اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕؔ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۷﴾
حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کر لے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کوئی جھگڑا، اور تم نیکی میں سے جو بھی کرو گے اللہ اسے جان لے گا اور زاد راہ لے لو کہ بے شک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی(سوال سے) بچنا ہے اور مجھ سے ڈرو اے عقلوں والو!
En
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
En
حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 197) ➊ {اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ:} عمرہ سال میں کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے، مگر حج مقررہ وقت ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”حج کے مہینے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائے ہیں شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔“ [بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «ذلک لمن لم یکن أہلہ …» : ۱۵۷۲] اور ابن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اس سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔“ [بخاری، قبل ح: ۱۵۶۰۔ طبری: 267/2، ح: ۳۵۲۲۔ مستدرک حاکم: 303/2،ح: ۳۰۹۲ و صححہ ووافقہ الذھبی]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے۔“ [ابن خزیمۃ، باب النہی عن الإحرام …: 162/4، ح: ۲۵۹۶] ابن کثیر نے اسے صحیح کہا ہے اور یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔
➋ { فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ:} حج کو اپنے آپ پر فرض کرنا یہ ہے کہ حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ لے اور زبان سے [لَبَّیْکَ بِالْحَجِّ] اور [لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ …] مکمل تلبیہ کہے۔ (ابن کثیر)
➌ {فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ:} یعنی حج میں یہ سب باتیں حرام ہیں۔ {”رَفَث“} (شہوانی فعل) سے جماع اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کی طرف مائل کرنے والی ہوں۔ {”فُسُوْق“} (نافرمانی) کا لفظ ہر گناہ کو شامل ہے اور {” جِدَال“} سے لڑائی جھگڑا مراد ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر کا حج کیا اور(دوران حج میں) رفث و فسوق نہیں کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ [بخاری، المحصر و جزاء الصید، باب قول اللہ عزوجل: «فلا رفث» : ۱۸۱۹]
➍ {وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى:} تقویٰ کا لغوی معنی بچنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اہل یمن حج کرتے تو زاد راہ نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے، ہم توکل والے ہیں، پھر جب مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «و تزودوا فإن …:» ۱۵۲۳] ایسا توکل اللہ پر نہیں بلکہ درحقیقت لوگوں کی جیبوں پر ہے۔ (تلبیس ابلیس) فرمایا زاد راہ لو، اس کا فائدہ یہ ہے کہ سوال سے بچ جاؤ گے۔ ظاہری زاد کے ساتھ دلی زاد بھی ضروری ہے، جس کی بہترین صورت تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے، آیت سے دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں اور دونوں مراد ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے۔“ [ابن خزیمۃ، باب النہی عن الإحرام …: 162/4، ح: ۲۵۹۶] ابن کثیر نے اسے صحیح کہا ہے اور یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔
➋ { فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ:} حج کو اپنے آپ پر فرض کرنا یہ ہے کہ حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ لے اور زبان سے [لَبَّیْکَ بِالْحَجِّ] اور [لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ …] مکمل تلبیہ کہے۔ (ابن کثیر)
➌ {فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ:} یعنی حج میں یہ سب باتیں حرام ہیں۔ {”رَفَث“} (شہوانی فعل) سے جماع اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کی طرف مائل کرنے والی ہوں۔ {”فُسُوْق“} (نافرمانی) کا لفظ ہر گناہ کو شامل ہے اور {” جِدَال“} سے لڑائی جھگڑا مراد ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر کا حج کیا اور(دوران حج میں) رفث و فسوق نہیں کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ [بخاری، المحصر و جزاء الصید، باب قول اللہ عزوجل: «فلا رفث» : ۱۸۱۹]
➍ {وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى:} تقویٰ کا لغوی معنی بچنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اہل یمن حج کرتے تو زاد راہ نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے، ہم توکل والے ہیں، پھر جب مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «و تزودوا فإن …:» ۱۵۲۳] ایسا توکل اللہ پر نہیں بلکہ درحقیقت لوگوں کی جیبوں پر ہے۔ (تلبیس ابلیس) فرمایا زاد راہ لو، اس کا فائدہ یہ ہے کہ سوال سے بچ جاؤ گے۔ ظاہری زاد کے ساتھ دلی زاد بھی ضروری ہے، جس کی بہترین صورت تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے، آیت سے دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں اور دونوں مراد ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
197۔ 1 اور یہ ہیں شوال، ذیقعدہ اور ذوا لحجہ کے پہلے دس دن۔ مطلب یہ ہے کہ عمرہ تو سال میں ہر وقت جائز ہے لیکن حج صرف مخصوص دنوں میں ہی ہوتا ہے اس لئے اسکا احرام حج کے مہینوں کے علاوہ باندھنا جائز نہیں۔ (ابن کثیر) 197۔ 2 صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث ہے جس نے حج کیا اور شہوانی باتوں اور فسقْ و فجور سے بچا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔ 197۔ 3 تقویٰ سے مراد یہاں سوال سے بچنا ہے بعض لوگ بغیر زاد راہ لئے حج کے لئے گھر سے نکل پڑتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ پر توکل ہے اللہ نے توکل کے اس مفہوم کو غلط قرار دیا اور زاد راہ لینے کی تاکید کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
197۔ حج کے مہینے [264] (سب کو) معلوم ہیں۔ تو جو شخص ان مہینوں میں حج کا عزم کرے (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) حج کے دوران نہ جنسی چھیڑ چھاڑ [265] جائز ہے، نہ نبد کرداری اور نہ ہی لڑائی جھگڑا۔ اور جو بھی نیکی کا کام تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور زاد راہ [266] ساتھ لے لیا کرو اور (سفر حج میں) بہتر زاد راہ تو پرہیزگاری ہے۔ اور اے عقل والو! (عقل کی بات یہی ہے کہ) میری نافرمانی سے بچتے رہو
[263] حج تمتع کے احکام:۔
دور جاہلیت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ عمرہ کے لیے الگ اور حج کے لیے الگ سفر کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قید ختم کر دی اور باہر سے آنے والوں کے لیے یہ رعایت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کر لیں، البتہ جو لوگ مکہ میں یا اس کے آس پاس میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہوں۔ انہیں اس رعایت سے مستثنیٰ کر دیا۔ کیونکہ ان کے لیے عمرہ اور حج کے لیے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس آیت سے درج ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں:
حج کی اقسام اور مسائل:۔
میقاتوں کے باہر سے آنے والے لوگ ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کر سکتے ہیں اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ احرام باندھ کر عمرہ کرے، پھر احرام نہ کھولے (نہ سر منڈائے) تا آنکہ حج کے بھی ارکان پورے کر لے۔ ایسے حج کو قران کہتے ہیں اور اگر عمرہ کر کے سر منڈا لے اور احرام کھول دے پھر حج کے لیے نیا احرام باندھے تو اسے حج تمتع کہتے ہیں اور اسی حج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا: قران اور تمتع کرنے والے پر قربانی لازم ہے۔ یعنی ایک بکری یا گائے اور اونٹ جس میں سات آدمی شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی کو قربانی میسر نہیں آ سکی تو وہ دس روزے رکھ لے، تین روزے تو نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ تک اور باقی سات روزے حج سے فراغت کے بعد رکھے، گھر واپس آ کر رکھ لے۔ جو لوگ میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں صرف حج کا احرام باندھ کر حج کریں گے جسے حج افراد کہتے ہیں اور ان پر قربانی واجب نہیں۔
[264] یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک کی مدت کا نام اشہر حج ہے۔ حج کا احرام اسی مدت کے اندر اندر باندھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے باندھے تو وہ نا جائز یا مکروہ ہو گا البتہ عمرہ کا احرام باندھا جا سکتا ہے۔ احرام باندھنے کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔
[264] یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک کی مدت کا نام اشہر حج ہے۔ حج کا احرام اسی مدت کے اندر اندر باندھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے باندھے تو وہ نا جائز یا مکروہ ہو گا البتہ عمرہ کا احرام باندھا جا سکتا ہے۔ احرام باندھنے کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔
احرام باندھنے کے مسائل:۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہو کر پوچھنے لگا ”یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذو الحلیفہ سے باندھیں، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن (منازل) سے اور یمن والے یلملم سے۔“ [بخاري، كتاب العلم، باب ذكر العلم و الفتيا فى المسجد]
2۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”محرم کیا پہنے؟ فرمایا: وہ نہ قمیض پہنے نہ عمامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہو اور اگر چپل نہ ملے تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ [بخاري۔ كتاب العلم۔ من اجاب السائل باكثر مما سأله]
2۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”محرم کیا پہنے؟ فرمایا: وہ نہ قمیض پہنے نہ عمامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہو اور اگر چپل نہ ملے تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ [بخاري۔ كتاب العلم۔ من اجاب السائل باكثر مما سأله]
[265] حج مبرور کی فضیلت:۔
ہر وہ حرکت یا کلام جو شہوت کو اکساتا ہو رفث کہلاتا ہے اور اس میں جماع بھی شامل ہے، فسوق اور جدال اور ایسے ہی دوسرے معصیت کے کام اگرچہ بجائے خود نا جائز ہیں تاہم احرام کی حالت میں ان کا گناہ اور بھی سخت ہو جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے حج کیا پھر اس دوران نہ بے حیائی کی کوئی بات کی اور نہ گناہ کا کوئی کام کیا۔ وہ ایسے واپس ہوتا ہے جیسے اس دن تھا جب وہ پیدا ہوا۔“ [بخاري، كتاب المناسك، باب فضل الحج المبرور]
[266] مانگنے کی قباحت:۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ”یمن کے لوگ حج کے لیے آتے لیکن زاد راہ ساتھ نہ لاتے اور کہتے کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ پھر مکہ پہنچ کر لوگوں سے مانگنا شروع کر دیتے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب المناسك، باب قول الله تعالىٰ آيت و تزودوا فان خير الزاد التقوٰي] نیز ضرورت کے وقت مانگنا اگرچہ نا جائز نہیں، مگر اسلام نے سوال کرنے کو اچھا نہیں سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ”دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [بخاري، كتاب الزكوٰة باب لا صدقه الا عن ظهر غني] اور بلا ضرورت مانگنا اور پیشہ کے طور پر مانگنا تو بد ترین جرم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مانگنے کو عادت بنا لے گا وہ قیامت کو اس حال میں اٹھے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا تک نہ رہے گا۔ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب من سال الناس تكثرا سوال سے اجتناب كے ليے ديكهيے اسي سورة كي آيت 273 اور سورة مائده كي آيت نمبر 101 كے حواشي]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
احرام کے مسائل ٭٭
عربی دان حضرات نے کہا ہے کہ مطلب اگلے جملہ کا یہ ہے کہ حج حج ہے ان مہینوں کا جو معلوم اور مقرر ہیں، پس حج کے مہینوں میں احرام باندھنا دوسرے مہینوں کے احرام سے زیادہ کامل ہے، گو اور ماہ کا احرام بھی صحیح ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد، امام اسحٰق، امام ابراہیم نخعی، امام ثوری، امام لیث، اللہ تعالیٰ ان پر سب رحمتیں نازل فرمائے فرماتے ہیں کہ سال بھر میں جس مہینہ میں چاہے حج کا احرام باندھ سکتا ہے ان بزرگوں کی دلیل «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [2-البقرہ: 189] الخ ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کو نسک کہا گیا ہے اور عمرے کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھنا صحیح ہو گا بلکہ اگر اور ماہ میں حج کا احرام باندھا تو غیر صحیح ہے لیکن اس سے عمرہ بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں امام صاحب کے دو قول ہیں ابن عباس جابر، عطا مجاہد رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا باندھنا غیر صحیح ہے اور اس پر دلیل «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ» [2۔ البقرہ: 197] ہے عربی دان حضرات کی ایک دوسری جماعت کہتی ہے کہ آیت کے ان الفاظ سے مطلب یہ ہے کہ حج کا وقت خاص خاص مقرر کردہ مہینے میں تو ثابت ہوا کہ ان مہینوں سے پہلے حج کا جو احرام باندھے گا وہ صحیح نہ ہو گا جس طرح نماز کے وقت سے پہلے کوئی نماز پڑھ لے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں مسلم بن خالد نے خبر دی انہوں نے ابن جریج سے سنا اور انہیں عمرو بن عطاء نے کہا ان سے عکرمہ نے ذکر کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ کسی شخص کو لائق نہیں کہ حج کے مہینوں کے سوا بھی حج کا احرام باندھے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ» [2۔ البقرہ: 197] اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں۔
