تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ جب کسی اکیلے فدائی مسلم کے حملے سے دشمن کو نقصان پہنچنے کی امید ہو، یا اہل اسلام کی شجاعت سے کفار کے حوصلے پست کرنا مقصود ہو، یا شہادت پیش کیے بغیر دشمن کو نقصان پہنچانا ممکن نہ ہو تو فدائی حملے بالکل درست ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ جہاد چھوڑ کر کاروبار میں مصروف ہو جانا اصل ہلاکت ہے۔ تاریخ اسلام میں غزوۂ بدر میں ابوجہل کے قاتل معوذ اور معاذ، غزوۂ خیبر میں ابو رافع یہودی کے قاتل عبد اللہ بن عتیک، مدینہ میں کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ، خالد بن سفیان کے قاتل عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہم کی کارروائیاں، حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کی موت پر بیعت، جنگ جسر میں ابو عبید ثقفی کی ہاتھی پر حملہ کرتے ہوئے شہادت، جنگ یمامہ میں براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا ساتھیوں سے کہنا کہ مجھے ڈھال پر بٹھا کر ڈھال کو نیزوں کے ساتھ بلند کر کے باغ کے اندر پھینک دو اور وہاں جا کر اسی(۸۰) زخم کھا کر بھی دروازہ کھول کر مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کرنا، (بیہقی: ۱۸۳۷۹) سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے تیار کردہ فدائی جنھوں نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی، الغرض! بے شمار واقعات اس کے لیے شاہد ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی ہلاکت اور ذلت کا باعث یہی ہے کہ انھوں نے جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے اور کفار سے لڑنے کے بجائے عیش و عشرت اور جان بچانے کو ترجیح دی تو کفار کے ہاتھوں نہ ان کی جانیں محفوظ رہیں نہ مال اور نہ عزتیں۔ اب بھی اگر اسلام کی آبرو کچھ باقی ہے تو جان قربان کرنے والے ان مجاہدین کے ذریعے سے، جن سے دنیائے کفر کے دل دہلتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ترمذی کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ آدمی کا گناہوں پر گناہ کئے چلے جانا اور توبہ نہ کرنا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کیا اور ازدشنوہ کے قبیلہ کا ایک آدمی جرات کر کے دشمنوں میں گھس گیا ان کی صفیں چیرتا پھاڑتا اندر چلا گیا لوگوں نے اسے برا جانا اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ شکایت کی چنانچہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا اور فرمایا قرآن میں ہے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده بالنفقة في سبيله، وهو إخراج الأموال في الطرق الموصلة إلى الله، وهي كل طرق الخير من صدقة على مسكين أو قريب أو إنفاق على من تجب مؤنته، وأعظم ذلك وأول ما دخل في ذلك الإنفاق في الجهاد في سبيل الله، فإن النفقة فيه جهاد بالمال وهو فرض كالجهاد بالبدن، وفيها من المصالح العظيمة الإعانة على تقوية المسلمين و [على] توهية الشرك وأهله وعلى إقامة دين الله وإعزازه، فالجهاد في سبيل الله، لا يقوم إلا على ساق النفقة، فالنفقة له كالروح لا يمكن وجوده بدونها، وفي ترك الإنفاق في سبيل الله إبطال للجهاد وتسليط للأعداء، وشدة تكالبهم، فيكون قوله تعالى: {ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة}؛ كالتعليل لذلك.
والإلقاء باليد إلى التهلكة يرجع إلى أمرين: ترك ما أمر به العبد إذا كان تركه موجباً أو مقارباً لهلاك البدن أو الروح، وفعل ما هو سبب موصل إلى تلف النفس أو الروح فيدخل تحت ذلك أمور كثيرة، فمن ذلك ترك الجهاد في سبيل الله، أو النفقة فيه الموجب لتسلط الأعداء، ومن ذلك تغرير الإنسان بنفسه في مقاتلة أو سفر مخوف أو محل مسبعة أو حيات، أو يصعد شجراً أو بنياناً خطراً، أو يدخل تحت شيء فيه خطر ونحو ذلك، فهذا ونحوه ممن ألقى بيده إلى التهلكة، ومن ذلك الإقامة على معاصي الله واليأس من التوبة، ومنها ترك ما أمر الله به من الفرائض التي تركها هلاك للروح والدين.
ولما كانت النفقة في سبيل الله نوعاً من أنواع الإحسان أمر بالإحسان عموماً فقال: {وأحسنوا إن الله يحب المحسنين}؛ وهذا يشمل جميع أنواع الإحسان لأنه لم يقيده بشيء دون شيء، فيدخل فيه الإحسان بالمال كما تقدم، ويدخل فيه الإحسان بالجاه بالشفاعات ونحو ذلك، ويدخل في ذلك الإحسان بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وتعليم العلم النافع، ويدخل في ذلك قضاء حوائج الناس من تفريج كرباتهم، وإزالة شداتهم وعيادة مرضاهم وتشييع جنائزهم وإرشاد ضالهم وإعانة من يعمل عملاً، والعمل لمن لا يحسن العمل، ونحو ذلك مما هو من الإحسان الذي أمر الله به، ويدخل في الإحسان أيضاً الإحسان في عبادة الله تعالى، وهو كما ذكر النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك» ، فمن اتصف بهذه الصفات كان من الذين قال الله فيهم: {للذين أحسنوا الحسنى وزيادة}؛ وكان الله معه يسدده ويرشده ويعينه على كل أموره.