ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 219

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱۹﴾ۙ
تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں، کہہ دے جو بہترین ہو۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کرو۔ En
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
En
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے ان دونوں میں بہت بڑا گناه ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائده بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناه ان کے نفع سے بہت زیاده ہے۔ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیئے حاجت سے زائد چیز، اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ تم سوچ سمجھ سکو، En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 219) ➊ {الْخَمْرِ:} شراب، اس کی تفسیر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ] [مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر…: 2003/74] ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔ بعض لوگوں نے صرف انگور کی شراب کو خمر قرار دے کر باقی سب کے دوسرے نام رکھ کر انھیں حلال کر لیا۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث کے عین مصداق ہیں کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو عورتوں کی شرم گاہوں کو اور ریشم اور خمر (شراب) کو اور باجوں کو حلال کر لیں گے۔ [بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر …: ۵۵۹۰، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ] ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ خمر (شراب) پییں گے اور اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے۔ [أبو داوٗد،الأشربۃ، باب فی الدّاذیّ: ۳۶۸۸]
➋ {الْمَيْسِرِ:} جوا، یہ {يُسْرٌ} بمعنی سہولت سے ہے، کیونکہ جوئے میں بغیر مشقت کے دوسرے کا مال آسانی سے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ آج کل پانسے، لاٹری، بیمے اور سٹے وغیرہ کے نام سے جو کاروبار ہورہا ہے سب جوئے کی صورتیں ہیں، حتیٰ کہ اخروٹوں کے ساتھ کھیل میں شرط ہو تو وہ بھی جوا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورۂ مائدہ کی آیت (۳) اور (۹۰) کے حواشی دیکھ لیں۔
➌ {وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا:} اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے کچھ فوائد بتلائے، مگر ساتھ ہی فرمایا کہ کچھ فوائد کے ساتھ ان میں بہت بڑا گناہ ہے، پھر مقابلہ نفع اور نقصان کا نہیں کیا کہ ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں، بلکہ فرمایا ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ معلوم ہوا کہ کوئی چیز دنیا میں کتنی بھی نفع بخش کیوں نہ ہو، اگر اس میں گناہ ہے تو مومن کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس آیت میں شراب اور جوئے کی حرمت کی طرف اشارہ موجود ہے، کیونکہ ان میں{اِثْمٌ كَبِيْرٌ} بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے {اِثْمٌ} کو حرام قرار دیا ہے۔ (دیکھیے الاعراف: ۳۳) اس سے فوٹو کے فوائد اور گناہ کا، گھر میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ رکھنے کے فوائد اور گناہ کا اور کفار کے ملکوں میں جا کر رہنے کے فوائد اور گناہ کا مقابلہ بھی کر لینا چاہیے۔
➍ {قُلِ الْعَفْوَ:} {الْعَفْوَ} کا معنی صاحب قاموس نے کیا ہے: {خِيَارُ الشَّيْءِ وَ اَجْوَدُهٗ} یعنی کسی چیز کا بہترین اور عمدہ ترین حصہ۔ طبری نے بھی کئی مفسرین سے یہ معنی نقل فرمایا ہے۔ اس صورت میں یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت (۹۲) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۲۶۷) کی ہم معنی ہے، یعنی اپنی بہترین اور محبوب ترین چیز خرچ کرو۔ ترجمہ اسی معنی کے مطابق کیا گیا ہے۔
دوسرا معنی ہے زائد چیز اگرچہ زائد کا معنی بھی یہ ہو سکتا ہے کہ جو عمدگی میں بڑھیا ہو، مگر بہت سے علماء نے اس کا معنی اپنی اور گھر کی ضرورتوں سے زائد چیز کیا ہے۔ چنانچہ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں {الْعَفْوَ} سے مراد وہ مال ہے جو اہل و عیال اور لازمی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد بچ رہے اور جس کے خرچ کرنے کے بعد انسان خود اتنا محتاج نہ ہو جائے کہ دوسروں سے سوال کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بہتر صدقہ وہ ہے جو خوش حالی کے ساتھ ہو اور تم پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ …: ۱۴۲۶، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] یہ حکم زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقے کا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔(اشر ف الحواشی) دونوں معنی مراد لینے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں۔ بعض مسلمان کہلانے والے کمیونسٹوں نے اس آیت سے ضرورت سے زائد چیزوں کی ذاتی ملکیت کے انکار پر استدلال کیا ہے، حالانکہ اس کے معنی اوّل تو یہ ہیں کہ اپنی بہترین چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اس سے اشتراکی نظریے کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ اگر زائد خرچ کرنے کے معنی مراد لیے جائیں تو وہ بھی اگر لوگوں کی ملکیت میں کچھ ہو گا تو خرچ کریں گے اور یہ اختیار بھی ان کے پاس ہو گا کہ وہ کس چیز کو ضرورت سے زائد سمجھتے ہیں۔ اگر ملکیت ہی حکومت کی ہے تو لوگ کیا خرچ کریں گے۔ جبراً سب کچھ چھین لینے کو قرآن کا منشا قرار دینا لوگوں کی طرح قرآن پر بھی جبر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

219۔ 1 یہ گناہ تو دین کے اعتبار سے ہے۔ 219۔ 2 فائدوں کا تعلق دنیا سے ہے مثلاً شراب سے وقتی طور پر بدن میں چستی اور مستعدی اور بعض ذہنوں میں تیزی آجاتی ہے جنسی قوت میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کے لئے اس کا استعمال عام ہوتا ہے اس طرح اس کی خریدو فروخت نفع بخش کاروبار ہے۔ جوا میں بھی بعض دفعہ آدمی جیت جاتا ہے تو اس کو کچھ مال مل جاتا ہے لیکن یہ فائدے ان نقصانات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جو انسان کی عقل اور اس کے دین کو ان سے پہنچتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان کا گناہ ان کے فائدوں سے بہت بڑا ہے اس طرح اس آیت میں شراب اور جوا کو حرام تو قرار نہیں دیا گیا تاہم اس کے لیے تمہبند باندھ دی گئی ہے اس آیت سے ایک بہت اہم نقطہ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر چیز چاہے وہ کتنی ہی بری ہو کچھ نہ کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں۔ اور لوگ بعض فوائد بیان کر کے اپنے نفس کو دھوکہ دے لیتے ہیں دیکھنا یہ چاہیے کہ فوائد اور نقصانات کا تقابل کیا ہے خاص طور پر دین و ایمان اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے اگر دینی نقطہ نظر سے نقصانات ومفاسد زیادہ ہیں تو تھوڑے سے دنیاوی فائدوں کی خاطر اسے جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔ 219۔ 3 اس معنی کے اعتبار سے یہ اخلاقی ہدایت ہے یا پھر یہ حکم ابتدائے اسلام میں دیا گیا جس پر فریضہ زکاۃ کے بعد عمل ضروری نہیں رہا تاہم افضل ضرور ہے (فتح القدیر) جو آسان اور سہولت سے ہو اور دل پر شاق (گراں) نہ گزرے۔ اسلام نے یقینا انفاق کی بڑی ترغیب دی ہے لیکن یہ اعتدال ملحوظ رکھا ہے کہ ایک تو اپنے زیر کفالت افراد کی خبر گیری اور ان کی ضرویات کو مقدم رکھنے کا حکم دیا ہے دوسرے اس طرح خرچ کرنے سے بھی منع کیا ہے کہ کل کو تمہیں یا تمہارے اہم خاندان کو دوسروں کے آگے دست سوال دراز کرنا پڑجائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

219۔ وہ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ ان دونوں کاموں میں بڑا گناہ [290] ہے۔ اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ مگر ان کا گناہ ان کے نفع کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ نیز آپ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا کچھ خرچ کریں؟ ان سے کہیے کہ جو کچھ بھی ضرورت [291] سے زائد ہو (وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دو) اسی انداز سے اللہ تعالیٰ اپنے احکام تمہارے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت [292] دونوں کے بارے میں غور و فکر کرو
