ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 221

وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَ لَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا ؕ وَ لَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ یَدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلَی الۡجَنَّۃِ وَ الۡمَغۡفِرَۃِ بِاِذۡنِہٖ ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۲۱﴾٪
اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور یقینا ایک مومن لونڈی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ تمھیں اچھی لگے اور نہ (اپنی عورتیں) مشرک مردوں کے نکاح میں دو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے، خواہ وہ تمھیں اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
En
اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وه ایمان نہ ﻻئیں تم نکاح نہ کرو، ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، وه اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ وه نصیحت حاصل کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 221) ➊ {وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ:} پہلے مسلمان اور کافر میں رشتہ ناتا جاری تھا، اس آیت سے حرام ٹھہرا۔ اگر مرد یا عورت نے شرک کیا، اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ شرک یہ کہ اللہ کی صفت کسی اور میں جانے، مثلاً کسی کو سمجھے کہ اس کو ہر بات معلوم ہے، یا وہ جو چاہے سو کر سکتا ہے، یا ہمارا بھلا یا برا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور یہ کہ اللہ کی تعظیم کسی اور پر خرچ کرے، مثلاً کسی چیز کو سجدہ کرے اور اس کو مختار جان کر اس سے حاجت طلب کرے۔ باقی یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح درست ہے، ان کو مشرک نہیں فرمایا۔ (موضح)
شاہ صاحب کے آخری جملہ میں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلے میں ذکر فرمایا ہے، وہاں مشرکین سے مراد بت پرست ہیں، یہود و نصاریٰ نہیں، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ» [البینۃ: ۱] وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا باز آنے والے نہ تھے۔ یہ اور دوسری وہ آیات جن میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ الگ بیان کیا ہے، مثلاً سورۂ بقرہ (۱۰۵) اور حج(۱۷) اور بعض مقامات پر یہود و نصاریٰ کو بھی شرک کرنے والے قرار دیا ہے، جیسے فرمایا: «وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ابْنُ اللّٰهِسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [التوبۃ: ۳۰، ۳۱] اور یہودیوں نے کہا، عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے … وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔ (مزید دیکھیے مائدہ: ۷۲) چنانچہ بعض صحابہ اہل کتاب میں سے شرک کرنے والی عورتوں سے نکاح کو درست نہیں سمجھتے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: میں اس سے بڑا شرک نہیں جانتا کہ کوئی عورت کہتی ہو میرا رب عیسیٰ ہے، حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔ [بخاری، الطلاق، باب قولہ: «‏‏‏‏ولا تنکحوا المشرکات …» ‏‏‏‏: ۵۲۸۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف یہی قول ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق اہل کتاب کی صرف موحد عورتوں سے نکاح درست ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا شرک خود ذکر کرنے کے باوجود ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے، تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں۔ امیر المومنین عمر بن خطاب، عثمان بن عفان رضی اللہ عنھما اور دوسرے کبار صحابہ کا یہی فتویٰ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ» [المائدۃ: ۵] تم سے پہلے جنھیں کتاب دی گئی ان کی پاک دامن عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مسلمان کے لیے کسی ہندو یا بت پرست، کمیونسٹ یا آتش پرست مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے، البتہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں اگرچہ ایمان کا خطرہ ہے، اس لیے کراہت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۵) اس میں حکمت یہ ہے کہ بت پرست، دہریے اور آتش پرست کسی آسمانی تعلیم کو نہ مانتے ہیں نہ اس کے پابند ہیں، جب کہ اہل کتاب عورتوں کو ان کی کتاب کے حوالے سے توحید و رسالت کی دعوت دی جا سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ» [آل عمران: ۶۴] کہہ دے اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے۔ اور مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے ان کے توحید قبول کرنے کی بھی قوی امید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب کی عورتوں سے جو شرک کی مرتکب ہوں، نکاح جائز ہے تو مسلمان عورتیں، جو شرک کرتی ہوں، ان سے بھی نکاح جائز ہے۔ کیونکہ وہ قرآن و حدیث کو مانتی ہیں اور انھیں اس کے حوالے سے توحید و سنت کا قائل کیا جا سکتا ہے۔
➋ {وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا:} اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت آزاد ہو یا غلام اسے مشرک کے نکاح میں دینا جائز نہیں، پھر مشرک خواہ بت پرست ہو یا یہودی یا عیسائی یا مجوسی یا دہریہ، کسی بھی غیر مسلم سے مسلم عورت کا نکاح جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح حرام کرنے کے بعد سورۂ مائدہ (۵) میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی، مگر مشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دینے سے منع کرنے کے بعدکسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ قرطبی نے اس بات پر امت کا اجماع نقل فرمایا ہے کہ مسلمان عورت کا نکاح کسی بھی غیر مسلم سے نہیں ہو سکتا (کیونکہ یہ اسلام کی سربلندی کے خلاف ہے)۔