ایک سند میں ہے کہ سنت یہی ہے، صحیح ابن خزیمہ میں بھی یہ روایت منقول ہے، اصول کی کتابوں میں یہ مسئلہ طے شدہ ہے کہ صحابی کا فرمان حکم میں مرفوع حدیث کے مساوی ہوتا ہے پس یہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو گیا اور صحابی بھی یہاں وہ صحابی ہیں جو مفسر قرآن اور ترجمان القرآن ہیں، علاوہ ازیں ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حج کا احرام باندھنا کسی کو سوا حج کے مہینوں کے لائق نہیں، اس کی اسناد بھی اچھی ہیں، لیکن شافعی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ اس حدیث کے راوی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا جائے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں،[بیہقی:343/4:ضعیف] یہ موقوف حدیث ہی زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے اور صحابی کے اس فتویٰ کی تقویت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ سنت یوں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اشہر معلومات سے مراد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شوال ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں [بخاری:کتاب الحج،تعلیقًا قبل الحدیث،1560] یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے، مستدرک حکم میں بھی ہے اور امام حاکم اسے صحیح بتلاتے ہیں۔[حاکم:276/2:صحیح] عمر، عطا، مجاہد، ابراہیم نخعی، شعبی، حسن، ابن سیرین، مکحول، قتادہ، ضحاک بن مزاحم، ربیع بن انس، مقاتل بن حیان رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں،[تفسیر ابن ابی حاتم:486/2] امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، ابو یوسف اور ابوثور رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اشہر کا لفظ جمع ہے تو اس کا اطلاق دو پورے مہینوں اور تیسرے کے بعض حصے پر بھی ہوسکتا ہے، جیسے عربی میں کہا جاتا ہے کہ میں نے اس سال یا آج کے دن اسے دیکھا ہے پس حقیقت میں سارا سال اور پورا دن تو دیکھتا نہیں رہتا بلکہ دیکھنے کا وقت تھوڑا ہی ہوتا ہے مگر اغلباً [تقریباً] ایسا بول دیا کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی اغلباً[تقریباً] تیسرے مہینہ کا ذکر ہے قرآن میں بھی ہے «فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ» [2۔ البقرہ: 203] حالانکہ وہ جلدی ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے مگر گنتی میں دو دن کہے گئے، امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا ایک پہلا قول یہ بھی ہے کہ شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہے،
سیدنا ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے، ابن شہاب، عطاء رحمہ اللہ علیہما، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے طاؤس، مجاہد، عروہ ربیع اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے لیکن وہ موضوع ہے، کیونکہ اس کا راوی حسین بن مخارق ہے جس پر احادیث کو وضع کرنے کی تہمت ہے، بلکہ اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اشہر معلومات سے مراد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شوال ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں [بخاری:کتاب الحج،تعلیقًا قبل الحدیث،1560] یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے، مستدرک حکم میں بھی ہے اور امام حاکم اسے صحیح بتلاتے ہیں۔[حاکم:276/2:صحیح] عمر، عطا، مجاہد، ابراہیم نخعی، شعبی، حسن، ابن سیرین، مکحول، قتادہ، ضحاک بن مزاحم، ربیع بن انس، مقاتل بن حیان رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں،[تفسیر ابن ابی حاتم:486/2] امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، ابو یوسف اور ابوثور رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اشہر کا لفظ جمع ہے تو اس کا اطلاق دو پورے مہینوں اور تیسرے کے بعض حصے پر بھی ہوسکتا ہے، جیسے عربی میں کہا جاتا ہے کہ میں نے اس سال یا آج کے دن اسے دیکھا ہے پس حقیقت میں سارا سال اور پورا دن تو دیکھتا نہیں رہتا بلکہ دیکھنے کا وقت تھوڑا ہی ہوتا ہے مگر اغلباً [تقریباً] ایسا بول دیا کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی اغلباً[تقریباً] تیسرے مہینہ کا ذکر ہے قرآن میں بھی ہے «فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ» [2۔ البقرہ: 203] حالانکہ وہ جلدی ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے مگر گنتی میں دو دن کہے گئے، امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا ایک پہلا قول یہ بھی ہے کہ شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہے،
سیدنا ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے، ابن شہاب، عطاء رحمہ اللہ علیہما، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے طاؤس، مجاہد، عروہ ربیع اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے لیکن وہ موضوع ہے، کیونکہ اس کا راوی حسین بن مخارق ہے جس پر احادیث کو وضع کرنے کی تہمت ہے، بلکہ اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام مالک کے اس قول کو مان لینے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے مہینے میں عمرہ کرنا صحیح نہ ہو گا یہ مطلب نہیں کہ دس ذی الحجہ کے بعد بھی حج ہو سکتا ہے، چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ درست نہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی ان اقوال کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں کہ حج کا زمانہ تو منیٰ کے دن گزرتے ہی جاتا رہا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میرے علم میں تو کوئی اہل علم ایسا نہیں جو حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ کرنے کو ان مہینوں کے اندر عمرہ کرنے سے افضل ماننے میں شک کرتا ہو، قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ابن عون نے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے مسئلہ کو پوچھا تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے لوگ پورا عمرہ نہیں مانتے، سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ کرنا پسند فرماتے تھے بلکہ ان مہینوں میں عمرہ کرنے کو منع کرتے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ»
[اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ میں چار عمرے ادا فرمائے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ ادا فرماتے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ٹھہرا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص ان مہینوں میں حج مقرر کرے یعنی حج کا احرام باندھ لے اس سے ثابت ہوا کہ حج کا احرام باندھنا اور اسے پورا کرنا لازم ہے، فرض سے مراد یہاں واجب و لازم کر لینا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:121/4]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حج اور عمرے کا احرام باندھنے والے سے مراد ہے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرض سے مراد احرام ہے، ابراہیم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:123/4] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں احرام باندھ لینے اور لبیک پکار لینے کے بعد کہیں ٹھہرا رہنا ٹھیک نہیں اور بزرگوں کا بھی یہی قول ہے، بعض بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فرض سے مراد لبیک پکارنا ہے۔ [رفث] سے مراد جماع ہے جیسے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاىِٕكُمْ» [2۔ البقرہ: 187] یعنی روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے جماع کرنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے، احرام کی حالت میں جماع اور اس کے تمام مقدمات بھی حرام ہیں جیسے مباشرت کرنا، بوسہ لینا، ان باتوں کا عورتوں کی موجودگی میں ذکر کرنا۔ گویا بعض نے مردوں کی محفلوں میں بھی ایسی باتیں کرنے کو دریافت کرنے پر فرمایا کہ عورتوں کے سامنے اس قسم کی باتیں کرنا رفث ہے۔ رفث کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ جماع وغیرہ کا ذکر کیا جائے، فحش باتیں کرنا، دبی زبان سے ایسے ذکر کرنا، اشاروں کنایوں میں جماع کا ذکر، اپنی بیوی سے کہنا کہ احرام کھل جائے تو جماع کریں گے، چھیڑ چھاڑ کرنا، مساس کرنا وغیرہ یہ سب رفث میں داخل ہے اور احرام کی حالت میں یہ سب باتیں حرام ہیں مختلف مفسروں کے مختلف اقوال کا مجموعہ یہ ہے۔
فسوق کے معنی عصیان ونافرمانی شکار گالی گلوچ وغیرہ بد زبانی ہے جیسے حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے، [صحیح بخاری:48] اللہ کے سوا دوسرے کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرنا بھی فسق ہے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» [6۔ الانعام: 145] بد القاب سے یاد کرنا بھی فسق ہے قرآن فرماتا ہے آیت «وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ» [49-الحجرات: 11] مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہرنافرمانی فسق میں داخل ہے گو یہ فسق ہر وقت حرام ہے لیکن حرمت والے مہینوں میں اس کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً» [9۔ التوبہ: 136] ان حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اس طرح حرم میں بھی یہ حرمت بڑھ جاتی ہے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ» [22۔ الحج: 25] یعنی حرم میں جو الحاد اور بے دینی کا ارادہ کرے اور اسے ہم المناک عذاب دیں گے،
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد فسق سے وہ کام ہیں جو احرام کی حالت میں منع ہیں جیسے شکار کھیلنا بال منڈوانا یا کتروانا یا ناخن لینا وغیرہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے بیان کی یعنی ہر گناہ سے روکا گیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/4] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
[اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ میں چار عمرے ادا فرمائے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ ادا فرماتے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ٹھہرا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص ان مہینوں میں حج مقرر کرے یعنی حج کا احرام باندھ لے اس سے ثابت ہوا کہ حج کا احرام باندھنا اور اسے پورا کرنا لازم ہے، فرض سے مراد یہاں واجب و لازم کر لینا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:121/4]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حج اور عمرے کا احرام باندھنے والے سے مراد ہے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرض سے مراد احرام ہے، ابراہیم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:123/4] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں احرام باندھ لینے اور لبیک پکار لینے کے بعد کہیں ٹھہرا رہنا ٹھیک نہیں اور بزرگوں کا بھی یہی قول ہے، بعض بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فرض سے مراد لبیک پکارنا ہے۔ [رفث] سے مراد جماع ہے جیسے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاىِٕكُمْ» [2۔ البقرہ: 187] یعنی روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے جماع کرنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے، احرام کی حالت میں جماع اور اس کے تمام مقدمات بھی حرام ہیں جیسے مباشرت کرنا، بوسہ لینا، ان باتوں کا عورتوں کی موجودگی میں ذکر کرنا۔ گویا بعض نے مردوں کی محفلوں میں بھی ایسی باتیں کرنے کو دریافت کرنے پر فرمایا کہ عورتوں کے سامنے اس قسم کی باتیں کرنا رفث ہے۔ رفث کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ جماع وغیرہ کا ذکر کیا جائے، فحش باتیں کرنا، دبی زبان سے ایسے ذکر کرنا، اشاروں کنایوں میں جماع کا ذکر، اپنی بیوی سے کہنا کہ احرام کھل جائے تو جماع کریں گے، چھیڑ چھاڑ کرنا، مساس کرنا وغیرہ یہ سب رفث میں داخل ہے اور احرام کی حالت میں یہ سب باتیں حرام ہیں مختلف مفسروں کے مختلف اقوال کا مجموعہ یہ ہے۔
فسوق کے معنی عصیان ونافرمانی شکار گالی گلوچ وغیرہ بد زبانی ہے جیسے حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے، [صحیح بخاری:48] اللہ کے سوا دوسرے کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرنا بھی فسق ہے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» [6۔ الانعام: 145] بد القاب سے یاد کرنا بھی فسق ہے قرآن فرماتا ہے آیت «وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ» [49-الحجرات: 11] مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہرنافرمانی فسق میں داخل ہے گو یہ فسق ہر وقت حرام ہے لیکن حرمت والے مہینوں میں اس کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً» [9۔ التوبہ: 136] ان حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اس طرح حرم میں بھی یہ حرمت بڑھ جاتی ہے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ» [22۔ الحج: 25] یعنی حرم میں جو الحاد اور بے دینی کا ارادہ کرے اور اسے ہم المناک عذاب دیں گے،
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد فسق سے وہ کام ہیں جو احرام کی حالت میں منع ہیں جیسے شکار کھیلنا بال منڈوانا یا کتروانا یا ناخن لینا وغیرہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے بیان کی یعنی ہر گناہ سے روکا گیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/4] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص بیت اللہ کا حج کرے نہ رفث کرے نہ فسق تو وہ گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے اپنے پیدا ہونے کا دن تھا۔ [صحیح بخاری:1521] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حج میں جھگڑا نہیں یعنی حج کے وقت اور حج کے ارکان وغیرہ میں جھگڑا نہ کرو اور اس کا پورا بیان اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے، حج کے مہینے مقرر ہو چکے ہیں ان میں کمی زیادتی نہ کرو، موسم حج کو آگے پیچھے نہ کرو جیسا کہ مشرکین کا وطیرہ تھا جس کی مذمت قرآن کریم میں اور جگہ فرما دی گئی ہے اسی طرح قریش مشعرِ حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر آپس میں جھگڑتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ ہم صحیح راہ پر اور طریق ابراہیمی پر ہیں جس سے یہاں ممانعت کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں وقت حج ارکان حج اور ٹھہرنے وغیرہ کی جگہیں بیان کر دی ہیں اب نہ کوئی ایک دوسرے پر فخر کرے نہ حج کے دن آگے پیچھے کرے بس یہ جھگڑے اب مٹا دو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حج کے سفر میں آپس میں نہ جھگڑو نہ ایک دوسرے کو غصہ دلاؤ نہ کسی کو گالیاں دو، بہت سے مفسرین کا یہ قول بھی ہے اور بہت سے مفسرین کا پہلا قول بھی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کا اپنے غلام کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یہ اس میں داخل نہیں ہاں مارے نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ غلام کو اگر مار بھی لے تو کوئی ڈر خوف نہیں۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حج کے سفر میں آپس میں نہ جھگڑو نہ ایک دوسرے کو غصہ دلاؤ نہ کسی کو گالیاں دو، بہت سے مفسرین کا یہ قول بھی ہے اور بہت سے مفسرین