[290] یہ شراب کے متعلق ابتدائی حکم ہے۔ جس میں صرف شراب سے نفرت دلانا مقصود تھا اس کے بعد دوسرے حکم میں یہ بتلایا گیا کہ نشہ کی حالت میں نماز ادا کرنا منع ہے۔ پھر تیسری بار آخری حکم سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں ہے۔ جس میں شراب، جوا اور اس قبیل کی دوسری چیزوں کو قطعی طور پر حرام کیا گیا ہے کہ اگرچہ شراب کے پینے سے وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کے اور جوا کے نقصانات اس کے فائدہ سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً شراب پینے سے انسان کی عقل مخمور ہو جاتی ہے اور یہی خرابی کئی طرح کے فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح جوئے میں مفت مال ملنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے مگر یہی چیزیں بعد میں کئی مفاسد، جھگڑوں اور دشمنیوں کا سبب بن جاتی ہے، لہذا ان سے بچنا ہی بہتر ہے۔
[291] یعنی ضرورت سے زائد سارا مال خرچ کر دینا نفلی صدقات کی آخری حد ہے۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ انسان سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور بعد میں خود محتاج ہو جائے چنانچہ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہو جائے اور ابتدا ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة، باب لا صدقه الا عن ظهر غني] حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران فرمایا۔ جس کے پاس زائد سواری ہو وہ اسے دے دے، جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔ غرض یہ کہ آپ نے مال کی ایک ایک قسم کا ایسے ہی جدا جدا ذکر کیا۔ حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسلم، كتاب اللقطة، باب الضيافة ونحوها نيز باب استحباب المواسات بفضول المال]
صدقہ کی آخری حد:۔
اور صدقہ کی کم از کم حد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔ جو کفر اور اسلام کی سرحد پر واقع ہے بالفاظ دیگر زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا کافر ہے مسلمان نہیں جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایسے لوگوں سے جہاد کیا تھا اور ان دونوں حدوں کے درمیان وسیع میدان ہے اور اہل خیر جتنی چاہیں نیکیاں کما سکتے ہیں۔
انفرادی حق ملکیت اور اشتراکی نظریہ کی تردید:۔
اشتراکی ذہن رکھنے والے حضرات نے «العفو» کے مفہوم کو سخت غلط معنی پہنائے ہیں۔ حالانکہ آیت سے صاف واضح ہے کہ سوال کرنے والے خود اپنے اموال کے مالک تھے اور اپنی مرضی سے ہی ان اموال میں تصرف کی قدرت رکھتے تھے۔ لہٰذا جو نظریہ اس آیت سے کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ آیت اس کی قطعاً متحمل نہیں۔ اشتراکی نظریہ کے مطابق ہر چیز کی مالک حکومت ہوتی ہے اور اشتراکی حکومت میں انفرادی ملکیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی کی ذاتی ملکیت ہی نہ ہو تو وہ پس انداز کیا کرے گا اور خرچ کیا کرے گا اور انفاق کے متعلق سوال کیا پوچھے گا؟ گویا جس آیت سے اشتراکی نظریہ کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہی آیت اس نظریہ کی تردید پر بڑی واضح دلیل ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق سائلین نے سوال اس وقت کیا تھا۔ جب جہاد کے لیے مصارف کی شدید ضرورت تھی، جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ لوگوں سے ان کے سب زائد اموال چھین لیے جائیں بلکہ مسلمانوں کی تربیت ہی اس انداز سے کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اگر سارے کا سارا زائد مال دے دیں تو یہ سب سے بہتر اور مسلمانوں کے اللہ پر توکل کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ لیکن جو مسلمان اپنا سارا زائد مال نہیں دے سکتے یا نہیں دینا چاہتے ان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور اشتراکی نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جو حالات جنگ تو درکنار عام حالات میں بھی لوگوں کو حق ملکیت سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسے انفاق فی سبیل اللہ کی واضح مثال جنگ تبوک کے موقعہ پر سامنے آتی ہے۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے زیادہ سے زیادہ مال دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عمرؓ اس وقت حضرت ابو بکر صدیقؓ کی نسبت مالدار تھے۔ دل میں خیال آیا کہ آج اپنے تمام تر اثاثہ کا نصف حصہ خرچ کر کے حضرت ابو بکر صدیقؓ پر سبقت لے جائیں گے۔ چنانچہ جب اپنا مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا عمر! کیا کچھ لائے؟ عرض کیا کہ اپنے تمام اموال کا نصف حصہ بانٹ کر لے آیا ہوں۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ تھوڑا سا مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے بھی وہی سوال کیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ! کیا کچھ لائے؟ عرض کیا سب کچھ ہی لے آیا ہوں۔ گھر میں بس اللہ اور اس کے رسول کا نام ہی باقی ہے۔ یہ جواب سن کر عمرؓ کو یقین ہو گیا کہ کثرت مال کے باوجود حضرت ابو بکر صدیقؓ سے سبقت نہیں لے جا سکتے۔ [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة۔ باب الرجل يخرج من ماله] یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا سارے کا سارا مال قبول فرما لیا۔ حالانکہ آپ کا ارشاد ہے کہ ”صدقہ وہ بہتر ہے جس کے بعد آدمی خود محتاج نہ بن جائے۔“ [بخاري، كتاب الزكوٰة، باب لاَصَدَقَةَ الآَ عَنْ ظَهْرِ غِنًي] تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اللہ پر توکل بے مثال تھا جسے آپ پوری طرح سمجھتے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ اسی موقع پر ایک شخص ایک انڈا بھر سونا لایا اور کہنے لگا، مجھے یہ کان سے ملا ہے اور یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، آپ نے اس سے اعراض کیا تو اس شخص نے دائیں ہو کر یہی بات دہرائی تو بھی آپ نے اعراض کیا، پھر بائیں طرف، پھر پیچھے ہو کر یہی بات دہراتا رہا۔ آخر آپ نے وہ سونا پکڑا پھر اسے ہی دے دیا اور فرمایا۔ ”یہ تمہارے لیے ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔“ جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک شخص آ کر کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگتا ہے اس موقعہ پر بھی آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہو جائے۔“ [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة، باب الرجل يخرج من ماله] اس شخص کا صدقہ قبول نہ کرنے کی وجہ بھی اس حدیث میں مذکور ہے۔ یہ سب واقعات سامنے رکھ کر بتلایئے کہ کیا قل العفو سے اشتراکی نظریہ کشید کرنے کی گنجائش نظر آتی ہے؟
[292] یعنی تمہاری دنیوی ضروریات حقیقتاً کیا ہیں؟ اور آخرت میں صدقہ کا جو اجر عظیم تمہیں ملے گا۔ ان دونوں باتوں کا لحاظ رکھ کر تمہیں سوچنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حرمت شراب کیوں؟ ٭٭
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ» [2۔ البقرہ: 219]‏‏‏‏، نازل ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لیے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورۃ نساء کی آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» [4۔ النسآء: 43]‏‏‏‏، نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا جانے لگا کہ نشے والے لوگ نماز کے قریب بھی نہ آئیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس آیت کی بھی تلاوت کی گئی آپ رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی یا اللہ ہمارے لیے اس کا بیان اور واضح کر۔
اس پر سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [5۔ المائدہ: 91]‏‏‏‏، جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی اور جب ان کے کان میں آیت کے آخری الفاظ «هَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» پڑے تو آپ رضی اللہ عنہما بول اٹھے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» ہم رک گئے ہم باز آئے ملاحظہ ہو مسند احمد، ترمذی اور نسائی وغیرہ، [سنن ترمذي:3049، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابومیسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابوزرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی اور روایتیں سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [5۔ المائدہ: 90]‏‏‏‏ کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورۃ المائدہ میں ہی آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
