تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {الْمَيْسِرِ:} جوا، یہ {”يُسْرٌ“} بمعنی سہولت سے ہے، کیونکہ جوئے میں بغیر مشقت کے دوسرے کا مال آسانی سے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ آج کل پانسے، لاٹری، بیمے اور سٹے وغیرہ کے نام سے جو کاروبار ہورہا ہے سب جوئے کی صورتیں ہیں، حتیٰ کہ اخروٹوں کے ساتھ کھیل میں شرط ہو تو وہ بھی جوا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ مائدہ کی آیت (۳) اور (۹۰) کے حواشی دیکھ لیں۔
➌ {وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا:} اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے کچھ فوائد بتلائے، مگر ساتھ ہی فرمایا کہ کچھ فوائد کے ساتھ ان میں بہت بڑا گناہ ہے، پھر مقابلہ نفع اور نقصان کا نہیں کیا کہ ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں، بلکہ فرمایا ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ معلوم ہوا کہ کوئی چیز دنیا میں کتنی بھی نفع بخش کیوں نہ ہو، اگر اس میں گناہ ہے تو مومن کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس آیت میں شراب اور جوئے کی حرمت کی طرف اشارہ موجود ہے، کیونکہ ان میں{”اِثْمٌ كَبِيْرٌ“} بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے {”اِثْمٌ“} کو حرام قرار دیا ہے۔ (دیکھیے الاعراف: ۳۳) اس سے فوٹو کے فوائد اور گناہ کا، گھر میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ رکھنے کے فوائد اور گناہ کا اور کفار کے ملکوں میں جا کر رہنے کے فوائد اور گناہ کا مقابلہ بھی کر لینا چاہیے۔
➍ {قُلِ الْعَفْوَ:} {”الْعَفْوَ“} کا معنی صاحب قاموس نے کیا ہے: {”خِيَارُ الشَّيْءِ وَ اَجْوَدُهٗ“} یعنی کسی چیز کا بہترین اور عمدہ ترین حصہ۔ طبری نے بھی کئی مفسرین سے یہ معنی نقل فرمایا ہے۔ اس صورت میں یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت (۹۲) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۲۶۷) کی ہم معنی ہے، یعنی اپنی بہترین اور محبوب ترین چیز خرچ کرو۔ ترجمہ اسی معنی کے مطابق کیا گیا ہے۔
دوسرا معنی ہے ”زائد چیز“ اگرچہ زائد کا معنی بھی یہ ہو سکتا ہے کہ جو عمدگی میں بڑھیا ہو، مگر بہت سے علماء نے اس کا معنی اپنی اور گھر کی ضرورتوں سے زائد چیز کیا ہے۔ چنانچہ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں {”الْعَفْوَ“} سے مراد وہ مال ہے جو اہل و عیال اور لازمی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد بچ رہے اور جس کے خرچ کرنے کے بعد انسان خود اتنا محتاج نہ ہو جائے کہ دوسروں سے سوال کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو خوش حالی کے ساتھ ہو اور تم پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔“ [بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ …: ۱۴۲۶، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] یہ حکم زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقے کا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔(اشر ف الحواشی) دونوں معنی مراد لینے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں۔ بعض مسلمان کہلانے والے کمیونسٹوں نے اس آیت سے ضرورت سے زائد چیزوں کی ذاتی ملکیت کے انکار پر استدلال کیا ہے، حالانکہ اس کے معنی اوّل تو یہ ہیں کہ اپنی بہترین چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اس سے اشتراکی نظریے کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ اگر زائد خرچ کرنے کے معنی مراد لیے جائیں تو وہ بھی اگر لوگوں کی ملکیت میں کچھ ہو گا تو خرچ کریں گے اور یہ اختیار بھی ان کے پاس ہو گا کہ وہ کس چیز کو ضرورت سے زائد سمجھتے ہیں۔ اگر ملکیت ہی حکومت کی ہے تو لوگ کیا خرچ کریں گے۔ جبراً سب کچھ چھین لینے کو قرآن کا منشا قرار دینا لوگوں کی طرح قرآن پر بھی جبر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[291] یعنی ضرورت سے زائد سارا مال خرچ کر دینا نفلی صدقات کی آخری حد ہے۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ انسان سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور بعد میں خود محتاج ہو جائے چنانچہ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہو جائے اور ابتدا ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة، باب لا صدقه الا عن ظهر غني] حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران فرمایا۔ جس کے پاس زائد سواری ہو وہ اسے دے دے، جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔ غرض یہ کہ آپ نے مال کی ایک ایک قسم کا ایسے ہی جدا جدا ذکر کیا۔ حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسلم، كتاب اللقطة، باب الضيافة ونحوها نيز باب استحباب المواسات بفضول المال]
[292] یعنی تمہاری دنیوی ضروریات حقیقتاً کیا ہیں؟ اور آخرت میں صدقہ کا جو اجر عظیم تمہیں ملے گا۔ ان دونوں باتوں کا لحاظ رکھ کر تمہیں سوچنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابومیسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابوزرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی اور روایتیں سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [5۔ المائدہ: 90] کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورۃ المائدہ میں ہی آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لیے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لیے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں۔ [صحیح مسلم:1036] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہو گیا، حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يسألك يا أيها الرسولُ، المؤمنون عن أحكام الخمر والميسر، وقد كانا مستعمليْنِ في الجاهلية وأول الإسلام، فكأنه وقع فيهما إشكال، فلهذا سألوا عن حكمهما، فأمر الله تعالى نبيَّه أن يبين لهم منافعهما ومضارهما ليكون ذلك مقدمة لتحريمهما وتحتيم تركهما، فأخبر أن إثمهما ومضارهما وما يصدر عنهما من ذهاب العقل والمال والصد عن ذكر الله وعن الصلاة والعداوة والبغضاء أكبر مما يظنونه من نفعهما من كسب المال بالتجارة بالخمر وتحصيله بالقمار والطرب للنفوس عند تعاطيهما، وكان هذا البيان زاجراً للنفوس عنهما لأن العاقل يرجح ما ترجحت مصلحته، ويجتنب ما ترجحت مضرته، ولكن لما كانوا قد ألفوهما، وصعب التحتيم بتركهما أول وهلة؛ قدم هذه الآية مقدمة للتحريم الذي ذكره في قوله: {يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان} إلى قوله: {منتهون}، وهذا من لطفه ورحمته وحكمته، ولهذا لما نزلت قال عمر رضي الله عنه: انتهينا انتهينا.
فأما الخمر فهو كل مسكر خامر العقل وغطاه من أي نوع كان، وأما الميسر فهو كل المغالبات التي يكون فيها عوض من الطرفين من النرد والشطرنج وكل مغالبة قولية أو فعلية بعوض، سوى مسابقة الخيل والإبل والسهام؛ فإنها مباحة لكونها معينة على الجهاد؛ [فلهذا] رخص فيها الشارع.
{وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ (219) فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ}
وهذا سؤال عن مقدار ما ينفقونه من أموالهم، فيسر الله لهم الأمر وأمرهم أن ينفقوا العفو، وهو المتيسر من أموالهم الذي لا تتعلق به حاجتهم وضرورتهم، وهذا يرجع إلى كل أحد بحسبه من غني وفقير ومتوسط، كل له قدرة على إنفاق ما عفا من ماله ولو شق تمرة، ولهذا أمر الله رسوله - صلى الله عليه وسلم -، أن يأخذ العفو من أخلاق الناس وصدقاتهم، ولا يكلفهم ما يشق عليهم؛ ذلك بأن الله تعالى لم يأمرنا بما أمرنا به حاجة منه لنا أو تكليفاً لنا بما يشق، بل أمرنا بما فيه سعادتنا وما يسهل علينا وما به النفع لنا ولإخواننا فيستحق على ذلك أتم الحمد.
ولما بين تعالى هذا البيان الشافي وأطلع العباد على أسرار شرعه قال: {كذلك يبين الله لكم الآيات}؛ أي: الدالات على الحق المحصلات للعلم النافع والفرقان، {لعلكم تتفكرون في الدنيا والآخرة}؛ أي: لكي تستعملوا أفكاركم في أسرار شرعه، وتعرفوا أن أوامره فيها مصالح الدنيا والآخرة، وأيضاً لكي تتفكروا في الدنيا وسرعة انقضائها فترفضوها، وفي الآخرة وبقائها، وأنها دار الجزاء فتعمروها.