ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 195

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۹۵﴾
اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک واحسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 195) اس سے پہلی آیت میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم ہے، یہ آیت بھی اسی حکم کی تکمیل ہے، یعنی جہاد میں اور اس کی تیاری میں خرچ کرتے رہو اور اس میں کوتاہی کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، کیونکہ اس صورت میں کفار تم پر غالب آ جائیں گے، جو سراسر ہلاکت ہے۔ اسلم تُجیبی کہتے ہیں کہ ہم مدینۂ روم (قسطنطنیہ) میں تھے، انھوں نے ہمارے مقابلے کے لیے رومیوں کی ایک بہت بڑی جماعت نکالی، ان کے مقابلے میں اتنے ہی یا ان سے زیادہ مسلمان نکلے، اہل مصر پر عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور جماعت پر فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ (امیر) تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رومیوں کی صف پر حملہ کر دیا، یہاں تک کہ ان میں داخل ہو گیا، لوگ چیخ اٹھے اور کہنے لگے، سبحان اللہ! یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے، تو ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انھوں نے فرمایا، تم آیت کا یہ مطلب سمجھتے ہو؟ حالانکہ یہ تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی اور اس کے مددگار بہت ہو گئے تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے چھپا کر دوسروں سے کہا کہ ہمارے اموال (یعنی کھیت اور باغات وغیرہ) ضائع ہو گئے، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی ہے اور اس کے مدد گار بہت ہو گئے ہیں، چنانچہ ہم اگر اپنے اموال میں ٹھہر جائیں اور جو ضائع ہو گئے ہیں انھیں درست کر لیں(تو بہترہے)، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری بات کی تردید کرتے ہوئے یہ آیت اتار دی:اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو۔ [البقرۃ: ۱۹۵] تو ہلاکت ہمارا اپنے اموال میں ٹھہر جانا، انھیں درست کرنا اور جنگ کو چھوڑ دینا تھا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے ہی میں نکلے رہے یہاں تک کہ روم کی سرزمین میں دفن ہوئے۔ [ترمذی، التفسیر، باب و من سورۃ البقرۃ: ۲۹۷۲ و صححہ الألبانی] حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ یہ آیت نفقہ کے بارے میں اتری۔ [بخاری، قبل ح: ۴۵۱۶] ابو اسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا، اگر آدمی مشرکین پر حملہ کر دے تو کیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہو گا؟ انھوں نے فرمایا، نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا: «فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ» [النساء: ۸۴] پس اللہ کے راستے میں جنگ کر، تجھے تیری ذات کے سوا کسی کی تکلیف نہیں دی جاتی۔ [أحمد: 281/4، ح: ۱۸۴۷۷، وھو حسن]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ جب کسی اکیلے فدائی مسلم کے حملے سے دشمن کو نقصان پہنچنے کی امید ہو، یا اہل اسلام کی شجاعت سے کفار کے حوصلے پست کرنا مقصود ہو، یا شہادت پیش کیے بغیر دشمن کو نقصان پہنچانا ممکن نہ ہو تو فدائی حملے بالکل درست ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ جہاد چھوڑ کر کاروبار میں مصروف ہو جانا اصل ہلاکت ہے۔ تاریخ اسلام میں غزوۂ بدر میں ابوجہل کے قاتل معوذ اور معاذ، غزوۂ خیبر میں ابو رافع یہودی کے قاتل عبد اللہ بن عتیک، مدینہ میں کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ، خالد بن سفیان کے قاتل عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہم کی کارروائیاں، حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کی موت پر بیعت، جنگ جسر میں ابو عبید ثقفی کی ہاتھی پر حملہ کرتے ہوئے شہادت، جنگ یمامہ میں براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا ساتھیوں سے کہنا کہ مجھے ڈھال پر بٹھا کر ڈھال کو نیزوں کے ساتھ بلند کر کے باغ کے اندر پھینک دو اور وہاں جا کر اسی(۸۰) زخم کھا کر بھی دروازہ کھول کر مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کرنا، (بیہقی: ۱۸۳۷۹) سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے تیار کردہ فدائی جنھوں نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی، الغرض! بے شمار واقعات اس کے لیے شاہد ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی ہلاکت اور ذلت کا باعث یہی ہے کہ انھوں نے جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے اور کفار سے لڑنے کے بجائے عیش و عشرت اور جان بچانے کو ترجیح دی تو کفار کے ہاتھوں نہ ان کی جانیں محفوظ رہیں نہ مال اور نہ عزتیں۔ اب بھی اگر اسلام کی آبرو کچھ باقی ہے تو جان قربان کرنے والے ان مجاہدین کے ذریعے سے، جن سے دنیائے کفر کے دل دہلتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

