اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے
En
البتہ ایمان ﻻنے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے واﻻ اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت218) ➊ {هَاجَرُوْا: } {”هَجَرَ يَهْجُرُ(ن) “} کا معنی کسی سے دل یا زبان یا بدن کے ساتھ جدا ہو جانا ہے اور {”هَاجَرُوْا“} اس میں سے باب مفاعلہ ہے، جس میں مبالغہ مقصود ہے، یعنی ”کسی سے قطع تعلق کرکے الگ ہو جانا“ مراد دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں آ جانا ہے۔ (مفردات)
➋ {جٰهَدُوْا:} {”جَهَدَ يَجْهَدُ (ف)“} کا مطلب ہے ”کسی کام میں کوشش کرنا۔“ {”جَاهَدَ مُجَاهَدَةً وَجِهَادًا“} کا معنی ہے ”دشمن سے لڑنا۔“(القاموس) {”جَهَدَ“} سے باب مفاعلہ کی وجہ سے اس کا معنی اپنی ساری کوشش صرف کرنا ہے۔ اس لیے اصحاب لغت نے اس کا معنی ”لڑنا“ کیا ہے کیونکہ کوشش کی انتہا یہی ہے۔
➌ {يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ:} یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ایسے اعمال ہیں جن کے نتیجے میں دل کے اندر اللہ کی رحمت کی امید پیدا ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا دامن ان سے خالی ہے وہ لاکھ اللہ کی رحمت کی امید کا دعویٰ کریں، حقیقت میں ان کے دل کے اندر رحمت کی امید پیدا نہیں ہوتی:
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اس میں ان مجاہدوں کے لیے بشارت ہے جن کا ذکر حرمت والے مہینوں میں حملہ کرنے کے ضمن میں آیا ہے۔
➋ {جٰهَدُوْا:} {”جَهَدَ يَجْهَدُ (ف)“} کا مطلب ہے ”کسی کام میں کوشش کرنا۔“ {”جَاهَدَ مُجَاهَدَةً وَجِهَادًا“} کا معنی ہے ”دشمن سے لڑنا۔“(القاموس) {”جَهَدَ“} سے باب مفاعلہ کی وجہ سے اس کا معنی اپنی ساری کوشش صرف کرنا ہے۔ اس لیے اصحاب لغت نے اس کا معنی ”لڑنا“ کیا ہے کیونکہ کوشش کی انتہا یہی ہے۔
➌ {يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ:} یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ایسے اعمال ہیں جن کے نتیجے میں دل کے اندر اللہ کی رحمت کی امید پیدا ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا دامن ان سے خالی ہے وہ لاکھ اللہ کی رحمت کی امید کا دعویٰ کریں، حقیقت میں ان کے دل کے اندر رحمت کی امید پیدا نہیں ہوتی:
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اس میں ان مجاہدوں کے لیے بشارت ہے جن کا ذکر حرمت والے مہینوں میں حملہ کرنے کے ضمن میں آیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
218۔ (بخلاف اس کے) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار [289] ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے
[289] یہ آیت در اصل مجاہدین کے اسی دستہ کے متعلق ہے جنہیں نخلہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ان مجاہدین کو یہ تردد تھا کہ آیا اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں دو غلطیاں ہو گئیں تھیں ایک یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر جہاد کیا تھا دوسری غلطی یہ کہ یکم رجب کو لڑائی کی جس کا انہیں علم نہ ہو سکا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف کر دینے والا ہے۔ مہربان ہے۔ جہاد کی تعریف اور غرض و غایت:۔
جہاد در اصل ہر اس کوشش کا نام ہے جو اسلام کی راہ میں مزاحم ہونے والی رکاوٹوں کو دور کر دے۔ اگر کوئی شخص ذہن سے اس قسم کی تدابیر سوچتا ہے یا کافروں کی تدابیر کا توڑ سوچتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے اور اگر شخص زبان یا قلم سے اس مقصد پر دوسروں کو آمادہ کرتا ہے یا معاندین اسلام کے اعتراضات کی تردید کرتا ہے اور انہیں جواب دیتا ہے تو یہ بھی جہاد ہے یعنی ہر امکانی کوشش کو اس مقصد میں صرف کر دینے کا نام جہاد ہے اور اس کی آخری حد یہ ہے کہ اگر جان کی بازی لگانے کی ضرورت پیش آئے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے اور جہاد کی غرض و غایت یہ ہے کہ دوسرے تمام ادیان کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اسی کا بول بالا ہو۔ اس غرض کے علاوہ اور کسی بھی مقصد کے لیے جنگ کی جائے تو اسے جنگ یا قتال تو کہہ سکتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ایک گنوار (لاحق بن ضمیرہ باہلی) آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص لوٹ حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے، کوئی ناموری کے لیے، کوئی اپنی بہادری جتانے کے لیے اور کوئی حمیت (قومی یا قبائلی) کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون لڑتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے وہ کھڑے کھڑے سوال کر رہا تھا) اور فرمایا: جو کوئی اس نیت سے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، اللہ کی راہ میں وہی لڑتا ہے۔ [بخاري كتاب الجهاد، باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا] اس مضمون کی اور بھی احادیث بخاری اور مسلم میں مذکور ہیں۔ جن کے استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں شرکت کے لیے عوام الناس میں مندرجہ ذیل پانچ قسم کے محرکات ہی پائے جا سکتے ہیں۔ 1۔ بعض لوگ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوٹ مار سے مال ہاتھ آئے گا یا اموال غنیمت کے علاوہ دوسرے دنیوی مفادات حاصل ہوں گے۔ 2۔ کچھ اس وجہ سے لڑتے ہیں کہ ان کا نام تاریخ میں ثبت ہو گا۔ 3۔ کچھ اس لیے لڑتے ہیں کہ لوگ ان کے بہادری کے کارنامے فخریہ طور پر بیان کریں گے۔ 4۔ کچھ اپنے کسی خون یا پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے انتقام کے طور پر لڑتے ہیں۔ 5۔ اور کچھ لوگ اپنے وطن، قوم اور قبیلہ کی حمایت میں لڑتے ہیں۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی متمدن دنیا میں بھی انسان کی ذہنی سطح اس مقام سے ذرہ بھر بھی بلند نہیں ہو سکی۔ صرف انداز و اطوار ہی بدلے ہیں مقاصد کے لحاظ سے انہی مندرجہ بالا وجوہ میں سے کوئی نہ کوئی بات نظر آئے گی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب مقاصد کے علاوہ ایک بلند تر مقصد کا پتہ دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ صرف وہ کہلا سکتا ہے، جو اعلائے کلمۃ اللہ یعنی اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑا جائے، بالفاظ دیگر دنیا سے فتنہ و فساد ختم کر کے اسے احکام و فرامین الٰہی کے سامنے سر جھکا دینے کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں انسان کی اپنی کسی ذاتی خواہش کو ذرہ بھر بھی دخل نہ ہونا چاہیے۔ جنگ کے متعلق یہ تصور دنیا بھر کے لیے ایک انوکھا تصور تھا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ بھی ابتداء میں اس تصور جہاد پر بہت متعجب ہوئے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص مالی فائدے یا ناموری کے لیے جنگ کرتا ہے اسے کیا ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہیں ملے گا۔“ سائل اس سوال پر بہت متعجب ہوا اور آ کر دوبارہ یہی سوال کیا، آپ نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ اس کا اطمینان اب بھی نہ ہوا، سہ بارہ اور چوتھی بار پلٹ کر آیا اور یہی سوال کرتا رہا: آپ نے اس کے تعجب کی وجہ بھانپ کر فرمایا ”اللہ کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ خاص اس کی خوشنودی اور رضا کے لیے نہ کیا جائے۔“ [نسائي۔ كتاب الجهاد، باب من غزايلتمس الاجر]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حضرمی کا قتل ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہو گئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کر دیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ جماعت وہاں سے واپس ہوئی۔
اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:4087:صحیح]
ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔
مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے] اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،
مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔
مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے] اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،
مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں سیدنا رباب اسدی رضی اللہ عنہ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لیے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آ جائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کر سکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا۔
سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا عثمان اور حکم کو قید کر لیا اور مال وغیرہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے چنانچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نا دم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہو گیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا۔
ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زور و شور سے لمبی مدت تک ہو گی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ الحرب وقت لڑائی آ پہنچا، قاتل کا نام واقد رضی اللہ عنہ تھا جس سے انہوں نے کہا «وقدت الحرب لڑائی» کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کر دیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو،
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [رضی اللہ عنہ] ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 218]، نازل ہوئی۔[سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [رضی اللہ عنہ] ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [البقرہ: 218]، نازل ہوئی۔[سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [البقرہ: 217]، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہٰ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار «وكفر به والله راء وشاهد وإخراجكم من مسجد الله أهله» «لئلا يرى لله في البيت ساجد فإنا وإن عيرتمونا بقتله» «وأرجف بالإسلام باغ وحاسد سقينا من ابن الحضرمي رماحنا» «بنخلة لما أوقد الحرب واقد دما وابن عبد الله عثمان بيننا» «ينازعه غل من القد عاند» سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے، اللہ ان سے خوش ہو۔ [آمین]