تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {جٰهَدُوْا:} {”جَهَدَ يَجْهَدُ (ف)“} کا مطلب ہے ”کسی کام میں کوشش کرنا۔“ {”جَاهَدَ مُجَاهَدَةً وَجِهَادًا“} کا معنی ہے ”دشمن سے لڑنا۔“(القاموس) {”جَهَدَ“} سے باب مفاعلہ کی وجہ سے اس کا معنی اپنی ساری کوشش صرف کرنا ہے۔ اس لیے اصحاب لغت نے اس کا معنی ”لڑنا“ کیا ہے کیونکہ کوشش کی انتہا یہی ہے۔
➌ {يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ:} یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ایسے اعمال ہیں جن کے نتیجے میں دل کے اندر اللہ کی رحمت کی امید پیدا ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا دامن ان سے خالی ہے وہ لاکھ اللہ کی رحمت کی امید کا دعویٰ کریں، حقیقت میں ان کے دل کے اندر رحمت کی امید پیدا نہیں ہوتی:
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اس میں ان مجاہدوں کے لیے بشارت ہے جن کا ذکر حرمت والے مہینوں میں حملہ کرنے کے ضمن میں آیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔
مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے] اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،
مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [رضی اللہ عنہ] ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 218]، نازل ہوئی۔[سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الأعمال الثلاثة هي عنوان السعادة وقطب رَحَى العبودية، وبها يعرف ما مع الإنسان من الربح والخسران، فأما الإيمان فلا تسأل عن فضيلته وكيف تسأل عن شيء هو الفاصل بين أهل السعادة وأهل الشقاوة، وأهل الجنة من أهل النار، وهو الذي إذا كان مع العبد قبلت أعمال الخير منه، وإذا عدم منه لم يقبل له صرف ولا عدل ولا فرض ولا نفل، وأما الهجرة فهي مفارقة المحبوب المألوف لرضا الله تعالى فيترك المهاجر وطنه وأمواله وأهله وخلانه تقرباً إلى الله ونصرة لدينه، وأما الجهاد فهو بذل الجهد في مقارعة الأعداء، والسعي التام في نصرة دين الله وقمع دين الشيطان، وهو ذروة الأعمال الصالحة وجزاؤه أفضل الجزاء، وهو السبب الأكبر لتوسيع دائرة الإسلام، وخذلان عباد الأصنام وأمن المسلمين على أنفسهم وأموالهم وأولادهم، فمن قام بهذه الأعمال الثلاثة على لأوائها ومشقتها، كان لغيرها أشد قياماً به وتكميلاً، فحقيق بهؤلاء أن يكونوا هم الراجون رحمة الله لأنهم أتوا بالسبب الموجب للرحمة، وفي هذا دليل على أن الرجاء لا يكون إلا بعد القيام بأسباب السعادة، وأما الرجاء المقارن للكسل وعدم القيام بالأسباب فهذا عجز وتمنٍّ وغرور، وهو دالٌّ على ضعف همة صاحبه، ونقص عقله، بمنزلة من يرجو وجود الولد بلا نكاح، ووجود الغلة بلا بذر وسقي ونحو ذلك.
وفي قوله: {أولئك يرجون رحمة الله}؛ إشارة إلى أن العبد ولو أتى من الأعمال بما أتى به لا ينبغي له أن يعتمد عليها ويعول عليها، بل يرجو رحمة ربه ويرجو قبول أعماله ومغفرة ذنوبه وستر عيوبه، ولهذا قال: {والله غفور}؛ أي: لمن تاب توبة نصوحاً، {رحيم}؛ وسعت رحمته كلَّ شيء وعمَّ جُودُه وإحسانُه كلَّ حيٍّ، وفي هذا دليل على أن من قام بهذه الأعمال المذكورة حصل له مغفرة الله، إذ الحسنات يذهبن السيئات، وحصلت له رحمة الله، وإذا حصلت له المغفرة اندفعت عنه عقوبات الدنيا والآخرة التي هي آثار الذنوب التي قد غفرت، واضمحلت آثارها، وإذا حصلت له الرحمة حصل على كل خير في الدنيا والآخرة، بل أعمالهم المذكورة من رحمة الله بهم، فلولا توفيقه إياهم لم يريدوها، ولولا إقدارهم عليها، لم يقدروا عليها ولولا إحسانه لم يتمها ويقبلها منهم، فله الفضل أولاً وآخراً وهو الذي مَنَّ بالسبب والمسبب، ثم قال تعالى: