تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب یہ چار مہینے حرمت والے ہیں، عہد جاہلیت ہی سے ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ ۲ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں فوج کا ایک دستہ جہاد کے لیے روانہ کیا۔ انھوں نے کافروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا، جس سے ان کا ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو مال سمیت گرفتار کرکے مدینہ لے آئے۔ یہ واقعہ رجب ۲ھ میں پیش آیا۔ کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کرکے اس حرمت کو توڑا ہے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ماہ حرام میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی بہت بڑا ہے، مگر تم تو اس سے بھی بڑے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو (جو یہ ہیں، اللہ کے راستے یعنی اسلام سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا، مسجد حرام یعنی حرم مکہ میں رہنے والے صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے نکالنا، اس کے علاوہ فتنہ یعنی کفر و شرک پر مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے عذاب میں مبتلا کرنا قتل سے بھی بڑا جرم ہے)۔ لہٰذا اگر مسلمانوں نے تلورا اٹھالی ہے تو قابل مؤاخذہ نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
➌ حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی حرمت اکثر فقہاء کے نزدیک سورۂ توبہ کی آیت: «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ» [التوبۃ: ۵] کے ساتھ منسوخ ہو چکی ہے (الجصاص) مگر سورۂ توبہ ہی کی آیت: «اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا» [التوبۃ: ۳۶] اس آیت میں ہے: «مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ» ”ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔“ پھر فرمایا: «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً» [التوبۃ: ۳۶] ”سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور کافروں سے ہر حال میں لڑو، جیسے وہ ہر حال میں تم سے لڑتے ہیں۔“ اور «اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ» [البقرۃ: ۱۹۴] ” حرمت والا مہینا حرمت والے مہینے کے بدلے ہے“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت کا سبب یہ ہے کہ کفار چونکہ ان مہینوں میں بھی مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں، اس لیے مسلمانوں پر بھی ان مہینوں میں نہ لڑنے کی کوئی پابندی نہیں۔ اگر فی الواقع کفار ان مہینوں کی حرمت کی پاس داری کریں تو مسلمانوں کو بھی کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری حج کے خطبہ میں بھی ان مہینوں کی حرمت کا ذکر فرمایا۔ عطاء اور بہت سے اہل علم کا یہ قول ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔
➍ { وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے آیت: «وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» [البقرۃ: ۱۹۱]
➎ {”اِنِ اسْتَطَاعُوْا:“} یہ اس بات کی بشارت ہے کہ کفار بے شمار لڑائیوں کے باوجود کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے کہ تمام مسلمانوں کو دین سے مرتد کر دیں۔ اسلام کو سربلند رکھنے والے کچھ لوگ ہمیشہ ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیات اور سورۂ صف کی آیت (۸،۹)۔
➏ { حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص(نعوذ باللہ) مرتد ہو جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، لیکن اگر پھر سچے دل سے تائب ہو کر اسلام قبول کرے تو مرتد ہونے سے پہلے کے اعمال ضائع نہیں جاتے بلکہ ان کا بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (فتح البیان)
اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور توبہ نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے، جو «حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا» دنیا میں ان کے اعمال ضائع ہونے کا نتیجہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ] [بخاری، الجہاد، والسیر، باب لا یعذب بعذاب اللہ: ۳۰۱۷] ”جو اپنا دین (اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو۔“ اسلام کی وجہ سے دنیا میں حاصل جان و مال اور عزت کی حرمت، مرنے کے بعد جنازہ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن، مسلمان بیوی کی زوجیت، وراثت غرض مسلمانوں والے تمام حقوق ارتداد کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[287] یعنی ان معاندین اسلام کے نزدیک تمہارا اصل جرم یہ نہیں کہ تم نے ماہ حرام میں لڑائی کی ہے بلکہ یہ ہے کہ تم مسلمان کیوں ہوئے اور اب تک کیوں اس پر قائم ہو اور اس وقت تک مجرم ہی رہو گے جب تک یہ دین چھوڑ نہ دو اور حقیقتاً وہ یہی کچھ چاہتے ہیں، یہ تمہارے بد ترین دشمن ہیں۔ لہذا ان سے ہشیار رہو۔
[288] یعنی جس طرح اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اسلام سے پھر جانے سے پہلے سے کی ہوئی تمام نیکیاں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ الا یہ کہ پھر توبہ کر کے مسلمان ہو جائے اور جب نیکیاں برباد ہو گئیں تو باقی صرف گناہ ہی گناہ ہوں گے، جس کا خمیازہ انہیں دائمی عذاب جہنم کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔
مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے] اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،
مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [رضی اللہ عنہ] ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 218]، نازل ہوئی۔[سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الجمهور على أن تحريم القتال في الأشهر الحرم منسوخ بالأمر بقتال المشركين حيثما وجدوا. وقال بعض المفسرين: إنه لم ينسخ لأن المطلق محمول على المقيد، وهذه الآية مقيدة لعموم الأمر بالقتال مطلقاً، ولأن من جملة مزية الأشهر الحرم بل أكبر مزاياها تحريم القتال فيها، وهذا إنما هو في قتال الابتداء وأما قتال الدفع فإنه يجوز في الأشهر الحرم كما يجوز في البلد الحرام.
ولما كانت هذه الآية نازلة بسبب ما حصل لسرية عبد الله بن جحش وقتلهم عمرو بن الحضرمي وأخذهم أموالهم ـ وكان ذلك على ما قيل في شهر رجب ـ عيرهم المشركون بالقتال بالأشهر الحرم وكانوا في تعييرهم ظالمين إذ فيهم من القبائح ما بعضه أعظم مما عيروا به المسلمين، قال تعالى في بيان ما فيهم: {وصد عن سبيل الله}؛ أي: صد المشركين من يريد الإيمان بالله وبرسوله وفتنتهم من آمن به وسعيهم في ردهم عن دينهم وكفرهم الحاصل في الشهر الحرام والبلد الحرام الذي هو بمجرده كاف في الشرِّ، فكيف وقد كان في شهر حرام وبلد حرام {وإخراج أهله}؛ أي: أهل المسجد الحرام وهم النبي - صلى الله عليه وسلم -، وأصحابه لأنهم أحق به من المشركين وهم عُمَّاره على الحقيقة فأخرجوهم {منه}؛ ولم يمكنوهم من الوصول إليه مع أن هذا البيت سواء العاكف فيه والباد، فهذه الأمور كل واحد منها {أكبر من القتل}؛ في الشهر الحرام فكيف وقد اجتمعت فيهم فعلم أنهم فسقة ظلمة في تعييرهم المؤمنين.
ثم أخبر تعالى أنهم لن يزالوا يقاتلون المؤمنين، وليس غرضهم في أموالهم وقتلهم وإنما غرضهم أن يرجعوهم عن دينهم ويكونوا كفاراً بعد إيمانهم حتى يكونوا من أصحاب السعير، فهم باذلون قدرتهم في ذلك ساعون بما أمكنهم ويأبى الله إلا أن يتم نوره ولو كره الكافرون. وهذا الوصف عامٌّ لكل الكفار لا يزالون يقاتلون غيرهم حتى يردوهم عن دينهم، وخصوصاً أهل الكتاب من اليهود والنصارى الذين بذلوا الجمعيات، ونشروا الدعاة، وبثوا الأطباء، وبنوا المدارس لجذب الأمم إلى دينهم، وتدخيلهم عليهم كل ما يمكنهم من الشبه التي تشككهم في دينهم، ولكن المرجو من الله تعالى الذي منَّ على المؤمنين بالإسلام، واختار لهم دينه القيم، وأكمل لهم دينه أن يتم عليهم نعمته بالقيام به أتم قيام، وأن يخذل كل من أراد أن يطفئ نوره، ويجعل كيدهم في نحورهم، وينصر دينه، ويعلي كلمته وتكون هذه الآية صادقة على هؤلاء الموجودين من الكفار كما صدقت على من قبلهم {إن الذين كفروا ينفقون أموالهم ليصدوا عن سبيل الله، فسينفقونها ثم تكون عليهم حسرة ثم يغلبون، والذين كفروا إلى جهنم يحشرون}؛ ثم أخبر تعالى أن من ارتد عن الإسلام بأن اختار عليه الكفر واستمر على ذلك حتى مات كافراً {فأولئك حبطت أعمالهم في الدنيا والآخرة}؛ لعدم وجود شرطها وهو الإسلام {وأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون}.
ودلت الآية بمفهومها أن من ارتد ثم عاد إلى الإسلام أنه يرجع إليه عمله [الذي قبل ردته]، وكذلك من تاب من المعاصي فإنها تعود إليه أعماله المتقدمة.