کا پہلا قول بھی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کا اپنے غلام کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یہ اس میں داخل نہیں ہاں مارے نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ غلام کو اگر مار بھی لے تو کوئی ڈر خوف نہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج میں تھے ور عرج میں ٹھہرے ہوئے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے خادم کے پاس تھا سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما اس کا انتظار کر رہے تھے تھوڑی دیر میں وہ آ گیا اس سے پوچھا کہ اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا کل رات کو گم ہو گیا آپ رضی اللہ عنہما ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ایک اونٹ کو بھی تو سنبھال نہ سکا یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہما نے اسے مارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے دیکھو احرام کی حالت میں کیا کر رہے ہیں؟ یہ حدیث ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابوداود:1818، قال الشيخ الألباني:حسن]
بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ حج کے تمام ہونے میں یہ بھی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس کام پر یہ فرمانا اس میں نہایت لطافت کے ساتھ ایک قسم کا انکار ہے پس مسئلہ یہ ہوا کہ اسے چھوڑ دینا ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ حج کے تمام ہونے میں یہ بھی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس کام پر یہ فرمانا اس میں نہایت لطافت کے ساتھ ایک قسم کا انکار ہے پس مسئلہ یہ ہوا کہ اسے چھوڑ دینا ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند عبد بن حمید میں ہے کہ جو شخص اپنا حج پورا کرے اور مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے ایذاء نہ پائیں اس کے تمام اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [عبد بن حمید:1150:ضعیف] پھر فرمایا تم جو بھلائی کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، چونکہ اوپر ہر برائی سے روکا تھا کہ نہ کوئی برا کام کرو نہ بری بات کہو تو یہاں نیکی کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ ہر نیکی کا پورا بدلہ قیامت کے دن پاؤ گے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ توشہ اور سفر خرچ لے لیا کرو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ بلا خرچ سفر کو نکل کھڑے ہوتے تھے پھر لوگوں سے مانگتے پھرتے جس پر یہ حکم ہوا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3736] عکرمہ، عیینہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں، بخاری نسائی وغیرہ میں یہ روایتیں مروی ہیں، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یمنی لوگ ایسا کرتے تھے اور اپنے تئیں متوکل کہتے تھے، [صحیح بخاری:1523] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ جب احرام باندھتے تو جو کچھ توشہ بھنا ہوتا سب پھینک دیتے اور نئے سرے سے نیا سامان کرتے اس پر یہ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو آٹا ستو وغیرہ توشے ہیں ساتھ لے لو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:156/4] دیگر بہت سے معتبر مفسرین نے بھی اسی طرح کہا ہے بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ انسان کی عزت اسی میں ہے کہ وہ عمدہ سامان سفر ساتھ رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے دل کھول کر خرچ کرنے کی شرط کر لیا کرتے تھے۔
چونکہ دنیوی توشہ کا حکم دیا ہے تو ساتھ ہی فرمایا ہے کہ آخرت کے توشہ کی تیاری بھی کر لو یعنی اپنی قبر میں اپنے ساتھ خوف اللہ لے کر جاؤ جیسے اور جگہ لباس کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا آیت «وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ» [7۔ الاعراف: 26] پرہیزگاری کا لباس بہتر ہے، یعنی خشوع خضوع طاعت وتقویٰ کے باطنی لباس سے بھی خالی نہ رہو، بلکہ یہ لباس اس ظاہری لباس سے کہیں زیادہ بہتر اور نفع دینے والا ہے، ایک حدیث میں بھی ہے کہ دنیا میں اگر کچھ کھوؤ گے تو آخرت میں پاؤ گے یہاں کا توشہ وہاں فائدہ دے گا [طبرانی کبیر:2271:صحیح] اس حکم کو سن کر ایک مسکین صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنا تو ہونا چاہیئے جس سے کسی سے سوال نہ کرنا پڑے اور بہترین خزانہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ [ابن ابی حاتم]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ «وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ» [2-البقرہ: 197] عقلمندو مجھ سے ڈرتے رہا کرو، یعنی میرے عذابوں سے، میری پکڑ دھکڑ سے، میری گرفت سے، میری سزاؤں سے ڈرو، دب کر میرے احکام کی تعمیل کرو، میرے ارشاد کے خلاف نہ کرو تاکہ نجات پا سکو یہ ہی عقلی امتیاز ہے۔