحسان وتوسعة على المؤمنين وإلا، فلو {شاء الله لأعنتكم}؛ أي: شق عليكم بعدم الرخصة بذلك فحُرِّجْتُم وشُقَّ عليكم وأثمتم {إن الله عزيز}؛ أي: له القوة الكاملة والقهر لكل شيء ولكنه مع ذلك {حكيم}؛ لا يفعل إلا ما هو مقتضى حكمته الكاملة وعنايته التامة فعزته لا تنافي حكمته فلا يقال إنه ما شاء فعل وافق الحكمة أو خالفها، بل يقال إن أفعاله وكذلك أحكامه تابعة لحكمته فلا يخلق شيئًا عبثًا بل لا بد له من حكمة عرفناها أم لم نعرفها، وكذلك لم يشرع لعباده شيئًا مجردًا عن الحكمة، فلا يأمر إلا بما فيه مصلحة خالصة أو راجحة ولا ينهى إلا عما فيه مفسدة خالصة أو راجحة لتمام حكمته ورحمته.