تنبیہ:جس طرح کسی بھی مشرک سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں، خواہ یہودی ہو یا عیسائی، اسی طرح اگر کوئی کلمہ گو مسلمان بھی شرک کا مرتکب ہو، جیسا کہ اس حاشیے کے شروع میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے وضاحت فرمائی ہے تو اس سے کسی مسلمان موحدہ عورت کا نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے اس موحدہ عورت کو شرک پر مجبور کیے جانے کا خطرہ ہے۔
➌ {وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ:} یہ جملہ واضح دلیل ہے کہ عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، بلکہ اس کا ولی اس کا نکاح کرکے دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح الفاظ میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے منع فرمایا، دیکھیے صحیح بخاری جس میں امام بخاری رحمہ اللہ نے زیر تفسیر آیت اور دو مزید آیات اور احادیث سے یہ مسئلہ ثابت فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

221۔ 1 مشرکہ عورتوں سے مراد بتوں کی پجاری عورتیں ہیں اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) عورتوں سے نکاح کی اجازت قرآن نے دی ہے۔ البتہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی اہل کتاب مرد سے نہیں ہوسکتا۔ تاہم حضرت عمر ؓ نے مصلحتاً اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو ناپسند کیا (ابن کثیر) آیت میں اہل ایمان کو ایمان دار مردوں اور عورتوں سے نکاح کی تاکید کی گئی ہے اور دین کو نظر انداز کر کے محض حسن وجمال کی بنیاد پر نکاح کرنے کو آخرت کی بربادی قرار دیا گیا جس طرح حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار وجہوں سے نکاح کیا جاتا ہے مال، حسب نسب، حسن وجمال یا دین کی وجہ سے۔ تم دین دار عورت کا انتخاب کرو (صحیح بخاری) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک عورت کو دنیا کی سب سے بہتر متاع قرار دیا ہے فرمایا خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ (صحیح مسلم)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

221۔ اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن [294] لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بہت پسند ہو اور مشرک مردوں سے بھی (اپنی عورتوں کا) نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام، آزاد مشرک سے بہتر ہے خواہ تمہیں وہ اچھا ہی لگے۔ یہ مشرک لوگ تو تمہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے اذن سے تمہیں جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام اسی انداز سے کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں
[294] مشرکہ سے نکاح کیوں ممنوع ہے؟
کیونکہ مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا تعلق محض شہوانی تعلق ہی نہیں جیسا کہ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے بلکہ اس تعلق کے اثرات بڑے دور رس ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے دماغ اخلاق اور تمدن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مثلاً ایک مومن ایک مشرکہ سے نکاح کرتا ہے تو اگر وہ مومن اپنے ایمان میں پختہ، علم میں بیوی سے فائق تر اور عزم کا پکا ہو گا تو اس صورت میں وہ اپنی بیوی کی اور کسی حد تک اپنے سسرال والوں کی اصلاح کر سکتا ہے۔ ورنہ عموماً یوں ہوتا ہے کہ مرد مغلوب اور عورت اس کے افکار پر غالب آ جاتی ہے اور اگر دونوں اپنی اپنی جگہ پکے ہوں تو ان میں ہر وقت معرکہ آرائی ہوتی رہے گی اور اگر دونوں ڈھیلے ہوں تو وہ دونوں شرک اور توحید کے درمیان سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوں گے اور یہ صورت اسلامی نقطہ نظر سے قطعاً گوارا نہیں اور ایسی صورت کو بھی شرک ہی قرار دیا گیا ہے اور اگر مرد مشرک اور بیوی موحد ہو تو شرک کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ لہذا نقصان کے احتمالات زیادہ ہونے کی بنا پر ایسے نکاح کو نا جائز قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ظاہری کمال و محاسن دیکھنے کی بجائے صرف ایمان ہی کو شرط نکاح قرار دیا جائے ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نکاح کے بعد کوئی ایک فریق مشرک ہو جائے تو سابقہ نکاح از خود ٹوٹ جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پاک دامن عورتیں ٭٭
بت پرست مشرکہ عورتوں سے نکاح کی حرمت بیان ہو رہی ہے، گو آیت کا عموم تو ہر ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت پر ہی دلالت کرتا ہے لیکن دوسری جگہ فرمان ہے آیت «وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ» [5۔ المائدہ: 5]‏‏‏‏، یعنی تم سے پہلے جو لوگ کتاب اللہ دئیے گئے ہیں ان کی پاکدامن عورتوں سے بھی جو زناکاری سے بچنے والی ہوں ان کے مہر ادا کر کے ان سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی ہے کہ ان مشرکہ عورتوں میں سے اہل کتاب عورتیں مخصوص ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:350/4]‏‏‏‏ مجاہد عکرمہ، سعید بن جبیر، مکحول، حسن، ضحاک، قتادہ زید بن اسلم اور ربیع بن انس رحمہم اللہ کا بھی یہی فرمان ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:669/2:]‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں یہ آیت صرف بت پرست مشرکہ عورتوں ہی کے لیے نازل ہوئی ہے جیسے بھی کہہ لیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کو ناجائز قرار دیا سوائے ایماندار، ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے خصوصاً ان عورتوں سے جو کسی دوسرے مذہب کی پابند ہوں۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [5۔ المائدہ: 5]‏‏‏‏، یعنی کافروں کے اعمال برباد ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ انہیں کوڑے لگائیں، ان دونوں بزرگوں نے کہا اے امیرالمومنین آپ ناراض نہ ہوں ہم انہیں طلاق دے دیتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر طلاق دینی حلال ہے تو پھر نکاح بھی حلال ہونا چاہیئے میں انہیں تم سے چھین لوں گا اور اس ذلت کے ساتھ انہیں الگ کروں گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:4224:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث نہایت غریب ہے