میسر کہتے ہیں جوئے بازی کو گناہ کا وبال اخروی ہے اور فائدہ صرف دنیاوی ہے کہ بدن کو کچھ نفع پہنچے یا غذا ہضم ہو یا فضلے برآمد ہوں یا بعض ذہن تیز ہو جائیں یا ایک طرح کا سرور حاصل ہو جیسے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جاہلیت کے زمانہ کا شعر ہے شراب پی کر ہم بادشاہ اور دلیر بن جاتے ہیں، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور کشید میں بھی تجارتی نفع ممکن ہے ہو جائے۔ اسی طرح جوئے بازی میں ممکن ہے جیت ہو جائے، لیکن ان فوائد کے مقابلہ میں نقصانات ان کے بکثرت ہیں کیونکہ اس سے عقل کا مارا جانا، ہوش و حواس کا بے کار ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی دین کا برباد ہونا بھی ہے، یہ آیت گویا شراب کی حرمت کا پیش خیمہ تھی مگر اس میں صاف صاف حرمت بیان نہیں ہوئی تھی اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی چاہت تھی کہ کھلے لفظوں میں شراب کی حرمت نازل ہو، چنانچہ آخرکار سورۃ المائدہ کی آیت میں صاف فرما دیا گیا کہ شراب اور جوا اور پانسے اور تیر سے فال لینا سب حرام اور شیطانی کام ہیں، اے مسلمانو اگر نجات کے طالب ہو تو ان سب سے باز آ جاؤ، شیطان کی تمنا ہے کہ شراب اور جوئے کے باعث تم میں آپس میں عداوت و بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا اب تم ان شیطانی کاموں سے رک جانے والے بن جاؤ گے؟ اس کا پورا بیان ان شاءاللہ سورۃ المائدہ میں آئے گا، مفسرین تابعی فرماتے ہیں کہ شراب کے بارے میں پہلے یہی آیت نازل ہوئی، پھر سورۃ نساء کی آیت نازل ہوئی پھر سورۃ المائدہ کی آیت اتری اور شراب مکمل طور پر حرام ہو گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:331/4]‏‏‏‏
عفو اور اس کی وضاحتیں ٭٭
«قُلِ الْعَفْوَ» کی ایک قرأت «قُلِ الْعَفْوُ» بھی ہے اور دونوں قرأتیں ٹھیک ہیں معنی قریب قریب اور ایک ہو سکتے ہیں اور بندھی بیٹھ سکتے ہیں، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے غلام بھی ہیں بال بچے بھی ہیں اور ہم مالدار بھی ہیں کیا کچھ اللہ کی راہ میں دیں؟ جس کے جواب میں آیت «قُلِ الْعَفْوَ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» [البقرہ: 219]‏‏‏‏ کہا گیا۔ [الدار المنثور::453/1]‏‏‏‏ یعنی جو اپنے بال بچوں کے خرچ کے بعد بچے، بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر چیز میں تھوڑا تھوڑا اللہ کی راہ بھی دیتے رہا کرو، ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں افضل اور بہتر مال اللہ کی راہ میں دو، سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا نہ کرو کہ سب دے ڈالو اور پھر خود سوال کے لیے بیٹھ جاؤ، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کام میں لاؤ، کہا میرے پاس ایک اور ہے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کرو کہا ایک اور ہے فرمایا اپنے بچوں کی ضروریات پر لگاؤ کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اسے تو اپنی عقل سے خود بھی خرچ کر سکتا ہے۔ [سنن ابوداود:1691، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا اپنے نفس سے شروع کر پہلے اسی پر صدقہ کر پھر تو اپنے بال بچوں پر پھر بچے تو اپنے رشتہ داروں پر پھر تو اور حاجت مندوں پر، [صحیح مسلم:997]‏‏‏‏ اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل خیرات وہ ہے جو انسان اپنے خرچ کے مطابق باقی رکھ کر بچی ہوئی چیز کو اللہ کی راہ میں دے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے، پہلے انہیں دے جن کا خرچ تیرے ذمہ ہے [صحیح بخاری:5355]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لیے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لیے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں۔ [صحیح مسلم:1036]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہو گیا، حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ جس طرح یہ احکام واضح کر کے کھول کھول کر ہم نے بیان فرمائے اسی طرح ہم باقی احکام بھی وضاحت اور تشریح کے ساتھ بیان فرمائیں گے، وعدے وعید بھی صاف طور پر کھول دئیے جائیں گے تاکہ تم دنیائے فانی کی طرف بیرغبت ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہو جاؤ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، حضرت حسن رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ جو غور و تدبر کرے گا جان لے گا کہ دنیا بلا کا گھر ہے اور اس کا انجام فنا ہے اور آخرت جزا اور بقا کا گھر ہے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فکر کرنے سے صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا پر آخرت کو کس قدر فضیلت ہے پس عقلمند کو چاہیئے کہ آخرت کی بھلائی کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔
یتیم کا مال اور ہماری ذمہ داری ٭٭
پھر یتیم کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں پہلے یہ حکم ہوا تھا کہ آیت «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [6۔ الانعام: 152]‏‏‏‏ یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو اور فرمایا گیا تھا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا» [4۔ النسآء: 10]‏‏‏‏۔ یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں عنقریب داخل ہوں گے تو ان آیتوں کو سن کر ان لوگوں نے جو یتیموں کے والی تھے یتیموں کا کھانا اور ان کا پانی اپنے گھر کے کھانے اور گھر کے پانی سے بالکل جدا کر دیا اب اگر ان کا پکا ہوا کھانا بچ جاتا تو اسے یا تو وہ خود ہی دوسرے وقت کھائے یا خراب ہو جائے تو یوں ایک طرف تو ان یتیموں کا نقصان ہونے لگا دوسری جانب والیانِ یتیم بھی تنگ آ گئے کہ کب تک ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ رکھاؤ کیا کریں تو ان لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جس پر یہ آیت «قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» [2۔ البقرہ: 220]‏‏‏‏ نازل ہوئی اور نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ ان کے مال کو اپنے مال میں ملا لینے کی رخصت دی گئی، [سنن ابوداود:2871، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ ابوداؤد ونسائی وغیرہ میں یہ روایتیں موجود ہیں اور سلف وخلف کی ایک بہت بڑی جماعت نے اس کا شان نزول یہی بیان فرمایا ہے۔
سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یتیم کے مال کی اس طرح دیکھ بھال سخت مشکل ہے کہ اس کا کھانا الگ ہو، اس کا پینا الگ ہو۔ «اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ» [البقرہ: 220]‏‏‏‏ سے تو یہی علیحدگی مراد ہے لیکن پھر «وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ» [البقرہ: 220]‏‏‏‏ فرما کر اس کا کھانا پینا ملا جلا رکھنے کی اجازت دی گئی اس لیے کہ وہ بھی دینی بھائی ہیں یا نیت نیک ہونی چاہیئے۔ قصد اور ارادہ اگر یتیم کی نقصان رسانی کا ہے تو وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور اگر مقصود یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی نگہبانی ہے تو اسے بھی وہ علام الغیوب بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف و مشقت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتا جو تنگی اور حرج تم پر یتیم کا کھانا پینا بالکل جدا رکھنے میں تھا وہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیا اور تم پر تخفیف کر دی اور ایک ہنڈیا رکھنا اور ملا جلا کام کرنا تمہارے لیے مباح قرار دیا، بلکہ یتیم کا نگران اگر تنگ دست مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق اپنے خرچ میں لا سکتا ہے، اور اگر کسی مالدار نے اپنے بوقت ضرورت اس کی چیز کام میں لے لی تو پھر ادا کر دے، یہ مسائل ان شاءاللہ وضاحت کے ساتھ سورۃ نساء کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