تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ کعبہ سے چلیں تو پہلے منیٰ، پھر مزدلفہ، پھر عرفات آتا ہے۔ حاجی آٹھ ذوالحجہ (یوم ترویہ) کو منیٰ میں ظہر سے پہلے پہنچتے ہیں، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر منیٰ میں ادا کرتے ہیں۔ احرام کے بعد حج یہاں سے شروع ہوتا ہے، نو ذوالحجہ کو عرفات جاتے ہیں۔ سورج ڈھلنے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک عرفات میں وقوف (ٹھہرنا) حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”حج عرفات (میں وقوف) ہی ہے، جس نے مزدلفہ والی رات میں عرفات (کا وقوف) فجر طلوع ہونے سے پہلے پا لیا تو اس نے حج کو پا لیا۔“ [ترمذی: ۲۹۷۵۔ أبو داوٗد: ۱۹۵۰، و صححہ الألبانی]
مشعر حرام ایک پہاڑ ہے، اس کے پاس سے مراد مزدلفہ ہے اور حرم کے اندر ہونے کی وجہ سے اسے {”الْحَرَامِ“} کہہ دیا گیا ہے، عرفات سے واپس آ کر حاجی حضرات رات یہاں بسر کرتے ہیں اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ کر سورج طلوع ہونے کے قریب تک ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔
➌ {وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ:} یعنی مشرکین بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے، یہ بھی [لَبَّیْکَ اَللَّھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ] یعنی تیرا کوئی شریک نہیں کہتے تھے، مگر پھر ساتھ شریک ملاتے تھے، کہتے تھے: [اِلاَّ شَرِیْکًا لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ] [مسلم، الحج، باب التلبیۃ: ۱۱۸۵] ”ہاں ایک شریک جو تیرا ہے، جس کا تو مالک ہے، وہ خود مالک نہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمھیں ہدایت دی ہے“ یعنی اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو، فرمایا: «فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ» [الشعراء: ۲۱۳۔ القصص: ۸۸] ”اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔“ پھر کیا حال ہے ان مسلمانوں کا جو وہاں جا کر بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[269] مشعر الحرام مزدلفہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے۔ اس پہاڑی پر وقوف کرنا افضل ہے۔ یہ نہ ہو سکے تو پھر جہاں بھی قیام کر لے جائز ہے، سوائے وادی محسر کے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں آیت «من ربکم» کے بعد [فِی مَوَاسِمِ الْحَجَّ] کا لفظ بھی ہے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2771] دوسرے مفسرین نے بھی اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایک شخص حج کو نکلتا ہے اور ساتھ ہی خوش الحانی کے ساتھ پڑھتا جاتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:165/4]
امام مالک رحمہ اللہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے کہ دسویں کی فجر سے پہلے جو شخص عرفات میں پہنچ جائے، اس نے حج پا لیا، امام احمد رحمہ اللہ، فرماتے ہیں کہ ٹھہرنے کا وقت عرفہ کے دن کے شروع سے ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں نماز کے لیے نکلے تو ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں طی کی پہاڑیوں سے آ رہا ہوں اپنی سواری کو میں نے تھکا دیا اور اپنے نفس پر بڑی مشقت اٹھائی واللہ ہر ہر پہاڑ پر ٹھہرتا آیا ہوں کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے یہاں کی اس نماز میں پہنچ جائے اور ہمارے ساتھ چلتے وقت تک ٹھہرا رہے اور اس سے پہلے وہ عرفات میں بھی ٹھہر چکا ہو خواہ رات کو خواہ دن کو اس کا حج پورا ہو گیا اور وہ فریضہ سے فارغ ہو گیا۔ [سنن ابوداود:1950، قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے صحیح کہتے ہیں، امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو حج کرایا جب عرفات میں پہنچے تو پوچھا کہ [عرفت] کیا تم نے پہچان لیا؟ خلیل اللہ نے جواب دیا [عرفت] میں نے جان لیا کیونکہ اس سے پہلے یہاں آچکے تھے اس لیے اس جگہ کا نام ہی عرفہ ہو گیا۔ [عبدالرزاق:97/5]
امام حاکم نے اسے شرط شیخین پر اور بالکل صحیح بتلایا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ان لوگوں کا قول ٹھیک نہیں جو فرماتے ہیں کہ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے لیکن آپ سے کچھ سنا نہیں،
معرور بن سوید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عرفات سے لوٹتے ہوئے دیکھا گویا اب تک بھی وہ منظر میرے سامنے ہے، آپ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر بال نہ تھے اپنے اونٹ پر تھے اور فرما رہے تھے ہم واضح روشنی میں لوٹے صحیح مسلم کی جابر والی ایک مطول حدیث جس میں حجۃ الوداع کا پورا بیان ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے غروب ہونے تک عرفات میں ٹھہرے جب سورج چھپ گیا اور قدرے زردی ظاہر ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے اپنی سواری پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو سوار کیا اور اونٹنی کی نکیل تان لی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے قریب پہنچ گیا اور دائیں ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ فرماتے جاتے تھے کہ لوگو آہستہ آہستہ چلو نرمی اطمینان و سکون اور دلجمعی کے ساتھ چلو جب کوئی پہاڑی آئی تو نکیل قدرے ڈھیلی کرتے تاکہ جانور بہ آسانی اوپر چڑھ جائے، مزدلفہ میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی اذان ایک ہی کہلوائی اور دونوں نمازوں کی تکبیریں الگ الگ کہلوائیں مغرب کے فرضوں اور عشاء کے فرضوں کے درمیان سنت نوافل کچھ نہیں پڑھے پھر لیٹ گئے، صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد نماز فجر ادا کی جس میں اذان و اقامت ہوئی پھر قصوی نامی اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر الحرام میں آئے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر دعا میں مشغول ہو گئے اور اللہ اکبر اور لا الہٰ الا اللہ اور اللہ کی توحید بیان کرنے لگے یہاں تک کہ خوب سویرا ہو گیا، سورج نکلنے سے پہلے ہی پہلے آپ یہاں سے روانہ ہو گئے، [صحیح مسلم:1218]
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہاں سے چلے تو کیسی چال چلتے تھے فرمایا اور درمیانہ دھیمی چال سواری چلا رہے تھے ہاں جب راستہ میں کشادگی دیکھتے تو ذرا تیز کر لیتے۔ [صحیح بخاری:1666]
عطاء رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ مزدلفہ کہاں ہے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب عرفات سے چلے اور میدان عرفات کے دونوں کنارے چھوڑے پھر مزدلفہ شروع ہو گیا وادی محسر تک جہاں چاہو ٹھہرو لیکن میں تو قزح سے ادھر ہی ٹھہرنا پسند کرتا ہوں تاکہ راستے سے یکسوئی ہو جائے، مشاعر کہتے ہیں ظاہری نشانوں کو مزدلفہ کو مشعر الحرام اس لیے کہتے ہیں کہ وہ حرم میں داخل ہے، سلف صالحین کی ایک جماعت کا اور بعض اصحاب شافعی رحمہ اللہ کا مثلا قفال اور ابن خزیمہ رحمہ اللہ علیہما کا خیال ہے کہ یہاں کا ٹھہرنا حج کا رکن ہے بغیر یہاں ٹھہرے حج صحیح نہیں ہوتا کیونکہ ایک حدیث سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے اس معنی کی مروی ہے، بعض کہتے ہیں یہ ٹھہرنا واجب ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ بھی ہے اگر کوئی یہاں نہ ٹھہرا تو قربانی دینی پڑے گی، امام صاحب کا دوسرا قول یہ ہے کہ مستحب ہے اگر نہ بھی ٹھہرا تو کچھ حرج نہیں، پس یہ تین قول ہوئے ہم یہاں اس بحث کو زیادہ طول دینا مناسب نہیں سمجھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [قرآن کریم کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی زیادہ تائید کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ عرفات کا سارا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے، عرفات سے بھی اٹھو اور مزدلفہ کی کل حد بھی ٹھہرنے کی جگہ ہے ہاں وادی محسر نہیں، [مسند احمد:82/4:مرسل و ضعیف] مسند احمد کی اس حدیث میں اس کے بعد ہے کہ مکہ شریف کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں اور ایام تشریق سب کے سب قربانی کے دن ہیں، لیکن یہ حدیث بھی منقطع ہے اس لیے کہ سلیمان بن موسیٰ رشدق نے جبیر بن مطعم رحمہ اللہ کو نہیں پایا لیکن اس کی اور سندیں بھی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [مسند احمد:82/4:صحیح لغیرہ]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما أمر تعالى بالتقوى أخبر تعالى أن ابتغاء فضل الله بالتكسب في مواسم الحج وغيره ليس فيه حرج إذا لم يشغل عما يحب إذا كان المقصود هو الحج، وكان الكسب حلالاً منسوباً إلى فضل الله؛ لا منسوباً إلى حذق العبد والوقوف مع السبب ونسيان المسبب، فإن هذا هو الحرج بعينه وفي قوله: {فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام}؛ دلالة على أمور:
أحدها: الوقوف بعرفة، وأنه كان معروفاً أنه ركن من أركان الحج، فالإفاضة من عرفات لا تكون إلا بعد الوقوف.
الثاني: الأمر بذكر الله عند المشعر الحرام وهو المزدلفة، وذلك أيضاً معروف يكون ليلة النحر بائتاً بها، وبعد صلاة الفجر يقف في المزدلفة داعياً حتى يسفر جدًّا، ويدخل في ذكر الله عنده إيقاع الفرائض والنوافل فيه.
الثالث: أن الوقوف بمزدلفة متأخر عن الوقوف بعرفة كما تدل عليه الفاء والترتيب.
الرابع والخامس: أن عرفات ومزدلفة كلاهما من مشاعر الحج المقصود فعلها وإظهارها.
السادس: أن مزدلفة في الحرم كما قيده بالحرام.
السابع: أن عرفة في الحل كما هو مفهوم التقييد بمزدلفة.
{واذكروه كما هداكم وإن كنتم من قبله لمن الضالين}؛ أي اذكروا الله تعالى كما منَّ عليكم بالهداية بعد الضلال، وكما علمكم ما لم تكونوا تعلمون. فهذه من أكبر النعم التي يجب شكرها ومقابلتها بذكر المنعم بالقلب واللسان.