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بالکل ہی غریب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کر کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ یہ صرف سیاسی مصلحت کی بناء پر تھا تاکہ مسلمان عورتوں سے بے رغبتی نہ کریں یا اور کوئی حکمت عملی اس فرمان میں تھی چنانچہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمان ملا تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ اسے حرام کہتے ہیں، خلیفۃ المسلمین نے جواب دیا کہ حرام تو نہیں کہتا مگر مجھے خوف ہے کہیں تم مومن عورتوں سے نکاح نہ کرو؟ اس روایت کی سند بھی صحیح ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمان مرد نصرانی عورت سے نکاح کر سکتا ہے لیکن نصرانی مرد کا نکاح مسلمان عورت سے نہیں ہو سکتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4]‏‏‏‏ اس روایت کی سند پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ابن جریر میں تو ایک مرفوع حدیث بھی باسناد مروی ہے کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر لیں لیکن اہل کتاب مرد مسلمان عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4227:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے مگر امت کا اجماع اسی پر ہے،
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے نکاح کو ناپسند کیا اور اس آیت کی تلاوت فرما دی، امام بخاری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی شرک کو اس شرک سے بڑھ کر نہیں پاتا کہ وہ عورت کہتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے اللہ ہیں۔ [صحیح بخاری:5285]‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا جاتا ہے تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرب کی وہ مشرکہ عورتیں ہیں جو بت پرست تھیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایمان والی لونڈی شرک کرنے والی آزاد عورت سے اچھی ہے یہ فرمان سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوتا ہے، ان کی ایک سیاہ رنگ لونڈی تھی ایک مرتبہ غصہ میں آ کر اسے تھپڑ مار دیا تھا پھر گھبرائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا کیا خیال کہا حضور! وہ روزے رکھتی ہے نماز پڑھتی ہے اچھی طرح وضو کرتی ہے اللہ کی وحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوعبداللہ پھر تو وہ ایماندار ہے کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اسے آزاد کر دوں گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے نکاح بھی کر لوں گا چنانچہ یہی کیا جس پر بعض مسلمانوں نے انہیں طعنہ دیا، وہ چاہتے تھے کہ مشرکوں میں ان کا نکاح کرا دیں اور انہیں اپنی لڑکیاں بھی دیں تاکہ شرافت نسب قائم رہے اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مشرک آزاد عورتوں سے تو مسلمان لونڈی ہزار ہا درجہ بہتر ہے اور اسی طرح مشرک آزاد مرد سے مسلم غلام بھی بڑھ چڑھ کر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4228]‏‏‏‏
مسند عبد بن حمید میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے محض حسن پر فریفتہ ہو کر ان سے نکاح نہ کر لیا کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں مغرور کر دے عورتوں کے مال کے پیچھے ان سے نکاح نہ کر لیا کرو ممکن ہے مال انہیں سرکش کر دے نکاح کرو تو دینداری دیکھا کرو بدصورت سیاہ فام لونڈی بھی اگر دیندار ہو تو بہت افضل ہے، [سنن ابن ماجه:1859، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس حدیث کے راویوں میں افریقی ضعیف ہے،
بخاری مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار باتیں دیکھ کر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے ایک تو مال دوسرے حسب نسب تیسرے جمال وخوبصورتی چوتھے دین، تم دینداری ٹٹولو، [صحیح بخاری:5090]‏‏‏‏ مسلم شریف میں ہے دنیا کل کی کل ایک متاع ہے، متاع دنیا میں سب سے افضل چیز نیک بخت عورت ہے۔ [صحیح مسلم:1469]‏‏‏‏
پھر فرمان ہے کہ مشرک مردوں کے نکاح میں مسلمان عورتیں بھی نہ دو جیسے اور جگہ ہے آیت «لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ» [60۔ الممتحنہ: 10]‏‏‏‏، نہ کافر عورتیں مسلمان مردوں کے لیے حلال نہ مسلمان مرد کافر عورتوں کے لیے حلال۔ پھر فرمان ہے کہ مومن مرد گو چاہے حبشی غلام ہو پھر بھی رئیس اور سردار آزاد کافر سے بہتر ہے۔ ان لوگوں کا میل جول ان کی صحبت، محبت دنیا حفاظتِ دنیا اور دنیا طلبی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینی سکھاتی ہیں جس کا انجام جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی پابندی اس کے حکموں کی تعمیل جنت کی رہبری کرتی ہے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے وعظ ونصیحت اور پند وعبرت کے لیے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما دیں۔