195۔ 1 اس سے بعض نے ترک جہاد اور بعض نے گناہ پر گناہ کئے جانا مراد لیا ہے اور یہ ساری صورتیں ہلاکت کی ہیں جہاد چھوڑ دو گے یا جہاد میں اپنا مال صرف کرنے سے گریز کرو گے تو یقینا دشمن قوی ہوگا اور تم کمزور نتیجہ تباہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

195۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت [258] میں نہ ڈالو اور احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند [259] کرتا ہے
[258] جہاد میں اموال خرچ کرنا:۔
حضرت ابو ایوبؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ نے اسلام کو عزت دی اور اس کے مددگار بہت ہو گئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ایک دوسرے سے کہا کہ بلا شبہ ہمارے مال خرچ ہو گئے۔ اب اللہ نے اسلام کو عزت دی ہے اور اس کے مددگاروں کو زیادہ کر دیا ہے۔ تو اب اگر ہم اپنے اموال سنبھال رکھیں اور جو کچھ خرچ ہو چکا اس کی تلافی شروع کر دیں (تو کوئی بات نہیں) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو کچھ ہم نے آپس میں کہا تھا اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ہلاکت سے مراد اموال کی نگرانی، ان کی اصلاح اور جہاد کو چھوڑ دینا ہے۔ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي ابواب التفسير۔ زير آيت مذكوره] گویا اموال کو جہاد میں خرچ نہ کرنے کو اس قوم کی ہلاکت قرار دیا گیا ہے۔
[259] احسان کیا ہے؟ اور حدیث جبریل:۔
کسی حکم کو بجا لانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بس اس کی تعمیل کر دی جائے اور دوسری یہ کہ اسے دل کی رغبت، محبت اور نہایت احسن طریقے سے بجا لایا جائے۔ پہلی صورت اطاعت ہے اور دوسری احسان۔ احسان اطاعت کا بلند تر درجہ ہے اور عدل کا بھی۔ حدیث میں ہے کہ جبریل جب تمام صحابہ کے سامنے اجنبی صورت میں آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احسان کیا ہے۔ تو آپ نے یہ جواب دیا کہ احسان یہ ہے کہ تو ”اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ عبادت صرف نماز فرض یا نوافل کا ہی نام نہیں بلکہ جو کام بھی اللہ کے احکام کی بجا آوری کے لیے اس کا حکم سمجھ کر کیا جائے وہ اس کی عبادت ہی کی ضمن میں آتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے، معاملات سے ہو یا مناکحات سے ان میں سے ہر ایک کام کو بنا سنوار کر اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ نیز دل کی رغبت اور محبت سے بجا لانے کا نام احسان ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حق جہاد کیا ہے؟ ٭٭
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4516]‏‏‏‏ اور بزرگوں نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی بیان فرمایا ہے، ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک نے قسطنطنیہ کی جنگ میں کفار کے لشکر پر دلیرانہ حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا ان میں گھس گیا تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ دیکھو یہ اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا اس آیت کا صحیح مطلب ہم جانتے ہیں سنو! یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ و جہاد میں شریک رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد پر تلے رہے یہاں تک کہ اسلام غالب ہوا اور مسلمان غالب آ گئے تو ہم انصاریوں نے ایک مرتبہ جمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ہمیں مشرف فرمایا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں جہاد کرتے رہے اب بحمد اللہ اسلام پھیل گیا مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا لڑائی ختم ہو گئی ان دنوں میں نہ ہم نے اپنی اولاد کی خبرگیری کی نہ مال کی دیکھ بھال کی نہ کھیتیوں اور باغوں کا کچھ خیال کیا اب ہمیں چاہیئے کہ اپنے خانگی معاملات کی طرف توجہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، پس جہاد کو چھوڑ کر بال بچوں اور بیوپار تجارت میں مشغول ہو جانا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ [سنن ابوداود:2512، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ قسطنطنیہ کی لڑائی کے وقت مصریوں کے سردار سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے اور شامیوں کے سردار سیدنا یزید بن فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ترمذي:2972، قال الشيخ الألباني:]‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اگر میں اکیلا تنہا دشمن کی صف میں گھس جاؤں اور وہاں گِر جاؤں اور قتل کر دیا جاؤں تو کیا اس آیت کے مطابق میں اپنی جان کو آپ ہی ہلاک کرنے والا بنوں گا؟ آپ نے جواب دیا نہیں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے آیت «فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [4۔ النسآء: 84]‏‏‏‏ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں لڑتا رہ تو اپنی جان کا ہی مالک ہے اسی کو تکلیف دے یہ آیت تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رک جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [مسند احمد:281/4]‏‏‏‏
ترمذی کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ آدمی کا گناہوں پر گناہ کئے چلے جانا اور توبہ نہ کرنا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کیا اور ازدشنوہ کے قبیلہ کا ایک آدمی جرات کر کے دشمنوں میں گھس گیا ان کی صفیں چیرتا پھاڑتا اندر چلا گیا لوگوں نے اسے برا جانا اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ شکایت کی چنانچہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا اور فرمایا قرآن میں ہے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی میں اس طرح کی بہادری کرنا اپنی جان کو بربادی میں ڈالنا نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کرنا ہلاکت میں پڑنا ہے، ضحاک بن ابو جبیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار اپنے مال اللہ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے رہتے تھے لیکن ایک سال قحط سالی کے موقع پر انہوں نے وہ خرچ روک لیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد بخل کرنا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گنہگار کا رحمت باری سے نا امید ہو جانا یہ ہلاک ہونا ہے اور حضرات مفسرین بھی فرماتے ہیں کہ گناہ ہو جائیں پھر بخشش سے نا امید ہو کر گناہوں میں مشغول ہو جانا اپنے ہاتھوں پر آپ ہلاک ہونا ہے، التَّہۡلُکَۃِ سے مراد اللہ کا عذاب بھی بیان کیا گیا ہے، قرطبی وغیرہ سے روایت ہے کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتے تھے اور اپنے ساتھ کچھ خرچ نہیں لے جاتے تھے اب یا تو وہ بھوکوں مریں یا ان کا بوجھ دوسروں پر پڑے تو ان سے اس آیت میں فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اسے اس کی راہ کے کاموں میں لگاؤ اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو کہ بھوک پیاس سے یا پیدل چل چل کر مر جاؤ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو جن کے پاس کچھ ہے حکم ہو رہا ہے کہ تم احسان کرو تاکہ اللہ تمہیں دوست رکھے نیکی کے ہر کام میں خرچ کیا کرو بالخصوص جہاد کے موقعہ پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ رکو یہ دراصل خود تمہاری ہلاکت ہے، پس احسان اعلیٰ درجہ کی اطاعت ہے جس کا یہاں حکم ہو رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بیان ہو رہا ہے کہ احسان کرنے والے اللہ کے دوست ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد ہے کہ مال کو ان راستوں میں خرچ کیا جائے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں اور یہ بھلائی کے تمام راستے ہیں، جیسے مساکین، قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنا اور ان لوگوں پر خرچ کرنا جن پر خرچ کرنا واجب ہے۔ ان راستوں میں سب سے بڑا اور ان میں سب سے پہلے نمبر پر آنے والا، فی سبیل اللہ یعنی جہاد کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ کیونکہ اس راہ میں خرچ کرنا جہاد بالمال کے زمرے میں آتا ہے اور مالی جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح بدنی جہاد فرض ہے۔ مالی جہاد میں عظیم مصالح پنہاں ہیں۔ مالی جہاد سے اہل ایمان کو تقویت پہنچتی ہے، شرک اور اہل شرک کمزور ہوتے ہیں اور اقامت دین اور اس کی سربلندی میں مدد ملتی ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ کا درخت مالی اعانت کے تنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جہاد کے لیے مالی اخراجات وہی حیثیت رکھتے ہیں جو بدن کے لیے روح، پس اس کے بغیر جہاد کا جاری رہنا ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے گریز درحقیقت جہاد کا ابطال، دشمنوں کا تسلط اور ان کی اسلام دشمنی میں اضافہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلَا تُلْ٘قُوْا بِاَیْؔدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ اپنے ہاتھوں (جان) کو ہلاکت میں نہ ڈالو اس حکم کی علت کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا دو امور کی طرف راجع ہے۔
(۱) اس امر کو ترک کر دینا جس کا حکم بندے کو دیا گیا جبکہ اس امر کو ترک کرنا بدن یا روح کی ہلاکت کا یا ہلاکت کے قریب کرنے کا موجب ہو۔
(۲) ایسے فعل کا ارتکاب کرنا جو بدن یا روح کی ہلاکت کا سبب ہو۔ اس کے تحت بہت سے امور آتے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کے راستے میں بدنی یا مالی جہاد ترک کر دینا، جو دشمن کے تسلط کا باعث بنتا ہے۔
(۲) انسان کا خود اپنے آپ کو موت کے منہ میں لے جانا،مثلاً کسی لڑائی میں گھس جانا، کسی خوفناک سفر پر روانہ ہو جانا، جانتے بوجھتے درندوں یا سانپوں کے مسکن میں داخل ہونا، کسی خطرناک درخت یا گرنے والی عمارت وغیرہ پر چڑھنا یا کسی خطرناک چیز کے نیچے چلے جانا۔ یہ تمام امور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے تحت آتے ہیں۔
(۳) توبہ سے مایوس ہو کر گناہوں پر قائم رہنا۔
(۴) ان فرائض کو ترک کرنا جن کو اللہ تعالیٰ نے بجا لانے کا حکم دیا ہے اور جن کے ترک کرنے میں روح اور دین کی ہلاکت ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا احسان کی ایک قسم ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر احسان کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اور احسان کرو، یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اس آیت کے معنی میں ہر قسم کا احسان شامل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی صفت اور شرط وغیرہ سے مقید نہیں کیا۔ پس اس میں مالی احسان بھی شامل ہے۔ اپنے جاہ و منصب کی بنیاد پر (کسی حق دار کی) سفارش کرنے کا احسان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور علم نافع کی تعلیم بھی احسان میں داخل ہے۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کی تکالیف کو دور کرنا، ان کی مصیبتوں کا ازالہ کرنا، ان کے مریضوں کی عیادت کرنا، ان کے جنازوں کے ساتھ جانا، ان کے بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتانا، کسی کے کام میں ہاتھ بٹانا اور کسی ایسے شخص کے لیے کام کر دینا جسے کام نہ آتا ہو۔ یہ تمام امور اس احسان کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور اس احسان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت احسن طریقے سے کرنا بھی داخل ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اَنْ تَعْبُدَاللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَاحسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو کہ تو اسے دیکھ رہا ہے تب وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ (صحیح بخاری، الإيمان، باب سؤال جبریل …… الخ، حديث:50)
جو کوئی ان صفات سے متصف ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَزِیَادَةٌ (یونس: 10؍26) جنھوں نے نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے (اور مزید برآں) اور بھی۔ اللہ تعالیٰ کی معیت اسے حاصل رہتی ہے اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے، اس کی راہنمائی کرتا ہے اور ہر معاملے میں اس کی مدد کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عباده بالنفقة في سبيله، وهو إخراج الأموال في الطرق الموصلة إلى الله، وهي كل طرق الخير من صدقة على مسكين أو قريب أو إنفاق على من تجب مؤنته، وأعظم ذلك وأول ما دخل في ذلك الإنفاق في الجهاد في سبيل الله، فإن النفقة فيه جهاد بالمال وهو فرض كالجهاد بالبدن، وفيها من المصالح العظيمة الإعانة على تقوية المسلمين و [على] توهية الشرك وأهله وعلى إقامة دين الله وإعزازه، فالجهاد في سبيل الله، لا يقوم إلا على ساق النفقة، فالنفقة له كالروح لا يمكن وجوده بدونها، وفي ترك الإنفاق في سبيل الله إبطال للجهاد وتسليط للأعداء، وشدة تكالبهم، فيكون قوله تعالى: {ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة}؛ كالتعليل لذلك.

والإلقاء باليد إلى التهلكة يرجع إلى أمرين: ترك ما أمر به العبد إذا كان تركه موجباً أو مقارباً لهلاك البدن أو الروح، وفعل ما هو سبب موصل إلى تلف النفس أو الروح فيدخل تحت ذلك أمور كثيرة، فمن ذلك ترك الجهاد في سبيل الله، أو النفقة فيه الموجب لتسلط الأعداء، ومن ذلك تغرير الإنسان بنفسه في مقاتلة أو سفر مخوف أو محل مسبعة أو حيات، أو يصعد شجراً أو بنياناً خطراً، أو يدخل تحت شيء فيه خطر ونحو ذلك، فهذا ونحوه ممن ألقى بيده إلى التهلكة، ومن ذلك الإقامة على معاصي الله واليأس من التوبة، ومنها ترك ما أمر الله به من الفرائض التي تركها هلاك للروح والدين.

ولما كانت النفقة في سبيل الله نوعاً من أنواع الإحسان أمر بالإحسان عموماً فقال: {وأحسنوا إن الله يحب المحسنين}؛ وهذا يشمل جميع أنواع الإحسان لأنه لم يقيده بشيء دون شيء، فيدخل فيه الإحسان بالمال كما تقدم، ويدخل فيه الإحسان بالجاه بالشفاعات ونحو ذلك، ويدخل في ذلك الإحسان بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وتعليم العلم النافع، ويدخل في ذلك قضاء حوائج الناس من تفريج كرباتهم، وإزالة شداتهم وعيادة مرضاهم وتشييع جنائزهم وإرشاد ضالهم وإعانة من يعمل عملاً، والعمل لمن لا يحسن العمل، ونحو ذلك مما هو من الإحسان الذي أمر الله به، ويدخل في الإحسان أيضاً الإحسان في عبادة الله تعالى، وهو كما ذكر النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك» ، فمن اتصف بهذه الصفات كان من الذين قال الله فيهم: {للذين أحسنوا الحسنى وزيادة}؛ وكان الله معه يسدده ويرشده ويعينه على كل أموره.